یومِ وصال 22 جمادی الثانی- عاشق صادق خلیفۃ الرسولؐ حضرت ابوبکر صدیقؓ- | Khalifa-e-Rasool Hazrat Abu Bakr Siddique

یومِ وصال 22 جمادی الثانی- 

عاشق صادق  خلیفۃ الرسولؐ حضرت ابوبکر صدیقؓ-
  (Khalifa-e-Rasool Hazrat Abu Bakr Siddique)

تحریر:محترمہ نورین سروری قادری ۔ سیالکوٹ

صحابہ کرامؓ وہ مبارک اور عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کی زیارت کی، آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور ایمان کی حالت میں ہی دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔ یوں تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جلیل القدر اور عظیم المرتبت ہیں اور امت کے بہترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن چار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بطور خلفائے راشدین مشہور ہیں ان میں سب سے پہلے خلیفہ سیدّنا ابوبکر صدیقؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique)ہیں جو اپنے درجات اور مراتب میں اس قدر بلند ہیں کہ آپؓ خلیفۃ رسولؐ، رفیقِ رسولؐ، افضل البشر بعد الانبیا، سب سے بزرگ و برتر، امام المسلمین، امامِ صدیقین، عتیق من النار کے القابات سے مشہور ہیں۔ آپؓ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں۔

فضائل حضرت ابوبکر صدیقؓ

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کا ارشاد مبارک ہے:
حضرت ابوبکر صدیقؓ (Syedna Abu Bakr Siddique) کی فضیلت نماز، تلاوت اور روزوں کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے دل میں قرار پانے والی ایک اعلیٰ چیز کی وجہ سے ہے جو کہ میری محبت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے فرمایا ’’میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی اس کی طرف سے ایک گونہ تردد اور فکر پائی لیکن جب میں نے ابوبکرؓ کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بلا توقف و تردد اس کو قبول کر لیا۔ کیا تم میری خاطر میرے دوست کو ستانا چھوڑ دو گے! میں نے کہا کہ اے لوگو! میں تم سب کے پاس اللہ کی طرف سے رسول مبعوث ہوا ہوں تم سب نے مجھے جھٹلایا لیکن ابوبکرؓ نے میری تصدیق کی۔‘‘ (بخاری)
حضور سرورِ دو عالمؐ (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے حضرت ابو بکرؓ سے فرمایا کہ تم میرے رفیق ِحوض (کوثر) اور میرے رفیق ِ غار ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے فرمایا ’’کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے دو وزیر ہوں، میرے دو وزیر آسمان والوں سے جبرائیل ؑ اور میکائیلؑ اور دو اہلِ زمین سے ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔‘‘
یہ عظمت اور شان و مرتبہ اس لیے تھا کہ سیدّنا صدیقِ اکبرؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique)سید المرسلین والانبیا کے انوارِ سیرت کا پرتو تھے۔ اس بات کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم(Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam)  نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے جو چیز میرے دل میں ڈالی میں نے اس کو ابوبکرؓ کے دل میں ڈال دیا۔
حضرت ابوبکر صدیق محبوبِ ربّ العالمین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے محبوب تھے اس لیے کہ آپؓ نے اپنی جان و مال، اہل وعیال اور عزت و آبرو غرض سب کچھ عشقِ حبیبؐ میں فنا کردیا تھا۔ 

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں کہ سیدّنا صدیق ِ اکبرؓ کی فضیلت کے چار پہلو ہیں:
اوّل: اُمت میں مرتبہ علیا (بلند مرتبہ) پانا۔ صدیقیت اسی سے مراد ہے۔
دوم: روزِ اوّل سے ہی سرورِ کونینؐ کی اعانت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینا۔
سوم: نبوت کے شروع کیے ہوئے کاموں کو تمام تک پہنچانا۔
چہارم: آخرت میں مرتبہ علو۔

مرتبہ علو کا اندازہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کے اس ارشاد مبارک سے لگایا جا سکتا ہے:
ہم پر کسی کا احسان نہیں جس کابدلہ ہم نے دے نہ دیا ہو سوائے ابوبکرؓ کے، ان کا جو احسان ہمارے ذمہ ہے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دے گا۔(ترمذی)

(بحوالہ سیرۃ خلیفۃ الرسول سیّدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ)

قرآنِ پاک نے صدیقین کو انبیا کے بعد دوسرا درجہ دیا ہے اور امت محمدیہ کو بہتر امت قرار دیا ہے۔ سیدّنا صدیقِ اکبرؓ امتِ محمدیہ کے صدیقین کے سردار ہیں۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سیدّنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Abu Bakr Siddique) کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ آفتابِ نبوت کے تاباں ستاروں میں سے درخشاں ستارہ ہیں۔ سیدّنا حضرت ابوبکر صدیقؓ (Syedna Abu Bakr Siddique) اپنے درجات اور مراتب میں اس قدر بلند ہیں کہ آپؓ کو عارفین کے سردار، اصحابِ تجرید و تفرید کے امام، رفیقِ رسولؐ، امامِ صدیقین اور افضل البشر بعد الانبیا کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی عارف سیدّنا صدیق ِاکبرؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique) کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ سالکین کے لیے آپؓ کی حیاتِ مبارکہ مشعلِ راہ ہے۔ (خلفائے راشدین)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کے تمام صحابہ کرامؓ عشق و محبت کے پیکر اور ایثار و وارفتگی کا نمونہ تھے۔ وہ آپؓ کے غسالہ (وضو کے وقت جسم سے بہہ کر گرنے والا پانی) کو زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے۔ تیروں کی بارش میں سپر بن کر آگے کھڑے ہو جاتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) پر جان و مال نچھاور کرنا ان کی عین تمنا اور ایک نگاہِ التفات کو پالینا ان کے لئے زندگی کا حاصل تھا۔ آنسوؤں سے مسکراہٹ تک، انہوں نے حیاتِ رسول کی ایک ایک ادا کو کتابِ ذہن میں منقش کر لیا تھا۔ یہ سارے ہی آسمانِ عشق و محبت کے ستارے تھے مگر جو محبت کا سوز اور عشق کا گداز حضرت ابوبکرؓ کی شخصیت میں نظر آتا ہے وہ تاریخ محبت کے کسی اور صفحہ پر نہیں ملتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Abu Bakr Siddique) آسمانِ محبت کے نیر ِ اعظم، حسن نبوت کی تجلی ٔاوّل اور مظہر انوارِ رسالت تھے۔

ولادت باسعادت

آپ کا نام عبد الکعبہ تھا، قبولِ اسلام کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے آپ کا نام عبداللہ رکھا۔ابو بکر کنیت تھی۔ آپؓ کا قبیلہ تیم سے تعلق ہے۔چھٹی پشت میں آپؓ کا شجرہ نسب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جا ملتا ہے۔

سلسلہ نسب

حضرت ابوبکر صدیقؓ بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب۔ مرہ بن کعب پر پہنچ کر آپؓ کا نسب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) سے جا ملتا ہے۔ آپؓ کے والد کا نام عثمان کنیت ابو قحافہ تھی۔ فتح مکہ کے وقت نوے برس کی عمر میں اسلام لائے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ حضرت سلمیٰ بنت صخر کا تعلق بھی بنو تیم سے تھا۔آپ رضی اللہ عنہٗ عام الفیل کے اڑھائی سال بعد پیدا ہوئے اور عمر میں سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اڑھائی برس چھوٹے تھے۔ (خلفائے راشدین)

بچپن سے سنِ شعور تک

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ کفر وشرک اور فسق و فجور کا دور تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ کی عمر چار سال ہوئی تو آپ کے والد ابو قحافہ آپؓ کو اپنے ساتھ بُت خانے لے گئے اور وہاں نصب سب سے بڑے بت کی طرف اشارہ کر کے آپ سے کہا ’’یہ ہے تمہارا بلند و بالا خدا، اس کو سجدہ کرو۔‘‘
ننھے ابوبکر نے بُت کو مخاطب کر کے کہا ’’میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے، میں ننگا ہوں مجھے کپڑا دے۔‘‘
بُت سے جواب نہ پا کر ایک تھپڑ اس بُت کو مار کر نیچے گرا دیا۔ آپ کے والد نے یہ دیکھ کر آپ کے رخسار پر تھپڑ مارا اور گھسیٹتے ہوئے آپ کو آپ کی والدہ کے پاس لائے۔ والدہ نے آپ کو گلے سے لگایا اور ابوقحافہ سے کہا:
’’اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے غیب سے اس کے بارے میں کئی اچھی باتیں بتائی گئی تھیں۔‘‘ اس واقعہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہٗ کو بت پرستی کیلئے مجبور نہیں کیا گیا اور آپ کا دامن کبھی شرک سے آلودہ نہ ہوا۔ (ارشاد الساری شرح بخاری قسطلانی) (بحوالہ سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ)

قبولِ اسلام

سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب اعلانِ نبوت فرمایا تو سب سے پہلے جن مقدس ہستیوں نے لبیک کہا وہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت زید بن حارثہؓ تھے۔

عاشقِ اکبر کا عشقِ رسولؐ

پیغمبر ِاسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جس وقت عام دعوتِ اسلام کا سلسلہ شروع فرمایا تو کفار نے اپنی مخالفتیں شدید کر دیں لیکن اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Abu Bakr Siddique) کی یہی خواہش رہی کہ اشاعتِ اسلام کا کام سرعام کیا جائے۔ اگرچہ کفار کی اکثریت اور مسلمانوں کی تعداد 39 تھی پھر بھی سیدّنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں سرعام تبلیغِ دین کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ( Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کے منع فرمانے کے باوجود انہوں نے اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے اجازت مرحمت فرما دی۔ دعوتِ تبلیغ کے لیے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم   کے ہمراہ مسجد الحرام میں تشریف لے گئے اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کر دیا۔ پس آپ رضی اللہ عنہٗ ہی وہ پہلے خطیب (داعی) تھے جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کی طرف لوگوں کو بلایا۔ نتیجتاً کفار نے آپ رضی اللہ عنہٗ پر حملہ کر دیا اور آپ کو اس قدر زد و کوب کیا کہ آپ خون میں لت پت ہو گئے۔ انہوں نے اپنی طرف سے آپ رضی اللہ عنہٗ کو جان سے مار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاید آپ رضی اللہ عنہٗ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی ہے تو اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے خاندان کے لوگوں کو پتہ چلا تو وہ آپ کو اٹھا کر گھر لے گئے۔ آپس میں مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم اس ظلم کا بدلہ ضرور لیں گے لیکن ابھی آپ رضی اللہ عنہٗ کے سانس اور جسم کا رشتہ برقرار تھا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد گرامی، والدہ اور آپ کا خاندان آپ رضی اللہ عنہٗ کے ہوش میں آنے کے انتظار میں تھا مگر جب ہوش آیا اور آنکھ کھولی توآپ رضی اللہ عنہٗ کی زبانِ اقدس پر آنے ہونے والا پہلا جملہ یہ تھا ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کا کیا حال ہے؟‘‘ اس بات پر ناراض ہو کرتمام خاندان چلا گیا کہ ہم تو اس کی فکر میں ہیں اور اسے کسی اور کی فکر لگی ہوئی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ آپ کو کوئی شے کھانے یا پینے کے لئے اصرار کرتیں لیکن اس عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہر مرتبہ یہی جواب ہوتا ’’اس وقت تک کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا جب تک مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خبر نہیں مل جاتی کہ وہ کس حال میں ہیں۔‘‘ لختِ جگر کی یہ حالتِ زار دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ کہنے لگیں ’’خدا کی قسم! مجھے آپ کے دوست کی خبر نہیں کہ وہ کیسے ہیں؟‘‘ سیدّنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے والدہ سے کہا کہ اُمِ جمیل فاطمہؓ بنت خطاب سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے پوچھ کر آؤ۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ اُمِ جمیلؓ کے پاس گئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique)  کا ماجرا بیان کیا۔ چونکہ انہیں ابھی اپنا اسلام خفیہ رکھنے کا حکم تھا اس لئے انہوں نے کہا ’’میں ابوبکرؓ اور ان کے دوست محمدؐ بن عبداللہ کو نہیں جانتی۔ ہاں اگر تو چاہتی ہے تو میں تیرے ساتھ تیرے بیٹے کے پاس چلتی ہوں۔‘‘ حضرت اُمِ جمیلؓ آپ کی والدہ کے ہمراہ جب سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) کے پاس آئیں تو ان کی حالت دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور کہنے لگیں ’’مجھے اْمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور اُن سے تمہارا بدلہ لے گا۔‘‘

سیدّنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے فرمایا ’’ان باتوں کو چھوڑو مجھے صرف یہ بتاؤکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کا کیا حال ہے؟‘‘ انہوں نے اشارہ کیا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ سن رہی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا کہ فکر نہ کرو بلکہ بیان کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے پوچھا آقا کریم (اس وقت) کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دارِ ارقم میں ہی تشریف فرما ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے یہ سن کر فرمایا ’’میں اس وقت تک کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا جب تک کہ میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان آنکھوں سے بخیریت نہ دیکھ لوں۔‘‘

سیدّنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) کو سہارا دے کر دارِارقم لایا گیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے عاشق کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھ کر تھام لیا۔ اپنے غمگسار کو زخمی حالت میں دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی کہ میری والدہ حاضر ِخدمت ہیں، ان کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دولتِ ایمان سے نوازے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے دعا فرمائی اور وہ دولتِ ایمان سے مشرف ہوئیں۔ (بحوالہ خلفائے راشدین، سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدّنا حضرت ابوبکر صدیقؓ )(Syedna Abu Bakr Siddique)

عظیم تابعی بزرگ حضرت امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ غارِ ثور کی طرف جا رہے تھے توحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کبھی آگے چلتے اور کبھی پیچھے چلتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا: ایسے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جب مجھے تلاش کرنے والوں کا خیال آتا ہے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیچھے ہو جاتا ہوں اور جب گھات میں بیٹھے ہوئے دشمنوں کا خیال آتا ہے تو آگے آگے چلنے لگتا ہوں کہ کہیں آپؐ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کیا تم خطرے کی صورت میں میرے آگے مرنا پسند کرتے ہو؟ عرض کی ’’ربّ ذوالجلال کی قسم! میری یہی آرزو ہے۔‘‘

حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ آپ کو دنیا میں کیا پسند ہے؟ تو آپؓ نے بے ساختہ فرمایا ’’بس حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرۂ انور کو دیکھنا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔‘‘

جس عشق و محبت اور خلوص کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے معراجِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اسریٰ کی تصدیق کی اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے بارے میں معراج کے حوالے سے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے فرمایا ’’جب میں نے کہا کہ میں پیغمبر ہوں تو آپؓ کسی معجزے کے بغیر ایمان لے آئے،جب کہا کہ مجھے معراج کی سعادت حاصل ہوئی ہے تو آپ نے تصدیق کی اور کہا ’اگر سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے کہ تمام اہلِ خانہ سمیت مجھے معراج حاصل ہوئی ہے تو یقینا میں قبول کرتا کیونکہ میں آپؓ کی حقیقت جانتا ہوں‘۔‘‘ اسی تصدیق پر آپؓ کو ’’صدیق ‘‘ کا لقب عطا ہوا۔(خلفائے راشدین)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے ہر حال میں ساری زندگی آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ دے کر ایک خالص طالبِ مولیٰ اور عاشق ہونے کا ثبوت دیا۔ غارِ ثور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے داخل ہونے سے قبل آپ رضی اللہ عنہٗ نے تمام سوراخوں کو بند کیا لیکن ایک سوراخ باقی رہ گیا تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے اس پر اپنا پاؤں رکھ کر بند کیا۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) آپ کی گود میں سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ اس سوراخ میں سے ایک سانپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique)  کو ڈسنا شروع کیا لیکن آپ نے ذرا حرکت نہ کی کہ کہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے۔ جب شدتِ تکلیف سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) کی آنکھ سے آنسو نکل کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرۂ انور پر گرے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ دریافت فرمایا ’’ابوبکرؓ! تمہیں کیا ہوا؟‘‘ عرض کیا ’’میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوں مجھے کسی موذی جانور نے ڈس لیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) نے صدیقِ اکبرؓ کی ایڑھی پر اپنا لعابِ دہن لگایا تو ان کی تکلیف جاتی رہی۔ (خلفائے راشدین، حضرت ابو بکر صدیقؓ )

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شدید محبت تھی۔ آپ نے کبھی اپنے آرام کا خیال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آرام کو ہی فوقیت دی اور اس کو ہی اپنا فرضِ اوّلین سمجھا۔ 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر بات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ آپؐ کی زبانِ مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ آپؓ کیلئے حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلویؓ فرماتے ہیں:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تاجدارِ مدینہ نے اہلِ روم سے جنگ کے لیے ایک لشکر مرتب فرمایا تھا اور جلیل القدر صحابی حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اس لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا تھا۔ یہ لشکر ابھی جنگ کے لیے روانہ نہیں ہو پایا تھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) دنیا سے پردہ فرما گئے۔ اس سانحہ عظیم کے ساتھ ہی کئی شورشیں کھڑی ہو گئیں۔ اربابِ علم و دانش نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ سے عرض کی کہ ان دگرگوں حالات میں لشکر کشی قرین ِمصلحت نہیں کیونکہ داخلی انتشار میں خارجی امور بے حد نازک اور حساس ہوتے ہیں اس لیے فوج کی روانگی اس وقت مناسب نہیں۔ مگر جس کا ہر لمحہ اتباعِ رسولؐ اور ہر سانس رضائے حبیبؐ میں صرف ہوتا ہو وہ کیسے گوارا کرلے کہ اپنے محبوب کے حکم کو مؤخر کر دے۔ آپؓ نے ولولہ شجاعت سے لبریز یقین ِمحکم کے ساتھ فرمایا کہ مجھ سمیت تمام مسلمان اگر شہید ہو جائیں تو کچھ غم نہیں مگر حضورؐ کا فرمان پورا نہ ہو تو مجھ پر یہ بوجھ بہت گراں اور بھاری ہے۔ (حوالہ سیرۃ خلیفۃ الرسول سیّدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ)

عشقِ رسولؐ کی جو دولت حضرت ابوبکر صدیقؓ (Syedna Abu Bakr Siddique) کے حصے میں آئی قلم اس کا احاطہ کرنے سے عاجز ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بنی نوع انسان میں سب سے بہتر ابوبکرؓ ہیں، سوائے اس کے کہ وہ نبی نہیں۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا۔ آپؓ کے سوا کسی کا نام صدیق نہیں رکھا گیا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ غار میں ساتھی، ہجرت میں رفیق رہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو نماز پڑھانے پر مامور فرمایا جب کہ تمام صحابہ کرامؓ موجود تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Abu Bakr Siddique) رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کے مشیر تھے، تمام امور میں آپؓ ان سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ ابوبکرؓ ہی اسلام میں ثانی، غار میں ثانی، بدر کی جنگ کے روز خیمے میں ثانی اور مزار میں ثانی ہیں۔ سرورِ کائناتؐ کسی کو آپؓ پر ترجیح نہ دیتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ (Syedna Abu Bakr Siddique)  آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہر اشارے کو سمجھتے تھے۔ طالبانِ مولیٰ کو بھی اپنے مرشد سے ایسا لگاؤ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مرشد کریم کے ہر حکم کو مانیں اور اپنے مرشد کریم کے حکم کو بجا لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ 

حضرت ابوبکرؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique)حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رضا جوئی، مزاجِ رسالت کی رعایت اور منشائے نبوت کی جستجو میں ہمہ تن مستغرق و منہمک رہتے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ کی راہ میں مال طلب فرمایا تو تمام صحابہؓ اپنا مال لے کر دوڑے چلے آئے۔ حضرت سیدّنا عمر فاروقؓ نے بھی اپنے گھر کا آدھا اثاثہ جمع کیا اور یہ خیال فرمایا ’’آج مال دینے میں کوئی مجھ سے سبقت نہ لے جاسکے گا، یہاں تک کہ میں حضرت ابوبکرؓ سے بھی میں بڑھ جاؤں گا‘‘ اسی سوچ کے ساتھ گھر کا آدھا مال لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پاک بارگاہ میں پیش کردیا۔ سیدّنا صدیق اکبرؓ بھی مال لے کر دربارِ رسالتؐ میں آپہنچے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam)نے دریافت فرمایا ’’صدیقؓ گھر کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ عرض کیا ’’میں نے اُن کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ چھوڑا ہے۔‘‘ آپؓ نے اپنے گھر کا تمام اثاثہ اپنے محبوب کی نذر کر دیا۔

پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس

حضرت ابوبکرؓ کے اس مثالی جذبہ حب و ایثار سے متاثر ہو کر حضرت عمر فاروقؓ نے خراجِ عقیدت کے طور پر فرمایا:
اے ابوبکرؓ! آپ محبت و ایثار کی ایسی منزل پر ہیں کہ ہم کسی چیز میں بھی آپؓ پر کبھی بھی سبقت نہیں لے جاسکتے۔‘‘ (مشکوٰۃ) (خلفائے راشدین، سیرت ابوبکر صدیقؓ، افضل البشر بعد الانبیا ابو بکر صدیقؓ)

حضرت ابوبکر صدیقؓ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے صرف اپنے مال و اسباب ہی کی قربانی نہیں دی بلکہ سرکارِ دو عالمؐ کی ہمرکابی میں وہ تمام صعوبتیں بھی سہیں جو مسلمانوں کو سفرِتبوک میں پیش آئیں۔ آپؓ کو اللہ پاک نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ آپؓ نے دین کی نصرت و تائید کے لیے جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور غزوہ بدر سے لے کر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کے ساتھ شریکِ جہاد رہے۔

حضرت سلمہ بن اکوعؓ بیان کرتے ہیں ’’میں نے سات غزوات میں نبیؐ کے ساتھ شرکت کی، اس کے علاوہ نو جنگی مہمات جنہیں رسول اللہ روانہ فرمایا کرتے تھے، میں شرکت کی، کبھی سیدّنا ابوبکرؓ ہمارے امیر ہوتے اور کبھی سیدّنا اسامہؓ۔‘‘ (بخاری) (سیرت ابوبکر صدیقؓ)

حضرت ابوبکر صدیقؓ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے تمام طالبانِ مولیٰ پر یہ واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے۔ آپؓ نے کبھی اپنے مال کو اپنا نہیں سمجھا ہمیشہ اسے اللہ تعالیٰ کا ہی خیال کیا۔ ایک طالبِ مولیٰ کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اپنی جان و مال اور اولاد پر سب سے بڑھ کر اپنے مرشد کریم سے محبت رکھے۔ یہی فقر میں کامیابی کا راز ہے۔

میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
قربِ الٰہی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنا گھر بار راہِ خدا میں قربان نہیں کردیتا اور تکالیف و مصائب میں مرشد کے ساتھ وفا میں ذرا سی بھی کمی نہیں آتی۔ (سلطان العاشقین)

حضرت ابوبکرؓ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہر پہلو سے کامل اور اسوۂ رسولؐ کا نمونہ تھے۔ مردوں میں سب سے پہلے اسلام بھی آپؓ نے قبول کیا۔ قرآنِ مجید کا نام سب سے پہلے آپؓ نے مصحف رکھا۔ قرآنِ مجید کو سب سے پہلے جمع بھی آپؓ نے کرایا۔ سب سے پہلا شخص جس نے کفارِ قریش کے ساتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Aalihi Wa Sallam) کی حمایت میں جنگ لڑی اور شدید ضربات برداشت کیں وہ بھی حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ آپؓ خلیفۂ رسولؐ ہیں۔ آپؓ سب سے پہلے خلیفہ ہیں جس کا نان نفقہ رعایا نے مقرر کیا۔ سب سے پہلے بیت المال آپؓ نے قائم فرمایا۔ سب سے پہلے آپؓ نے جہاد اور استنباط احکام کے اصول اربعہ مقرر فرمائے۔

راہِ فقر میں کامیابی کے لیے طالبانِ مولیٰ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح ہونا چاہیے کہ طالب اپنی جان، مال، اولاد سب اللہ کے حوالے کر دے۔ جب جان و مال اور فکر و خیال کا مرکز صرف اور صرف محبوب کی ذات ہو۔ سوائے اس کے پوری کائنات میں کوئی اور باقی نہ رہے تو پھر عشق و محبت کو کامل گردانا جاتا ہے۔ آپؓ کے عشق اور وفا شعاری نے قیامت تک آنے والے ہر طالبِ مولیٰ کو جو دیدارِ الٰہی اور قربِ الٰہی کے خواہشمند ہیں، سلیقہ ٔمحبت اور قرینہ ٔ ادب سکھا دیا۔ 

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مرضِ وفات میں گرفتار ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حکم دیا کہ وہ مسجد ِ نبویؐ میں امامت کریں۔ سوموار 12 ربیع الاوّل سنہ 11ھ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وصال پایا اور حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھوں پر مسلمانوں نے بیعتِ خلافت کی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے عہد ِخلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح کیا۔ سوموار 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو تریسٹھ برس کی عمر میں خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ مدتِ خلافت دوسال چار ماہ تھی۔ (خلفائے راشدین، سیرت ابوبکر صدیقؓ)

اس بات میں نہیں مجھے عابد کوئی کلام
میرے نبیؐ کے بعد ہے صدیقؓ کا مقام
ہوں کتنا خوش نصیب کہ ہیں مصطفیٰؐ کے بعد
صدیقؓ میرے راہبر و مرشد و امام
وہ پاسبانِ ختمِ نبوت، وہ یارِ غار
قائم ہے جس کے صدق سے کونین کا نظام
جس نے خدا کی راہ میں سب کچھ لٹا دیا
مولائے کائنات کو تھا جس کا احترام
آساں تھا جس پہ حبشِ اسامہؓ کا مرحلہ
اُس جانشینِ سرورِ کونینؐ پر سلام
اس فخر پر زمانے کی سب عظمتیں نثار
اپنی جگہ نبیؐ نے بنایا انہیں امام
جس دل میں ہے محبتِ صدیقؓ جاگزیں
واللہ اس پہ آتش ِ دوزخ ہوئی حرام
چاہو اگر کہ دور ہوں ملّت کی مشکلات
نافذ کرو خلافتِ صدیقؓ کا نظام

سیدّناصدیقِ اکبرؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique)نے اپنی زندگی اور اپنے دورِ خلافت میں پرخطر حالات کے باوجود تنہا جس بے باکی، شجاعت وبہادری اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا تاریخ میں اس کی مثال ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتی۔  آج جبکہ اُمتِ مسلمہ ہمہ جہتی سازشوں کاشکار ہو کر کفارکے سامنے مغلوبیت کی حالت میں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے حکمران، علما اور عوام ان سخت حالات کا مقابلہ سیرتِ صدیقیؓ کی روشنی میں اُسی ایمانی بصیرت و شجاعت کے ساتھ کریں جیسے سیدّنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Abu Bakr Siddique) نے اپنی مکمل زندگی میں بالعموم اور جیشِ اسامہؓ کی روانگی، منکرینِ زکوٰۃ و مدعیانِ نبوت کی سرکوبی جیسے اہم امور کو بالخصوص حرزِ جان بنایا اور تمام نام نہاد اسلام دشمن طاقتوں کو مغلوب کر کے محمدی پرچم کو سر بلند کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ سیدّنا صدیقِ اکبرؓ سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل میں پرعزم ہوکر اسلام کی سر بلندی کے لیے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  (آمین)

استفادہ کتب:
۱۔خلفائے راشدین؛ مصنف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔سیرت ابوبکر صدیقؓ؛ مصنف ابو نعمان سیف اللہ خالد
۳۔سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدّنا حضرت ابوبکر صدیقؓ؛ مصنف طالب ہاشمی
۴۔حضرت ابو بکر صدیقؓ ؛ مصف محمد حسین ہیکل
۵۔افضل البشر بعد الانبیاابوبکر صدیقؓ؛ مصنف مولانا مفتی عطاء ا لمصطفیٰ اعظمی 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں