قربِ دیدار | Qurb e Deedar

قربِ دیدار

قسط نمبر 07

ابیات

لب مجنبند عارفان روئش نگر
عارفان را دائمی باحق نظر

ترجمہ: عارف لب نہیں ہلاتے صرف دیدار میں مگن رہتے ہیں۔ ان کی نظر ہمیشہ اللہ پر رہتی ہے۔

ہر کہ گوید غیر او شد خر آواز
خاموشی خلوت خانہ شد حق براز

ترجمہ: جو شخص غیر اللہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اس کی آواز گدھے کی مثل ہے۔ تنہائی کے گوشے میں لب بستہ ہونا اللہ کے ساتھ راز داری ہے۔

سر ز تن گردد جدا سخنش مگو
عارفان ہمسخن باحق گفتگو

ترجمہ: عارفوں کا سر تن سے جدا کر دیا جائے تب بھی وہ غیر اللہ کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔ وہ حق تعالیٰ کے ساتھ ہم سخن رہتے ہیں اور اسی کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔

باھوؒ ظاہرش باخلق باطن حق کلام
ظاہر و باطن ز باطن شد تمام

ترجمہ: باھوُ! وہ ظاہر میں مخلوق سے اور باطن میں حق تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ باطن کے مکمل ہو جانے سے ان کا ظاہر و باطن ایک ہو جاتا ہے۔

یافتہ دیدار در دیدہ درو
دیدار در دیدہ بہ بین خوش روبرو

ترجمہ: جن کو دیدارِ الٰہی حاصل ہو چکا ہے ان کی آنکھوں سے دیدار حاصل ہوتا ہے۔ تو ان کے روبرو بیٹھ کر اچھی طرح ان کی آنکھوں میں دیدارِ الٰہی کر۔

تو درو دیدار با دیدار در
ہر یکی تحقیق کن ناظر نظر

ترجمہ: اے طالب! تو دیدارِ الٰہی کے لیے دیدار والے (مرشد کامل) کے در پر چلا جا۔ وہ اپنی ایک نظر سے ہر آنے والے کو تحقیقی ناظر بنا دیتا ہے۔

ہر کہ دعویٰ کرد من دیدار در
منصفی! انصاف دہ مثل خضر

ترجمہ: اگر کوئی اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے دیدار حاصل کر لیا ہے، تو اے منصف! حضرت خضر علیہ السلام کی طرح انصاف کر۔

روئی در آئینہ عکسی بین شود
زشت و زیبا ہر یکی عکسی دہد

ترجمہ: تُو اپنے چہرے کا اصل عکس کسی (قلبِ باصفا کے) آئینے میں دیکھ۔ چہرہ اچھا ہو یا بُرا، آئینہ ہر عکس دکھاتاہے۔

بایک نظر ناظر کند ناظر خدا
بایک نظر حاضر برد بامصطفیؐ

 ترجمہ: ناظر مرشد کی ایک ہی نظر سے اللہ کا دیدار اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل ہو جاتی ہے۔

راہ این کامل نظر ناظر ز نور
بایک نظر با تو رساند در حضور

ترجمہ: کامل ناظر مرشد کی راہ یہ ہے کہ وہ نورِ الٰہی سے نظر کرتا ہے اور ایک ہی نگاہ سے تجھے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے مشرف کر دیتا ہے۔

ذکر فکر باز دارد از خدا
کشف و کراماتش ز نفس با ہوا

ترجمہ: ذکر، فکر اور کشف و کرامات جن کا تعلق نفسانی خواہشات سے ہے، اللہ سے دوری کا باعث ہیں۔

عین بین از عین باعین است راز
ہر کہ بادیدار دایم در نماز

ترجمہ:عین اللہ کو عین اللہ کی آنکھوں سے دیکھنا راز ہے۔ جس کو دائمی دیدار حاصل ہے وہ ہمہ وقت نماز میں ہے۔

پنج پنجاہ رحمتش نازل نمود
ہر کہ پنجاہ پنج یابد باسجود

ترجمہ: طالبِ صادق پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پچپن رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ جو ان پچپن رحمتوں کو پا لیتا ہے وہ ہر لمحہ باسجود رہتا ہے۔

 یہ مراتب صاحبِ تصور کو تصرف، توجہ، تفکر، معرفتِ توحید، تجرید تفرید اور فرد الفرد ہو جانے سے حاصل ہوتے ہیں۔ روحانی، عیانی، خیالی، احوالی اور جمالی مراتب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ بیت

از نظر خلق است گم یعنی خضر
از خضر گم گشتہ عارف راز بر

ترجمہ: حضرت خضر علیہ السلام مخلوق سے پوشیدہ ہیں اور اللہ کا رازدان عارف حضرت خضر علیہ السلام سے بھی پوشیدہ ہے۔
حدیث قدسی:
اِنَّ اَوْلِیَآئِیْ تَحْتَ الْقَبَآئِیْ لاَ یَعْرِفُھُمْ غَیْرِیْ   
ترجمہ:بے شک میرے اولیا میری قبا کے نیچے ہیں،ان کو میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا۔
خاموشی کی مزید چار قسمیں ہیں:
خاموشی کی پہلی قسم اہلِ دنیا، متکبر اور ظالم لوگوں کی خاموشی ہے جو ریا اور کفر کی وجہ سے غریبوں اور مظلوں سے کلام نہیں کرتے ۔

 حدیث: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مَظْلُوْمًا وَّلَا تَجْعَلْنِیْ ظَالِمًا
ترجمہ: اے اللہ مجھے مظلوم بنا اور ظالموں میں سے نہ بنا۔
دوسری خاموشی بے باطن اہل دکان مشائخ کی ہے جو اپنی عیب پوشی اور مکرو فریب کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے:
نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ الْحَلِیْمِ 
ترجمہ: میں حلیم کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
تیسری قسم قلبی ذاکر مومنوں کی خاموشی ہے جو مراقبہ، ذکر اور فکر سے اپنے دل کو کدورتوں اور ریا سے صیقل کرتے ہیں۔ چہارم خاموشی صاحبِ تصور عین العیان کی ہے جو ہمیشہ معرفت اور قربِ الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں۔ صاحبِ تصور عارف باللہ کو اللہ تعالیٰ اور سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے حکم و الہام ہوتا ہے، اس کا یہ حال اس کے قال سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اللہ کا کلام سنتا اور بولتا ہے، اگر حکم ہوتا ہے تو دیکھتا ہے ورنہ دست بستہ رہ کر ہوش اور باطنی آنکھ سے معرفتِ الٰہی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
جان لو کہ ایک ذکر زوال ہے اور دوسرا ذکر اللہ لازوال۔ جس طالب کے وجود میں معرفت اور قرب و وِصالِ الٰہی سے اللہ کا لازوال ذکر پیدا ہو جاتا ہے، اس کے وجود میں نفس، مخلوق، دنیا اور شیطان زوال پذیر ہو جاتے ہیں اور ان چاروں کے حجابات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے وجود سے دوئی ختم ہو جاتی ہے جس سے وہ اللہ کے ساتھ یکتا ہو جاتا ہے۔ یہ ہے باطن آباد کرنے والے ذکر ِ اللہ کی شرح۔ ایسا ذکر کرنے والے کو مبارک باد۔  بیت

ہر کہ دعویٰ کرد من ذاکر خدا
خود پرستی رفت از وی دل صفا

ترجمہ: اگر کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ وہ ذاکر خدا ہے تو اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے وجود سے خود پرستی نکل جاتی ہے اور دل مصفا ہو جاتا ہے۔

ایسا صاحبِ ذکر ہمہ وقت اللہ کے ذکر میں محو رہتا ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے اللہ کے ساتھ ذکر کے دور پہ دور کرتا رہتا ہے۔ اسے آوازِ سرود اور مخلوق کی آواز نہیں بھاتی اگرچہ وہ خوش الحان آواز کسی داؤدی گلے کی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کے کان حق کو سننے میں مشغول رہتے ہیں۔ اسے مخلوق کے خدوخال کا حسن پسند نہیں آتا خواہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کی مثل ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی آنکھیں شوق و اشتیاق سے نورِ حضور کے دیدار میں مگن ہوتی ہیں۔ ایسا ذاکر لب بستہ ہو کر اللہ سے ہمکلام رہتا ہے‘ اس کی زبان حق کے سوا اور کچھ نہیں بولتی اگرچہ اسے ہر کلام کے عوض ملکِ سلیمانی کی حکومت ہی کیوں نہ پیش کی جائے۔
ابیات

مرا ز پیر طریقت نصیحتی یاد است
کہ غیر یاد خدا ہرچہ ہست برباد است

ترجمہ:مجھے پیر طریقت کی نصیحت یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے سوا جو کچھ بھی ہے سب برباد کر دینے والا ہے۔

دولت بسگان دادند و نعمت بخران
ما امن امانیم تماشا نگران

ترجمہ: (دنیاوی) دولت اور نعمتیں کتوں اور گدھوں میں بانٹ دی گئی ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہم امان میں ہیں اور ان کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔

قدرتِ ازلی اور فیضِ فضلی سے درونِ قلب میں اسمِ اعظم مرقوم ہوتا ہے اور اسمِ اعظم حیّ و قیوم  ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ
قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ 
 (المجادلہ۔22)
ترجمہ: یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان رقم کر دیا ہے۔
اللہ رحمن کے قرب کی حقیقت اسی کو معلوم ہے جس کے دل میں اسمِ اعظم مرقوم ہے۔ غیر مخلوق اسم اللہ  ذات کے تصور سے قلب کے اندر سے نورِ ایمان اٹھتا ہے جو سر سے قدم تک ہر عضو کو نور سے منور کر دیتا ہے او روجود سے ہر غیر اللہ کے خیال کو مٹا دیتا ہے۔

شرح ذاکر قلب

جان لے کہ ذاکر قلبی کا قلب بیدار ہوتا ہے اور اسے زندگی اور موت کے بعد بھی کبھی نہ فنا ہونے والی بقا حاصل ہوتی ہے۔ وہ خواب میں میدانِ حشر کے پل صراط سے باآسانی گزر کر دیدارِ الٰہی کے لیے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ جو شخص خواب میں، مراقبہ میں یا پھر باطن میں دیدارِ الٰہی سے مشرف ہو کر دیدار میں غرق ہو جاتا ہے اس کا قلب نورِ توحید ِ ذات کے دیدار سے حیات و ممات میں دائمی زندہ ہو جاتا ہے۔ اس کا جسم قبر کی مٹی، کیڑے مکوڑوں، گلنے سڑنے اور نجاست سے محفوظ رہتا ہے۔ ایسا ذاکر روزِ محشر صحت مند اور درست جسم کے ساتھ قبر سے اس طرح اٹھے گا جیسے کوئی سو کر اٹھتا ہے۔ جب ایسا صاحبِ بیدار قلب اور دیدارِ الٰہی سے مشرف ذاکر قبر سے جذب کی حالت میں اٹھے گا تو اپنے سر کو عرشِ اکبر پر مارے گا اور ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دامن مبارک پکڑ لے گا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی زبانِ مبارک سے اسے فرمائیں گے ’’اے زندہ دل ذاکر! قلبِ فقیر کو دائمی بقا حاصل ہے۔ تو ربّ العالمین کے دیدار کا مشتاق،عاشق اور دیوانہ رہا ہے۔ باخبر و باشعور ہو جا کہ آج روزِ قیامت ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں بہشت میں داخل ہو جائے گا جہاں اس کے قلب کو دیدارِ الٰہی سے مراتبِ بقا حاصل ہوں گے اور پھر کبھی بھی اس کی نظریں دیدارِ الٰہی سے جدا نہیں ہوں گی۔ جو شخص ان صفات سے متصف نہیں اس کے قلب کو زندہ، بیدار اور بقا یافتہ نہیں کہا جا سکتا۔  بیت

طلب کن از  ذکر قلبش و از قلب
ذاکر قلبش بمحرم راز ربّ

ترجمہ: تو ایسے ذاکر کے قلب سے ذکر ِقلبی طلب کر جو رازِ الٰہی کا محرم ہو۔
فقیرِ کامل کے سات مراتب ہوتے ہیں۔ وہ ظاہر میں محتاج اور باطن میں لایحتاج ہوتا ہے۔ ظاہر میں عاجز و گدا اور باطن میں غنی ہوتا ہے۔ اس کا ظاہر اہلِ رنج اور باطن صاحبِ تصرف و گنج ہوتا ہے، وہ ظاہر میں اہلِ سوال اور باطن میں عارف باللہ، ولی اللہ اور صاحبِ وصال ہوتا ہے۔ ظاہر میں دنیاوی علوم میں جاہل اور باطن میں عارف عالم فاضل ہوتا ہے۔ ظاہر میں وہ گمنام لیکن باطن میں اٹھارہ ہزار عالم میں مشہور و معروف ہوتا ہے۔ ظاہر میں اہل تقلید اور باطن میں اہل توحید ہوتا ہے۔ تو جو کچھ طلب کرنا چاہتا ہے ایسے فقیرِ کامل سے کر۔ جو خود فقیر ہوتا ہے وہ دوسرے فقیر کو اس کے اخلاص، اعتقاد، باطنی طلبِ مولیٰ، اللہ کے راز رکھنے، علم و شعور، باطنی جمعیت اور حضوری کی صفات سے پہچان لیتا ہے۔ فقیر کامل کل الکلید ہے۔ اس کا ورد قدرت کا ورد ہے اور اسی سے اسے حضوری حاصل ہوتی ہے۔ اس کا الہام قدرت کا الہام ہونے کی وجہ سے نور ہے۔ اس کا ذکر‘ قدرت کا ذکر ہونے کی وجہ سے نور ہے۔ اس کا فکر‘ قدرت کا فکر ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا تصور‘ قدرت کا تصور ہونے کی وجہ سے نور ہے۔ اس کا تفکر‘ قدرت کا تفکر ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا تصرف‘ قدرت کا تصرف ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کی آواز‘ قدرت کی آواز ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کی نظر‘ قدرت کی نظر ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا راز‘ قدرت کا راز ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا مشاہدہ‘ قدرت کا مشاہدہ ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کے ہاتھ‘ دستِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہیں، اس کا قلب‘ قلبِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کی روح‘ روحِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا سرّ‘ سرِّ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا نفس‘ نفسِ قدرت ہونے کہ وجہ سے نور ہے، اس کے گوش‘ گوشِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہیں، اس کی معرفت‘ معرفتِ قدرت ہونے کہ وجہ سے نور ہے، اس کا قرب‘ قربِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کی حضوری‘ حضوریٔ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا فیض‘ فیضِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کا فضل‘ فضلِ قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے، اس کی عطا‘ عطائے قدرت ہونے کی وجہ سے نور ہے اور اس کی جمعیت‘ قدرتِ جمعیت سے نور ہے۔ ان تمام میں نور و مذکور کا تصور ہے اور ہر ایک مقامِ نور پر نورِ حضور کی ہزارہا تجلیات وارد ہوتی ہیں جو طالب کو منور کر دیتی ہیں۔ جس پر ان صادق انوار کی ایک تجلی بھی صادر ہو جائے وہ ایک ہی لمحہ میں عین اللقا سے مشرف ہونے کے لائق ہو جاتا ہے۔ مراتبِ اولیا و فقیر کامل رکھنے والا دونوں جہان کا فقیر اسے کہتے ہیں جو ظاہری اور باطنی تمام علوم کی کل کلید سے واقف ہو۔ اگر کسی کوعطا کرنا چاہے تو خزانہ بخش دیتا ہے اور لایحتاج بنا دیتا ہے۔ 

(جاری ہے)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں