169

خانقاہ اور آدابِ خانقاہی–Khanqah aur Adaab-e-Khanqahi

خانقاہ اور آدابِ خانقاہی

حافظ حماد الرحمن سروری قادری ایم ایس سی (باٹنی)

جہاں جہاں مسلمان گئے اور مقامی لوگوں نے اسلام قبول کیا وہاں نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد تعمیر کی گئیں اور مسلم معاشرہ میں مساجد کے ساتھ عبادت کا عنصر لازم کر دیا گیا۔ دنیا میں جہاں بھی کسی خطہ میں دینِ اسلام پہنچا تو اولیا کرام کی کاوش اور محبت ہی کی بدولت پہنچا۔ جب بھی کسی ولیٔ کامل نے کسی دور دراز علاقہ میں جا کر تبلیغِ اسلام کی خاطر ڈیرہ لگایا تو اُس ولیٔ کامل کے ارد گرد بہت سے طالبانِ مولیٰ اکٹھے ہونے لگے۔ اِن طالبانِ مولیٰ کی باطنی تربیت کے لیے ایک خاص جگہ تشکیل دی جانے لگی تاکہ شمع کے گرد پروانے آسانی سے اکٹھے ہو سکیں اور دور دراز سے آنے والے طالبانِ مولیٰ کو صحبتِ مرشد میں رہنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل سکیں۔ اس خاص جگہ کا نام خانقاہ رکھا گیا۔ خانقاہ ہمیشہ مسجد سے الگ لیکن اس کے قریب بنائی جاتی ہے کیونکہ صوفیا کرام نے جس ریاضت کو لازم قرار دیا اس کے لیے مساجد ناموزوں تھیں۔ مساجد میں مسلمانوں کی ظاہری تربیت کا نظام موجود ہوتا ہے اور خانقاہ میں مسلمانوں کو باطنی تربیت کے ذریعے مومن بنایا جاتا ہے۔ یعنی فقرا کاملین اپنی کامل نگاہ سے طالبانِ مولیٰ کا تزکیۂ نفس فرما کر ان کے دلوں میں ایمان داخل کرتے ہیں۔ خانقاہ میں بندۂمسلمان کو اقرار باللسان سے تصدیق بالقلب تک کا سفر طے کرایا جاتا ہے تاکہ مسلمان کو مرتبہ احسان پر فائز کر کے بندۂمومن بنایا جائے۔
خانقاہی نظام کی بنیاد بھی آقادو جہان سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اصحابِ صفہ کو صُفَّہ کے چبوترہ پر اکٹھا کر کے فرمائی تھی۔
سورۃ الکہف کی آیت نمبر28 میں اللہ تعالیٰ اصحابِ صفہ کے متعلق فرماتا ہے:

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ o
ترجمہ:اور آپ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان لوگوں کے ساتھ رہا کریں جو رات دن اپنے ربّ کی بارگاہ میں دیدارِ الٰہی کی التجا کرتے ہیں۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اردگرد ان اصحاب نے اکٹھا ہونا شروع کر دیا جن کی غذا ہی دیدارِ الٰہی تھی یعنی جو طالبِ مولیٰ تھے، ان طالبانِ مولیٰ کی طلب صرف اور صرف آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی پوری فرما سکتے تھے، تو قرآن میں یہ حکم ہوگیا کہ اے انسانِ کامل! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایسے طالبانِ مولیٰ کے ساتھ رہا کریں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھنے کے طالب ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کی طلبِ شدید کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پہلی خانقاہ کی بنیاد پڑی جس کا نام صفہ تھا۔ ان طالبانِ مولیٰ کو دینِ اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے جنہوں نے اس تربیت گاہ یعنی خانقاہِ اوّل ’’صُفَّہ‘‘ سے تربیت حاصل کی اور اصحابِ صُفَّہ کے نام سے موسوم ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے یہی وہ پہلی درس گاہ تھی جہاں ان کے قلوب میں ایمان داخل کیا گیا اور پھر اسلام پوری دنیا میں پھیلا۔ اصحابِ صفہ کی شان اتنی بلند ہے کہ قرآنِ پاک میں ان کا ذکر ملتا ہے اور پھر آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی اہلِ صُفَّہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’اے اصحابِ صُفَّہ! تمہیں بشارت ہو کہ تم میں سے جو کوئی ان خوبیوں پر قائم رہے گا جس پر تم لوگ قائم ہو اور اس حالت پر خوش رہے گا تو وہ یقیناًقیامت کے دن میرا رفیق ہو گا۔‘‘ (عوارف المعارف)
یعنی اہلِ صُفَّہ کو فقر اور اللہ تعالیٰ کی رضا آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب سے ملی جو انہوں نے دنیا سے دور ہو کر اور صفہ کے چبوترے پر رہائش اختیار کر کے حاصل کیا۔ اسی قرب سے باطنی خوبیاں اور اعلیٰ ترین اوصاف حاصل کیے اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی بدولت آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رفاقت نصیب ہوتی ہے۔ موجودہ دور کے طالبانِ مولیٰ کو بھی فقر، رضائے الٰہی اور اعلیٰ ظاہری و باطنی اوصاف اُسی وقت نصیب ہوتے ہیں جب وہ کسی ولیٔ کامل کی خانقاہ میں حاضر ہوں اور اس ولیٔ کامل کی صحبت میں کچھ دیر رہ کر اپنا تزکیۂ نفس کروائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ کی اس مبارک سنت کی پیروی میں ہر دور میں اولیا اللہ نے طالبانِ مولیٰ کی تربیت کے لیے خانقاہیں قائم کیں۔
زمانہ اس بات کا شاہد ہے کہ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی خانقاہ میں ہزاروں کا مجمع لگا رہتا اور کئی ہزار طالبانِ مولیٰ قلم دوات اٹھائے آپؓ کے پھولوں کی پتیوں سے نازک ہونٹوں سے نکلنے والے تمام گُلوں کو قلم بند کرنے میں مصروف رہتے۔ خانقاہ بنانے اور طالبانِ مولیٰ کی باطنی تربیت کرنے کی اس مبارک سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے مزید مستحکم فرمایا اور یہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سلسلہ در سلسلہ سیّد نجم الدین برہان پوری رحمتہ اللہ علیہ سے ہوتی ہوئی عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچی۔ پھر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اس سنتِ عظیم کو مزید نکھارا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ سے فیض یاب طالبانِ مولیٰ ساری دنیا میں پھیل گئے اور اسمِ اعظم کا راز کھلا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد آپ کے محرم راز حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے احمد پور شرقیہ میں خانقاہ تعمیر فرمائی اور حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو فیض کی دولت سے مالا مال فرما کر مڈمپال روانہ کر دیا۔ حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ سے شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ نے فیض حاصل کیا اور اڈا قاسم آباد سے ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر خانقاہ کی بنیاد ڈالی۔ الغرض آج تک آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ مبارک سنت جاری ہے جو اصحابِ صفہ سے شروع ہوئی اور سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے ہوتی ہوئی حضرت سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی قائم کردہ خانقاہ ’’سلطان الفقر ہاؤس‘‘ کی صورت میں جاری و ساری ہے۔
یہ بات تو قرآن اور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیث اور مبارک سنت سے واضح ہوگئی کہ دینِ اسلام میں خانقاہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور ہر دور میں ولیٔ کامل کی خانقاہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عین مطابق ہوتی ہے جس میں مسلمانوں کی اس زمانہ کے مطابق باطنی تربیت کی جاتی ہے۔ کسی بھی خانقاہ کا دارومدار ’’انسانِ کامل‘‘ کی ذاتِ مبارکہ پر ہوتا ہے۔ جس طرح پروانے کے لیے شمع کا ہونا لازمی ہے‘ بالکل اسی طرح طالبانِ مولیٰ کی تربیت کے لیے انسانِ کامل کی موجودگی لازمی ہے۔ خانقاہ میں ہر وقت ذکرِ اسمِ اعظم جاری و ساری رہتا ہے اور چوبیس گھنٹے میں کوئی ایسا لمحہ نہیں ہوتا کہ جب اسمِ اللہ ذات کا ذکر نہ جاری ہو۔ اس کے برعکس مساجد میں اوقاتِ کار مخصوص ہوتے ہیں اور رات کو تو مسجدوں میں تالے لگ جاتے ہیں۔ خانقاہ ہر وقت ہر آنے والے کے لیے کھلی رہتی ہے‘ خواہ کوئی غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ خانقاہ میں ذکر و عبادت کے لیے کوئی مخصوص اوقات نہیں کہ خانقاہ میں دائمی ذکر جاری رہتا ہے۔ انسانِ کامل کی ہمہ وقت موجودگی کے باعث خانقاہ کی فضا میں فیض ہی فیض ہوتا ہے۔ اس بابرکت جگہ کے باہر سے گزرنے والا اگر ہاتھ اٹھا کر دعا بھی کر دے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ خانقاہ میں صبح شام یعنی ہر وقت اسمِ اللہ ذات کے ذکر کی بدولت اس جیسی جگہ اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اس بات کی تصدیق اللہ کا پاک قرآن یوں کرتا ہے:
*                        فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗلا یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِلا رِجَالٌ لا لَّا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآئِ الزَّکٰوۃِصلا  یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ۔ (سورۃ النور36,37)

ترجمہ: یہ وہ گھر ہیں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ وہاں وہ لوگ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں جنہیں خدا کے ذکر، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت غافل کرتی اور نہ خریدو فروخت یہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن آنکھیں اُلٹ پلٹ ہو جائیں گی۔
سورۃ النور کی آیت نمبر 36 میں فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ سے مراد وہ خاص گھر ہیں جن کو اللہ نے ارفع (بلند) کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں  بُیُوْتٍ سے مراد موجودہ زمانہ کی مساجد لیا جائے تو روا نہیں کیونکہ ’’بیت‘‘ کے معنی گھر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ’’مساجد‘‘ کا لفظ استعمال کر کے واضح کر سکتا تھا کہ یہ آیت صرف مساجد کے لیے ہے۔ مساجد ہمیشہ گھروں سے جدا ہوتی ہیں۔ یہاں گھر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ایک جیسی فکر اور نظریہ کے لوگ دن رات رہتے ہوں اور یہیں کھاتے پیتے اور دیگر ضروریاتِ زندگی سے استفادہ کرتے ہوں جبکہ مساجد صرف عبادت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ یہاں گھروں سے مراد خانقاہیں ہیں جہاں دن رات طالبانِ مولیٰ رہتے ہیں اور خانقاہ طالبانِ مولیٰ کا گھر ہی ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں لفظ تُرْفَعَ استعمال ہوا ہے‘ جس کا مطلب ہے ’’بلند کرنا‘‘ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ‘‘ کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بلند کر دیا یعنی ہر زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بلند ہے اور بلند تر ہوتا رہے گا۔ لہٰذا اس آیت میں تُرْفَعَ سے مراد عمارت کا بلند کرنا نہیں بلکہ خانقاہ بنانے کی مبارک سنت کو ہر زمانہ میں رائج کرنا ہے جس کا ذکر اوپر ابتدائی سطور میں ہو چکا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر حکم دے دیا ہے۔ پس یوں کہیں گے: ’’ان گھروں (خانقاہوں) میں جنہیں اللہ نے (ہر دور میں سنت کو زندہ رکھنے کے لیے) بلند کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

سورۃ النور کی اس مبارک آیت نمبر 36 کا اگلا حصہ ہے کہ وَ یُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗلا یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ  ترجمہ:’’اور ان (خانقاہوں) میں اسمِ اللہ کا ذکر اور تسبیح صبح و شام (ہر وقت) کی جاتی ہے۔‘‘ اس آیتِ مبارکہ میں اسمِ اللہ ذات کے ذکر یعنی اسمِ اعظم کے صبح و شام ہر وقت ہونے والے دائمی ذکر کا تذکرہ ہے۔ خانقاہ وہ گھر ہے جہاں ایک لمحہ بھی پورے دن اور رات میں ایسا نہیں گزرتا جب سلطان الاذکار ھو کا ذکرِ پاس انفاس نہ ہو۔ اللہ کے دیدار میں محو طالبانِ مولیٰ ھُوھُو کی صدا ہر وقت‘ ہر آن بلند کرتے رہتے ہیں اور کوئی دم ایسا نہیں ہوتا کہ ھُو کی صدا خانقاہ کی فضا میں بلند نہ ہوتی ہو۔ یہ بھی مضبوط دلیل ہے اس بات کی کہ اس آیت میں بُیُوْتٍ کا لفظ مساجد نہیں بلکہ خانقاہ کے لیے استعمال ہوا ہے کہ خانقاہ میں ہر وقت یعنی صبح ہو یا شام‘ ذکرِ اسمِ اللہ ذات جاری و ساری رہتا ہے جبکہ مساجد میں ذکر اور نماز کے مخصوص اوقات ہیں۔

خانقاہ میں طالبانِ مولیٰ دیدارِ الٰہی میں غرق اللہ کی تسبیح (پاکی) بیان کرتے رہتے ہیں۔ خانقاہ میں کبھی کوئی دنیاوی گفتگو نہیں ہوتی بلکہ ہر لمحہ اور ہر پل اسمِ اللہ ذات کا ذکر و تصور اور ذاتِ حق کے اسرار و رموز پر ہی روشنی ڈالی جاتی ہے۔
اسی لیے اس آیتِ مبارکہ میں جن گھروں کا ذکر ہے ان کے لیے دائمی اسمِ اللہ ذات کا ذکر بھی شرط ہے اور یہ صرف خانقاہ ہی ہو سکتی ہے نہ کہ عام لوگوں کے رہنے کے گھر کہ جن میں سے اکثر و بیشتر ساز کی آواز ہی بلند ہوتی ہے۔ سورۃ النور کی آیت نمبر 37 میں ارشادِ مبارک ہے کہ: رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآئِ الزَّکٰوۃِ  یہ آیت مبارکہ طالبانِ مولیٰ کی ہمت اور استقامت کے متعلق ہے ’’وہ مرد ہیں کہ جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اسمِ اللہ ذات کے ذکر اور نماز قائم رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے۔‘‘

اس آیتِ مبارکہ میں مردوں سے مراد طالبانِ مولیٰ ہیں جس کی دلالت ایک مشہور و معروف حدیثِ مبارکہ کرتی ہے کہ:
* ’’طالبِ دنیا مخنث ہیں‘ طالبِ عقبیٰ مؤنث ہیں اور طالبِ مولیٰ مذکر ہیں‘‘۔
یعنی مساجد طالبانِ دنیا اور طالبانِ عقبیٰ کی عبادت کی جگہ ہے جبکہ خانقاہ صرف طالبانِ مولیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
مندرجہ بالا آیتِ مبارکہ میں ایسے مذکر ’’مردوں‘‘ کا ذکر ہے جو اپنی خانقاہوں میں اسمِ اللہ ذات کے ذکر‘ دائمی نماز اور زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں (اصل زکوٰۃ صوفیا کے نزدیک اپنی زندگی کی ہر سانس ذکرِ اللہ کے نام کر دینا اور اپنی ذات کو مکمل اللہ کے حوالے کر دینا ہے ) اور دنیا کی کوئی چیز کوئی سودا خواہ وہ کتنا ہی منافع بخش کیوں نہ ہو ایسے طالبانِ مولیٰ کو چنداں نہیں بھاتا اور وہ دائمی نماز اور ذکراسمِ اللہ ذات میں اس قدر محو ہیں کہ وہ خانقاہ سے باہر کی دنیا کی ہر چیز سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف راغب ہیں۔وَاذْکُرِ ْسمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّل اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً (المزمل8-)

ترجمہ: اور اپنے ربّ کے نام(اسمِ اللہ ذات) کا ذکر ہر طرف سے ٹوٹ کر کرو۔

یعنی طالبانِ مولیٰ خانقاہوں میں ہر طرف سے ٹوٹ کر اور تمام دنیاوی معاملات سے منہ موڑ کراسمِ اللہ ذات کے ذکر میں محو ہیں۔
حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’جس طرح خانقاہِ اوّل ’صفہ‘ کے خانقاہ نشین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے بالکل ان کے مشابہ ہر دور میں خانقاہ نشین ہوتے ہیں اور بالکل وہی اعمال دہراتے ہیں جو اعمال اصحابِ صُفَّہ رضی اللہ عنہم کے تھے۔‘‘ یعنی خانقاہ کے اصول و آداب وہی ہیں جو پہلی خانقاہ کے تھے۔ یوں اصحابِ صُفَّہ اور موجودہ اور آئندہ خانقاہ نشینوں میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’وہ ہر وقت اپنی خانقاہ میں رہتے ہیں اور اس کی خبر گیری کرتے ہیں گویا خانقاہ ان کا گھر ہے اور وہی ان کا خیمہ و خرگاہ ہے‘ جس طرح ہر قوم کے افراد کے گھر ہوتے ہیں اسی طرح صوفیا کے گھر خانقاہیں ہیں۔ پس اس صورت میں وہ اہلِ صُفَّہ سے مشابہہ ہیں۔ اس مشابہت کا مزید ثبوت اِس حدیثِ مبارکہ سے ملتا ہے جو حضرت ابو زرعہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مشائخ کی اسناد سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے فرمایا:
’’جب کوئی شخص مدینۃ الرسول میں باہر سے آتا اور اس کا یہاں کوئی شناسا ہوتا تو اس کے ہاں قیام کرتا اور اگر کوئی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ صفہ پر آجاتا اور یہاں قیام کرتا۔ میں بھی اِن لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اہلِ صفہ کے ساتھ قیام کیا تھا۔‘‘ (عوارف المعارف۔ باب 14)
آپ رحمتہ اللہ علیہ مزید مشابہت کی وجہ اہلِ صفہ اور خانقاہ نشینوں کے کردار میں یکسانیت کو قرار دیتے ہیں:
* ’’اہلِ صُفَّہ نے دنیا کے جھمیلوں سے قطع تعلق کر لیا تھا، نہ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور نہ وہ جانور پالتے تھے۔ پس اِن کے دلوں سے کینہ مٹ گیا اور حسد رخصت ہو گیا۔ یہی حال اہلِ خانقاہ کا ہے کہ وہ ظاہر اور باطن میں یک رنگ ہیں۔ باہمی الفت اور محبت میں ان میں یکسانیت ہے اور اس پر سب جمع ہیں۔ ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی باہمی گفتگو میں یک رنگی ہے اختلاف نہیں ہے یعنی اکٹھے گفتگو کرتے‘ اکٹھے کھاتے پیتے ہیں اور اس اجتماعی زندگی کی برکت سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘ (عوارف المعارف۔ باب 14)
وہ تمام عادات و اطوار جو صفہ کے چبوترہ پر رہنے کی بدولت اصحابِ صُفَّہ میں تھیں وہی عادات و اطوار آئندہ بھی خانقاہ نشینوں میں واضح نظر آتی ہیں۔ وہی آداب ہیں خانقاہ کے اور وہی اصول و ضوابط ہیں خانقاہ نشینوں کے جو آج سے چودہ سو سال پہلے پہلی خانقاہ ’’صُفَّہ‘‘ کے تھے۔
خانقاہ کے آداب میں خانقاہ نشینوں کے فرائض اور سفر و قیامِ خانقاہ کے قواعد سرِ فہرست ہیں۔

خانقاہ نشینوں کے فرائض

حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* خانقاہ نشینوں کے فرائض میں داخل ہے کہ مخلوق سے (باطنی طور پر) قطع تعلق کر لیں اور حق کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑیں‘ ترکِ کسب کر کے مسبب الاسباب کی کفالت پر اکتفا کریں‘ میل جول اور ارتباط سے اپنے نفس کو روکیں‘ بُرے کاموں سے اجتناب کریں اور اپنی تمام پچھلی عادتوں کو ترک کر کے رات دن عبادت میں مشغول رہیں۔ اپنے اوقات کی نگہداری کریں اور ورد و وظائف میں مصروف رہیں‘ نمازوں کا انتظار کریں (نماز ادا کرنے کے لیے تیار رہیں) اور غفلتوں سے خود کو محفوظ رکھیں۔ اگر ان باتوں پر خانقاہ نشین عمل پیرا ہو جائے گا تو وہ ایک زبردست مجاہد (طالبِ مولیٰ)بن جائے گا۔ (عوارف المعارف)
خانقاہ میں ہر قسم کے غیر شرعی کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سگریٹ‘ نسوار اور ہر قسم کی نشہ آور اشیا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ خانقاہ میں ہر قسم کے رقص و سرود، موسیقی (موجودہ دور کے مطابق ٹی وی، فلمیں وغیرہ دیکھنے) کی سختی سے ممانعت ہے کہ یہ دنیاوی قبیح اعمال ہیں اور طالبانِ مولیٰ کو ان کی زندگی کے اصل مقصد یعنی معرفتِ حق تعالیٰ سے روکتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے کہ خانقاہ وہ جگہ ہے جہاں ہر لمحے ذکرِ اسمِ اللہ ذات جاری رہنا چاہیے، اس قسم کے قبیح اعمال خانقاہ کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ اگرچہ طالبِ مولیٰ کو ہر لمحہ اور ہر جگہ خوفِ خدا کرتے ہوئے ایسے قبیح اعمال سے پرہیز کرنا لازم ہے، اسے ہر دم یہ خیال رہنا چاہیے کہ وہ اپنے مرشد کامل کی نگاہ میں ہے لہٰذا کوئی ایسا عمل سرانجام نہ دے جو اس کی اپنی پکڑ اور مرشدِ کامل کی دل آزاری کا باعث ہو لیکن اگر پھر بھی وہ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو نہ پا سکے اور اس کا نفس اسے ایسے قبیح اعمال کرنے پر اکسائے تو اسے چاہیے کہ وہ ان خواہشات کی تکمیل کے لیے خانقاہ سے باہر چلا جائے تاکہ کم از کم خانقاہ کا تقدس اس کے ہاتھوں پامال نہ ہو۔ مرشدِ کامل کی طرف سے مقرر کردہ خانقاہ کے سربراہ پر لازم ہے کہ وہ اس بات کا سختی سے التزام کرے کہ خانقاہ میں کوئی بھی ایسا عمل نہ ہو جو خانقاہ کے تقدس کی پامالی کا سبب ہو۔
خانقاہ میں اکٹھے ہو کر ایک ہی جگہ لنگر کھانا چاہیے اور جو کچھ لنگر میں کھانے کے لیے ملے اسےبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کر کھا لینا چاہیے کیونکہ لنگر چاہے جیسا بھی ہو شفا ہی شفا اور نور ہی نور ہوتا ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر کھانا بابرکت ہے۔ اکٹھے مل کر کھانے سے یک رنگی اور مساوات کا درس ملتا ہے۔

خادمِ خانقاہ کے لیے یہ امر مستحب ہے کہ آنے والے مہمان کے لیے کھانا پیش کرے۔ جناب لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ جب ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاشانۂ نبوت میں موجود نہ تھے۔ ہم وہاں ٹھہر گئے‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ہمارے لیے حریرہ تیار کیا جائے۔ ہمارے واسطے حریرہ تیار ہوا اور ایک قناع میں بھر کر ہم کو بھیجا گیا‘ ہم سب نے حریرہ کھایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہم لوگوں سے دریافت کیا‘ تم کو کچھ (کھانے کو) ملا؟ ہم نے عرض کیا‘ جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!
اسی طرح آنے والے کے لیے بھی یہ مستحب ہے کہ وہ اپنی آمد پر بطورِ حقِ قدم خانقاہ نشینوں کے لیے کچھ پیش کرے‘ منقول ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو آپ نے (مہمانی) کے لیے ایک اونٹ ذبح کرایا تھا۔
کبھی کبھار ایسا اتفاق بھی ہو جاتا ہے کہ خانقاہ میں نئے آنے والے آدابِ داخلہ سے کم آگاہ ہوتے ہیں اس وقت وہ گھبرا جاتے ہیں (ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں)۔ اس لیے مسنون طریقہ یہ ہے کہ اہلِ خانقاہ ان کے پاس آکر بیٹھیں اور ان سے بے تکلفی اور محبت کے ساتھ ملیں تاکہ احساسِ بیگانگی اور آداب سے عدم واقفیت سے جو تحیران میں پیدا ہوگیا ہے وہ دور ہو جائے۔ اس میں بڑی فضیلت ہے۔ اہلِ خانقاہ پر ہی لازم ہے کہ نئے آنے والوں کو خود آدابِ خانقاہ سے آگاہ کریں۔
حضرت ابورفاعہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ جب میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ ایک مسافر شخص حاضر ہوا ہے وہ اپنے دین کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ دین کیا ہے! وہ کہتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خطبہ چھوڑ کر میرے پاس تشریف لائے‘ لوہے کے پاؤں والی ایک کرسی لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمیں دینی امور کی تعلیم دی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پھر خطبہ شروع فرما دیا اور اس کو تکمیل پر پہنچایا۔
پس یہ بات فقرا اور صوفیا کے اعلیٰ اخلاق میں داخل ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اگر کچھ ناپسندیدہ باتیں سننا یا دیکھنا پڑیں توان کو برداشت کریں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خانقاہ میں آنے والے فقیر سے مراسمِ صوفیانہ کی خلاف ورزی ہوجاتی ہے تو اس کو جھڑکنا اور باہر نکال دینا بہت بڑی غلطی ہے۔ اس لیے کہ بہت سے صالح بندے اور اولیا اللہ ایسے بھی ہیں جو آدابِ خانقاہی سے پوری پوری واقفیت نہیں رکھتے ہیں لیکن وہ خانقاہ میں سچے ارادے اور پوری عقیدت کے ساتھ داخل ہوتے ہیں ۔ جب ان سے بُرا سلوک کیا جاتا ہے تو ان کے دل پراگندہ اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس کراہت اور نامناسب رویہ سے دین و دنیا کی تباہی کا امکان ہے پس اس سے پرہیز کرنا چاہیے اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کس درجہ رفق و مدار فرمایا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ ایک بدوی مسجد (نبوی) میں آیا اور اس نے وہاں پیشاب کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کے مطابق بڑے ڈول میں پانی بھر کر اس کو بہادیا گیا اور حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے اس اعرابی کو جھڑکا نہیں بلکہ نہایت نرمی اور خوش اخلاقی کے ساتھ اسے اس کے فرض سے آگاہ کر دیا گیا۔
پس یاد رکھنا چاہیے کہ سختی‘ درشتی اور بدکلامی خبثِ باطنی کی علامت ہے جو صوفیا کے حالات کے بالکل منافی ہے۔ اگر خانقاہ میں کوئی ایسا شخص آئے جو اس قابل نہ ہو کہ اس کو وہاں رکھا جائے تو اس کو کھانا پیش کرنے کے بعد وہاں سے رخصت کر دیا جائے لیکن ملائمت اور نرمی کے ساتھ‘ کہ اربابِ خانقاہ کایہی طریقہ ہے۔ (عوارف المعارف)
خانقاہ نشینوں کے لیے خانقاہ میں مہیا کردہ سہولتیں اللہ کی طرف سے ان کے پاس امانت ہیں۔ ا ن سہولتوں کا ضرورت کے مطابق استعمال تو جائز و درست ہے لیکن اپنی ذاتی تسکین اور آرام کے لیے ان کا بے جا استعمال حرام و ناجائز ہے۔ عموماً خانقاہ نشینوں اور یہاں کا انتظام کرنے والوں کے پاس وسائل کی کمی ہی ہوتی ہے کہ اللہ کی ذات اور مال و دولتِ دنیا کا آپس میں کوئی مِیل نہیں لہٰذا خانقاہ میں فراہم کردہ سہولتوں مثلاً بجلی پانی وغیرہ کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ بہتر ہے کہ انہیں صرف اللہ سے قرب کی غرض سے استعمال کیا جائے اور ذاتی اغراض و ضروریات کی تکمیل اپنے ذاتی خرچ سے کی جائے یا قناعت اور صبر کیا جائے۔ یہ بہرحال اسراف، فضول خرچی اور سہولتوں کے ناجائز استعمال سے بہتر ہے اور قرب و رضائے الٰہی کا باعث ہے۔
ایک دوسرے کے مال پر نظر نہیں ہونی چاہیے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ مال‘ اولاد، لباس اور عادات کو نہیں دیکھتا ہے بلکہ اللہ دلوں کو دیکھتا ہے اور اللہ کے زیادہ نزدیک وہی ہے جو دل کا زیادہ صاف ہے۔ خانقاہ نشینوں کو ظاہری صفائی و ستھرائی کا بھی خصوصی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔ خانقاہ کو صاف کرنے سے مراد اپنا دل صاف کرنا بھی ہے۔ دل جتنا شفاف ہوگا اتنی ہی تصویرِ یار درست اور واضح نظر آئے گی۔
جو شخص خانقاہ میں تازہ وارد ہو اور اس نے علمِ معرفت کا ذائقہ نہ چکھا ہو اور روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز نہ ہوا ہو تو ایسے شخص کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ خانقاہ والوں کی خدمت کرے، یہ خدمت اس کی عبادت شمار کی جائے گی۔ وہ اپنی حسنِ خدمت سے اہلِ اللہ کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرے گا اور ان کی برکات اس کے شاملِ حال ہو جائیں گی اور اس طرح وہ اپنے عبادت گزار بھائیوں کا اپنی خدمت کے ذریعے سے معین و مددگار ثابت ہوگا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے ’’مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ہرمومن دوسرے سے بعض ضروریات کا طالب ہے‘ پس ان میں جو لوگ اپنے دوسرے بھائی کی ضرورت پوری کریں گے‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی ضرورتیں پوری کرے گا۔‘‘
علاوہ ازیں خادم خدمت کے باعث سستی اور کاہلی سے محفوظ رہتا ہے اور یہی سستی و بیکاری دل کی موت ہے۔ مختصر یہ کہ اہلِ اللہ کی خدمت بھی صوفیا کے نزدیک نیک کاموں میں شامل ہے اور ان طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے جن کے ذریعے اوصافِ جمیلہ حاصل کیے جاتے ہیں اور انسان میں اوصافِ حسنہ پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اگر خادم اپنی جنس سے نہ ہویعنی اربابِ تصوف میں سے نہ ہو اور مخدوم سے ہدایت کا طالب نہ ہو‘ ایسے شخص سے خدمت لینا مناسب نہیں ہے۔
مشائخ اور صوفیا غیروں یا نااہلوں سے صرف خدمت لینا ہی ناپسند نہیں کرتے بلکہ ان سے ارتباط و اختلاط بھی ان کو پسند نہیں تھا کیونکہ جو شخص ان کے طریقے کو پسند نہیں کرتا تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ان کے طور طریقے دیکھ کر بجائے فائدے کے نقصان اٹھاتا ہے۔ صوفیا سے بتقاضائے بشریت ایسے افعال سرزد ہو جاتے ہیں کہ علم کی کمی کے باعث غیر ان سے کراہت کرتے ہیں۔ اس لیے غیروں سے خدمت لینے سے ان حضرات کا گریز کسی کبر و نخوت پر مبنی نہیں ہے‘ نہ یہ بات ہے کہ وہ کسی مسلمان پر اپنی برتری جتا رہے ہیں بلکہ ان کے گریز کی اصل وجہ خلقِ خدا پر شفقت ہے۔
جو خادم ان حضرات کی خدمت میں مصروف ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں مصروف ہیں تو وہ خادم بھی ان کے ثواب میں شریک ہوگیا۔ جہاں خادم یہ دیکھے کہ وہ کسی شیخ کی خدمت اس کے بلند احوال کے باعث شایانِ شان طور پر انجام نہیں دے سکتا تو اس کی خدمت میں مصروف نہ ہو بلکہ ایسے شخص کی خدمت کرے جو اس کی خدمت کا اہل ہے کہ اہلِ قرب کی خدمت اللہ تعالیٰ کی محبت کی نشانی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ سے باسناد مروی ہے کہ جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے تمہارے ساتھ سفر کیا اور فراخ راستوں اور وادیوں سے تمہارے ساتھ گزرے‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ حضور! وہ تو مدینہ میں رہ گئے تھے (پھر ہمارا ان کا ساتھ کس طرح ہوا؟) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا‘ ہاں! اُن کو عذر نے روک لیا تھا (مگر ثواب میں وہ تمہارے شریک ہیں)۔ پس وہ شخص جو صوفیا کی خدمت کرتا ہے لیکن اپنی کسی خامی کے باعث ان جیسے مراتبِ عالیہ تک نہیں پہنچ سکتا لیکن پھر بھی وہ خدمت میں مصروف رہ کر خانقاہ کے گرد چکر لگاتا رہا اور ان کی خدمت میں اپنی بھرپور کوشش کے ساتھ سرگرم رہا اور یہ خیال کرتا رہا کہ اگر وہ اُن کی نگاہِ لطف سے محروم رہا تو کیا ہے شاید خدمت سے اس کی کچھ تلافی ہو جائے تواللہ تعالیٰ اس کی خدمت پر بھی اس کو ضرور بلند پایہ جزا دے گا۔ وہ اپنی اس خدمت سے اللہ کے بلند پایہ فضل کا سزاوار بن جاتا ہے۔
اسی طرح اہلِ صُفَّہ بھی نیک کاموں اور تقویٰ میں تعاون کرتے تھے اور دینی مصالح پر اپنی جان و مال سے مدد کرنے کے لیے مل جل کر کام کرتے رہتے تھے پس وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلِ عظیم کے سزاوار بن گئے۔
خانقاہ میں جس قدر لوگ ہوتے ہیں وہ اپنے اتحاد اور متحدہ ارادوں کے باعث ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں۔ دوسری جماعتوں میں یہ بات نہیں ہے‘ ان میں ایسا اتحاد نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی تعریف اس طرح فرمائی ہے:
کَانَّھُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ

ترجمہ:’’وہ (مومنین) ایسے متحد و متفق ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جیسے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘‘۔

اس کے برعکس مسلمانوں کے دشمنوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے:
تَحْسَبُھُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُھُمْ شَتّٰی

ترجمہ:’’تم ان کو متحد و متفق خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پراگندہ ہیں‘‘۔

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ:
’’بے شک مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر کوئی عضو مبتلائے درد ہوتا ہے تو تمام جسم میں تکلیف ہونے لگتی ہے اسی طرح اگر کسی مومن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تمام مومنین اس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔‘‘
تمام صوفیا کے لیے یہ لازمی اور ضروری وظیفہ ہے کہ وہ آپسی محبت کی بھرپور حفاظت کریں۔ دلوں میں پراگندگی پیدا نہ ہونے دیں‘ دلی اور روحانی اتحاد سے اس پراگندگی کا ازالہ کر دیں اس لیے کہ وہ سب ایک روحانی رشتہ میں منسلک ہیں اور تالیفِ الٰہی کے رابطہ سے باہم جڑے ہوئے ہیں اور مشاہدۂ قلوب کے ساتھ وابستہ ہیں بلکہ خانقاہوں میں ان کی موجودگی ہی اس لیے ہے کہ تزکیۂ قلب اور آراستگیٔ نفس حاصل ہو اور اسی بنا پر ان کے مابین ربط و ضبط کا سلسلہ قائم ہے (کسی دنیاوی غرض سے ایسا نہیں ہے)۔ اس صورت میں ان کے لیے باہمی خیر سگالی اور محبت و رافت اور بھی زیادہ ضروری ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مومن آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ الفت و محبت سے پیش آتے ہیں اور اس شخص میں کچھ بھی بھلائی نہیں ہے جو نہ خود دوسروں سے محبت کرتا ہے اور نہ دوسرے اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
شیخ ابو زرعہ طاہر بن یوسف رحمتہ اللہ علیہ اپنے مشائخ کی اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ارواح ایک لشکر کی طرح ہیں جو ایک جگہ جمع ہوگئی ہیں۔ جان پہچان والی ارواح آپس میں مانوس ہو جاتی ہیں اور جو ایک دوسرے سے متعارف نہیں وہ الگ تھلگ رہتی ہیں۔‘‘
پس یہی حال اہلِ خانقاہ کا ہے کہ جب یہ لوگ ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو ان کے دل اور ان کے باطن بھی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور (جمع ہونے سے جمعیتِ خاطر پیدا ہوجاتی ہے)۔ ان کے نفوس ایک دوسرے کے ساتھی بن جاتے ہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کے مال کے نگران ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ’’مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے‘‘۔ پس جب کسی میں وہ تفرقہ (پریشانیٔ خاطر اور پراگندگیٔ قلب) کا ظہور پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کسی صوفی کے دل میں دوسرے کے خلاف خیالات پیدا ہو رہے ہیں تو اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں اس لیے کہ تفرقہ کا ظہور نفسانی خواہش کا نتیجہ ہوتا ہے اور غلبۂ نفس سے وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ چنانچہ جب کبھی کسی درویش میں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے اور وہ نفس کا شکار ہو جاتا ہے تو یہ لوگ اس کو پہچان لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ یہ شخص اب جمعیت کے دائرے سے خارج ہوگیا اور یہ لوگ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں کہ اس نے حکمِ وصیت کو ضائع کیا‘ ضبطِ نفس میں سستی برتی اور حسنِ رعایتِ اوقات کو ترک کر دیا اس وقت اس کے ساتھ ناراضگی کا برتاؤ کر کے اس کو پھر دائرہ جمعیت میں کھینچ کر لایا جاتا ہے۔
جس طرح ان کا ظاہر ربط و ضبط سے آراستہ ہے اسی طرح ان کے باطن میں یہ ربط و الفت قائم رہے‘ یہ وہ خصوصیت ہے جومومنوں کے سوا اور کسی گروہ میں نہیں پائی جاتی۔ (عوارف المعارف)
خانقاہ نشینوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپس میں مل جل کر اور محبت سے رہیں لیکن اگر کوئی صوفی اپنے نفس سے مغلوب ہو کر اپنے کسی بھائی سے جھگڑ بیٹھے تو دوسرے بھائی کو چاہیے کہ اپنے بھائی کا مقابلہ نفس سے نہ کرے بلکہ نفس کا مقابلہ قلب سے کرے کیونکہ جب نفس کا مقابلہ قلب سے کیا جاتا ہے تو برائی اور شر کا مادہ زائل ہو جاتا ہے۔ یعنی اپنے بھائی کی بات کو دل پر مت لے اور اُس کی اِس حرکت کو معاف کر دے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ وَمَا یُلَقَّاھَا اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (فصلت۔34-35)
ترجمہ:تم اچھے طریقے سے پیش آؤ کہ وہ شخص جس کے ساتھ تمہاری عداوت ہے تمہارا گہرا دوست ہو جائے اور یہ طریقہ صرف وہ استعمال کر سکتے ہیں جو صابر ہیں۔
مرشد کریم تک اس معاملہ کو نہیں پہنچانا چاہیے یعنی خود ہی معاف کر دو اور اگر تم سے کسی بھائی کی دل آزاری ہوئی ہے تو فوراً اُس سے معافی مانگ لو قطع نظر کہ وہ تم سے بڑا ہے یا چھوٹا‘ امیر ہے یا غریب۔ بندہ کو اللہ سے بھی معافی و استغفار کرنا چاہیے اور اپنے اُس بھائی سے بھی معافی مانگنی چاہیے جس کی دل آزاری ہوئی ہو۔ اگر کسی نے اپنے بھائی سے اپنی غلطی پر معافی طلب کی اور دوسرے نے اس کی معافی اور معذرت کو قبول نہیں کیا تو اس نے غلطی کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس شخص کے سامنے اس کے بھائی نے معذرت کی اور اُس نے یہ معذرت قبول نہ کی تو اس پر وہی عائد ہوگا جو اس شخص پر عائد ہوگا۔‘‘
حضرت جابر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’اگر کسی شخص سے کسی نے معافی مانگی اور معذرت کی اور اس نے اس معذرت اور معافی کو قبول نہیں کیا تو وہ حوضِ کوثر پر نہیں آسکے گا۔‘‘
صادق و مخلص فقیر جو خانقاہ میں مقیم ہے اور چاہتا ہے کہ خانقاہ کے مالِ وقف سے یا اس مال سے جو اہلِ خانقاہ کے لیے مہیا کیا جاتا ہے‘ کھائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کے ذکر میں اس طرح مشغول ہو جائے کہ اگر وہ روزی کماتا تو ایسا ذکر اس کے لیے ممکن نہ ہوتا اور اگر خانقاہ میں اس کو اوقاتِ فرصت میسر ہیں یا وہ اِدھر اُدھر کی باتوں میں مصروف رہتا ہے اور وہ اہلِ باطن کی طرح ریاضت اور محنت کے فرائض پورے نہیں کر رہا ہے (ریاضتِ باطنی وظاہری میں مصروف نہیں ہے) تو ایسے درویش کو خانقاہ کے مالِ وقف یا دوسرے ذرائع سے جو مال خانقاہ کے لیے آیا ہے، اس سے کھانا روا نہیں بلکہ اس کو خود اپنے لیے روزی کمانا چاہیے۔ اس لیے کہ خانقاہ کا کھانا تو صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو یادِ الٰہی میں اس طرح مصروف و مستغرق ہیں کہ دوسرے کاموں کی ان کو فرصت ہی نہیں اور وہ ہمہ وقت اور ہمہ تن اپنے مولیٰ کی یاد میں مصروف ہیں اس لیے دنیا والے ان کی خدمت کرتے ہیں۔
البتہ اگر کوئی ایسا شخص ہے جو پیرِ طریقت (مرشد کامل) سے استفادہ کر رہا ہے اور اس کی زیرِ تربیت ہے اور اس کی ہدایت سے راہِ راست پر گامزن ہے‘ اس کے بارے میں اگر شیخ کی رائے ہے کہ اس کو خانقاہ سے کھانا دیا جائے تو شیخ کا فیصلہ ضرور کسی بصیرت پر مبنی ہوگا۔ شاید شیخ کا یہ خیال بھی ہو کہ اس کو فقیروں کی خدمت میں لگا دیا جائے گا، ایسی صورت میں خادم جو کھانا کھا رہا ہے وہ اس کی خدمت کا معاوضہ سمجھا جائے گا۔
شیخ ابو عمرو الزجاجی فرماتے ہیں کہ میں عرصہ دراز تک حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں رہا‘ اس پوری مدت میں حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ نے نہ مجھ پر نظر ڈالی نہ یہ دیکھا کہ میں کس قسم کی عبادت میں مشغول ہوں اور نہ کبھی انہوں نے مجھ سے کلام کیا‘ یہاں تک کہ ایک روز خانقاہ بالکل خالی تھی۔ میں اس وقت اٹھا‘ اپنے کپڑے اتارے اور خانقاہ کو خوب اچھی طرح صاف ستھرا کر دیا۔ ہر طرف پانی چھڑکا‘ بیت الخلا کو بھی دھو ڈالا۔ شیخ جنید رحمتہ اللہ علیہ جب خانقاہ میں آئے اور یہ تمام صفائی دیکھی اور میرے اوپر گردوغبار پڑا ہوا دیکھا تو میرے لیے دعا کی اور مرحبا! جزاک اللہ اور رضیت علیک بہا‘ تین بار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ مشائخِ عظام نوخیز جوانوں کو خدمت پر مامور کر دیتے ہیں تاکہ وہ بدکاری سے محفوظ رہیں اس طرح ان کو دو حصے مل جاتے ہیں۔ ایک حصہ معاملے کا دوسرا حصہ خدمت کا (روحانی مراتب بھی حاصل ہوں اور اجرِ خدمت بھی میسر آئے)۔ (عوارف المعارف)
مرشد یا شیخِ کامل کی لگائی ہوئی کوئی ذمہ داری خواہ وہ بیت الخلا کی صفائی و ستھرائی ہی کیوں نہ ہو، تمام ذاتی افعال سے بہتر ہے بشرطیکہ اس میں طالب کا دِلی خلوص اور صاف نیت شامل ہو۔ طالب پر لازم ہے کہ اپنا تمام وقت صرف طلبِ مولیٰ، ذکرِ اسمِ اللہ ذات میں یا مرشد کی طرف سے دئیے گئے فرائض کی انجام دہی میں صَرف کرے نہ کہ اِدھر اُدھر کے فضول کاموں میں۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اپنے وقت کو ناجائز استعمال میں لائے گا کیونکہ ’’وقت‘‘ بھی اللہ کی امانت ہے جسے طلبِ مولیٰ میں خرچ کرنا تھا۔ آخرت میں اس ’’وقت‘‘ کی امانت کے متعلق بھی سوال جواب کیا جائے گا۔
خانقاہ نشینوں کے لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ اپنے ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اِن کی کسی حرکت سے ہمسایوں کا سکون تباہ و برباد ہو جائے۔ خانقاہ میں فضول دنیاوی باتوں اور شوروغوغا سے پرہیز کرنا چاہیے کہ دنیا اور اس کی باتیں طالبِ مولیٰ پر حرام ہیں۔

قیامِ خانقاہ کے فرائض

اگر کوئی بھائی چند یوم کے لیے خانقاہ میں تشریف لاتا ہے تو اس کو چاہیے کہ جب خانقاہ میں داخل ہو تو وہاں موجود تمام بھائیوں کو بآوازِ بلند سلام کہے اور پھر اپنا سامان خانقاہ نشین بھائیوں سے پوچھ کر اُدھر رکھے جہاں اُس کے لیے موزوں جگہ بتائی جائے۔ خانقاہ میں سب سے پہلے آنے والے بھائی کو پانی اور لنگر کا پوچھا جاتا ہے۔ لنگر کھانے کے بعد اپنا مدعا بیان کرے کہ وہ کس مقصد کے لیے تشریف لایا ہے۔
اگر کوئی طالبِ مولیٰ دور دراز سے سفر کر کے آیا ہے تو اُس کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ خانقاہ میں نماز قصر نہیں ادا کی جاتی بلکہ مکمل نماز ادا کی جاتی ہے۔ خانقاہ میں قیام کرنے والے بھائی کو چاہیے کہ اہلیانِ خانقاہ سے کلام کی خود ابتدا کرے‘ یہ انتظار نہ کرے کہ دوسرا مجھ سے بات کرے گا تب میں بات کروں گا۔ اپنے دل میں اٹھنے والے تمام سوالات کو مرشد کی بارگاہ میں عرض کرنے سے پہلے اپنے خانقاہ نشین بھائیوں سے تبادلہ خیال کر لے تاکہ نئے آنے والے بھائی کو خانقاہ نشین آدابِ شیخ سے آگاہ کر سکیں اور جس مقصد کے لیے وہ تشریف لایا ہے‘ اُس کو احسن طریقے سے مرشد کی بارگاہ میں پیش کرسکے۔
چونکہ خانقاہ فقرا کا گھر ہے اِس لیے آنے والے مہمان کوئی بھی ضرورت پڑنے پر خانقاہ نشین بھائیوں سے بلاجھجک اپنا مدعا بیان کر سکتے ہیں۔
ایسے بھائی جو اپنے آپ کو صحبتِ مرشد کے لیے خانقاہ میں کچھ عرصہ کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں تو وہ کسی بھی وقت خانقاہ میں آسکتے ہیں۔
خانقاہ کا دارومدار اُس پاک انسانِ کامل (مرشدِ کامل) کی ذات پر ہوتا ہے جس کے گرداگرد تمام طالبانِ مولیٰ اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ جب مرشد کریم خانقاہ میں تشریف فرما ہوں تو تمام خانقاہ نشینوں اور عارضی قیام کرنے والوں کو مرشدِ کریم کی بارگاہ میں بیٹھنا چاہیے نہ کہ اِدھر اُدھر وقت ضائع کرنا چاہیے کیونکہ مرشد کی صحبت ہی انسان کے قلب کو صاف اور نفس کو پاک کرتی ہے۔ اسی لیے تمام بھائیوں کو چاہیے کہ اپنے ذاتی تمام ضروری اور غیر ضروری کاموں کو چھوڑ کر مرشد کی بارگاہ میں چلے جائیں۔
خانقاہ میں قیام کرنے والوں کو عاجزی سے کام لینا چاہیے کیونکہ نیت میں جتنا خلوص اور عاجزی ہوگی اتنی ہی زیادہ مرشد کی نگاہِ اکمل سے دلوں کی صفائی ہوگی۔ تمام طالبانِ مولیٰ کو اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں مرشد کریم کی بے ادبی نہ ہو۔ مرشد کی بارگاہ میں خاموشی سے بیٹھنا چاہیے اور ان کی گفتگو کو نہایت ادب و اعتقاد کے ساتھ فیض کے حصول کی نیت سے سننا چاہیے۔ اگر مرشد کریم سے کوئی بات کرنی پڑے یا سوال پوچھنا ہو تو نہایت ہی آہستہ آواز اور ادب کے دائرہ میں رہ کر کرنا چاہیے۔ مرشد کریم کی طرف پیٹھ نہیں کرنا چاہیے۔
قیام کرنے والے بھائیوں کو چاہیے کہ خانقاہ نشین بھائیوں کی اجازت کے بغیر خانقاہ سے ایک قدم بھی باہر نہ نکالیں۔ خانقاہ کی حدود میں غیر شرعی تمام کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ سگریٹ نوشی‘ تمباکو نوشی‘ نسوار‘ نشہ آور اشیا کے استعمال سے مکمل احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ شریعت سے باہر کچھ بھی نہیں۔ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شریعت کی حفاظت ہی فقر ہے۔
خانقاہ میں قیام کے دوران ذکرِ اللہ کے ساتھ ساتھ معرفتِ الٰہی کے حصول کے لیے تفکر بھی کرنا چاہیے ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ذکر کنوں کر فکر ہمیشاں‘ ایہہ لفظ تکھا تلواروں ھُو
کڈھن آہیں تے جان جلاون‘ فکر کرن اسراروں ھُو
ذاکر سوئی جیہڑے فکر کماون‘ ہک پلک نہ فارِغ یاروں ھُو
فکر دا پھٹیا کوئی نہ جیوے‘ پٹے مڈھ چا پاڑوں ھُو
حق دا کلمہ آکھیں باھوؒ ‘ ربّ رکھے فکر دِی ماروں ھُو

مفہوم: آپؒ فرماتے ہیں کہ طالب تُو ذکر (اسمِ اللہ ذات) اور تفکر کیا کر کیونکہ جب ذکر اور فکر آپس میں مل جاتے ہیں تو اِن کی تاثیر تلوار سے بھی تیز ہوتی ہے۔ تفکر سے ہی اﷲ تعالیٰ کے اسرار اور بھید سے آشنائی ہوتی ہے۔ اہلِ تفکر جب اسرارِ الٰہیہ سے واقف ہوتے ہیں تو ان کے دِل سے پُردرد اور پُر سوز آہیں نکلتی ہیں جو وساوس‘ خناس اور خواہشاتِ دنیا کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اصل ذاکر تو وہ ہیں جو ذکرِ اسمِ اللہ ذات کے تفکر میں محو رہتے ہیں اور ایک لمحہ بھی فارغ نہیں ہوتے۔ تفکر سے وہ اسرار اور بھید القا ہوتے ہیں جو کسی اور ذریعہ سے ہو ہی نہیں سکتے۔ آپؒ فرماتے ہیں ہمیشہ کلمۂ حق کہتے رہنا چاہیے اور گمراہ کرنے والے فکر سے اﷲ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ محفوظ رکھے۔

رخصت کی اجازت ضرور مانگنا چاہیے

خانقاہ میں قیام کے بعد اگر کوئی بھائی واپسی کا ارادہ کرے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مرشد کریم سے اجازت لیے بغیر واپس نہ جائے۔ مرشد کریم کی خانقاہ میں رہنا اور پھر اجازت کے بغیر واپسی کا ارادہ کر لینا ادب کے دائرہ کے خلاف ہے۔
حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’جب کوئی اپنے شیخِ طریقت یا برادرانِ طریقت کے پاس آئے اور ملاقات سے فارغ ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ جب رخصت کا ارادہ کرے تو اجازت طلب کرے‘‘۔ اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے اور اس کی ہم نشینی حاصل کرے تو اس کی اجازت کے بغیر نہ اُٹھے (واپس نہ ہو)۔‘‘
آنے والے کو چاہیے کہ شیخ کی اجازت کے بغیر خانقاہ سے باہر نہ نکلے اور نہ کوئی کام اس کی رائے کے بغیر کرے۔
یہ جو کچھ آداب ہم نے بیان کیے ہیں ایسے آداب ہیں جن پر اہلِ خانقاہ عمل کرتے ہیں اور ان کے پابند ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کی توفیقِ افادیت میں ترقی فرمائے۔ (عوارف المعارف)
خانقاہ کی اہمیت اور اس کے آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہر مومن کا فرض ہے۔ اگر کوئی مسلمان سے مومن تک کا سفر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مرشدِ کامل کی صحبت کی خاطر اُس کی خانقاہ کو تلاش کرے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ہدایت کے طلبگار کو ہدایت کا راستہ ضرور دکھا دیتا ہے۔ خانقاہ وہی ہے جو بالکل صفہ کے مشابہہ ہو اور جس چیز کے اصحابِ صفہ طلبگار رہتے تھے اُسی (فقر) کا طلبگار خانقاہ نشینوں کو ہونا چاہیے۔ اگر کوئی ان اوصاف کے بغیر خانقاہ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کذاب ہے۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں