Sultan-ul-Ashiqeen 179

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس—Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan mohammad Najib-ur-Rehman

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ کے بعد سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

تحریر: مسز سونیا نعیم سروری قادری۔ لاہور

وہ جو لباسِ بشر میں دکھائی دیتا ہے
وہی دل میں نظر آئے تو مثل ھو آئے
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں امام، فقیرِ کامل اور قدمِ محمدؐ پر ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اللہ اس اُمت کیلئے ہر صدی کی ابتدا میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کیلئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘آپ مدظلہ الاقدس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روحانی ورثہ فقر کے وارث اور اس دور کے مجدد ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے تمام اُمتِ مسلمہ جو کہ دین کی اصل روح سے ناواقف ہے‘ پر دینِ الٰہی کی حقیقت دوبارہ واضح کی۔
آپ مدظلہ الاقدس مرشدِ کامل اکمل نور الہدیٰ، فقر کے مرکز اور امامِ زمانہ ہیں۔ ہر دور کے امام کی تلاش اور اس کے ذریعے خدا تعالیٰ تک رسائی تمام فقرا نے فرض قرار دیا ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے’’جو امامِ زمانہ کی معرفت (پہچان) کے بغیر مر جائے وہ جہالت کی موت مرا۔‘‘ آج کے دور کے طالبانِ مولیٰ کیلئے آپ مدظلہ الاقدس ہی ہادی اور مرشد کامل اکمل ہیں جو مجلسِ محمدی کی حضور ی اور دیدارِ الٰہی حاصل کرنے کیلئے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

ولادتِ با سعادت

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس 19 اگست 1959 (14 صفر 1379 ھ) بروز بدھ بخشن خان تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر میں پیدا ہوئے۔
آپ مدظلہ الاقدس کی بلند شانِ ولایت اور ذاتِ خدا تعالیٰ سے قرب کی نشانیاں آپ کی پیدائش سے قبل ہی ظاہر ہونے لگی تھیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ کا کہنا ہے کہ جب تک یہ مبارک بچہ ان کے بطن میں رہا ان کا ہر وقت دل چاہتا کہ درود پاک اور سیّدنا غوث الاعظمؓ کی شان میں منقبتیں پڑھتی رہیں۔ آپؒ روایت فرماتی ہیں ’’ دورانِ حمل میں نے خواب دیکھا کہ چودھویں کا پورا چاند سر شام ہی طلوع ہوگیا ہے۔ اس کی روشنی اس قدر زیادہ ہے کہ آنکھیں چندھیا رہی ہیں یہی چاند تھوڑی دیر بعد سورج بن گیا یہ سورج عین میرے گھر کے اوپر سے طلوع ہوا ہے۔ جب یہ سورج سفر کرتے کرتے آسمان کے درمیان پہنچاتو ایک دم شق ہوگیا اور اس کا سارا نور دونوں عالم میں پھیل گیا۔‘‘ یہ خواب آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ کیلئے پیشن گوئی تھی کہ ان کے گھر بلند مرتبہ ولی کی آمد ہونے والی ہے۔

بچپن اور تعلیم و تربیت

سلطان العاشقین روزِ ازل سے فقرِ محمدی کے وارث ہیں اس لئے بچپن سے آپ کی ذات میں خاص کشش تھی چہرہ مبارک سے نور اس قدر جھلکتا تھا کہ ہر کوئی آپ کو گود میں لینے کیلئے بے قرار ہو جاتا۔ ایک بار ایک فقیر نے سلطان العاشقین کی روشن پیشانی دیکھ کر آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ ماجدہ سے کہا ’’ آپؒ کا یہ بیٹا بڑا سعید ہے ۔ اللہ پاک نے اپنی خاص تقدیر کو اس کی پیشانی پر رقم کر دیا ہے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی زیر نگرانی اس کی خاص طرز پر تربیت کی جائے گی۔‘‘
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ مد ظلہ الاقدس کو فقر کا خزانہ منتقل کرنا تھا اس لئے آپ کی تربیت شروع سے ہی کڑی آزمائشوں میں ہوئی۔ بچپن سے ہی آپ کو معاشی تنگی کا سامنا تھا۔ چار سال کی عمر میں آپ کی دینی و دنیاوی تعلیم کا آغاز ہو ا۔معاشی مسائل کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ذہانت کی وجہ سے جلد ہی ناظرہ قرآن مکمل کر لیا۔ آپ کا شروع سے ہی دین کی طرف رجحان تھا آپ اللہ تعالیٰ اور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے بارے میں شروع سے ہی غورو فکر فرماتے تھے۔ سلطان العاشقین نے تعلیم کے ساتھ ساتھ بچپن میں ہی مالی تنگدستی دور کرنے کیلئے اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا کبھی بکریاں چرائیں، کبھی ٹھیلے پر چیزیں فروخت کیں، کبھی کھیتوں میں کام کیا اور یوں اس محنت مشقت نے آپ کو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنا سکھا دیا۔ دینی تعلیم کے ساتھ آپ نے دنیاوی تعلیم میں بھی شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے پانچویں جماعت سے ہی روزنامہ مشرق، مساوات، امروز وغیرہ میں بچوں کے صفحات پراخلاقی نوعیت کے مضامین لکھنا شروع کر دئیے۔ 1978 میں ملتان بورڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا پہلے توآپ نے کالج میں پری میڈیکل میں داخلہ لیا لیکن پھر معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آرٹس کے مضامین کا انتخاب کیا تاکہ جلد از جلد تعلیم مکمل کر کے ملازمت کر سکیں لیکن معاشی حالات اس دوران اس قدر خراب ہو گئے کہ آپ مدظلہ الاقدس کو تعلیم چھوڑ کر پٹرول پمپ پر نوکری کرنا پڑی۔ آپ حساس طبیعت کے مالک تھے اور بڑا بیٹا ہونے کے ناطے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا خوب احساس تھا لہٰذا آپ محنت مشقت کرنے کے ساتھ ساتھ ایف اے کی پرائیویٹ تیاری کرتے رہے اور1980 ء میں ملتان بورڈ سے ایف اے کا پرائیویٹ امتحان پاس کر لیا۔ محنت و مشقت اور تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے 1983 ء میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے فرسٹ ڈویژن میں بی اے کا امتحان پاس کرلیا۔

عملی زندگی

1984 میں آپ مدظلہ الاقدس نے عملی زندگی کا آغاز سرکاری ملازمت سے کیا پھر آپ لاہور منتقل ہوگئے اور شادی کے بعد ایک خوشحال زندگی کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے حد نوازا ہر خواہش پوری کی مال و دولت کی بھی کوئی کمی نہ رہی جو بھی کاروبار کیا خوب نفع ہوا۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’ ا س دور میں ہم نے مٹی میں ہاتھ ڈالا تو وہ سونا بن گئی۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے دونوں لحاظ سے آپ مدظلہ الاقدس کی تربیت فرمائی پہلے تنگدستی میں پھر دنیاوی آسائشوں اور نعمتوں کی انتہا کر کے۔ لیکن پھر باطن نے اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔ آپ کے دل میں ذاتِ خداتعالیٰ کا قرب پانے کی خواہش اس قدر بڑھ گئی کہ یہ دنیاوی خوشیاں اور آسائشیں بھی آپ مدظلہ الاقدس کے دل کی بے قراری کو کم نہ کرسکیں۔

تلاشِ حق

سینتیس سال کی عمر میں جب اتنی زیادہ آسائشیں ہوں تو ہر انسان بہترین مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے لیکن اس عمر میں آپ مدظلہ الاقدس کی دلچسپی دنیاوی معاملات میں بالکل ختم ہوگئی۔ روح میں بے چینی اس قدر زیادہ تھی کہ کثرت سے کی گئی عبادات بھی اس بے قراری کو سکون میں نہ بدل سکیں پھر ایک دن ایک کتاب کے مطالعہ کے دوران یہ عبارت پڑھی’’ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہاکو کبھی انکار نہیں فرماتے تھے حتیٰ کہ جب امہات المومنینؒ میں سے کسی کو یہ خدشہ ہوتا کہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام اُن کی کسی بات کو منظور نہ فرمائیں گے تو سیّدہ کائنات کے وسیلہ سے وہ معاملہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کی بارگاہ میں پیش فرماتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اسے منظور فرمالیتے۔‘‘ چنانچہ آپ مدظلہ الاقدس نے بھی اپنی التجا سیّدہ فاطمہ الزہراؓ کی بارگاہ میں پیش کر دی کہ مجھے راہِ حق عطا فرمائیں جس پر چلنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا۔ یہ دعا کچھ لفظوں کے ردّو بدل کے ساتھ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی زندگی کا معمول بن گئی۔ یوں آپ اس بارگاہ میں پہنچ گئے جن کے وسیلہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فقر عطا فرماتے ہیں۔

باطنی بیعت

صرف ایک ماہ بعد 12 اپریل 1997 کی رات نمازِ تہجد کے بعد آپ مدظلہ الاقدس درود پاک پڑھ رہے تھے کہ باطن کا در کھل گیا اور خود کو باطنی طور پر مسجد نبوی میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پایا۔ نورِ ازل آقا و مولا سیّدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام درمیان میں تشریف فرما تھے۔ آپ کے دائیں جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم اور بائیں جانب حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم اور چار سلاسل کے مشائخ کرام تشریف فرما تھے۔ اس محفل میں حاضر ہوتے ہی اہلِ محفل کی ہیبت و جلال کو دیکھ کر آپ گنگ رہ گئے اور قریب تھا کہ خوف سے بے جان ہو کر گرجاتے کہ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آگے بڑھ کر آپ مدظلہ الاقدس کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے پیش کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبارک قدموں میں بٹھا دیا اور عرض کی حضور یہ نجیب الرحمن ہے آپ کا غلام ہے یہ آپ کی نورِ نظر لختِ جگر کا نوری فرزند ہے اور انہوں نے اس کو اپنا ورثہ عطا کرنے کیلئے منتخب فرمایا ہے اور اس مقصد کیلئے آپ کی بارگاہِ عالیہ میں بھیجا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے جب یہ سنا تو جلدی سے اپنی پیشانی ان مبارک قدموں پر رکھ دی جن پر دونوں جہاں نثار ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’ہاں ہمیں سفارش پہنچ چکی ہے اور ہم نے اسے منظور بھی کر لیا ہے۔ اب یہ ہمارا بھی نوری حضور ی فرزند ہے مگر ہم انہیں کس فرزندِ رسول کا ورثہ عطا فرمائیں۔‘‘حضرت امام حسن مجتبیٰؓ نے عرض کیا ’’نانا حضوراماں حضور (خاتون جنتؓ) نے انہیں ہمارا ورثہ عطا کرنے کا فرمایا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دونوں دستِ مبارک سے شانوں سے پکڑ کر سلطان العاشقین کو اپنے قدموں سے اُٹھایا اور فرمایا ’’تو ہمارا نوری حضوری فرزند ہے ہمارا وارث ہے ایک زمانہ تجھ سے فیض پائے گا اور ہم تمہیں اپنی برہان بنائیں گے تو نے ہماری لختِ جگر نورِ نظر کو راضی کیاہے ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کیلئے دونوں دستِ مبارک آگے بڑھائے تو آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے دونوں ہاتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک میں دے دیئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ مدظلہ الاقدس کو بیعت فرمایا اور اس کے بعد چاروں سلاسل کے مشائخ کی طرف نظر کی اور پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے فرمایا ’’اس کی وراثت آپؓ کے پاس ہے۔‘‘ پھر آپ مدظلہ الاقدس کا ہاتھ سیّدنا غوث الاعظم کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا ’’یہ ہماری لختِ جگرؓ کا نوری حضور ی فرزند ہے اب ہمارااور آپ کا نوری حضوری فرزند ہے ہم اس کو آپؓ کے سپرد فرماتے ہیں۔ اس کی باطنی تربیت آپؓ کے ذمہ ہے‘‘ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ یہ نعمتِ عظمیٰ پا کر میں نے محفل میں موجود اہلِ بیتؓ اور چاروں خلفا راشدینؓ کی قدم بوسی کی سب نے آپ کو مبارکباد دی اور سر پر دست شفقت رکھا۔ بعد ازاں سیّدنا غوث الاعظمؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت لے کر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے واپس لے آئے اور آپ کی باطنی تربیت شروع کر دی۔ ( سلطان العاشقین)

ظاہری بیعت

باطنی بیعت کے بعد آپ کو ظاہری مرشد تلاش کرنے کا حکم ہوا اس دور میں کامل مرشد کی تلاش میں بہت تگ و دو کی لاہور اور لاہور سے باہر ہر جگہ مرشد تلاش کیا لیکن کسی بھی مرشد کے پاس جاکر دل کو سکون حاصل نہ ہوا۔ بالآخر ایک رات آپ مدظلہ الاقدس نے خواب میں انتہائی نورانی چہرے والے بزرگ کی زیارت کی جو فرما رہے تھے ’’بیٹا ہم تمہارے انتظار میں ہیں چلے آؤ۔‘‘ اس خواب کے بعد تلاش دوبارہ شروع کر دی لیکن وہ نورانی صورت کہیں دکھائی نہ دی پھر وہی بزرگ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا’’ بیٹا بڑی محنت کر لی اب چلے جاؤ اور چمکتے ہوئے اسمِ اللہ ذات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ تمہاری امانت کب سے تمہارا انتظار کررہی ہے۔ 12 اپریل 1998 کو تلاش ختم ہوئی اور آپ مدظلہ الاقدس باطن میں سیّدنا غوث الاعظمؓ کے ملے ہوئے حکم کے مطابق جھنگ میں سخی سلطان باھوؒ کے دربار پاک کے قریب مقیم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ سے ملنے تشریف لے گئے ان کو دیکھتے ہی آپ مدظلہ الاقدس کے دل کو قرار آگیا کیونکہ یہ وہی خواب والی من موہنی صورت تھی۔ آپ کو دیکھتے ہی سلطان الفقر ششم نے فرمایا ’’ آگئے، ہو بیٹا۔‘‘ یہ ایسے الفاظ تھے جن کو آپ مدظلہ الاقدس کے علاوہ کوئی نہ سن پایا۔ آپ مدظلہ الاقدس 12 اپریل 1998 کو نمازِ مغرب کے بعد سلطان محمد اصغر علیؒ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوگئے۔ آپ پہلے دن ہی سے اپنے مرشد کے محبوب بن گئے۔آج تک محبوبیت کے درجے پر فائز ہیں۔

خدمت مرشد

آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کریم کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان کی ہر ذمہ داری کو دل سے قبول کیا مرشد کی ذات سے وابستہ ہر شے مثلاً ان کے ہر موسم کے ملبوسات، جوتے، دوائیاں، استعمال کی دیگر تمام اشیاء کی ذمہ داری خود پر لے لی۔آپ مدظلہ الاقدس نے اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنے میں اپنے مرشد کریم کا بھر پور ساتھ دیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے دعوت و تبلیغ کیلئے ملک بھر میں جماعتیں بھیجیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سلطان الفقر ششم کے فیض سے مستفید ہو سکیں۔ سلطان الفقر ششم نے فقر کی تعلیمات عام کرنے کی غرض سے ایک ماہنامہ رسالہ مرآۃ العارفین نکالنے کی ذمہ داری آپ مدظلہ الاقدس کو سونپی تو اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرنے کیلئے آپ نے دن رات ایک کر دیا۔ اوررات بھر جاگ کر اپنی نگرانی میں رسالہ تیار کرواتے رہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کریم کو تبلیغی دوروں میں سفری آسانی کیلئے ایک قیمتی گاڑی پیش کی ۔ آپ مدظلہ الاقدس نے دربار پاک کیلئے ساڑھے چھ ایکٹر زمین خرید کر سلطان الفقر ششم کو پیش کی۔ گرمیوں میں آپ مدظلہ الاقدس دربار شریف لے گئے تو دیکھا مرشد پاک شدید گرمی کے باعث پسینے میں شرابور ہیں آپ واپس آئے اور ائیر کنڈیشنر (A.C ) خرید کر مرشدِ کریم کے کمرے میں لگوادیا۔
بیت المال کی تمام تر ذمہ داریاں بھی آپ مدظلہ الاقدس کے پاس تھیں۔ جب سلطان الفقر ششم نے فرمایا حج ہمارے اور تمہارے لیے بہت ضروری ہے تو آپ مدظلہ الاقدس ساری جمع پونجی اس وقت راہِ خدا میں لٹا چکے تھے۔ لیکن آپ کیلئے آپ کے مرشد کی بات کی بہت اہمیت تھی۔آپ نے اپنی گاڑی فروخت کر کے حج کے اخراجات کا انتظام کیا۔
آپ مدظلہ الاقدس کے بارے میں سلطان الفقر ششم نے فرمایا ’’نجیب بھائی کی مثال تو ایسے ہے سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘‘۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے بے شمار ڈیوٹیاں مثلاً میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا کسی بھی پروگرام کی مالی ڈیوٹی، ہر سال سلطان محمد عبدالعزیزؒ کے عر س پاک کے موقع پر دربار مبارک کی چادر تیار کروانا اور بھی بہت سی گھریلو اور ذاتی ڈیوٹیاں کیں۔

عشقِ مرشد اور منتقلی امانتِ الٰہیہ

جے توں چاہیں وحدت ربّ دی، مَل مرشد دیاں تلیاں ھُو
مرشد لطفوں کرے نظارہ، گَل تھیون سبھ کلیاں ھُو
انہاں گُلاں وچوں ہک لالہ ہوسی، گُل نازک گل پھلیاں ھُو
دوہیں جہانیں مُٹھے باھوؒ ، جنہاں سنگ کیتا دو ڈلیاں ھُو
سلطان العاشقین عشقِ حقیقی کی زندہ اور اعلیٰ ترین مثال ہیں آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشدِ کریم سلطان الفقر ششم سے ا یسا عشق کیا کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہوگئے۔ دوستوں، رشتے داروں یہاں تک کہ پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے کی بھی کوئی فکر نہ رہی۔ مرشد کریم کی خوشی، سکون اور ان کے دیدار کے علاوہ ہر تمنا اور خواہش ختم ہو گئی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنا تن، من اور دھن سب اپنے مرشد کریم پر نچھاور کر دیا۔ آپ کی اپنے مرشد کریم کیلئے خدمات اور ڈیوٹیاں آپ کے عشق کا واضح ثبوت ہیں کہ اسطرح آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی ذات کو مرشد کریم کی ذات میں فنا کر دیا ۔ یہ بھی آپ کے عشق کی انتہا تھی کی حج کے موقعہ پر سلطان الفقر ششم کی لمبی عمر کی دعا آپ مدظلہ الاقدس کا ورد تھا۔ آپ خانہ کعبہ جہاں دعاؤں کا پورا ہونا تمام مسلمان لازم سمجھتے ہیں وہاں آپ مسلسل ہی دعا فرما تے رہے ’’ یااللہ میری بقیہ زندگی میرے مرشد کو لگا دے اور ان کی جگہ مجھے اس دنیا سے اُٹھا لے بے شک اللہ تعالیٰ تو دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے اور تیرا یہ وعدہ ہے یہ مقامات شعائر اللہ ہیں یہاں پر دعائیں کبھی ردّ نہیں ہوتیں ۔‘‘
کیتی جان حوالے ربّ دے، اساں ایسا عشق کمایا ھُو
جیسے جیسے آپ کا عشق بڑھتا گیا مرشد کریم کی نظر میں آپ مدظلہ الاقدس کیلئے محبوبیت کا درجہ دیکھ کر حاسدوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی انھوں نے آپ کی راہ میں بے انتہا رکاوٹیں کھڑی کیں، آپ کے خلاف سازشیں کیں، من گھڑت کہانیاںآپ سے منسوب کیں تاکہ آپ اپنی راہ سے ہٹ جائیں ااور مرشدِ کریم کی نظروں میں بھی گر جائیں مگر آپ ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے۔
محرم راز اور امانتِ الٰہیہ کے وارث کو ظاہر و باطن میں بہت کڑی آزمائشوں اور امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے ان کابیان ناممکن ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مرشدِ کریم نے آپ کے عشق کو بطور محرم راز بہت سی ظاہری اور باطنی آزمائشوں کی کسوٹی پر پرکھا۔ آپ مدظلہ الاقدس ان باطنی آزمائشوں کے متعلق اکثر فرماتے ہیں ’’جو باطنی آزمائشیں ہم پر گزریں اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا‘‘۔ سلطان العاشقین کے عشق کی سچائی نے آپ کو ہر آزمائش اور ہر امتحان میں سر خروئی عطا کی۔
انتہا درجہ کے عشق، اپنے مرشد کریم کی خدمات اور ان ساری رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مرشدِ کریم کے ساتھ صد قِ دل سے چلنے کی وجہ سے آپ مدظلہ الاقدس امانتِ الٰہیہ کے حقدار ٹھہرے۔ 21 مارچ 2001 کو سلطان الفقر ششم نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں امانتِ الٰہیہ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت سے آپ مدظلہ الاقدس کو سونپنے کیلئے منتخب کر لیا۔ روضۂ رسول میں حاضری کے بعد سلطان الفقر ششم نے آپ مدظلہ الاقدس کی آنکھوں میں دیکھ کر فرمایا’’ہمیں تو دل کا محرم مل گیا ہے‘‘ دو سال تک آپ کے مرشد کریم نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کیلئے آپ مدظلہ الاقدس کی کڑی ظاہری اور باطنی تربیت فرمائی ۔ 2003 میں سلطان الفقر ششم نے اپنا باطنی ورثہ آپ مد ظلہ الاقدس کو منتقل کر کے ظاہری دنیا سے پردہ فرمالیا۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم پر آپ مدظلہ الاقدس نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھال لیا۔

مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ

آفتا بِ فقر شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مرشد کامل اکمل ہیں جن کی نگاہِ فیض کی کوئی حد نہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی با کمال اور پُرتاثیر نظر بہت سے طالبانِ مولیٰ کو مجلسِ محمدی کی حضوری اور لقائے الٰہی جیسی لازوال نعمتوں سے مالا مال کر چکی ہے ۔
نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
سلطان العاشقین انتہائی با کمال اور بااختیار مرشد کامل اکمل ہیں جو اپنے تصرف سے طالبانِ مولیٰ کے نفوس کا تزکیہ کر کے انہیں باطنی بیماریوں سے پاک کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کو اسطرح نکھارتے ہیں کہ طالبانِ مولیٰ نہ صرف اللہ کا قرب پاتے ہیں بلکہ دنیاوی معاملات بھی احسن طریقے سے سنبھالتے ہیں۔ حضرت سلطان باھوؒ کا یہ بیت آپ مدظلہ الاقدس کے طریقہ تربیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
کامل مرشد ایسا ہووے جیہڑا دھوبی وانگوں چھٹے ھُو
نال نگاہ دے پاک کریندا، وچ سجی صبون نہ گھتے ھو
میلیاں نوں کر دیندا چٹا، وِچ ذرہ میل نہ رکھے ھُو
ایسامرشد ہووے باھوؒ جیہڑا لوں لوں دے وِچ وسے ھُو
شانِ فقر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی کاملیت کے کیا کہنے یہ آپ مدظلہ الاقدس کی کرامات میں سے ایک کرامت یہ ہے کہ آپ نے بہت سے دنیا داروں کو طالبانِ مولیٰ بنا کر انہیں لاھوت تک پہنچا دیا ہے۔
عنایت تو دیکھو میرے کامل مرشد کی یارو
کہ جس نے مجھے پل بھر میں لاھوتی بنا دیا
حدیث مبارکہ ہے ’’شیخ (مرشدکامل) اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے کہ ایک نبی اپنی اُمت میں۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس عین قدمِ محمدی پر ہیں اسی بنا پر آپ اپنے طالبوں کی تربیت ایسے ہی فرماتے ہیں جیسے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرام کی فرمائی۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو کھلے دل سے معاف فرما تے ہیں ان کے عیبوں کی پردہ پوشی فرماتے ہیں۔ اگر کسی طالب سے ناقابلِ معافی غلطی ہو جائے اور وہ سچے دل سے توبہ کر لے تو اسے بھی معاف فرما دیتے ہیں۔ آپ کا انداز انتہائی شفیق ہے ہر طالب کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس سب سے زیادہ محبت اسی سے فرماتے ہیں۔ آپ کا فیض امیر، غریب، تعلیم یافتہ کم تعلیم یافتہ سب کیلئے یکساں ہے آپ مدظلہ الاقدس کی نظر میں سب برابر ہیں۔
سلطان العاشقین اپنے مریدین کی کمزوریوں کو ان کی طاقت میں بدل دیتے ہیں تاکہ وہ دینی اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔ یہ صرف آپ مدظلہ الاقدس کا ہی فیض اور کمال ہے کہ ہر طرح کا نفس اور فطرت رکھنے والا انسان آپ کی بارگاہ میں آتے ہی با ادب طالبِ مولیٰ بن جاتاہے اور پھر آپ اسے اپنی شفیق ذات کے زیر سایہ اسمِ اللہ ذات کی حقیقت تک پہنچا دیتے ہیں۔

دعوت فقر کیلئے جدوجہد

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کو تمام دنیا میں پھیلانے کیلئے دن رات محنت کی ہے آپ مدظلہ الاقدس نے راہِ فقر کو عام مسلمانوں کیلئے آسان بنانے کیلئے بہت سی روحانی اور باطنی کوششیں کیں ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس نے ہر عام و خاص کیلئے اسمِ اللہ ذات کا فیض عام کر دیا ہے۔ آپ نے پورے پاکستان میں سفر کر کے بہت سے لوگوں کو بیعت اور بغیر بیعت ذکرو تصور اسم اللہ ذات عطا فرمائے ہیں۔ سلطان الاذکار ھُو کے فیض کو عام کرنے کے ساتھ اسم محمد کے فیض کو عام کرنے کی شان بھی صرف آپ کی ہے آپ ہر سال عید میلادِ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے موقعہ پر سینکڑوں طالبانِ مولیٰ (مرد و خواتین) کو اسمِ محمد عطا کرتے ہیں ۔ مرشد کامل اکمل سلطان الوھم ہوتا ہے آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی کمال قوتِ وھم کی بدولت بے شمار طالبا نِ مولیٰ کو علم لدنی کی نعمت سے مالا مال کیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی دعوتِ فقر میں یہ عظیم مہربانی ہے کہ علمِ دعوت جو پہلے مرد طالبانِ مولیٰ کو عطا کیا جاتا تھا اور کسی ولی کے مزار پر حاضر ہو کر پڑھنا لازم تھا آپ نے عورتوں کو گھر بیٹھے علمِ دعوت پڑھنے کی اجازت عطا فرمائی۔ جس سے وہ تمام اولیا سے باطنی راہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں فقر کی تعلیم کو عام کرنے کیلئے حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے 2009 میں تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی۔یہ ایک رجسٹرڈ غیر سرکاری جماعت ہے جس کا کسی بھی فرقہ سے کوئی تعلق نہیں۔ تحریک دعوتِ فقر کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو فقر کی دعوت دینا ہے تاکہ یہ لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدی کی حضور ی حاصل کر سکیں۔ فرقوں اور مسلکوں کے امتیاز کے بغیر یہ دعوت سب کیلئے عام ہے بیعت کیلئے پاکستان میں مقیم حضرات کیلئے ظاہری ملاقات ضروری ہے البتہ لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں میں رہنے والی خواتین اور دوسرے ممالک کے خواتین وحضرات کیلئے آن لائن بیعت کی سہولت بھی موجود ہے۔آپ مدظلہ الاقدس کی سر پرستی میں تحریک دعوتِ فقر کے مندرجہ ذیل شعبہ جات فقر کی ترویج و اشاعت کیلئے دن رات جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔
1 ۔ شعبہ دعوت 2 ۔ شعبہ نشرواشاعت 3 ۔ ملٹی میڈیا اینڈ ڈیزائن ڈویلپمنٹ 4 ۔ ڈیجیٹل پروڈکشن۔ 5 ۔ شعبہ بیت المال 6 ۔شعبہ قیام و طعام 7 ۔شعبہ سیکورٹی
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ لاقدس نے اگست 2006 میں سلطان الفقر پبلیکیشنز کی بنیاد رکھی اس وقت سے یہ ادارہ انتہائی کامیابی سے ہر ماہ ماہنامہ سلطان الفقر شائع کر رہا ہے جس میں فقر و تصوف کے حوالے سے مضامین شائع کیے جاتے ہیں تاکہ متلاشیانِ ذاتِ الٰہی کی راہنمائی کی جاسکے۔ آپ مدظلہ لاقدس کی زیرِ نگرانی اس ادارے نے بہت سی کتب بھی شائع کیں ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس نے انتہائی خوبصورت تصانیف تحریر کیں ہیں جو طالبانِ مولیٰ کیلئے فقر کی راہ پر کامیابی سے چلنے کیلئے مشعل کی حیثیت رکھتی ہیں آپ نے ان کتب میں فقر کی تعلیمات کو انتہائی آسان اور واضح لفظوں میں بیان کیا ہے۔
خانقاہ کا قیام آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے سے چلا آ رہا ہے اور تمام سروری قادری مشائخ نے بھی اس ریت کو برقرار رکھا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کی تعلیمات و تربیت کیلئے 2009 میں خانقاہ سلسلہ سروری قادری کی بنیاد رکھی ۔ یہاں پر طالبانِ مولیٰ رہتے ہیں اور خاص ظاہری و باطنی تربیت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ تمام شعبہ جات کے دفاتر بھی اسی خانقاہ میں موجود ہیں، تمام روحانی محافل اور عرس کی تقریبات بھی اسی خانقاہ میں منعقد ہوتی ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کی تعلیمات کے فروغ کیلئے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال بہت بہترین طریقے سے کیا ہے۔ فقرکی تعلیمات جو اب تک سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہی تھیں یا صرف تحریری طور پر موجود تھیں آپ نے اس محدود دنیا سے نکال کر الیکٹرانک کتب (e book ) الیکٹرانک میگزین(e magazine )،مشہور ویب سائٹس مثلاً وکی پیڈیا وغیرہ سوشل میڈیا مثلاً فیس بک ،انسٹا گرام اور گوگل پلس وغیرہ پر لا تعداد پیجز کے ذریعے تمام دنیا تک پہنچانے کا انقلابی قدم اٹھایا ہے جو کہ راہِ فقر پر چلنے والوں کیلئے موجودہ زمانے اور آنے والے وقت میں راہنمائی کا باعث بنے گا۔
ہر سال فقر کی تبلیغ کیلئے ملک بھر میں دورے آپ مدظلہ الاقدس کا معمول ہیں آپ نے فقر کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیا ہے تاکہ جہاں کہیں بھی طالبانِ مولیٰ ہوں وہ اس راہِ فقر کو آسانی سے اپنا سکیں ۔

فقر کا مرکز

قوموں کیلئے موت ہے مرکز سے جدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی!
فقر کے مرکز سے مراد وہ شخصیت یا مقام ہے جہاں سے فقر کا فیض پوری دنیا میں تا قیامت جاری رہے۔ یوں تو تمام سروری قادری مشائخ اپنے اپنے زمانے میں فقر کا مرکز ہوتے ہیں لیکن ان میں سے خاص الخاص کو ابدی و دائمی حیثیت حاصل ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے توسط سے یہ شان حضرت علی کرم اللہ وجہہ، ان کے بعد حضرت عبدالقادر جیلانیؓ اور سلطان باھوؒ کے حصے میں آئی۔ ذاتِ حق جب کسی فقیرِ کا مل میں اس شان سے ظاہر ہوتی ہے کہ تاقیامت وہ مخلوق کیلئے کشش کا باعث بن جاتا ہے وہی فقر کا مرکز ہوتا ہے۔ سلطان العاشقین نے اپنے آرام و سکون کو بھلا کر دن رات کی محنت سے فقر محمدی کو عروج عطا کیا ہے اور اس کو اس طرح سے سنبھالا ہے جس کی مثال نہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی اس جدوجہد اور ظاہری باطنی کا وشوں کے بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کی ذات کو بحیثیت فقر کا مرکز تسلیم کیا گیا ہے۔فقر کو عام کرنے میں آپ نے جو کوششیں کیں اس کے نتیجے میں آپ مدظلہ الاقدس کی ذات میں فقر کا اس قدر بلند شان سے ظاہر ہونا اس جملے کی شرح ہے جو کہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے ایک بار سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے فرمایا تھا ’’ ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ فقر کی تفصیل ہونگے۔‘‘

القابات

فقر کی تبلیغ و اشاعت اور سروری قادری سلسلے کی تعلیمات کو تمام دنیا پر واضح کرنے کی وجہ سے مجلسِ محمدی سے آپ مدظلہ الاقدس کو انتہائی خوبصورت القابات سے نوازا گیا ہے جس کے آپ ہر طرح سے حقدار ہیں۔
باطنی دنیا میں تمام اولیا اللہ آپ کو محبت سے’’ سلطان محمد ‘‘ کے لقب سے پکارتے ہیں ’’سلطان‘‘ کا لقب اپنے زمانے میں فقر کے بادشاہ ہونے کی علامت ہے۔ یہ تمام سروری قادری مشائخ کو ان کے سلطان باھوؒ سلسلے کی نسبت کے اظہار کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔
سلطان العاشقین کا لقب آپ مدظلہ الاقدس کے عشقِ حقیقی کے بنا پر مجلسِ محمدی سے ستمبر 2012 میں عطا ہوا جب آپ نے سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی ؒ کے محل پاک کی ازسرِ نو تعمیر ہر رکاوٹ کے باوجود کی۔ آپ ہر لحاظ سے سلطان العاشقین ہیں آپ نے اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اولیا سے عشق کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس نفسانفسی کے دور میں آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کو اتنا آسان اور کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ کوئی بھی طالب آسانی سے عشقِ الٰہی حاصل کر سکتا ہے۔ آپ کی باکمال نظر طالب کا تزکیہ نفس کر کے اُسے عشقِ حقیقی کی ایسی دولت سے نوازتی ہے کہ جس کا لفظوں میں احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ بے شک منزل کا پتہ وہی بتا سکتا ہے جس نے سفر کر کے منزل پائی ہو۔ آپ مدظلہ الاقدس نہ صرف خود عشقِ الٰہی میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں بلکہ بہت سے طالبانِ مولیٰ کو اس منزل تک پہنچا چکے ہیں اور ابھی یہ مشن جاری و ساری ہے۔
جس طرح سیّدنا غوث الاعظمؓ نے جب دین کی تجدید کی تو محیّ الدین کا لقب پایا اسطرح آپ مدظلہ الاقدس نے دین کو نئی حیات عطا کرنے کے بنا پر مجلسِ محمدی سے شبیہِ غوث الاعظم کا لقب پایا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اللہ کا پیغام تمام دنیا تک پہنچانے کیلئے دورِ حاضر کا ہر جدید طریقہ استعمال کیا محافل تقاریر و بیانات ، سوشل میڈیا، کتب، ویب سائٹس اور اولیا کرام کی کتب کے انگریزی اور اردو میں تراجم شامل ہیں آپ مدظلہ الاقدس نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد تیرہ سالوں میں فقرو تصوف کو پھیلانے کیلئے اس قدر کام کیا ہے جو پہلے کسی دور میں نہیں ہوا اور یہ کام آنے والی کئی صدیوں تک طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کرے گا جس طرح سیّدنا غوث الاعظمؓ نے اپنی نظرِ کرم سے ہزاروں مریدوں کو باطنی توجہ سے فیض پہنچایا اسی طرح آج کے دور میں جہاں حقیقی طالب ناپید ہیں وہاں آپ مدظلہ الاقدس نے ہزاروں کو اپنی نگاہِ کامل سے عشقِ حقیقی عطا کیا اور اعلیٰ روحانی مراتب تک پہنچایا ہے ۔آپ مدظلہ الاقدس کی وجہ سے فقر کو جو لامتناہی عروج عطا ہوا ہے اسی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کے مرشدِ کریم سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علیؒ کی جانب سے آپ کو آفتاب فقر کا لقب عطا کیا گیا آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کو تمام عالم میں پھیلایا یہ لقب آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ کے خواب کی تعبیر ہے جو انہوں نے دورانِ حمل دیکھا تھا۔ آپ ہی وہ ذات ہیں جنہوں نے فقر کو ہر خاص و عام کیلئے قابلِ رسائی بنایا۔
تحت الثریٰ میںآپ کا لقب ’’شانِ فقر‘‘ ہے یہ لقب آپ کو سروری قادری سلسلے کی تعلیمات اور پہچان بہترین طریقے سے لوگوں پر واضح کرنے کیوجہ سے نوازا گیا ہے۔

سلطان العاشقین کی شخصیت

کناں لفظاں نال تیری شان لکھاں
میں ربّ تے نئیں جو قرآن لکھاں
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی باکمال اور نورِ حق تعالیٰ سے مزین شخصیت کے بارے میں لکھنا ایسا ہے جیسا سورج کو چراغ دکھانا۔ آپکی بے مثال شخصیت کو لفظوں میں ڈھالنا نا ممکن ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت قرآن و احادیث کی مکمل عکاسی کرتی ہے آپ کا وصف تقویٰ ، باطن آئینہ حق، قلب مبارک عرش الٰہی اور عمل صرف اللہ کے لیے ہے آپ مدظلہ الاقدس کا وجود مبارک اس حدیث قدسی کے عین مطابق ہے:
’’میرا بندہ جب زائد نوافل کے ذریعے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پس میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ ان سے سنتا ہے میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔‘‘ (بخاری شریف۔ 963 )
اتنی بلند شان کے حامل ہوتے ہو ئے بھی عجزو انکساری آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے آپ مریدوں میں گھل مل کر رہتے ہیں ان کے مسائل سنتے ہیں اور ان کی باطنی مدد فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس ہر ایک سے انتہائی شفقت سے ملتے ہیں خواہ وہ انسان کسی بھی طبقے، پیشے یا مقام و مرتبے کا حامل ہو آپ کی فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو فہم و فراست اور ظاہری باطنی علم میں کمال کی قدرت حاصل ہے آپ خاموشی کو پسند فرماتے ہیں لیکن جب گفتگو فرماتے ہیں تو گویا ہر لفظ حکمت اور علم لدنیّ کا شاہکار ہوتا ہے ۔
بلند مراتب کے باوجود آپ مدظلہ الاقدس شہرت کے خواہشمند نہیں۔ آپ کو دنیاوی جاہ و جلال سے کوئی غرض نہیں آپ ہر وقت خاموشی سے اللہ کے کام میں مصروف رہتے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس انتہائی سادہ اور نفیس طبیعت کے مالک ہیں۔ ایثار و سخاوت آپ کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ وقت کے پابند ہیں اور بے مثال منتظم اور سر پرست ہیں۔ بچوں سے بے حد شفقت برتتے ہیں اور بہت نرمی سے گفتگو فرماتے ہیں۔ جب بچے آپ کی طرف لپکتے ہیں تو آپ محبت سے ان کو گود میں اٹھا لیتے ہیں کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس قدمِ محمد پر ہیں آپ کا ہر عمل ہر ادا سیرتِ محمدیہ کا مکمل نمونہ ہے۔
باطنی کمالات کے ساتھ ساتھ آپ ظاہری حسن و جمال میں بھی مکمل اور کامل ہیں۔ جو آپ کو دیکھتا ہے نورِ حق تعالیٰ کے جلوے اسے چہرہ مبارک سے نظریں نہیں ہٹانے دیتے آپ مدظلہ الاقدس کی پیشانی مبارک روشن اور کشادہ ہے جو آپ کی بلند شان کا ثبوت ہے چہرہ مبارک سے نور کی تجلیات ہر وقت جھلکتی ہیں آپ مدظلہ الاقدس کا قد مبارک مناسب ہے لیکن آپ محفل میں سب سے دراز قد اور نمایاں نظر آتے ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس کے جسم اقدس کا ہر عضو متوازن، مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ حسنِ ازلی کا بھی مظہر ہے۔ آپ کے ہاتھ مبارک سونے کی طرح چمکدار ہیں انگلیاں نور کی ڈلیاں ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی آنکھیں ہر وقت شرم و حیا کی وجہ سے جھکی رہتی ہیں لیکن جب کسی طالب پر نظر کرم پڑ جاتی ہے تو وہ نورِ معرفت سے سیر ہو جاتا ہے اور اس کے قلب کی حالت بدل جاتی ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے نقشِ قدم پر چلنے اور حق کو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں