علم | Ilm

علم

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔لاہور

حضرت سلطان باھوؒ اپنی تصنیف کشف الاسرار میں فرماتے ہیں:

رفت عمری در مطالعہ با رقم
باخدا واصل نشد افسوس و غم

ترجمہ: تمام عمر لکھنے اور پڑھنے میں گزر گئی۔ افسوس اور غم! اتنا لکھنے کے باوجود خدا کا وصال نصیب نہیں ہوا۔ 

حقیقی علم وہی ہے جو طالب ِمولیٰ کے وجود سے تمام نفسانی حجابات کو اٹھا دے اور اسے مر تبۂ وحدت تک پہنچا دے۔ مرتبۂ وحدت سے مراد ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا  اللّٰہُ‘‘( نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے)  یعنی اپنے وجود سے غیر اللہ کی نفی کر نا ہے۔ جو طالبِ مولیٰ وحدت کے اس راز کو پا لیتا ہے وہ علمِ حقیقت کے اسرار و رموز سے واقف ہو جاتا ہے۔ یہی وہ علم ہے جسے حاصل کرنے پر اسلام نے زور دیا۔ یہ علم کہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ تمام علوم کا سرچشمہ اسمِ اللہ ذات ہے۔ تمام ظاہری و باطنی علوم جس ایک ’الف‘ میں قید ہیں وہ ’اسمِ اللہ ذات‘ ہے۔ اسمِ اللہ ذات کے اندر ہی توریت، زبور، انجیل اور قرآنِ مجید فرقانِ حمید کا علم پوشیدہ ہے۔
فرمانِ باھوؒ :

خیالِ خواندن چندیں کتب چراست  ترا
الف بس است اگر فہم این اداست ترا

ترجمہ: تجھ پر اس قدر کتابیں پڑھنے کی دھن کیوں سوار رہتی ہے۔ اگر تو صاحبِ فہم ہے تو تیرے لیے علمِ الف (اسمِ اللہ ذات) ہی کافی ہے۔ 
 اسمِ اللہ ذات علمِ لدنیّ حاصل کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہے بشرطیکہ کسی مرشد کامل اکمل سے حاصل کیا گیا ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعَلَّمْنَاہُ مِنْ لَّدُنَّاعِلْمًا(سورۃ الکہف۔65)
 ترجمہ: اور ہم نے اسے علمِ لدنیّ سکھایا۔
عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ  یَعْلَمْ (سورۃ العلق ۔ 05)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ علم سکھایا جو پہلے نہ جانتا تھا۔
جب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام پر پہلی وحی کا نزول ہوا اور فرمایا گیا ’’پڑھ اپنے ربّ کے اسم سے‘‘۔ اس سے مراد اسمِ اللہ ذات ہے۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
مجھے اور محمد عربیؐ کو ظاہری علم حاصل نہیں تھا لیکن وارداتِ غیبی کے سبب علمِ باطن کی فتوحات اس قدر تھیں کہ کئی دفاتر درکار ہیں۔
آپؒ فرماتے ہیں:

گرچہ نیست ما را علمِ ظاہر
ز علمِ باطنی جاں گشتہ طاہر

ترجمہ: اگرچہ میں نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا تاہم علمِ باطن حاصل کر کے میں پاک و طاہر ہو گیا اس لیے جملہ علوم میرے جسم میں سما گئے۔
جس طرح حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظاہری علم حاصل نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود آپؐ علم اور حکمت و دانش کا منبع تھے بالکل اسی طرح حضرت سخی سلطان باھوؒ نے ظاہری تعلیم و تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ آپؒ کی140 تصانیف ہیں اور تمام کی تمام علمِ لدنیّ کا شاہکار ہیں۔
مضمون کے اس حصہ میں اب تک اس بات کی وضاحت کی گئی کہ علمِ حقیقت و معرفت حاصل کرنے کا کونسا ذریعہ ہے یا حقیقی علم کسے کہتے ہیں۔ مضمون کے اگلے حصہ میں اس کی وضاحت کی جائے گی کہ نظریہ وحدت الوجود کی روشنی میں علم سے کیا مراد ہے۔ اور یہ علم کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مرآۃ العارفین میں فرماتے ہیں:
جیسا کہ ہم حق تعالیٰ کی نسبت کہہ چکے ہیں کہ اس کا اپنی ذات کو جاننا تمام اشیا کے علم کو  مستلزم ہے اور یقینا وہ خود کو جاننے سے تمام اشیا کو جانتا ہے اسی طرح ہم انسانِ کامل کی نسبت کہتے ہیں کہ اس کا اپنی ہی ذات کو جاننا تمام اشیا کے علم کو مستلزم (اپنے اوپر لازم کر لینا) ہے اور وہ اپنی ذات کو جاننے سے تمام اشیا کو جانتا ہے اس لیے کہ اجمال اور تفصیل کی رو سے وہی جمیع اشیا ہے۔ پس جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے ربّ کو پہچانا اور تمام اشیا کو جان لیا۔ پس اے میرے بیٹے! تمہارا اپنے آپ میں تفکر ہی تمہارے لیے کافی ہے کہ کوئی شے تجھ سے باہر نہیں۔ (مرآۃ العارفین)

نظریہ وحدت الوجود کے نزدیک ہر شے کا حقیقی وجود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کا کسی بھی شے کے متعلق علم درحقیقت اللہ کی اپنی ذات کا علم ہے۔ ہر شے کا علم چاہے ظاہری ہو یا باطنی، ماضی، حال و مستقبل سب اللہ کی ذات میں موجود ہے۔ وہ اپنے آپ کو جاننے سے تمام مخلوقاتِ عالم کو جانتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ وہ پہلے نہ جانتا تھا اور بعد میں خود کو جاننے سے جانا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ خود علم ہے اور ہر شے کے متعلق علم ازل سے ہی کامل صورت میں موجود ہے۔ درحقیقت اللہ کا خود ہر علم کا عالم ہونا اور دنیا میں اپنے ہونے کے نقوش دکھانا سب عشق کا کھیل ہے تاکہ اس کے بندے اسے جانیں، پہچانیں اور اس کی معرفت حاصل کریں۔
اللہ تعالیٰ نے جب اپنی ذات کے اظہار کا ارادہ فرمایا تو خود کو نورِ محمدی کی صورت میں ظاہر فرمایا۔ اسی نسبت کی بنا پر جو علم ذاتِ الٰہی میں موجود تھا وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام میں بھی عین اسی کامل حالت میں موجود تھا کیونکہ نورِ محمدی نورِ الٰہی سے جدا نہیں۔ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے علم، عقل اور کتابِ مبین کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میری روح کو ظاہر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو ظاہر فرمایا۔
 اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو ظاہر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو ظاہر فرمایا۔ 

سرّالا سرار میں سیدّنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں:
ان سب سے مراد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے حقیقتِ محمدیہ جس کا نام نور اس لیے رکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات ظلماتِ جلالیہ سے بالکل پاک ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’تمہارے پاس آیا اللہ کی طرف سے ایک نور اور کتابِ مبین‘‘ اور عقل اس لیے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات تمام کلیات پر محیط ہے اور قلم اس لیے نام رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات علم کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ قلم عالمِ حروف میں علم منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ (سرّ الاسرار)

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب 

انسانِ کامل حق تعالیٰ کا آئینہ ہوتا ہے ۔ حقائقِ الٰہیہ اور حقائقِ کونیہ کا علم اس کی اپنی ذات میں موجود ہوتا ہے۔ اسے علم حاصل کرنے کے لیے کسی چیز یا اشیا کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی ہی ذات میں علمِ کامل سے ہر چیز کو جان لیتا ہے۔ اللہ اور انسانِ کامل کے علم میں فرق یہ ہے کہ اللہ از خود ہر علم کا عالم ہے اور انسانِ کامل ہر علم بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا کامل ترین اظہار انسان کے روپ میں کیا۔ اسی حوالے سے علمِ الٰہی کا نگینہ انسان کے وجود میں بھی پیوست ہے۔ انسان کے وجود میں اسی علمِ الٰہی کے نزول کی ترتیب کو محترمہ عنبرین مغیث سروری قادری نے مرآۃ العارفین کی شرح کرتے ہوئے یوں بیان کیا:
ہر انسان کی ابتدا نورِ محمدی ہے۔ نورِ محمدی سے ہی انسان کو تخلیق کیا گیا۔ نورِ محمدی قلمِ الٰہی کے مشابہ ہے۔ تمام علم مجملاً صورت میں نورِ محمدی میں موجود ہے۔ نورِ محمدی سے روحِ قدسی کو پیدا کیا گیا جو لوح کے مشابہ ہے جس میں تمام مخلوقاتِ عالم کا علم تفصیلی صورت میں موجود ہے۔ روحِ قدسی کو قلب کا لباس پہنایا گیا جو کہ عرش کے مشابہ ہے۔ اس مرتبہ پر مخلوقاتِ عالم کے علمی وجود کو پہلی مرتبہ مخلوق صورت عطا کی گئی۔ پھر انسان کے اس باطنی حقیقی جسم یعنی قلب کو نفس کے پردے میں لپیٹا گیا جو کرسی سے مشابہ ہے۔ پھر نور، روح، قلب اور نفس کو عالمِ ناسوت میں ظاہری جسم میں چھپا کر تخلیقِ انسان مکمل ہوئی۔ (مرآۃ العارفین : ترجمہ و شرح )

اب تک کی بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ تمام علم انسان کے اندر موجود ہے کیونکہ انسان کو نورِ محمدی سے تخلیق کیا گیا ہے۔ اس علم کو اپنے باطن میں تلاش کرنے کو معرفتِ الٰہی کا نام دیا گیا ہے کیونکہ جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ جس مرتبہ وحدت پر پہنچنے کی بات مضمون کے شروع کے حصہ میں کی گئی ہے اس سے مراد بھی یہی ہے۔ جس طرح ہر علم کا معلم ہوتا ہے اور ہر شے کا ایک کاریگر ہوتا ہے اسی طرح اپنی ذات کو جان کر ہر علم کو جاننے کے لیے بھی ایک آلہ کی ضرورت ہے اور وہ ’’تصور اسمِ اللہ ذات‘‘ ہے جو کہ مرشد کامل اکمل کی زیرِ نگرانی طالب پر حقیقی علم کو منکشف کرتا ہے۔
ہر علم انسان کے اندر موجود ہے بس اس کا ظاہر ہونا انسان پر منحصر ہے یعنی انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس علم تک پہنچنے کے لیے کتنی کوشش کرتا ہے۔ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ  اِلاَّ مَا سَعٰی (سورۃ النجم۔ 39)
ترجمہ: انسان کے لیے اتنا ہی ہے جتنی وہ کوشش کرے گا۔
مولانا رومؒ انسان کے اس حقیقی راز کے متعلق فرماتے ہیں:

بس بصورت عالم صغریٰ توئی
پس بمعنی عالم کبریٰ توئی

ترجمہ: (اے انسان!) صورت سے تو ایک چھوٹا سا جہان ہے لیکن حقیقت میں تو اس تمام عالم سے بڑا عالم ہے۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

بجاں پوشیدہ رمزِ کائنات است
بدن حالے ز احوالِ حیات است

ترجمہ: کائنات کا تمام علم اور راز تیرے اندر پوشیدہ ہے۔ تیرا ظاہری وجود تو ازل سے ابد تک جاری رہنے والی تیری حیات کے بہت سے احوال میں سے ایک (عارضی) حال ہے۔
انسان کے اندر پوشیدہ علمِ راز تک پہنچنے کا تعلق انسان کے نفس سے ہے۔ جوں جوں انسان کے نفس کا تزکیہ ہوتا جاتا ہے توُں توُں اس پر علمِ ذات کی حقیقت کھلتی جاتی ہے۔ پہلے اس کا نفس امارہ سے لوامہ ہوتا ہے پھر لوامہ سے ملہمہ اور آخر میں ملہمہ سے مطمئنہ ہو جاتا ہے۔ انسان جب اپنی حقیقت کی جانب سفر پر گامزن ہوتا ہے تو جس طرح نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اسی طرح روح کی شفافیت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ روح پر ہر عالم کے حساب سے پردے موجود ہوتے ہیں۔ جانبِ حق سفر میں پہلے روح ،ر وحِ جسمانی سے روحِ نورانی، روحِ نورانی سے روحِ سلطانی اور روحِ سلطانی سے روحِ قدسی کے مرتبہ تک پہنچ جاتی ہے۔ روحِ قدسی سے ہی تمام ارواح کو پیدا کیا گیا ہے۔ دراصل یہ سفر عشقِ الٰہی کی بدولت طے ہوتا ہے لیکن عشقِ الٰہی اسے نصیب ہوتا ہے جسے علمِ الٰہی میں معرفت و کمال حاصل ہوتا ہے۔
نفوس یعنی ارواح جہالت کے سبب مردہ ہوتی ہیں اور علم سے زندہ ہو جاتی ہیں۔ (فصوص الحکم والایقان)
روحِ جسمانی کا تعلق عالمِ ناسوت سے ہے۔ اس سے متعلقہ علم، علمِ شریعت ہے۔ روحِ نورانی کا تعلق عالمِ ملکوت سے ہے۔ اس سے متعلقہ علم، علمِ طریقت ہے۔ روحِ سلطانی کا تعلق عالمِ جبروت سے ہے۔ اس سے متعلقہ علم، علمِ معرفت ہے۔ روحِ قدسی کا تعلق عالمِ لاھوت سے ہے اس کا تعلق علمِ حقیقت سے ہے۔ علمِ حقیقت عقلِ کل ہے۔ جو اپنی ذات میں روحِ قدسی کی حقیقت کو پا لیتا ہے وہ علم کی اصل حقیقت کو پا لیتا ہے ۔ انسان کے اس مرتبہ کے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
تو وہ کتابِ روشن ہے کہ جس کے حرفوں سے ہر پوشیدہ چیز ظاہر ہوتی ہے ۔
وہی قلب ’’روشن کتاب‘‘ ہے جو علمِ حقیقت کا عالم ہوتا ہے۔ قرآن میں انسان کو جابجا اپنی ذات میں غوروفکر کرنے اور اپنے اسی حقیقی مرتبہ کو پانے کی دعوت دی گئی ہے۔
اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم دیکھتے نہیں۔ (سورۃ الذٰریٰت۔ 21)
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے۔ (سورۃ الروم ۔8)
حضرت سخی سلطان باھوُ فرماتے ہیں:

زمین و آسمان و عرش و کرسی
ہمہ درتست تو از کے بہ پرسی

ترجمہ: زمین و آسمان و کرسی سب کچھ تو تیرے اندر ہے ، تو دوسروں سے کیا پوچھتا ہے ۔
انسان کا قلب وہ کتابِ جامع ہے جہاں پر علمِ لدنیّ کا نزول ہوتا ہے۔  یا انسان کا قلب ہی وہ میدانِ فرقان ہے جہاں وہ حق و باطل کے مابین امتیاز کو جانتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے :
کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہو سکتے ہیں۔ (سورۃ الزمر۔9)
پس اللہ تعالیٰ انسان کو حقیقی قرآن پڑھنے کا بھی حکم دیتا ہے اور انسان قلبِ مطہر ہے۔  
اِقْرَاْ کِتَابَکَسورۃ بنی اسرائیل۔ 14)
ترجمہ: پڑھ اپنی کتاب کو۔
علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں :

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن 

اسی طرح ایک اور جگہ آپؒ فرماتے ہیں:

تجھے کتاب کے مطالعہ سے فرصت نہیں کہ تو
کتاب خواں ہے صاحب کتاب نہیں 

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت معاذؓ  کو کسی جگہ کا والی بنا کر بھیجا تو ان سے پوچھا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے کیا تدبیر اختیار کریں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ قرآن سے مدد لیں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا کہ اگر قرآن سے مدد نہ ملی تو کیا کریں گے؟ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ سنت سے مدد لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دوبارہ پوچھا کہ اگر سنت سے بھی مدد نہ ملی تو کیا کریں گے؟ انہوں نے جواب دیا ’’پھر میں اجتہاد کروں گا‘‘ یعنی خود کوشش کروں گا۔ 

یہ ایک متفقہ علیہ حدیث ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر کسی سوال کا جواب ظاہری طور پر قرآن و حدیث میں موجود نہیں تو اس کے لیے  غوروفکر کا راستہ اپنانا چاہیے۔ پاکیزہ نفوس رکھنے والے انسان کا قلب وہ علمِ کتاب ہے جہاں حق تعالیٰ کی جانب سے ان پر ہر پیچیدہ مسائل کا حل منکشف ہو جاتا ہے۔ 

حاصلِ تحریر:

 انسان کا نفس جتنا شفاف ہو گا اتنا ہی اس پر علمِ حق روشن ہو گا اور معرفت و قربِ الٰہی کی منازل طے کرے گا۔ روزِ قیامت انسان کا درجہ اسی بنا پر طے کیا جائے گا۔ یہی علم نفس کی حیات اور پاکیزگی کا باعث ہے۔ انسا ن دنیاوی و ظاہری علوم کو حاصل کرنے کی کس قدر کوشش کرتا ہے لیکن اگر وہ علمِ حق سے پردے میں رہا تو یہ اس کے لیے دین و دنیا دونوں میں خسارے کا سبب ہو گا۔ علمِ حق ہی وہ ترازو ہے جو جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے مابین فرق کرتا ہے۔ علمِ حق کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو جاننے کی جستجو پیدا کی جائے (یعنی اپنے آپ کو پہچانا جائے) اور اس مقصد کے حصول کے لیے مرشد کامل اکمل کے دستِ مبارک پر بیعت کی جائے۔ مرشد کامل اکمل ایسا حقیقی و باکمال عالم ہوتا ہے جو طالب پر علمِ حق روشن کر کے اسے دین و دنیا دونوں میں کامیاب و کامران کر دیتا ہے۔ 

استفادہ کتب
مرآۃ العارفین  تصنیف لطیف سیدّالشہدا حضرت امام حسینؓ
سر الاسرار  تصنیف لطیف سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
عین الفقر  تصنیف لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
کشف الاسرار  ایضاً
شمس الفقرا  تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
فصوص والحکم والایقان  تصنیف شیخ ِاکبر محی الدین ابنِ عربیؒ
عوارف المعارف  تصنیف حضرت شہاب الدین سہروردیؒ
کلیاتِ اقبال

 

16 تبصرے “علم | Ilm

    1. حقیقی علم وہی ہے جو طالب ِمولیٰ کے وجود سے تمام نفسانی حجابات کو اٹھا دے اور اسے مر تبۂ وحدت تک پہنچا دے۔

      1. یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
        قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

    2. جس طرح ہر علم کا معلم ہوتا ہے اور ہر شے کا ایک کاریگر ہوتا ہے اسی طرح اپنی ذات کو جان کر ہر علم کو جاننے کے لیے بھی ایک آلہ کی ضرورت ہے اور وہ ’’تصور اسمِ اللہ ذات‘‘ ہے جو کہ مرشد کامل اکمل کی زیرِ نگرانی طالب پر حقیقی علم کو منکشف کرتا ہے۔

  1. انسان کا نفس جتنا شفاف ہو گا اتنا ہی اس پر علمِ حق روشن ہو گا اور معرفت و قربِ الٰہی کی منازل طے کرے گا۔ روزِ قیامت انسان کا درجہ اسی بنا پر طے کیا جائے گا۔ یہی علم نفس کی حیات اور پاکیزگی کا باعث ہے

    1. حقیقی علم وہی ہے جو طالب ِمولیٰ کے وجود سے تمام نفسانی حجابات کو اٹھا دے اور اسے مر تبۂ وحدت تک پہنچا دے۔

  2. ترجمہ: (اے انسان!) صورت سے تو ایک چھوٹا سا جہان ہے لیکن حقیقت میں تو اس تمام عالم سے بڑا عالم ہے۔

    1. س طرح ہر علم کا معلم ہوتا ہے اور ہر شے کا ایک کاریگر ہوتا ہے اسی طرح اپنی ذات کو جان کر ہر علم کو جاننے کے لیے بھی ایک آلہ کی ضرورت ہے اور وہ ’’تصور اسمِ اللہ ذات‘‘ ہے جو کہ مرشد کامل اکمل کی زیرِ نگرانی طالب پر حقیقی علم کو منکشف کرتا ہے۔
      بےشک

  3. حقیقی علم وہی ہے جو طالب ِمولیٰ کے وجود سے تمام نفسانی حجابات کو اٹھا دے اور اسے مر تبۂ وحدت تک پہنچا دے۔

  4. علمِ حق کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو جاننے کی جستجو پیدا کی جائے (یعنی اپنے آپ کو پہچانا جائے) اور اس مقصد کے حصول کے لیے مرشد کامل اکمل کے دستِ مبارک پر بیعت کی جائے۔ مرشد کامل اکمل ایسا حقیقی و باکمال عالم ہوتا ہے جو طالب پر علمِ حق روشن کر کے اسے دین و دنیا دونوں میں کامیاب و کامران کر دیتا ہے۔

    بے شک

  5. یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
    قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

  6. خیالِ خواندن چندیں کتب چراست ترا
    الف بس است اگر فہم این اداست ترا
    ترجمہ: تجھ پر اس قدر کتابیں پڑھنے کی دھن کیوں سوار رہتی ہے۔ اگر تو صاحبِ فہم ہے تو تیرے لیے علمِ الف (اسمِ اللہ ذات) ہی کافی ہے۔

  7. مرشد کامل اسم اللہ ذات اور اپنی نگاہِ کاملہ سے جو علم عطا کرتا ہے وہی حقیقی علم ہے

  8. علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

    لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
    گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

اپنا تبصرہ بھیجیں