Alif 170

الف-مشائخ سروری قادری–Mashaikh Sarwari Qadri

الف

شجرہ سروری قادری محض ناموں کی ایک فہرست نہیں ہے بلکہ ہر نام کی اپنی ایک خاص پہچان ہے۔ ان مشائخ سروری قادری میں سے ہر ایک نے فقر کی امانت کو نہ صرف احسن طریقے سے سنبھالا بلکہ اُسے اور بھی نکھار کر اپنے بعد آنے والے وارث کے حوالے کیا۔تاہم اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے کچھ ہستیوں کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری بھی رکھی کہ وہ فقر کے پہلے سے طے شدہ نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کریں۔ ان ہستیوں میں سلطان الفقر سوم غوث الاعظم سیّدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ،سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے نام سرِفہرست ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان ہستیوں نے اپنے اپنے دور میں پہلے سے موجود فقر و تصوف کے نظام کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ آپؓ روزانہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں طالبوں کو محض اپنی ایک توجہ سے اللہ تعالیٰ سے ملا دیتے تھے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کے علم سے لوگوں کو آگاہ فرمایا اور اسم اللہ ذات اور اسمِ محمد کے ذکر و تصور اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کی راہ طالبانِ مولیٰ کو سمجھائی ۔ سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے پہلے اسمِ اعظم اسم اللہ ذات کا علم صرف خاص الخاص لوگوں کو دیا جاتا تھا، آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس ترتیب کو یکسر بدل دیا اور اس کے فیض کو عام لوگوں کے لیے بھی جاری فرما دیا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کی تعلیمات کا وہ خزانہ جویا تو صرف سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا تھایا قلمی مسودات کی صورت میں تحریری طور پر بھی موجود تھا، کو کتب کی محدود دنیا سے نکال کر الیکٹرانک کتب(e books) ، الیکٹرانک میگزین (e magzines) اور مشہور ویب سائٹس جیسے کہ وکی پیڈیا وغیرہ پر مضامین شائع کرواکے اور سماجی رابطے کے ذرائع مثلاً فیس بک (Facebook) ، انسٹا گرام (Instagram) اور گوگل پلس(Google plus) وغیرہ پر لاتعدادپیجز(pages) بلاگز(blogs) کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کا انقلابی قدم اٹھایا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کے فیض کو کسی ایک ذریعۂ ابلاغ تک محدود نہیں رکھا بلکہ ویب سائٹس، کتب، سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیماتِ فقر کو دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے تاکہ طالبانِ مولیٰ کی حق تعالیٰ کی طرف رہنمائی کی جا سکے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں