alif | الف


5/5 - (8 votes)

   الف – Alif

 ترکِ دنیا کیا ہے ؟

واضح ہو کہ عام طور پر مال و دولت کی فراوانی کو دنیا سمجھا جاتا ہے مگر دنیا کی تعریف یوں کی گئی ہے ’’ہر وہ چیز دنیا ہے جو اللہ کی یاد سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول یا متوجہ کرلے۔‘‘ جیسا کہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ِمبارک ہے:
مَا شَغَلَکَ عَنِ اللَّہِ فَہُوَ صَنَمُکَ
ترجمہ: جو چیز تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹا کر اپنے ساتھ مشغول کرلے وہ تیرابت ہے۔

 ترکِ دنیا کی اصطلاح کو منکرین اور ناقدینِ تصوف و طریقت نے خوب اچھالا ہے اور اسے رہبانیت یا غیر اسلامی قرار دے کر رَد کر دیا گیا ہے۔ دراصل صوفیا کرام کے فلسفہ کے مطابق اس اصطلاح کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ صوفیا کرام کے فلسفہ کے مطابق ترکِ دنیا سے مراد  اصل میں ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لا تعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
حُبُّ الدُّنْیَا وَ الدِّینِ لَا یَسْعَانِ فِی قَلْبٍ وَاحِدٍ کَالْمَائِ وَ النَّارِ فِی إِنَّائٍ وَاحِدٍ
ترجمہ :کسی دل میں دین اور دنیا کی محبت اکٹھی نہیں رہ سکتیں جیسا کہ آگ اور پانی ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی تعلیمات میں ترکِ ہوسِ دنیا پر بہت زور دیا ہے۔ آپؒ دنیا کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

باھوا دنیا دانی چیست پر درد و بلا
می کند از ذکر و فکر حق جدا

ترجمہ: اے باھوؒ! کیا تو جانتا ہے کہ دنیا کیا ہے؟ یہ پُر درد آزمائش ہے جو ذکر فکر اور حق سے جدا کر دیتی ہے۔ (عین الفقر)

دنیا والوں اور انبیا کرام و اولیا کرام میں فرق صرف ترک دنیا اور محبت دنیا کا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
سونا، چاندی، اونٹ، گھوڑے، بیل، گدھے، ہاتھی، نوکر اور سپاہی ابو جہل اور یزید کا خزانہ اور لشکر تھے جبکہ صبر، شکر، ذکر، فکر، ذوق، شوق، محبت، عشق، نماز، روزہ، فقر و فاقہ، مسلمان و مومن صحابہؓ اور قرآن و حدیث حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور امامین ِپاک علیہم السلام کا خزانہ اور لشکر تھے۔ نقارہ، ڈھول، دف اور سرنا وغیرہ ابو جہل اور یزید کی نوبت تھے۔ اذان اور ذکرِ اللہ کا بلند نعرہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  اور امامین پاک علیہم السلام کی نوبت تھے اور ہیں۔ دنیاوی نوبت اور بادشاہی باطل اور فنا ہونے والی ہے لیکن دینِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نوبت اوربادشاہی کو بقا ہے۔ (عین الفقر) 

جان لے! یہ دنیا کا مال ہی تھا جس نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دشمنی اور جنگ کی تھی۔ اگر ابو جہل مفلس ہوتا تو حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کرتا۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کو دنیا نے ہی شہید کیا۔ (عین الفقر)
جان لے کہ نفس امارہ، شیطان اور دنیا تینوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے۔ (اسرار قادری)
یعنی انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرنے کیلئے ان تینوں نے محاذ بنا رکھا ہے۔ 

(اقتباس از ’’شمس الفقرا‘‘ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں