1

قیامِ مسجد و خانقاہ–Qayam-e-Masjid wa Khanqah

قیامِ مسجد و خانقاہ

تحریر:ملک محمد نعیم عباس کھو کھر سروری قادری

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور بنفس نفیس اس تعمیر میں شرکت فرمائی۔ اس مسجد کی زمین سہل اور سہیل نامی دو یتیم بچوں سے خریدی گئی جو حضرت سعد بن زراہؓ کے زیرِ کفالت تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بچوں کو بلا کر زمین خریدنے کا فرمایا تو بچوں نے زمین ویسے ہی دینے کی خواہش اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے منع فرمایا اور ان کو زمین کی رقم ادا کی گئی۔
جب مسجد نبویؐ تعمیر ہوئی تو دور سے آنے والے اصحاب اور عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قیام کے لیے ایک چبوترہ تعمیر کیا گیا جس کو تاریخ میں صفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جہاں صحابہؓ اکٹھے ہو کر سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملاقات اور ذکر و اطاعت الٰہی میں مشغول رہے جنہیں اصحابِ صُفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس چبوترے میں اصحابِ صفہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت پاک سے تزکیہ نفس اور قربِ الٰہی کی دولت حاصل کی اور دینِ اسلام کا ظاہر وباطن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سیکھا اور تمام دنیا میں اسلام اور اس کی حقیقت کا پیغام پہنچایا۔ اسلام کی اصل روح کی اشاعت میں سلاسل اور خانقاہوں کا سب سے زیادہ اہم کردار رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خانقاہ میں ذاتِ حق کے قرب و معرفت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ظاہری علم سیکھنے کیلئے سکول، مدرسہ، کالج اور یونیورسٹی کا رخ کیا جاتا ہے اسی طرح روح کی تعلیم و تربیت ، صفائی، پاکیزگی اور خوبصورتی کیلئے خانقاہ کے علاوہ کوئی تربیت گاہ نہیں ہے۔
جس مقام پر ذکر کرنے والے جمع ہوں وہی مقامات ایسے ہیں جن میں اللہ کے حکم سے صبح و شام اس کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بلند کیا جاتا ہے ۔ خانقاہ کی اہمیت اس کے رہنے والوں کی بدولت ہے کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے لیے وقف کر لیا ہے اور ہمہ تن اللہ کی طرف مشغول ہیں۔ خانقاہ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مرشد کامل اکمل اپنی نگاہ، صحبت اور ذکر و تصور اسمِ اللہذات کے ذریعے طالبانِ مولیٰ کے نفس کا تزکیہ کرتا ہے ان کی ارواح کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ خانقاہ کی بنیاد کوئی آج کی نہیں بلکہ اس کا ثبوت دورِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملتا ہے۔
سیّدنا غوث الاعظمؓ نے بھی درس و تدریس اور وعظ و ہدایت کا سلسلہ اپنے مرشد کریم جناب ابو سعید مبارک مخزومیؒ کی خانقاہ سے شروع کیا۔
فقر کی نعمت و دولت کے حوالے سے اللہ پاک نے برصغیر پر خاص مہربانی فرمائی ہے جس بنا پر اسے صوفیا اور اولیا کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس سرزمین پر مرشدانِ کامل کی محنت اور حقیقتِ دین کی اشاعت نے ہی طالبانِ حق کو تزکیۂ نفس، تصفیہ قلب و تجلیہ روح کی دولت سے بہرہ مند فرما کر معرفتِ حق تعالیٰ کا درس عام کیا جس سے اس زرخیز خطے سے بہت سے عاشقانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پیدا ہوئے جن سے دینِ اسلام کو سربلندی حاصل ہوئی۔ اسلام کی حقیقت سے لوگوں کو روشناس اور سب میں عام کرنے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا اہم ترین کردار ہے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں اسمِ اللہ ذات کے اسرار و رموز کو کھول کر بیان فرمایا اورطالبانِ مولیٰ کو دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری عطاکی۔ آپؒ کی خانقاہ میں لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام و تصوف ہوئے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فیضِ تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح سے ان کے قلوب کو معرفتِ الٰہی کی منازل تک پہنچایا۔ آپؒ کے جاری کردہ فیض سے بے شمار چشمے جاری ہوئے جنہوں نے دنیا بھر میں اسلام کی حقیقت کو روشن کیا۔ آپؒ کے خلیفۂ اکبر سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ آقا دوجہان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم پر امانتِ فقر کے حصول کے لیے برصغیر تشریف لائے اور حضرت سلطان باھوؒ کے حکم سے احمد پور شرقیہ میں مسجد اور خانقاہ بنائی اور جہاں آج کل ان کا مزار مبارک بھی موجود ہے۔ آپؒ کے خلیفۂ اکبر سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ مڈمپال میں خانقاہ بنا کر رہائش پذیر ہوئے اور وہیں آپؒ کا مزار مبارک ہے۔ اور آپ کے حقیقی فرزند شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی مشہدیؒ نے موضع فرید محمود کاٹھیہ کے قریب مسجد اور خانقانہ تعمیر کرائی اور وہیں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کے مشن کی بنیاد رکھی۔یہ جگہ بعد میں ’’پیر دی بھنیڑی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ جہاں آج بھی لوگ فقر کے چشمہ سے سیراب ہو رہے ہیں۔
فقر کا یہ مہتاب، امانت فقر سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ کے سپرد کرنے کے بعد ظاہری طور پر ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۔ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ نے حضرت سلطان باھوؒ کے مزار مبارک کے پاس کچھ فاصلے پر رہائش اختیار کی اور یہ خانقاہ آستانہ عالیہ سلطان محمد عبدالعزیز ؒ کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس مقام پر آپؒ کے فرزند سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے جس قدر اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات کو عام فرمایا ہے اس کی مثال تاریخ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔
آپؒ فرمایا کرتے تھے:
’’ملک بھر میں تمام لوگوں کو اسمِ اللہ ذات کی دعوت دو۔انہیں بلاؤ اللہ کی طرف کیونکہ اسی میں ان کی فلاح ہے۔‘‘
آپؒ قیامت تک سلطان الاذکار ’ھُو‘ کا فیض عام فرماگئے اور اس امانت کو اپنے محرمِ راز خلیفہ اکبر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے سپرد فرما کر عشقِ حقیقی سے جا ملے۔
مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہو کر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے گھر سے فقر و اسمِ اللہ ذات کی دعوت و تبلیغ کا کام شروع فرمایا اور کچھ عرصہ بعد موجود خانقاہ سلسلہ سروری قادری کی بنیاد رکھی اور یہ خانقاہ پوری دنیا میں فیضِ فقر کو پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ہی مہربانی سے طالبانِ مولیٰ کے لیے مزید آسانی فرما دی گئی ہے اور سلطان الاذکار ’ھو‘ کی آخری منزل بیعت کے پہلے ہی دن عطا کر دی جاتی ہے جس سے سالک کے لیے فقر کی نعمت اور معرفتِ الٰہی کی منازل آپ مدظلہ الاقدس کے فیضانِ نظر سے باآسانی طے ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوؒ نے رسالہ روحی شریف میں فرمایا ہے:
طالب بیا! طالب بیا! طالب بیا!
یعنی اے طالب! اگر تو معرفتِ حق تعالیٰ چاہتا ہے تو میرے پاس آ۔
اسی طرح آپ مدظلہ الاقدس کے دروازے ساری دنیا کے لیے کھلے ہیں جس سے اسم اللہ ذات کے نور کی کرنیں ہر خاص و عام کے قلوب کو منور کر رہی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس پورے ملک میں تبلیغی دورے کر کے لوگوں تک فیض اسمِ اللہ ذات کو عام فرما رہے ہیں اور خانقاہ میں طالبانِ مولیٰ کی تربیت فرما کر ان کے تزکیہ نفس، تجلیہ روح اور تصفیہ قلب سے انہیں معرفتِ حق تعالیٰ اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی عطا کرتے ہیں جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے مرشد کامل اکمل کی شان میں بیان فرمایا ہے ’’مرشد کامل بیعت کے پہلے ہی دن طالب کو اسمِ اللہ ذات اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضور عطا کرتا ہے۔‘‘
یہ خانقاہ (خانقاہ سلسلہ سروری قادری) اب تک احسن طریقے اور انتظام کے باعث اپنے کام اور فرائض حضور مرشد کریم مدظلہ الاقدس کی زیر سرپرستی کامیاب طریقے سے انجام دے رہی ہے۔اس میں دین اسلام کو پھیلانے کے لیے دن رات کام ہورہا ہے اور رسائل، کتب، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے عوام الناس تک ملک کے اندر اور باہر تمام دنیا میں پیغامِ حق پہنچایا جارہا ہے۔
چونکہ اب فقر کا یہ آفتاب تیزی سے روشن ہو رہا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک وسیع خانقاہ ہو جہاں طالبانِ حق عشقِ حقیقی سے اپنی پیاس بجھا سکیں اسی سلسلہ میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے حکمِ الٰہی سے ایک نئی اور وسیع خانقاہ کے قیام کا آغاز کیا ہے جس میں شاندار مسجد، لائبریری، خانقاہ، لنگر خانہ اور دور دراز سے آنے والے طالبانِ مولیٰ کے لیے مہمان خانہ اور رہائش گاہ شامل ہے۔
خانقاہ سے جڑے لوگوں کو اللہ نے اپنی جماعت کہا ہے کیونکہ یہ مسلسل اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور جو خدمت گار اپنے آپ کو اللہ کی راہ کے لیے وقف کر کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں تو ان کی کچھ لازم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مرشد پاک کی شفقت سے وظیفہ بھی مقرر کیا جاتا ہے۔
اس خانقاہ کے اغراض و مقاصد طالبانِ حق کو معرفتِ الٰہی اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بہرہ مند کرنا ہے تا کہ اسلام کی اصل حقیقت اور فقر محمدی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود فخر فرمایا‘ کی تبلیغ و اشاعت کی جا سکے۔
جب کوئی اللہ والوں کی خدمت اور مدد کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی مدد کرتا ہے اور وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو اللہ اپنے کاموں کے لیے چن لیتا ہے اور ان کے مال کو قبول کرتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! تمہارے مال اور اولادیں تم کو ذکرِ اللہ سے غافل نہ کردیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہی خسارہ پانے والے ہیں۔ (المنافقون 9 )
مسجد اللہ کا گھر ہے اور خانقاہ اللہ والوں کا۔ ان میں اہلِ ذکر‘ اللہ کا ذکر بلند کرتے ہیں جو لوگ اس کارِ خیر میں شریک ہونگے وہ ہمیشہ اس شرکت کا اجر پاتے رہیں گے۔
راہِ فقر راہِ عشق ہے عشق قربانی کا طلب گار ہے اس راہ میں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوتی جب تک طالب اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان نہیں کر دیتا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی سب سے قیمتی شے اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دے۔ اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ قربانی اور وفا کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
عشق دی بازی لئی اُنہاں، جنہاں سر دیندیاں ڈھل نہ کیتی ھُو
ہرگز دوست نہ ملدا باھوؒ جنہاں ترٹی چوڑ نہ کیتی ھُو
حضور مرشد پاک مدظلہ الاقدس کا فرمان ہے کہ
’’ ہم خانقاہ کیلئے در در سے طلب کریں گے۔‘‘ اس سے ہمیں مسجد اور خانقاہ کی ضرورت کی شدت کا اندازہ ہوجانا چاہیے۔
نفس را رسوا کنم بہر از خدا
ہر ہر درے قدمے زنم بہر از خدا
ترجمہ: میں رضائے الٰہی کی خاطر اپنے نفس کو رسوا کرتا ہوں اور رضائے الٰہی کی خاطر ہر در سے بھیک مانگتا ہوں۔

التجا

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے حضور مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں ہماری ہدایت اور اپنے قرب کی راہ کھول دی حضور مرشد کریم کو مرکزِ فقر بنایا۔ جس طرح تمام انبیا و اولیا کرام کا کوئی نہ کوئی مستقل مسکن رہا جہاں سے ان کی ظاہری اور باطنی حیات میں فیض جاری رہا۔اسی طرح تحریک دعوت فقر کو بھی ایک مستقل مسکن کی ضرورت ہے۔ اس مسکن سے حضور مرشد کریم کے وسیلے سے ہمیشہ ہمیشہ معرفتِ الٰہیہ کا فیض جاری رہے گا۔
محترم ساتھیو! حضور مرشد کریم کا مسجد اور خانقاہ کے لیے دستِ سوال دراز کرنا اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کی ہدایت کے لیے ہے اور مخلوق کی ہدایت ہی خدا کی رضا ہے۔
ہم نے حضور مرشد کریم کے ساتھ مل کر اس دلیل کو جلد عملی صورت دینی ہے اس لیے اپنے تعاون کو جلد از جلد یقینی بنائیں تاکہ فقیر کامل کا دستِ سوال زیادہ دیر تک دراز نہ رہے ۔ جب تک یہ دستِ سوال دراز رہے گا ہم بارگاہِ الٰہی میں شرمندہ رہیں گے۔
 لَیْسَ لِلْا نْسَانِ اِلّا ما سَعٰی (النجم۔ 39 )

ترجمہ:’’ انسان کے ذمہ کچھ نہیں سوائے کوشش کے۔‘‘

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں