Pir-Bhadur-Saha

شہبازِعارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ– Shahbaz-e-Arifaan Hazrat Sakhi Sultan Pir Syed Mohammad Bahadur Ali Shah

Spread the love

1/5 - (1 vote)

سلطان اصابرین حضر ت سخی سلطان سید محمد بہادر علی شاہؒ کے بعد سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل

شہبازِعارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ

تحریر: حافظ وقار احمد سروری قادری۔ لاہور

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل ہیں۔ سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ؒ سے امانتِ فقر آپؒ کو منتقل ہوئی اس لحاظ سے آپؒ شجرہ فقر (جو آقا دوجہان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شروع ہوا) میں اٹھائیسویں نمبر پر ہیں۔ راہِ فقر کے لیے آپؒ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپؒ نے اپنے عارفانہ کلام کی صورت میں ایک وسیع علمی‘ ادبی اور فکری اثاثہ چھوڑا جو راہِ فقر کے طالبوں کے لیے بہترین توشہ ہے۔آپؒ نے اپنے مرشد سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہؒ اور ان کے مرشد سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی شان میں عارفانہ کلام لکھا جو وحدت‘ فنا فی اللہ بقا باللہ اور دیدارِ الٰہی کا ایسا جامع درس ہے جس کے ایک ایک مصرعے کی شرح کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔ آئیے حضرت پیر سیّد بہادر علی شاہ ؒ کی حیاتِ مبارکہ سے وہ موتی چننے کی کوشش کرتے ہیں جن کی بدولت انہوں نے راہِ فقر میںیہ مقام و مرتبہ حاصل کیا۔
آپؒ کا اسمِ گرامی محمد بہادر علی شاہ ؒ تھا۔ ایران کے شہر مشہد سے تعلق ہونے کی وجہ سے ’المشہدی‘ آپؒ کے نام کا حصہ بنا۔ حضرت امام بریؒ کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا شاید اسی وجہ سے مختلف روایات میں پیر سیّد بہادر علی شاہؒ کو حضرت بری امامؒ کی اولاد لکھا جاتا رہا ہے حالانکہ حضرت بری امامؒ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ خاندانِ سادات کے نسب کی وجہ سے ’سیّد‘ اور حضرت امام موسیٰ کاظمؓ کی اولاد پاک سے ہونے کی بدولت ’کاظمی‘ آپؒ کے نام کا حصہ بنا۔ آپؒ کا شجرہ نسب حضرت امام موسیٰ کاظمؓ سے ہوتا ہوا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔

شجرہ نسب

آپؒ کا قبیلہ ایران سے ہجرت کر کے اُس وقت کے ہندوستان اور موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی کے قریب آ کر آباد ہوا۔ آپؒ کے والدین راولپنڈی سے ہجرت کر کے پہلے چکوال اور پھر شور کوٹ (ضلع جھنگ) سے شمال مغرب کی جانب قصبہ ’’حسُّو والی‘‘ میں آباد ہوئے۔ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ کی ولادت باسعادت 16اگست 1801 ء بمطابق 5 ربیع الثانی 1216 ھ بروز اتوار بوقتِ فجر قصبہ حسُّو والی میں ہی ہوئی۔ آپؒ ازل سے فقر کے لیے منتخب شدہ تھے اس لیے بچپن ہی سے آپؒ کا رجحان دین کی طرف تھا۔ باقی بچوں کے برعکس آپؒ کی طبیعت دنیاوی مشاغل کی طرف مائل نہ تھی۔ نورِ فقر بچپن ہی سے آپؒ کے چہرہ مبارک سے عیاں تھا جس کی بدولت آپؒ اپنے باقی بھائیوں سے منفرد اور نمایاں نظر آتے تھے۔ان معاملات کو دیکھتے ہوئے آپؒ کے والد گرامی سیّد فتح علیؒ بھانپ گئے کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے۔ ضرور مستقبل میں اللہ پاک نے اس سے کوئی اہم کام لینا ہے کیونکہ سیّد فتح علی ؒ خود بھی ایک صوفی منش، درویش صفت اور دیندار انسان تھے اور حضرت سخی سلطان باھوؒ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اس لیے اکثر دربار سلطان باھُوؒ پر حاضری دیا کرتے۔
جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے کوئی اہم کام لیناہوتا ہے تو ان کو نفس ‘ دنیا اور شیطان کے ہاتھوں ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ ابتدا سے ہی ان کی حفاظت فرماتا ہے۔لہٰذا پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ ؒ کی ابتدائی تربیت کے لیے اللہ پاک نے کچھ اس طرح سامان فرمایا کہ آپؒ کے والد کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس بچے کو بھی دربار سلطان باھُوؒ پرلے جایا کریں۔ درحقیقت دربار سلطان باھوؒ ہی پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ کی ابتدائی درسگاہ تھی۔ جہاں سلطان باھوؒ باطنی طور پرآپؒ کو خوب سیراب کرتے تھے۔اس تربیت کی بدولت آہستہ آہستہ آپؒ کے سینے میں عشقِ حقیقی کی چنگاری سلگنے لگی یہاں تک کہ آپؒ 8 سال کی عمر کو پہنچ گئے۔آپؒ کے والد نے سوچا کہ اب آپؒ کو باقاعدہ دینی تعلیم دلوانی چاہیے۔ دینی تعلیم و تربیت کے حصول کے لیے آپؒ کے والد نے آپؒ کو اپنے مرشد حضرت پیر مولانا محمد عبید اللہ ملتانیؒ کے پاس ملتان بھیجنے کا ارادہ کیا اور اس سے قبل سات دن دربار سلطان باھُوؒ پر قیام کیا۔
پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے تقریباً سترہ دن پیر مولانا محمد عبید اللہ ملتانی کی درسگاہ میں گزارے۔ ان سترہ دنوں میں انتہائی دلچسپ معاملات پیش آئے۔ مولانا محمد عبیداللہ نے جب ابتدائی قاعدہ آپؒ کے سامنے رکھا تو آپؒ نے پورا قاعدہ پڑھ کر سنا دیا یہاں تک کہ پورا قرآن پاک سنا دیا۔ استادِ محترم نے خیال کیا کہ شاید بچہ گھر سے قرآن حفظ کر کے آیا ہے لہٰذا انہوں نے درسِ نظامی کی تعلیم دینا شروع کی لیکن یہاں بھی وہی ماجرا تھا۔ مولانا صاحب جو کتاب سامنے رکھتے وہ آپؒ کو ازبر ہوتی۔ مولانا عبید اللہ بڑے حیران و پریشان ہوئے۔ اسی حیرانی میں مولانا صاحب نے آپؒ کے والد کو خط لکھا کہ آپ کا بیٹا تعلیم مکمل کر چکا ہے لہٰذا آپ آکر اسے واپس لے جائیں۔ خط پڑھ کر آپؒ کے والد بہت رنجیدہ اور مایوس ہوئے اور سوچا کہ شاید اُن کا بیٹا استاد کے معیار پر پورا نہیں اترا‘ یا پھر کوئی کوتاہی کر بیٹھا ہے۔ اسی کشمکش میں جب ملتان پہنچے تو مولانا صاحب نے یکسر مختلف صورتحال سامنے رکھی۔ آپؒ کے والد بھی تمام ماجرا سن کر بہت حیران ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ان کے بیٹے نے تو ایسی کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ والد محترم کے استفسار پر آپ ؒ نے یاد دلایا کہ ملتان آنے سے پہلے ہم سات دن تک سلطا ن العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے دربار پر قیام پذیر رہے تھے۔ اس دوران آپ نے حضرت سلطان باھوؒ کی بارگاہ میں کرم ومہربانی کی دعا فرمائی تھی تو یہ اُسی دعا کا نتیجہ ہے کہ حضرت سلطان باھوؒ نے سات دن میں مجھے علمِ لدّنی عطا فرمادیا۔یہ سن کر والد محترم آپؒ کو ملتان سے واپس دربار سلطان باھو ؒ پر لے آئے۔ حضرت سلطان باھُوؒ نے خواب میں آپ ؒ کے والد کو حکم دیا ’’آپ اپنے بیٹے کویہیں ہمارے پاس چھوڑ جائیں ہم اس کے نگہبان ہیں۔‘‘
اس حکم کے بعد آپؒ کے والد نے آپؒ کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی بارگاہ میں پیش کردیا۔
ذرا غور فرمائیں کہ جن علوم کے حصول اور پھر ان میں مہارت کے لیے سالہا سال درکار ہیں ‘ سلطان باھوؒ نے محض سات دن میں وہ علوم پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ ؒ کو عطا فرمادئیے۔ سبحان اللہ!
آپؒ 8 سال کی عمر یعنی 1809 ء میں دربار سلطان باھوؒ پر قیام پذیر ہوئے اور اگلے 40 سال یہیں مقیم رہے۔اس دوران آپؒ نے دربار پاک پر مختلف ڈیوٹیاں اور فرائض سر انجام دےئے جن میں زائرین کے وضو کے لیے پانی بھرنا‘ ان کو ٹھہرانے کا بندوبست کرنا‘ لنگر کی تقسیم اور دربار کی صفائی ستھرائی جیسے کام شامل ہیں لیکن اسی عرصہ میں جو سب سے اہم خدمت آپؒ نے سرانجام دی وہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی فارسی کتب کے نسخہ جات کی نقل کر کے انہیں محفوظ کرناہے۔ ان کتب میں شمس العارفین‘ گنج الاسرار‘ کلید التوحید کلاں‘ کلید التوحید خورد‘ عین الفقر‘ عقلِ بیدار اور نورالہدیٰ کلاں شامل ہیں۔
دربار پر قیام کے دوران آپؒ کا اہم معمول یہ تھا کہ آپؒ روزانہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کیا کرتے تھے۔ذکروتصور اسمِ اللہ ذات نے آپؒ کے سینے میں سلگتی عشقِ حقیقی کی دہکتی چنگاری کو الاؤ بنا دیا کیونکہ یہی وہ واحد عبادت ہے جس کے ذریعے انسان کا باطن پاک صاف ہو کر اس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب و دیدار حاصل کر سکے۔ جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا:
لِکُلِّ شَیْ ئٍ مُصْقِلَۃٌ وَّ مُصْقِلَۃُ الْقَلْبِ ذِکْرُاللّٰہِ تَعَا لٰی.
ترجمہ: ہر چیز کے لیے صیقل ( صفائی کرنے والی چیز) ہے اور دِل کی صیقل اسمِ  اللہ کا ذکر ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
دل کرصیقل شیشے وانگوں باھوؒ ، دور تھیون کُل پردے ھُو
ترجمہ: اپنے دل کو آئینہ کی طرح پاک و صاف کر لے تو تیرے تمام حجابات دور ہو جائیں گے کیونکہ آئینہ جتنا صاف ہوتا ہے عکس اتنا ہی واضح نظر آتا ہے۔
پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ دربار سلطان باھوؒ پر مختلف ڈیوٹیاں اور فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ اور ذکر و تصور اسم اللہ ذات کی مشق کی پابندی بھی کرتے رہے جس کی بدولت باطن میں اعلیٰ منازل طے کرتے چلے گئے۔چالیس سال بعدیعنی 1849 ء میں حضرت سلطان باھوؒ نے آپؒ کو اجازت دی کہ اب آپؒ اپنے گھر واپس تشریف لے جائیں اور ہر ماہ کی محفل میں شامل ہو جایا کریں۔ 1861ء تک یہی معمول رہا۔ 1861 ء میں ایک روز دربار سلطان باھوؒ پر حاضری کے دوران آپؒ کو سلطان باھوؒ کی جانب سے حکم ملا کہ شور کوٹ جاکر پیر محمد عبدالغفور شاہؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں۔ لہٰذا آپؒ نے 2 اگست 1861 ء بمطابق 25 محرم الحرام 1278 ھ بروز جمعتہ المبارک شور کوٹ جا کر سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہؒ کے دستِ مبارک پر بیعت فرمائی۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے اپنا بچپن ‘ لڑکپن‘جوانی سب کچھ اللہ کے نام پر وقف کر دیا۔اپنی ذاتی خواہشات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کو عزیز رکھا اور وفا و استقامت سے اپنی زندگی کے 53 سال دربار سلطان باھوؒ پر گزار دیئے۔ آپؒ نے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی شان میں جو سی حرفی لکھی اس کے ایک بیت میں کچھ یوں فرماتے ہیں:
عشق دا مکتب کھولیا ہے‘ سلطانؒ سوہنے عالیشان سائیں
داخل مکتب ہوون‘ جانن یکساں سود زیان سائیں
دَسّے الف وکھائے ہِک‘ صحیح استاد ہے اہلِ عرفان سائیں
سلطان بہادر شاہؒ مدارج طے ہوون‘ہِک آن تے ہِک زمان سائیں
مفہوم: حضرت سخی سلطان باھوؒ نے طالبانِ مولیٰ اور سچے عاشقوں کے لیے عشق کا مدرسہ کھول رکھا ہے۔ جو طالبانِ مولیٰ اس مدرسہء عشق میں داخل ہوتے ہیں حضرت سلطان باھُوؒ ان کی ایسی عالیشان تربیت فرماتے ہیں کہ ان طالبوں کی نظر میں دنیاوی نفع و نقصان کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی یعنی ان کے لیے سونا اور مٹی ایک برابر ہو جاتے ہیں۔ سلطان باھوؒ اللہ پاک کی معرفت رکھنے والے صحیح استاد ہیں جو اسمِ اللہ ذات کا ذکر و تصور سکھاتے ہیں جس کی بدولت دیدارِ الٰہی نصیب ہوتا ہے اور طالب کو ایک ہی لمحے میں باطن کے درجات طے کروا دیتے ہیں۔
چونکہ حضرت پیر سیّد بہادر علی شاہؒ نے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی زیر نگرانی اور زیر تربیت باطن کی منازل طے کرنا شروع کی تھیں اور ایک طویل عرصہ آپؒ نے دربار پر گزارا اس لیے پیر بہادرعلی شاہؒ آپؒ سے خاص محبت رکھتے تھے۔
دربار سلطان باھو ؒ پر ہر رات ایک باطنی محفل سجا کرتی تھی جس میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے تمام خلفا اپنے مراتب کے لحاظ سے ترتیب وار نشست فرما ہوا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے پیر بہادر علی شاہؒ سب سے آخری نمبر پر بیٹھتے۔ ایک رات پیر بہادر علی شاہؒ حاضری کے لیے دربار شریف کی طرف روانہ ہوئے تو شدید آندھی اور طوفان نے آلیا۔ ملاح نے اس طوفان میں کشتی دریا میں ڈالنے سے انکار کر دیا۔ آپؒ ایک پکے اور سچے عاشق تھے تو یہ کیسے گوارا کرتے کہ محبوب کی محفل میں غیر حاضری لگ جائے۔ پھر کیا تھا‘ آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر شدید طوفان میں دریا میں چھلانگ لگا دی اور دریا کی لہرو ں کو عشق کے چپّو سے چیرتے ہوئے پارکر کے دربار پر محفل میں پہنچ گئے۔
؂ تدوں فقیر شتابی بندا‘ جد جان عشق وِچ ہارے ھُو
یعنی فقیر تب ہی کامل ہوتا ہے جب عشق میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے اور ’’لا‘‘ کی تلوار سے خواہشاتِ نفس کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اپنا گھر بار‘مال و متاع اور اپنی ہستی تک داؤ پر لگا دیتا ہے پھر اپنے آپ کو عشق کی آگ میں جلا کر فنا کر لیتا ہے۔ بس تب ہی وہ مسلمان سے مومنین بن کر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  کی رمز کا عارف اور کامل بنتا ہے۔
جب طالب اپنی طلب میں سچا اور کھرا ہو‘ میدانِ عشق کے تمام امتحان ثابت قدمی سے عبور کرتا چلا آ رہا ہو تو پھر اللہ پاک ایسے طالب کو خوب نوازتا ہے۔ اُس رات پیر بہادر علی شاہؒ کو بارگاہِ سلطان العارفین ؒ میں وہ مقام ملا جو قابلِ رشک ہے۔آپؒ آخری نشست سے ترقی کر کے پہلی نشست پر آ گئے۔ سلطان باھوؒ نے آپؒ کو ’’پیر صاحب‘‘ کے لقب سے نوازا اور بعد ازاں آپؒ لوگوں میں ’’حضور پیر صاحب ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپؒ حضرت سخی سلطان باھوؒ کی کسوٹی پر بطورِ طالبِ مولیٰ پورا اترے۔ آپؒ کی انتہا درجے کی ثابت قدمی‘ وفا اور بے مثال عشقِ حقیقی کے پیشِ نظرسلطان العارفین نے آپؒ کو اپنا خزانۂ فقر نہ صرف عطا کیا بلکہ اس خزانے کا نگران بھی مقرر کیا۔ حضرت سلطان باھوؒ نے آپؒ کو حکم فرمایا:
’’یہ خزانہ جو تمہیں عطا ہوا ہے یہ سلطان الفقر پنجم (یعنی میرا) کا خزانہ ہے جو تم نے سلطان الفقر ششم کو منتقل کر نا ہے۔ یہ معاملہ فقر کے مختارِ کُل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے منظور ہو چکا ہے اور پیرانِ پیر غوث الاعظمؓ اس پر مہر ثبت کر چکے ہیں۔‘‘ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے دریافت کیا کہ میں اُسے کیسے پہچانوں گا؟ سلطان العارفینؒ نے فرمایا ’’میری اولاد میں ایک مردِ کامل پیدا ہو گا جو ختنہ شدہ اور ناف بریدہ ہو گا ‘ اس کے گھر سلطان الفقر ششم کی ولادت ہوگی۔‘‘
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کی بارگاہ سے آپؒ کو ’’شہبازِ عارفاں‘‘ کا لقب ملا۔
حاصلِ تحریر یہ کہ فقر میں کمال عشق سے حاصل ہوتا ہے ۔ فقر دراصل ہے ہی عشق۔ علامہ اقبال کا یہ شعر آپ ؒ کی شخصیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
یہ شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک پہلو تھا جس میں آپؒ نے بطورِ طالبعلم اور طالبِ مولیٰ ایک تاریخ رقم کی۔ دوسرے دور میں آپؒ کی زندگی کا وہ پہلو نکھر کر سامنے آتا ہے کہ جب آپؒ مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوئے۔
آپؒ نے تقریباً 49 سال اپنے مرشد حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ کی رفاقت اور صحبت میں گزارے اور ان کے وصال تک اُن سے جدانہ ہوئے۔اپنے مرشد کے وصال کے بعد آپؒ حسووالی سے ہجرت فرماکرکچھ عرصہ عارضی طور پر دیوا سنگھ تحصیل کبیر والا ضلع ملتان مقیم رہے ۔جلد ہی آپؒ دیواسنگھ سے مستقل طور پر موضع فرید محمود کاٹھیہ(شور کوٹ سے 14کلومیٹر کے فاصلے پر جھنگ روڈ پر اڈہ قاسم آباد سے مشرق کی جانب 2 کلومیٹر) ہجرت فرماگئے۔جب پیرسیّد محمد بہادر علی شاہؒ موضع فرید محمود کاٹھیہ تشریف لائے تو لوگ دین اور معرفتِ الٰہی سے بے بہرہ ‘ جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لہٰذا آپؒ نے ایک جگہ ڈیرہ لگایا جو بعد میں ’’پیر دی بھنیڑی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور یہیں سے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے کا مشن شروع کیا۔ آپؒ کی دعوتِ حق پر لبیک کہتے ہوئے لوگ جوق در جوق نورِ معرفت سے مستفید ہونے لگے۔
سنتِ نبویؐ پوری کرنے کی خاطر آپؒ نے ایک نکاح بھی فرمایا مگر آپؒ کے معمولاتِ زندگی کی بنا پر بیوی سے نبھا نہ ہو سکا۔ آپؒ کی بیوی اور سسرال والوں کا اصرار تھا کہ راہِ فقر کو چھوڑ کر دنیا داری پر توجہ دیں‘ کوئی کام کاج یا کاشتکاری کریں۔ ان نادانوں کو کیا خبر تھی کہ جس دل سے دنیا نکل چکی ہو اور عشقِ حقیقی نے اپنے ڈیرے جما لیے ہوں وہاں اللہ پاک کی ذات کے سوا کوئی دوسرا نہیں سما سکتا۔
کاجل دارُو کُرکُرا سرمہ سہا نہ جائے
جن نین میںِ پی بسے دُوجا کون سمائے
مقامِ فنا فی ھُو پر فائز آپؒ کہاں اس دنیا ‘ نفس اور شیطان مردود کے چنگل میں آنے والے تھے۔ آپؒ نے راہِ فقر کو چنا اور اپنے اور اللہ کے درمیان حائل ہر رکاوٹ کو دور کر کے اپنی تمام عمر تجرد میں گزار دی۔ آپ کی کوئی اولاد نہیں۔ بلاشبہ آپ راہِ فقر کے وہ فقیرِ کامل ہیں جنہوں نے ازل سے ابد تک اپنے محبوب اپنے ربّ کے سوا کچھ دیکھا نہ سنا اور نہ چاہا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت سلطان باھوؒ کے اس فرمان کے عین بعین تھے ’’اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔‘‘
اس آزمائش کے بعد آپؒ نے اپنی تمام تر توجہ اپنے مرشد کامل اکمل اورحضرت سلطان باھوؒ کی تعلیمات کو عام کرنے پر مامور کر دی اور اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے انقلابی اقدام اٹھائے۔ راہِ فقر کی تاریخ میں آپؒ وہ پہلے مردِ مومن تھے جنہوں نے سونے کے اسمِ اللہ ذات تیار کروائے اور سینکڑوں کی تعداد میں طالبانِ مولیٰ کو اس نعمت سے نوازا۔ آپؒ اسمِ اللہ ذات کی عبارت خود رقم فرماتے اور پھراس پر سونا لگانے کے لیے ملتان میں ایک سنار کے پاس بھیج دیتے۔ (سونے کے اسمِ اللہ ذات تیار کرنے کا سلسلہ دوبارہ سے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے شروع فرمایا اور اس مقصد کے لیے پیر سیّد بہادر علی شاہ ؒ کے زمانے کاسونے کا اسمِ اللہ ذات ہی بطور نمونہ استعمال کیا گیا)۔
یوں تو طالبانِ مولیٰ قرب و جوار سے فقر کی دولت حاصل کرنے کے لیے آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے لیکن آپؒ نے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے کی کوشش میں صرف ایک جگہ بیٹھ کر فیض بانٹنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بہت سے تبلیغی سفرکیے۔ زیادہ ترسفر احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور‘ وہاڑی‘ ملتان‘ خانیوال اور میاں چنوں کے علاقوں کی طرف ہوا کرتے تھے۔
سینکڑوں طالبانِ مولیٰ کو اسمِ اللہ ذات کے فیض سے مستفید فرمانے کے بعد ابھی تک وہ ہیرا من موتی نہ ملا جسے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کا خزانہ فقر منتقل کرنا تھا۔
ایک رات عشاء کی نماز کے بعد ایک 21سالہ نوجوان سلطان العارفینؒ کے دربار شریف پر آپؒ کی بارگاہ میں عرض گزار تھا کہ میں بغداد جا کر شیخ عبد القادر جیلانیؓ کی اولاد پاک سے دستِ بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ نوجوان جس نعمت کا سوال لیکر حاضر ہوا تھا وہ نعمت تو دربار سلطان باھوؒ پر ہی اس کے مقدر ہونا تھی۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ مزار مبارک سے باہر تشریف لائے اور اپنے دائیں ہاتھ سے اس نوجوان کی دائیں کلائی پکڑ کر فرمایا کہ آپؒ چاہے بغداد شریف چلے جائیں یا مدینہ شریف تشریف لے جائیں، ہو گا وہی جس کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس پر مہر لگا چکے ہیں اور سیّدنا غوث الاعظمؓ بھی اس فیصلے پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کر چکے ہیں وہ یہ کہ آپ کی بیعت سلطان بہادر علی شاہؒ کے ہاتھ پر ہوگی لہٰذا ابھی اور اسی وقت آپ کی بیعت سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ ؒ سے کروائی جاتی ہے۔ حضرت سلطان باھو ؒ نے پیر بہادر علی شاہؒ کو فرمایا ’’پیر صاحب آپ انہیں دستِ بیعت فرمائیں۔‘‘یہ وہی گوہرِ نایاب تھا جس کو حضرت سلطان باھوؒ کاخزانہ فقر منتقل ہونا تھا اورجن کے متعلق حضرت سلطان باھوؒ پہلے ہی سلطان پیر بہادر علی شاہؒ کو آگاہ کر چکے تھے۔ پیر بہادر علی شاہؒ نے عرض کی ’’حضور آپ کی اولاد ہے آپؒ خود ہی انہیں دستِ بیعت فرمائیں‘‘ حضرت سلطان باھوؒ نے پھر فرمایا ’’پیر صاحب آپ انہیں دستِ بیعت فرمائیں‘‘ اسی طرح جب تیسری بار حضرت سلطان باھوؒ نے حکم فرمایا تو پیر بہادر علی شاہؒ نے اس نوجوان کو دستِ بیعت فرما لیا۔ اُس عظیم ہستی کا اسمِ گرامی سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمدعبد العزیزؒ ہے جو کہ حضرت سلطان باھو ؒ کے خانوادہ سے تھے۔ اس طرح امانتِ فقر ایک مرتبہ پھر حضرت سخی سلطان باھوؒ کے خاندان میں واپس آ گئی۔ یہ 13مارچ 1932 ء (6 – ذیقعد 1350ھ) اتوار کا مبارک دن تھا۔بیعت کے روز سے لے کر اپنے مرشد کامل اکمل شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد بہادر علی شاہؒ کے وصال تک حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیزؒ نے اپنا تمام وقت مرشد کی رفاقت اور خدمت میں گزارا۔ آپؒ کی کوشش ہوتی تھی کہ اپنے مرشد کا ہر کام خود سر انجام دیں۔
حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیزؒ پیر بہادر علی شاہؒ کے واحد خلیفہ اکبر ہیں اور کوئی خلیفہ اصغر نہ تھا۔ پیر بہادر علی شاہؒ امانتِ فقر سلطان محمد عبدالعزیزؒ کو منتقل کرنے کے بعد تقریباً دو سال حیات رہے مگر اس قلیل عرصہ میں ہی آپؒ نے اپنی نگاہِ کامل سے سلطان محمد عبد العزیزؒ کو انتہا درجے کا باطنی عروج عطا فرما کر مقامِ فنا فی ھُو پر پہنچا دیا۔
پیر بہادر علی شاہؒ صرف طالبانِ مولیٰ پر ہی مہر بانی فرماتے اور اسمِ اللہ ذات کا راز ان پر کھول دیتے۔ جن پر یہ نظرِ عنایت ہو جاتی وہ دیدارِ الٰہی میں اس قدر مستغرق ہو جاتے کہ ظاہری حواس معطل ہو جاتے۔ لنگر تیا ر کرنے والے مریدین کی بھی یہی کیفیت تھی۔ اسمِ اللہ ذات میں اس قدر محو اور غرق ہو جاتے کہ روٹیاں اور سالن جل جاتے پھر یہی جلی ہوئی روٹیاں اور سالن حضور پیر صاحب کو بھی کھانا پڑتا۔ ایک روز حضرت سلطان باھو ؒ نے پیر صاحب کو حکم دیا کہ سالکین پر حسبِ برداشت فیض جاری کیا کریں اور سالکین کی برداشت اور وسعت کے مطابق اسمِ اللہ ذات کا راز منکشف کریں ورنہ تمام کی حالت مجذوبی ہو جائیگی، ہاں جب مریدوں پر نزع کا وقت ہو تب جتنا چاہیں اسمِ اللہ ذات کھول دیں اور جتنا چاہیں نواز دیں۔
سلسلہ فقر کا ایک درخشاں ستارہ پیر سیّد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ 27 فروری 1934 ء بمطابق14 ذیقعد 1352 ھ بروز منگل اس دارِ فانی سے پردہ فرماگیا۔
آپؒ نے 132سال 6 ماہ اور11دن کی عمر پائی لیکن زندگی کے آخری لمحہ تک آپؒ کے حسن و جمال میں کوئی فرق نہ آیا۔ چہرۂ مبارک نورِ حق سے تاباں تھا۔ سر مبارک بڑا‘ بینی مبارک بلند اور قد درمیانہ تھا۔ داڑھی مبارک طول و عرض میں برابر تھی۔ ریش مبارک کو دونوں رخساروں کی طرف ا س طرح سنوارتے تھے کہ درمیان میں مانگ (سیون) بن جاتی تھی جو آپؒ کے روپ کو مزید چار چاند لگا دیتی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور مخمور‘ سر کے بال کانوں کے نیچے تک رہتے تھے۔جسم بھرا بھرا‘ ہتھیلیاں ریشم کی طرح نرم اور انگلیاں لمبی اور مخروطی تھیں۔ کمال درجے پر فائز ہونے کے باوجود انتہائی سادہ لباس (تہمد اور کرتہ) استعمال کرتے تھے۔کبھی کبھار لمبا کوٹ پہن لیتے۔ عموماً سفید دستار پہنتے لیکن سبز دستار بھی استعمال کرلیتے تھے۔ پاؤں میں کھسہ استعمال فرماتے۔
آپؒ کا مزار مبارک ’’پیر دی بھنیڑی موضع فرید کوٹ‘‘ میں ہے۔
سلطان باھوؒ کے حکم کے مطابق آپؒ کا مزار فقر کا مرکز بن گیا۔ ’’حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ کو جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا تو اپنے مرشد حضرت سخی سلطان پیر سیّد بہادر علی شاہؒ کے مزار پر جا کر اُن سے فوراً حل کروالیتے۔‘‘ (کراماتِ عزیزیہ)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا بھی یہی معمول تھا۔ آپؒ نے جو بھی کام شروع کرنا ہوتا تو اس کا آغاز دربار پیر بہادر علی شاہؒ سے کرتے۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ‘ جو کہ سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام ہیں‘ کا بھی مسند تلقین و ارشاد سنبھالنے کے آغاز میں یہی معمول رہا۔جب کبھی بھی راہِ فقر میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو دربار سلطان پیرسیّد محمد بہادر علی شاہؒ کا رُخ فرماتے۔
شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد بہادر علی شاہؒ نے فیضِ سلطانی یعنی اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے جو سلسلہ شروع کیا وہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ امانتِ فقر سلطان محمد عبد العزیز ؒ سے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کو اور پھر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کومنتقل ہوئی۔ پیر بہادر علی شاہؒ کی طرح آپ مدظلہ الاقدس بھی اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام فرما رہے ہیں۔ آج کے اس پُر فتن دور میں فقر کا مرکز سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے فیض پانے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
استفادہ کتب:
* مجتبیٰ آخرالزمانی
* کلام مشائخ سروری قادری
* ابیاتِ باھوؒ کامل
* شمس الفقرا


Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں