Sultan-Abdul-Aziz 1

سلطان الاولیاحضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز ؒ — Sultan-ul-Auliya Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Abdul Aziz

شہبازِعارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کے بعد سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل

سلطان الاولیاحضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ

تحریر:مولانا محمد اسلم اعوا ن سروری قادری۔ لاہور

نام نامی اسمِ گرامی محمد عبدالعزیز اور آپ ؒ کا لقب مبارک سلطان الاولیا ہے جو کہ آپ کو بیعت کے بعد بارگاہِ غوث الاعظم عبدالقادر جیلانیؓ سے عطا ہوا یعنی تمام اولیا کے بادشاہ۔ ولی کی جمع ہے اولیا اور سلطان کے معنی بادشاہ۔ شہباز عارفاں حضرت سخی سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کے بعد امانت فقر سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز ؒ کو منتقل ہوئی آپ ؒ ہی وہ ہستی ہے جن کی وساطت سے امانتِ فقر دوبارہ خاندانِ باھوؒ سلطان الفقر(ششم ) حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے حوالے کرنے کیلئے منتقل ہوئی۔

سلسلہ نسب

آپ ؒ کا تعلق قبیلہ اعوان سے ہے اور سلطان باھوؒ کی اولاد پاک سے ہیں آپ کا شجرہ نسب یوں ہے سلطان محمد عبدالعزیزؒ بن سلطان فتح محمدؒ بن سلطان غلام رسول ؒ بن سلطان غلا م میراں ؒ بن سلطان ولی محمد بن سلطان نور محمدؒ بن سلطان محمد حسینؒ بن سلطان ولی محمدؒ بن سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ ۔
آپ ؒ کے والد سلطان فتح محمد ؒ کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی سلطان فتح محمدؒ ایک سادہ مزاج اور صوفی انسان تھے ایک دن حضرت سخی سلطان باھوؒ کے دربار پاک کا طور نامی خلیفہ ان کے ہاں مہمان ہوا۔ خلیفہ نے ان کو خود کام کرتے دیکھ کر پوچھا ’’کیا آپ کا کوئی بیٹا نہیں ہے جو اس عمر میں آپ خود کام کررہے ہیں؟‘‘ سلطان فتح محمدؒ نے نفی میں جواب دیا۔ اس خلیفہ نے واپس جاکرسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے ہاں باطنی عرض گزاری کی کہ آپ مہربانی فرمائیں اللہ پاک سلطان فتح محمد ؒ صاحب کو اولاد نرینہ عطا فرمائے۔ اسی رات خلیفہ طور کو خواب میں بشارت دی گئی کہ سلطان فتح محمد کے ہاں دو بیٹے ہونگے ان میں سے ایک فقیر ہو گا اسکی نشانی یہ ہوگی کہ وہ ختنہ شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہو گا اور دوسرا امیر ہوگا۔ اس دعا کی برکت سے ادھیڑ عمری میں سلطان فتح محمدؒ کے ہاں دو بیٹے سلطان عبدالعزیزؒ اور سلطان محمد شریف پیدا ہوئے۔

ولادت با سعادت

حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز ؒ کی ولادت با سعادت 12 مارچ 1911ء بمطابق 12 ربیع الاوّل 1329ھ بروز اتوار بوقتِ سحر قصبہ سمندری دربار حضرت سخی سلطان باھوؒ گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ میں ہوئی۔ آپؒ سلطان العارفین سلطان باھوؒ کی بشارت کے مطابق ختنہ شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہوئے۔

پہلی نظر اور دیدارِ مرشد

ولادت با سعادت کے بعد سات دن تک آپ نے آنکھیں نہیں کھولیں جس پر آپؒ کے والد محترم سلطان فتح محمد ؒ آپ ؒ کو دربار حضرت سخی سلطان باھوؒ پر لے گئے شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان محمد بہادر علی شاہ کاظمی ؒ اس وقت دربار شریف پر قیام پذیر تھے سلطان فتح محمدؒ نے ان کی بارگاہ میں عرض کی میرا یہ بیٹا آنکھیں نہیں کھولتا آپ مہربانی فرما ئیں۔ جونہی سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے سلطان محمد عبدالعزیزؒ کو گود میں لیا تو آپ نے آنکھیں کھول دیں اس طرح گویا آپکی پہلی نظر ہی مرشد کے دیدار کیلئے کھلی۔ حضرت علیؓ کے متعلق بھی روایت ہے کہ ولادت کے بعد آنکھیں نہیں کھول رہے تھے۔ آپکی والدہ ماجدہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی میرا یہ بیٹا آنکھیں نہیں کھول رہا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علیؓ کو گودمیں لیا جونہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو گود لیا تو حضرت علیؓ نے آنکھیں کھول دیں پہلی نظر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرۂ انور پر پڑی اس طرح آپ نے بھی پہلی نظر مرشد کے چہرہ پر ڈالی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرح آپ کو پہلا دیدار مرشد کا ہو ا۔یہ سعادت حضرت علیؓ کی طرح آپؒ کو نصیب ہوئی۔

بچپن اور جوانی

بچپن سے ہی آپ ؒ کی شخصیت نورانی اور باوقار تھی جو بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملتا آپ ؒ کے اخلاق اور آپکی گفتار سے متاثر ہوتا۔ آپؒ کا شباب عام لوگوں سے بہت مختلف تھا۔ آپؒ کم گو سنجیدہ مزاج اور متین شخصیت کے مالک تھے۔ فضول کاموں، کھیلوں اور گفتگو سے پرہیز فرماتے تھے۔ آپؒ کا اکثر وقت غوروفکر میں صرف ہوتا تھا۔

ظاہری و باطنی تعلیم

آپؒ نے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی طرح کوئی ظاہری علم حاصل نہیں کیا۔ باطنی تعلیم آپؒ نے بیعت کے بعدا پنے مرشد پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ سے حاصل کی۔

بیعت

سلطان محمد عبدالعزیز ؒ نے 13 مارچ 1932 ء بمطابق 6 ذیقعد 1350 ھ بروز اتوار بعد نماز عشاء سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مزارِ اقدس پر سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔

آپ کا عشقِ مرشد

آپؒ کا مرشد سے عشق کمال کو پہنچا ہوا تھا اس لیے ہمیشہ مرشد کی ہمراہی میں رہنے کی کوشش کرتے لیکن پھر بھی جب کبھی گھر تشریف لاتے اگلے ہی لمحے مرشد کے عشق میں تڑپ کرواپس مرشد کے پاس فرید محمود کا ٹھیہ چلے جاتے۔ ایک دفعہ آپؒ گھر سے مرشد کے پاس تشریف لے گئے وہاں سے پتہ چلا کہ پیر صاحب ٹینڈر والا چلے گئے ہیں جو کہ وہاں سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ہے۔ آپؒ نے بغیر آرام کئے ٹینڈر والا کی طرف سفر شروع کر دیاْ آپ کے پاؤں میں نیا جوتا تھا جو تنگ تھا اور کاٹتا تھا جب آپ ٹینڈر والا پہنچے تو پتہ چلا کہ حضور پیر صاحب تلمبہ تشریف لے گئے ہیں۔ تلمبہ بھی ٹینڈر والا سے تقریباً 30 کلو میٹر دور ہے ٹینڈر والامیں مریدین نے آپ کو مجبور کیا کہ آپؒ یہاں آرام فرمائیں لیکن مرشد کے عشق میں آپؒ اس قدر بے چین تھے کہ ایک لمحہ آرام نہ کیا۔ مریدین نے جب رہائش کیلئے مجبور کیا توآپؒ بہانہ سے باہر تشریف لے گئے اور تلمبہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ سخت اور نئے جوتوں کی وجہ سے آپؒ کے پاؤں میں چھالے (آبلے) پڑگئے اور ان سے خون رسنا شرع ہو گیا لیکن کوئی بھی تکلیف اور رکاوٹ آپؒ کوعشق کے سفر سے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ ادھر پیر بہادر علی شاہؒ کو کشف سے پتہ چل گیا کہ میرا عاشق اور محبوب تقریباً 100 کلومیٹر سفر طے کر کے زخمی پاؤں سے ہر رکاوٹ کو توڑتا ہوا چلا آرہا ہے۔ پیر بہادر علی شاہؒ نے بستر لگوایا اور زخموں کے علاج کے لئے مرہم تیار کروایا۔ جب آپؒ حضور پیر صاحب ؒ کے پاس پہنچے تو حضور پیر صاحب ؒ نے خود قینچی سے آبلے کاٹ کر ان پر مرہم لگایا اور آرام کرنے کا حکم دیااور یہ حکم بھی دیا کہ آئندہ جب بھی ملنے آنا ہو گھوڑے پر سوار ہو کر آنا (کیونکہ آپؒ جب بھی مرشد کو ملنے جاتے توگھوڑے پر سوار نہیں ہوتے تھے اور عقیدتاً پیدل ہی جاتے تھے)۔
آپ ؒ کو اپنے مرشدسے عشق تھا تو آپؒ بھی اپنے مرشد کے محبوب تھے۔ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ آپ کو حضرت صاحب کہہ کر پکارا کرتے تھے اور ہمیشہ جب آپؒ کو سینے سے لگاتے تو فرماتے :
پُھلا وے گلاب دیا
تینوں سانبھ سانبھ رکھاں
میرے ماہیے دے باغ دیا
’’کرامتِ عزیزیہ‘‘ میں سلطان محمد فاروق صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ آپؒ کی کرامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا آپؒ اپنے مرشد حضرت سخی سلطان سید محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی ؒ کے وصال کے بعد ان کے مزار مبارک پر حاضر ہو کر ان سے فوراً حل کروالیتے یہ آپ کی شانِ محبوبیت ہے۔

ازدواجی زندگی اور اولادِ صلبی

خاندان کے بزرگ اور رشتہ دار جب بھی شادی کے لیے سلطان محمد عبدالعزیزؒ کو مجبور کرتے آپؒ ہمیشہ خاموشی اختیار فرماتے۔ آخر کار خاندان کے تمام بزرگ پیر بہادر علی شاہ صاحبؒ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کی شادی کے لیے عرض کیا۔ آپؒ نے بھی خاموشی اختیار فرمائی۔ رات کو پیر بہادر علی شاہ صاحبؒ نے خواب میں دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خود سلطان محمد عبدالعزیزؒ نکاح پڑھارہے ہیں توآپؒ نے سلطان محمد عبدالعزیزؒ کو شادی کا حکم دیا۔ اس حکم کی تعمیل میں 1933 میں آپؒ نے انگہ شریف (خوشاب وادی سون) میں اپنی ہم کفو خاتون محمودہ بیگم سے نکاح فرمایا اولادِ نرینہ میں آپؒ کے چار صاحبزادے ہوئے:
1۔ سلطان محمد صفدر علیؒ
2۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ
3۔ سلطان محمد فاروقؒ
4۔ سلطان محمد معظم علی صاحب

ہجرت

27 فروری1934 ء میں آپؒ کے مرشد پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ ؒ وصال فرما گئے اس کے بعد آپؒ سمندری سے حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مزار مبارک سے شمال مشرق کی طرف نصف کلومیٹر کے فاصلے پر منتقل ہوگئے جواب آستانہ عالیہ سلطان محمد عبدالعزیزؒ کے نام سے معروف ہے اور اس منتقلی کو آپؒ نے ’’ہجرت ‘‘ کا نام دیا۔ یہاں آکر آپؒ نے پکے مکانات کی بجائے ’’چھپڑ‘‘ (جھونپڑے) بنا کر رہائش اختیار کی۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ اپنے بہترین گھروں کو چھوڑ کر ’’چھپڑوں ‘‘ (جھونپڑوں) میں رہائش اختیار کرنا عجیب ہے مگر آپؒ نے فرمایا کہ فقیر کے لیے مکان ضروری نہیں ہے۔

وظائف اور روزانہ کی مصروفیات

پابندی وقت کا یہ عالم تھا کہ ایک لمحہ کی کمی بیشی بھی طبیعت پر گراں گزرتی ۔آپؒ کا معمول تھا کہ صبح تین بجے اٹھ کر چائے پیتے اور وظائف پڑھتے حتی کہ صبح ہو جاتی اور نمازِ فجر کے بعد ایک گھنٹہ کے لیے تصوراسم اللہ ذات میں مشغول رہتے اسکے بعد طالبانِ مولیٰ کو تلقین وارشاد فرماتے پھر دن کے معمولات جاری رہتے۔ وقت کی اس قدر پابندی اور کبھی نماز قضا نہ ہونے دینا ایک کرامت سے کم نہیں۔ صبح و شام کے وقت طویل چہل قدمی بھی آپؒ کے معمول میں شامل رہی۔ اس چہل قدمی میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ آپ ؒ کے ہمراہ ہوتے ۔

تلقین و ارشاد

آپؒ کے پاس ہر مزاج کے لوگ آتے اور آپؒ ان کو ان کی طلب کے مطابق فیض عطا فرماتے اور اسم اللہ ذات کی تلقین فرماتے مگر آپ ؒ کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپؒ اسم اللہ ذات ہر کسی کو عطا نہیں فرماتے تھے بلکہ صرف طالبانِ مولیٰ کو عطا فرماتے تھے۔ آپؒ کا تلقین و ارشاد کا انداز بھی روایتی طریقے سے ہٹ کر تھا آپ جس کسی کو بھی کوئی بات سمجھا نا چاہتے اس حکمت سے سمجھاتے کہ وہ سمجھ بھی لیتا اور مشکور بھی رہتا۔

حسنِ اخلاق

آپؒ کی سیرت اور صورت مبارکہ اس قدر جامع اور دلکش تھی کہ جو کوئی آپؒ کی زیارت کرتا آپؒ کے دامِ غلامی میں آجاتا تھا۔ آپ کے منور چہرہ مبارک کوکوئی ٹکٹکی باندھ کرنہ دیکھ سکتا اور نہ کسی کو بات کرنے کی جرات ہوتی یعنی بات حلق میں اٹک جاتی حتیٰ کہ آپؒ خود پوچھ لیتے۔ ریش مبارک گھنی تھی اس کو طول و عرض میں برابر رکھتے تھے اور اس میں کنگھی اس طرح فرماتے کہ بال کانوں کی دونوں لوؤں کی طرف ہوجاتے اور درمیان میں سیون (مانگ) بن جاتی اس طرح ریش مبارک بہت دلکش اور خوبصورت معلوم ہوتی تھی۔ آپؒ اس قدر رقیق القلب اور نرم خو تھے کہ آپؒ سے کسی کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی تھی آپؒ کے پاس جو بھی حاجت مند آجاتا آپؒ اسے خالی نہ لوٹاتے بلکہ ہر حال میں اسے خوش کرنے کی پوری کوشش کرتے اور اگر پا س کچھ نہیں ہوتا تو گھر سے کپڑے وغیرہ لا کر اسے دے دیتے۔ کئی دفعہ اپنے غلاموں اور حاجت مندوں کو خود کھانا کھلاتے اور انہیں خوش کرنے کے لیے ہلکا سا مزاح بھی پسند فرماتے۔ آپؒ سفید تہمد اور کرتہ استعمال فرمایا کرتے تھے۔ سر پر سفید دستار اور پاؤں میں کُھسہ استعمال فرماتے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی طرح آپؒ اکثر سفر میں رہتے تھے اور خاص طور پر گرمیوں میں کوئٹہ کی طرف جانا آپ کا معمول تھا۔ آپؒ نے قیامِ پاکستان سے قبل دہلی اور کابل کا سفر بھی فرمایا۔

خلفا

آپؒ کے ایک خلیفہ اکبر سلطان الفقر (ششم) حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ ہوئے جن کو آپؒ نے امانتِ فقر منتقل فرمائی اور پانچ خلفا اصغر ہوئے جن کی تفصیل اس طرح سے ہے:
۱۔ سلطان صفدر علیؒ
۲۔ غلام محمدؒ (جنوبی افریقہ)
۳۔ حضرت عبداللہؒ
۴۔ پیر سید ولایت شاہؒ
۵۔ میاں جیونؒ

منتقلی امانتِ فقر

13 اپریل1979ء بمطابق 6 جمادی الاوّل 1399ھ بروز جمعتہ المبارک اپنے وصال سے صرف دو سال قبل آپؒ نے اپنے مرشد حضرت سخی سلطان سید محمد بہادر علی شاہ کے مزارمبارک کے پاس بیٹھ کر سلطان صفدر صاحبؒ اور سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علیؒ کو بیعت فرمایا۔ آپؒ نے سلطان صفدر صاحب کو خلافت عطا فرمائی اور سلطان محمد اصغر علیؒ کو امانتِ فقر منتقل فرمائی۔

امانت فقر اور سجادہ نشینی یا گدی نشینی میں فرق

امانتِ فقر دل یعنی باطن میں منتقل کی جاتی ہے اور اس راز کو صرف محبوب (مرشد) و محب (محرمِ راز) ہی جانتے ہیں۔ عوام الناس سے اس کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے تاکہ بروقت کسی بھی شروفساد کو روکا جاسکے اور ظاہری دستار ظاہری خلافت یا نظام چلانے کیلئے سجائی جاتی ہے اس لئے فقیر کامل کے راز کو سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں۔ فقر نہ دستار کا محتاج ہے اور نہ ہی مزار کا کہ کوئی دربار یا مزار ہوگا تو اس کا فیض چلے گا ورنہ نہیں۔ یاد رکھیں سلطان العارفین کی تمام کتب اس بات کی گواہ ہیں کہ مالک الملکی فقیر کسی چیز کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز اسکی محتاج ہوتی وہ لایحتاج ہوتا ہے اور جزوکل کی ہر شے اسکے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ کامل تصرف کا مالک ہوتا ہے۔ آستانے اور زمانے سب اسی کی ملکیت اور قبضے میں ہوتے ہیں۔ اس لئے فقر جہاں بھی ہو طالبانِ مولیٰ وہاں پہنچ جاتے ہیں اور بقول سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ ’’بو کستوری دی چھپدی ناہیں، بھانویں دے رکھیے سَے پلے ھو‘‘۔ فقر کی خوشبو طالبانِ مولیٰ کو آہی جاتی ہے اور فقیر طالبانِ مولیٰ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اپنے آپ کو منوا لیتا ہے۔ سلطان محمد عبدالعزیزؒ کی یہ خوش نصیبی تھی کہ آپ کو محرمِ راز گھر سے ہی مل گیا لیکن وہ محرم راز خود فرماتے ہیں کہ میں نے صاحب زادگی کو دل سے نکال دیا اور ایک سچے طالبِ مولیٰ کی حیثیت سے اپنے مرشد پر ہر چیز کو نچھاور کر کے امانتِ فقر کو حاصل کیا اس سے معلوم ہوا کہ امانتِ فقر کیلئے صاحبزادہ ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے صاحبزادہ ہونا یا گدی نشین ہونا اور بات ہے جبکہ فقر اور چیز ہے۔ یہی وہ بت تھے جو آپ ؒ نے اپنے اس فرمان (میں نے صاحبزادگی کو دل سے نکال دیا) سے پاش پاش کر دئیے۔ سلطان محمد عبدالعزیز ؒ نے بھی اپنے مرشد کی خدمت سچے طالبِ مولیٰ کی حیثیت سے کی نہ کہ صاحبزادہ بن کر کیونکہ آپؒ بھی خانوادہ سلطان العارفین میں سے تھے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہئے
کہ دانہ خاک میں مل کر گُل و گُلزار ہوتا ہے

آپؒ کا فقہی مسلک اور سلسلہ فقر

آپؒ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے تھے اور فقر میں امام ابوحنیفہ کے پیروکار تھے یعنی حنفی مسلک تھے اور اپنے مرشد شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سید محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کے بعد سلسلہ سرور ی قادری کے شیخ ہیں۔

وصال مبارک

اپریل 1981ء کے آغاز میں ہی آپؒ کو آنکھوں کے آپریشن کے لئے لاہور میوہسپتال میں داخل کروایا گیا آپؒ نے 8 اپریل 1981ء کو فرمایا کہ مجھے آپریشن کی ضرورت نہیں کل 9 اپریل کو سلطان العارفین ؒ کا عرس مبارک ہے میں اس میں ضرور شامل ہوں گا آپ لوگ مجھے گھر لے چلیں۔ سلطان محمد اصغر علیؒ اور سلطان محمد صفدر علیؒ نے اصرار کیا کہ آپریشن کرو ا کر ہی چلیں گے تو آپؒ نے فرمایایاد رکھیں کہ میری موت لاہور میں لکھی جا چکی ہے۔ آپؒ کے اصرار پر سلطان محمد اصغر علیؒ آپؒ کو واپس لے گئے۔
آپؒ نے تیاری کر کے 9 ۔اپریل کو عرس مبارک میں شمولیت کے لیے دربار شریف پر حاضری دی۔ 11 اپریل کو تکلیف بڑھ گئی تمام برادری نے مجبور کیا کہ لاہور چلے جائیں۔ جب آپ کو لاہور کے لیے لیکر چلنے لگے تو آپ نے فرمایا چلو ربّ کی رضا اسی طرح ہے آپ کو 12 اپریل کو صبح سات بجے لاہور میو ہسپتا ل میں دوبارہ داخل کروایا گیا۔ اچانک آپؒ غشی طاری ہوگئی دوپہر ایک بج کر پندرہ منٹ پر آپ ؒ نے آنکھ کھولی اور پوچھا کہ وقت کیا ہے؟ ایک مرید نے بتایا کہ سوا ایک بج چکا ہے استفسار کے انداز میں فرمایا کہ نماز کا وقت ہے اس مرید نے عرض کی کہ ابھی کچھ دیر ہے پھر فرمایا ہماری نماز کا ٹائم ہو چکا ہے آپؒ نے اشاروں سے تیمم فرمایا پھر ظہر کی نماز اد ا کی اس کے بعد حکم دیا کہ اسم اللہ ذات لے آؤ تاکہ وظیفہ پڑھ لوں جس پر یہ کہا گیا کہ وہ تو جلدی میں گھر رہ گیا ہے اسی حالت میں 12 اپریل 1981ء بمطابق 7جمادی الثانی 1401ھ بروز اتوار بعد نمازِ ظہر وصال فرما گئے۔ آپؒ کی زندگی میں اتوار کا دن بہت اہمیت رکھتا ہے آپ کی ولادت، بیعت اور وصال اتوار کے دن ہی ہوئے وصال کے وقت آپؒ کی عمر 70 سال ایک ماہ تھی وصال کے بعد13 اپریل کو آپؒ کی نمازِ جنازہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مزار پر ادا کرنے کے بعد آپؒ کو موجودہ مزار کی جگہ پر سپردِ خاک کیا گیا۔

مزار مبارک

آپؒ کا مزار مبارک حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مزار مبارک سے شمال مشرق کی جانب تقریباً نصف کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ساتھ ایک عظیم الشان مسجد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے دور میں ہی مکمل ہوچکی تھی۔ مسجد اور آپ ؒ کا مزار سلطان العارفین ؒ کے مزار کا عکس ہے۔

سجادہ نشین

آپؒ کے دربار پاک کے پہلے سجادہ نشین آپؒ کے بڑے صاحبزادے سلطان محمد صفدر علیؒ مقرر ہوئے۔ان کے وصال کے بعد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ متفقہ طور پر دوسرے سجادہ نشین مقرر ہوئے۔

عرس پاک

آپؒ کے دربار پاک پر سال میں دو بڑے اجتماعات ہوتے ہیں آپؒ کا عرس پاک آپؒ کے وصال کی ہجری تاریخ کے مطابق سلطان العارفین ؒ کے عرس مبارک یعنی جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کے بعد پہلے اتوار اور سوموار کو منعقد ہوتا ہے اور دوسرا بڑا اجتماع میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپؒ کے وصال کی عیسوی تاریخ 12،13 اپریل کو ہر سال منعقد ہوتا ہے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں