غرور کا سر نیچا | Gharoor Ka Sir Neecha

غرور کا سر نیچا

مراسلہ:  محمد فیضان یٰسین سروری قادری

عربی گرائمر (صرف و نحو) کے علم کا ایک ماہر استاد دریا عبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوا۔ جب کشتی بادِ موافق کے سہارے مزے سے دریا پر تیرتی جا رہی تھی تو علمِ نحو کے بادشاہ (یعنی استاد) نے ملاح سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ پوچھنے لگا ’’بھائی ملاح! توُ نے علمِ نحو پڑھا ہے؟‘‘ ملاح کی جانے بلا کہ علمِ نحو کیا ہے۔
اس نے پوچھا ’’مولوی صاحب! نحو کیا چیز ہے؟ میں نے تو آج تک اس کا نام بھی نہیں سنا۔‘‘ استاد بولا ’’واہ رے میاں ملاح! تو نے تو یونہی اپنی آدھی عمر برباد کر دی۔ ارے جو شخص علمِ نحو سے واقف نہیں وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے۔ افسوس! تو نے اپنی زندگی کشتی چلانے میں گنوا دی، نحو جیسا فن نہ سیکھا۔‘‘ کشتی چلانے والے ملاح کو بہت غصہ آیا۔ بہرحال بیچارہ خاموش ہو گیا اور لاجواب ہو کر چپ رہا۔
جب کشتی عین دریا کے درمیان میں پہنچی تو قدرتی طور پر بادِ مخالف زور سے چلنے لگی اور سب کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ کشتی کا بسلامت کنارے پر لگنا ناممکن نظر آنے لگا۔
تب ملاح نے کہا ’’بھائیو! کشتی بھنور میں پھنس چکی ہے۔ تیر کر پار کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘ ملاح نے اس وقت علمِ نحو کے ماہر استاد صاحب سے کہا ’’حضور! اب اپنے فن سے کچھ کام لیجئے۔ کشتی غرق ہونے والی ہے۔‘‘ استاد صاحب اس وقت خاموش رہے کہ اس وقت علمِ نحو کیا کام دیتا۔ پھر ملاح نے کہا ’’اس وقت نحو کا کام نہیں محو کا کام ہے۔ آپ کو کچھ تیرنا بھی آتا ہے؟‘‘ استاد صاحب نے جواب دیا ’’بالکل نہیں آتا۔‘‘ ملاح نے کہا ’’حضرت پھر تو آپ کی ساری عمر برباد ہو گئی۔ دریا کا پانی مردہ کو اپنے سر پر رکھتا ہے جبکہ زندہ اس میں غرق ہو جاتا ہے۔ اپنے آپ کو مٹانے اور فنا کرنے سے ہی اللہ تعالیٰ کا راستہ طے ہوتا ہے۔ تکبر والے اس سے محروم رہتے ہیں اور غرقِ آب ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ 

درس:

غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ 
دوسروں پر اعتراض سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
ہر شخص ہر کام کے لیے پیدا نہیں ہوا بلکہ ہر کسی کے ذمہ الگ الگ کام ہیں۔
(حکایاتِ رومیؒ)

 

19 تبصرے “غرور کا سر نیچا | Gharoor Ka Sir Neecha

      1. اپنے آپ کو مٹانے اور فنا کرنے سے ہی اللہ تعالیٰ کا راستہ طے ہوتا ہے۔♥️

    1. بہترین۔۔۔ دریا کا پانی مردہ کو سر پر رکھتا ہے۔۔۔ سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حق کے راستے پر سر کٹا کے آ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں