Silsila-Sarwari-Qadri 1

سلسلہ سروری قادری—Silsila Sarwari Qadri

سلسلہ سروری قادری

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری۔ لاہور

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے ابوالحسن بوشنجی رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تصوف (فقر و معرفت) موجودہ زمانے میں صرف ایک نام ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور گذشتہ زمانے میں ایک حقیقت تھی جس کا کوئی (مخصوص) نام نہ تھا، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہٗ اور سلف صالحین کے وقت میں لفظ صوفی تو بے شک نہیں تھا لیکن اس کی حقیقی صفات ان میں سے ہر ایک میں موجود تھیں اور آج کل یہ نام تو موجود ہے لیکن اس کے معنی موجود نہیں۔ اُس زمانے میں معاملاتِ تصوف سے آگاہی کے باوجود لوگ اس کے مدعی نہ ہوتے تھے لیکن اب دعویٰ ہے مگر معاملاتِ تصوف سے آگاہی مقصود ہے۔( کشف المحجوب)
آج کل جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں جعلی پیروں، عاملوں اور دین میں بدعات و خرافات پیدا کرنے والے لوگوں کی بھرمار نظر آتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے عام لوگ روحانیت، معرفت اور تصوف کو دین سے کوئی علیحدہ چیز یا بدعت سمجھتے ہیں جبکہ روحانیت دین سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کی روح ہے۔ جس طرح ہر شے کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوتا ہے بالکل اسی طرح اسلام کا بھی ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ اسلام کا ظاہری حصہ عباداتِ شریعت پر مشتمل ہے اور اس کا باطنی حصہ طریقت ہے جس کے ذریعے بندہ (طالب) اللہ تعالیٰ کی معرفت و دیدار پاتا ہے اور زہدوتقویٰ ، اخلاقی پاکیزگی، دنیا سے بے رغبتی اور فکرِ آخرت جیسے اوصاف اس میں پروان چڑھتے ہیں اور وہ اخلاقِ ذمیمہ سے نجات پاتا ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت بھی اسی طرز پر فرمائی کہ وہ عباداتِ شریعت کے ساتھ ساتھ توحید و توکل،زہدو تقویٰ، خوف و رجا جیسی صفات میں بھی کمال کو پہنچے۔ خلفائے راشدین کے دور تک عبادات اور روحانیت کا علم یکجا رہا لیکن لوگوں کی بڑھتی ہوئی مفاد پرستی، دنیا کی طلب اور امیر کی نافرمانیوں کے باعث یہ دونوں علوم علیحدہ علیحدہ ہوگئے اور پھر کبھی یکجا نہ ہوئے۔ مشہور صوفی بزرگ ابوالقاسم القشیری رحمتہ اللہ علیہ ’’رسالہ القشیریہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
* ’’جان لو، خدا تم پر رحم کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد مسلمانوں کے لیے اُس زمانہ میں کوئی نام بڑی فضیلت والا سوائے صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نہیں رکھاگیا کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی اور فضیلت نہیں، تب ان کو صحابہ کہا گیااور جب دوسرے زمانے والوں نے ان کو پایا تو جن لوگوں نے صحابہ کی صحبت حاصل کی ان کا نام تابعین رکھا گیا اور ان کے بعد اس سے بڑھ کر کوئی نام نہ تھا،پھر ان کے بعد والوں کو تبع تابعین کہا گیا، پھرمختلف قسم کے لوگ پیدا ہوئے اور ان کے مراتب میں فرق پڑگیا، تب ان خواص کو جن کی دین کے کام میں زیادہ توجہ تھی زاہد عابد کہا گیا، پھر بدعت ظاہر ہوگئی اور فرقوں کے مدعی پیدا ہوگئے۔ ہر ایک فریق نے دعویٰ کیا کہ ہم زاہد ہیں۔ تب اہلِ سنت کے خاص لوگوں نے، جو خدا کے ساتھ اپنے نفسوں کی رعایت رکھنے والے اور اپنے دلوں کی غفلت سے حفاظت کرنے والے تھے، اس نام کو چھوڑ کر اپنا نام اہلِ تصوف رکھااور دوسری صدی ہجری کے ختم ہونے سے پہلے ہی ان بزرگوں کے لیے یہ نام شہرت پاگیا۔ (روحِ تصوف، اردو ترجمہ الرسالۃ القشیریہ ص:27)
حضرت جابر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ جب آیت شریفاِنَّمَاۤ  اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ  لِکُلِّ  قَوۡمٍ  ہَادٍ ٪ (الرعد۔7)  ترجمہ: ’’(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!) آپؐ تو ڈرانے والے اور ہر قوم کے لیے راہِ راست دکھانے والے ہیں‘‘ نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے سینہ مبارک پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ’’میں ڈرانے والا ہوں‘‘ اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ’’آپ رضی اللہ عنہٗ راہ بتانے والے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہٗ سے ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے۔‘‘ اسی ضمن میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ راہِ معرفت اور سلاسلِ طریقت کے امام ہیں اور تا قیامت طالبانِ حق آپ رضی اللہ عنہٗ سے ہدایت پائیں گے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے دو ہی طریقے ہیں‘ ایک نبوت کا طریقہ ہے یہ طریقہ صرف انبیا کرام کے ساتھ خاص ہے کہ بغیرکسی وسیلہ کے اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ طریقہ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ختم ہو گیا ہے۔ دوسرا طریقہ ولایت ہے اور اس طریقے پر چلنے والے اللہ تعالیٰ تک بالواسطہ پہنچتے ہیں۔ یہ طریقہ اقطاب‘ اوتاد‘ ابدال‘ نجبا اور عام الاولیا کا ہے۔ اس طریقہ میں واسطہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں اور یہ منصب آپ رضی اللہ عنہٗ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مقام میں سرکارِ دوعالم نورِ مجسم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کے سر پر ہیں اور حضرت سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور سیّدنا امام حسن اور سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہم بھی اس مقام پر آپ رضی اللہ عنہٗ کے شریک ہیں اور میرے خیال میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ کو اپنی پیدائش سے پہلے بھی یہ مقام حاصل تھا۔ جس شخص کو بھی یہ فیض پہنچتا ہے اُنہی کی ذات کی وساطت سے پہنچتا ہے کیونکہ اس مبارک مقام کا مبدا‘ منتہی اور اس مقام کے دائرے کا مرکز ان کے ساتھ معلق ہے۔‘‘
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کوئی فضیلت حاصل نہیں بلکہ تمام صحابہ روشن ستارے اور ہدایت کے چراغ ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’ اگرچہ تمام اکابرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روحانی فیوض و برکات اور رُشدو ہدایت سینہ بہ سینہ ایک عرصہ تک جاری رہی لیکن جن سلاسلِ طریقت کوحق تعالیٰ نے بقائے دوام کا درجہ عطا فرمایا ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے سلاسلِ طریقت ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے جو روحانی سلاسل جاری ہوئے وہ جمع ہوکر آج سلسلہ نقشبندیہ کی شکل میں ظاہر ہیں اور باقی تین بڑے سلسلے یعنی سلسلہ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے جاری ہیں۔‘‘ (شمس الفقرا)
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے چار خلفا ہیں، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ، حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ اور حضرت کمیل رضی اللہ عنہٗ۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم کا سلسلۂ روحانیت آئمہ اہلِ بیتؓ کے ذریعے جاری رہا۔ حضرت امام حسن بصریؓ کے بہت سے خلفا تھے جن میں سے حضرت شیخ عبدالواحد بن زید رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ زیادہ مشہور ہیں۔ حضرت شیخ عبدالواحد بن زید رحمتہ اللہ علیہ سے پانچ خانوادے (سلسلہ زیدیہ، سلسلہ عیاضیہ، سلسلہ اَدھمّیہ، سلسلہ ہبیریہ ، سلسلہ چشتیہ) اور حضرت حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ سے نو خانوادے (سلسلہ عجمیہ، سلسلہ طیفوریہ، سلسلہ کرخیّہ، سلسلہ سقطیہ، سلسلہ جنیدیہ، سلسلہ گاذرونیہ، سلسلہ طوسیہ، سلسلہ سہروردیہ، سلسلہ فردوسیہ) جاری ہوئے۔
آپ رضی اللہ عنہٗ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی اجازت سے اُن تمام سلاسلِ طریقت و تصوف کا نظام قائم کیاجو ساری دنیا میں قرب و معرفتِ الٰہی کے لیے آج تک رائج ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کئی سلاسل میں جاری مشائخ کا فیض بالکل بند ہوگیا اور کچھ میں بہت کم رہ گیا جس کے نتیجے میں اہلِ بدعت پیدا ہوتے چلے گئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کو امام الاولیا بنا کر بھیجا جنہوں نے تمام گمراہ باطنی سلاسل اور ظاہری مسالک کا خاتمہ کیا اور یوں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے چلے آرہے تمام سلاسل ایک بار پھر آپ رضی اللہ عنہٗ کی ذاتِ مبارکہ میں ایک جگہ جمع ہوگئے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ سے چار سلاسل جاری ہوئے قادری، چشتی، سہروردی اور نقشبندی۔ سلسلہ قادریہ آپ رضی اللہ عنہٗ کا اپنا سلسلہ ہے اور اسے فقر کی بدولت تمام سلاسل پر فوقیت حاصل ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’یوں تو ہر طالب کے نزدیک اس کا سلسلہ اعلیٰ و اولیٰ ہوتا ہے لیکن قادری طریقہ کے منسلکین نے ہمیشہ قادری طریقہ کی برتری کا دعویٰ زیادہ شدت سے کیا ہے۔ اس کی حقیقت کچھ بھی ہو لیکن دو باتوں سے انکار ممکن نہیں اوّل یہ کہ ہندوستان میں جن چار سلسلوں قادریہ‘ چشتیہ‘ سہروردیہ اور نقشبندیہ کو قبولیتِ عام حاصل ہوئی ان میں طریقہ قادریہ کو زمانی لحاظ سے اوّلیت حاصل ہے اور یہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا اپنا طریقہ ہے جبکہ باقی طریقوں یا سلسلوں کے بزرگوں نے اُن سے فیض حاصل کیا۔آپ رضی اللہ عنہٗ خود فرماتے ہیں:

اَفَلَتْ شُمُوْسُ الْاَوَّلِیْنَ وَ شَمْسُنَا                                 اَبَدَاً عَلٰی فَلَکِ الْعُلٰی لَا تَغْرُب

ترجمہ: ’’پہلوں کے آفتاب ڈوب گئے لیکن ہمارا آفتاب بلندیوں کے آسمان پر کبھی غروب نہ ہوگا۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سلسلہ قادریہ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قادری را قرب قدرت باخدا
قادری را امید باشد بالقا
* یاد رہے کہ دوسرے ہر طریقے میں رنجِ ریاضت کی آفات ہیں لیکن طریقہ قادری میں تصورِ اسمِ اللہ ذات کے ذریعے پہلے ہی روز غرق فنا فی اللہ کا مرتبہ نصیب ہوتا ہے۔ قادری طریقہ آفتاب کی مثل ہے اور دوسرے طریقے چراغ کی مثل ہیں۔(نور الہدیٰ کلاں)
* ہر خانوادہ (سلسلہ) کی انتہا قادری طریق کی ابتدا کو نہیں پہنچ سکتی خواہ تمام عمر ریاضت میں سرگردان رہے۔ قادری کی ابتدا لامکان اور فنا فی اللہ ہونا ہے اور قادری کی انتہا لاھوت اور بقا باللہ ہونا ہے۔ جو شخص فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے مراتب پر نہیں پہنچا اُسے نہ ابتدا حاصل ہے نہ انتہا بلکہ وہ نفس کے تابع اور حرص و ہوا میں مبتلا ہے۔ سالہا سال کی ریاضت سے مشاہدۂ وصال میں ایک دم مستغرق رہنا بہتر ہے۔ (توفیق الہدایت)
آپ رحمتہ اللہ علیہ قادری سلسلہ کی شاخوں کے متعلق فرماتے ہیں:
* قادری طریقہ بھی دو قسم کا ہے‘ ایک سروری قادری اور دوسرا زاہدی قادری۔ سروری قادری مرشد صاحبِ اسمِ اللہ ذات ہوتا ہے اس لیے وہ جس طالبِ مولیٰ کو حاضراتِ اسمِ اللہ ذات کی تعلیم و تلقین سے نوازتا ہے تو اُسے پہلے ہی روز اپنا ہم مرتبہ بنا دیتا ہے جس سے طالبِ مولیٰ اتنا لایحتاج و بے نیاز اور مُتَوَکَّلْ اِلَی اللّٰہ ہو جاتا ہے کہ اُس کی نظر میں مٹی و سونا برابر ہوجاتاہے۔زاہدی قادری طریقے کا طالب بارہ سال تک ایسی ریاضت کرتا ہے کہ اُس کے پیٹ میں طعام تک نہیں جاتا‘ بارہ سال کی ریاضت کے بعد حضرت پیر صاحب (محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیز) اُس کی دستگیری فرماتے ہیں اور اُسے سالک مجذوب یا مجذوب سالک بنا دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سروری قادری طالب کا مرتبہ محبوبیت کا مرتبہ ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
یعنی اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر کا انمول تحفہ بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اہلِ بیتؓ اور وہاں سے حضرت امام حسن بصریؓ سے ہوتا ہوا سیّدنا غوث الاعظمؓ میں یکجا ہوا اور وہاں سے سلسلہ قادری جاری ہوا۔ جسے برصغیر میں اللہ تعالیٰ نے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سے سروری قادری کے نام سے جاری کیا۔ اسے سروری قادری اس لیے کہا جاتا ہے کہ سروری کا مطلب سرورِ کائنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب ہے غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی اتباع کرنا یعنی سلسلہ سروری قادری کا مرید بالواسطہ آقا دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور سیّد الاولیا کی بارگار میں منظور ہوتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سلسلہ سروری قادری کے طالب کی ابتدا دوسرے سلاسل کی انتہا کے برابر ہوتی ہے۔ سروری قادری مرشد، مکمل و جامع فنا فی ذات فنا فی ھو ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
؂عارف کامل قادری ہر قدرتے قادر و بہر مقام حاضر
ترجمہ: عارف کامل قادری ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)
سروری قادری مرشد دو طرح کے ہوتے ہیں:
صاحبِ اسم
صاحبِ مسمّٰی
صاحب اسم قادری مرشد وہ ہوتا ہے جو مقامِ خلق پر ہوتا ہے یہ خلفا ہوتے ہیں اور یہ ساری عمر اسم اللہ ذات نقش کرنے میں گزار دیتے ہیں۔
صاحبِ مسمّٰی قادری مرشد مسند تلقین و ارشاد پر ہوتا ہے یہ عارف باللہ، سمندرِ عشق میں غرق ھو میں فنا اور بقا کے بعد لایحتاج کے مقام پر ہوتا ہے اس کے متعلق حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مسمّٰی آن کہ باشد لازوالی
نہ آں جا ذکر و فکر نہ وصالی
بود غرقش بہ وحدت عین دانی
فنا فی اللہ شود سر نہانی
ترجمہ: مقام مسمّٰی لازوال مقام ہے جہاں پر ذکر، فکر و وصال کی گنجائش نہیں اس مقام پر پہنچ کر طالبِ مولیٰ فنا فی اللہ فقیر ہو جاتا ہے اور اس پر رازِ پنہاں ہو جاتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
اور ایسے فقیر کامل کا مرید بھی جب طلبِ مولیٰ سے بیعت ہوتا ہے تو سروری قادری مرشد اس کو پہلے ہی دن تصور اسمِ اللہ ذات سے واصل باللہ اور مجلسِ محمدی کی حضوری سے نوازتا ہے۔
سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخِ کامل امامِ مبین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* سلسلہ سروری قادری کو سروری قادری اس لیے کہا جاتا ہے کہ سروری کا مطلب ہے کہ سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب ہے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی اتباع کرنا یعنی ان کے طریقہ پر چلنا۔(شمس الفقرا)
* سروری قادری سلسلہ معرفت کا سمندر ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اور اسمِ اللہ ذات میں غوطہ لگاتا ہے وہ عارف ہوجاتا ہے۔ اگر سروری قادری طریقہ کا مرید کسی دوسرے طریقہ میں چلا جائے تو وہ خواہ بانصیب ہی ہو بے نصیب اور مردود ہوجاتا ہے۔ (سلطان العاشقین)
* سروری قادری طریقہ میں رنجِ ریاضت، چلہ کشی، حبسِ دم، ابتدائی سلوک اور ذکر فکر کی الجھنیں ہرگز نہیں ہیں۔ یہ سلسلہ ظاہری درویشانہ لباس اور رنگ ڈھنگ سے پاک ہے اور ہر قسم کے مشائخانہ طور طریقوں مثلاََ عصا، تسبیح، حُبّہ و دستار وغیرہ سے بیزار ہے۔ اس سلسلہ کی خصوصیت یہ ہے کہ مرشد پہلے ہی روز سلطان الاذکار (ھُو) کا ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا کرکے طالب کو انتہا پر پہنچا دیتا ہے جبکہ دوسرے سلاسل میں یہ سب کچھ نہیں ہے۔(سلطان العاشقین)
تمام مشائخ سروری قادری کا سلسلہ سروری قادری کے افضل ہونے کا دعویٰ ہر گز کسی نفسانی تحریک کا نتیجہ نہیں ہے کیونکہ سلسلہ سروری قادری کی مسندِ تلقین و ارشاد پر وہی فائز ہوتا ہے جو فنا اور بقا کے تمام مراحل طے کرکے اللہ تعالیٰ کی ذات میں اس قدر غرق ہو چکا ہو جہاں اس کا بولنا اللہ کا بولنا، اس کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا، اس کا پکڑنا اللہ کاپکڑنا ہوتا ہے۔لہٰذافنا فی اللہ، فنا فی الرسول، فنا فی فقر اور فنا فی ھُو فقرا کامل کے لیے منفی خیالات دل میں رکھنا یا دل میں آنے دینا بھی کم عقلی، کم علمی اور حقیقت سے دوری کانتیجہ ہے۔ درحقیقت سلسلہ سروری قادری کی تمام سلاسل پر برتری ’’فقر‘‘ کی وجہ سے ہے۔ فقر کے متعلق سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقر شاہے ہر دو عالم بے نیاز و باخدا
احتیاجش کس نہ باشد مدنظرش مصطفیؐ
ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو خدا کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہاں سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کے مد نظر رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)
فقر سرِّ از رازِ وحدت حق نظر
فقر خاص الخاص از حق باخبر
ترجمہ:فقر وحدت کا راز ہے۔ فقر کی نظر ہمیشہ حق پر رہتی ہے۔ خاص الخاص فقر وہ ہے جو ذاتِ حق سے باخبر ہو۔ (محک الفقر کلاں)
* سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
فقر دراصل اللہ تعالیٰ کے دیدار اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کا علم ہے۔ (شمس الفقرا)
* اور علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق اسلام کا دوسرا نام فقر ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
لفظ ’’اسلام ‘‘سے اگر یورپ کو کِد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے ’’فقرِ غیور‘‘
درحقیقت اسلام کی روح فقر ہے جو صرف سلسلہ سروری قادری میں موجود ہے۔ جس پر آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ (فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے)۔
سلسلہ سروری قادری باقی تمام سلاسل پر فوقیت رکھتا ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک قریب تر اور محبوب وہی ہے جو تقویٰ میں سب سے بڑھ کر ہے۔ سلسلہ سروری قادری میں طالب اسمِ اللہ ذات کا ذکر و تصور حاصل کر کے فقر کی منازل طے کرتا ہے تو مرشد کامل اکمل کے وسیلہ سے قربِ الٰہی اور مجلسِ محمدی کی حضوری سے مشرف ہوتا ہے اور اسی سے وہ حقیقت سے آشنا ہو کر اپنے نفس کے پردہ کو ہٹا کر عارف باللہ، فنا فی اللہ ہوتا ہے اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت اور قرب اس کا مقدر بن جاتا ہے۔
سلسلہ سروری قادری اب تک اس طرح سے جاری ہے:
1۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
2۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
3۔ حضرت اما م خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ
4۔ حضرت شیخ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ
5۔ حضرت شیخ داؤ د طائی رحمتہ اللہ علیہ
6۔ حضرت شیخ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ
7۔ حضرت شیخ سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ
8۔ حضرت شیخ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ
9۔ حضرت شیخ جعفر ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ
10۔ حضرت شیخ عبد العز یز بن حرث بن اسد تمیمی رحمتہ اللہ علیہ
11۔ حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد تمیمی رحمتہ اللہ علیہ
12۔ حضرت شیخ محمد یوسف ابو الفرح طر طوسی رحمتہ اللہ علیہ
13۔ حضرت شیخ ابو الحسن علی بن محمد قرشی ہنکاری رحمتہ اللہ علیہ
14۔ حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ
15۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ
16۔ حضرت شیخ تاج الدین ابو بکر سیّد عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
17۔ حضرت شیخ سیّد عبد الجبار جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
18۔حضرت شیخ سیّد محمد صادق یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ
19۔حضرت شیخ سیّد نجم الدین برہان پوری رحمتہ اللہ علیہ
20۔حضرت شیخ سیّد عبد الفتاح رحمتہ اللہ علیہ
21۔حضرت شیخ سیّد عبد الستار رحمتہ اللہ علیہ
22۔حضرت شیخ سیّد عبد البقاء رحمتہ اللہ علیہ
23۔حضرت شیخ سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ
24۔حضرت شیخ سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
25۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد سلسلہ سروری قادری اس طرح سے ہے:
26۔سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
27۔سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ
28۔شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمدبہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ
29۔سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیزرحمتہ اللہ علیہ
30۔سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ
31۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس
اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ عہدِ حاضر میں سلسلہ سروری قادری کے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس جو ایک روشن چراغ کی مثل ہیں جنہوں نے اس ظلمت کے دور میں سلسلہ سروری قادری کی روح کو پھر سے تازہ و توانا اور منظم کیا اور اس میں رواج پا جانے والی بدعات کا خاتمہ فرمایا۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے ہی روز طالبانِ مولیٰ کو ذکر و تصور اسم اللہ ذات عطا کر کے معرفت و دیدار کی منازل طے کروا دیتے ہیں۔ آئیے اس دورِ حاضر کے مجدد، امامِ حق کی بارگاہ میں صدقِ دل سے طلبِ مولیٰ کے ساتھ حاضر ہو کر اپنے قلوب کو منور کریں۔ اللہ تعالیٰ اس کامل ہستی کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے ۔ آمین۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں