حضرت ابو بکرصدیقؓ بحیثیت طالبِ مولیٰ–Hazrat Abu Bakr (R.A) Siddeeq Bhasiat Talib-e-Maula

خلیفۃ الرسولؐ، امامِ صدیقین

حضرت ابو بکرصدیقؓ بحیثیت طالبِ مولیٰ

تحریر: سونیانعیم سروری قادری ۔لاہور

آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ عشق، محبت، وفاداری، سچائی اور خلوص کا تذکرہ آتا ہے تو پہلا نام حضرت ابوبکر صدیقؓ کا آتا ہے اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت میں رقت و درد اور سوز کی کیفیات اور احوال کو جمع کیا جائے تو بھی پہلا نام ابوبکر صدیقؓ کا ہوگا طالبِ مولیٰ کو محبت اور عشقِ مصطفیؐ کا مفہوم سمجھانے والی ذات حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ہی ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشادِ مبارک ہے:
ترجمہ: ’’حضرت ابو بکر صدیقؓ کی فضیلت نماز،تلاوت اور روزوں کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے دل میں قرار پانے والی ایک اعلیٰ چیز کی وجہ سے ہے جو کہ میری محبت ہے۔ ‘‘
یہ حدیثِ مبارکہ اس چیز کا ثبوت ہے کہ عشق و محبت وہ جذبہ ہے جو ہر چیز پر حاوی ہوجاتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سیّدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ آفتابِ نبوت کے تاباں ستاروں میں سے درخشاں ستارہ ہیں۔ سیّدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے درجات اور مراتب میں اس قدر بلند ہیں کہ آپؓ کو عارفین کے سردار، اصحابِ تجرید و تفرید کے امام، رفیقِ رسولؐ، امامِ صدیقین اور افضل البشر بعد الانبیا کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی عارف سیّدنا صدیقِ اکبرؓ کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ سالکین کے لیے آپؓ کی حیاتِ مبارکہ مشعلِ راہ ہے ۔ (خلفائے راشدین)
طالبِ مولیٰ کیلئے ضروری ہے کہ وہ پوری سچائی اور ایمانداری سے اپنے مرشد کی پیروی کرے جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ پورے خلوص سے دیا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’میں نبیؐ ہوں‘‘ تو آپؓ بغیر کسی عذر اور تاخیر کے فوراً ایمان لے آئے اور جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معراج کی سعادت حاصل ہوئی ہے تو انہوں نے سب سے پہلے تصدیق کی۔ آپؓ کو امامِ صدیقین کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے بھی انعام یافتہ گروہوں کو چار حصوں میں تقسیم فرمایا تو دوسرے گروہ کا نام صدیقین رکھا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حکم مانے تو اسے اُن کا ساتھ ملے گاجن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا یعنی انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین۔ (النساء۔69 )
آپؓ کی زندگی کا ہر پہلو طالبِ مولیٰ کی راہنمائی کرتا ہے کہ کس طرح اسے فقر پر چلنا چاہیے اور اپنے مرشد سے ایسی ہی محبت کرنی چاہیے جو ہر جذبہ پر اس طرح حاوی ہو کہ طالبِ مولیٰ کو اس کی منزل پر پہنچنے میں ذرا بھی دشواری نہ ہو۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* ’’پیر کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح اور مرید کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح ہونا چاہیے۔‘‘ (عین الفقر)
* سالک یا طالبِ مولیٰ کو حضرت صدیق اکبرؓ کی طرح ہونا چاہیے کہ صدقِ دل سے اپنا تمام مال، اپنی جان اور آل اولاد اپنے مرشد کامل پر قربان کرنے سے دریغ نہ کرے ۔ جب اسطرح کے طالبِ صادق کا اور مرشد کامل اکمل کا آپس میں اتصال اور اتحاد ہوتا ہے تو ان کا کام روز بروز ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے اور ان کا معاملہ بلند سے بلند تر ہوجاتا ہے۔ (سلطان الوھم)
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ایسا تعلق قائم کیا کہ ان کے قدم کہیں بھی نہیں لڑکھڑائے۔محبت کے راستوں میں آپؓ کی شخصیت کہیں بھی ناقص دکھائی نہیں دیتی ۔ آپؓ اپنے ظاہر اور باطن میں ہر اعتبار سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایسے عاشق دکھائی دیتے ہیں کہ آپ نے رہتی دنیا تک تمام طالبانِ مولیٰ کو عشق کا ایسا سبق سکھا دیا ہے جس پر چل کر ہر طالبِ مولیٰ اپنی منزل کو پاسکتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلانِ نبوت کا پہلا سال تھا اس وقت مسلمان تعداد میں بہت کم تھے آپؓ نے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اعلانیہ تبلیغ کی اجازت لی اور حرمِ کعبہ میں مشرکین کے سامنے حق کے پیغام کو بلند کیا تو مشرکین آپؓ پر لپک پڑے اور آپؓ کو خوب ذد و کوب کیا یہاں تک کہ آپؓ کا سارا جسم اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا لیکن آپؓ کے صبرواستقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔ آپؓ پر اس قدر شدید تشدد کیا گیا کہ آپؓ وہیں بے ہوش ہوگئے اور سانس بھی اکھڑگئی۔ آپؓ کے قبیلے کے لوگوں نے سمجھا کہ آپؓ انتقال کر گئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے آپؓ کو مردہ سمجھ کر اٹھا لیا اور آپؓکے گھر لے گئے۔ شام کے وقت حضرت ابو بکرؓ کو ہوش آیا تو انہوں نے پہلا سوال یہی کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کیا حال ہے۔ جب حضرت ابوبکرؓ کی زبان سے قبیلے والوں نے یہ سنا تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے لیکن آپؓ دیوانہ وار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خیریت دریافت کرتے رہے۔ ان کی زبان تھی کہ ذکرِ مصطفیؐ کا ورد کرنے کے علاوہ کوئی لفظ کہنے پر آمادہ نہ تھی اس پر آپؓ کی والدہ نے کہا مجھے ان کا حال معلوم نہیں ۔ پھر اُمِ جمیل فاطمہ بنتِ خطابؓ (حضرت عمرؓ کی ہمشیرہ) کے ذریعے معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صحیح اور تندرست ہیں اس کے بعد ابوبکر صدیقؓ نے پھر پوچھا ’’آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں کہاں ‘‘اس پر بتایا گیا کہ آپ دارِ ارقم میں ہیں یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے کہا’’میں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مل نہ لوں گا اس وقت تک کچھ کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا‘‘ پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اصرار پر آپؓ کی والدہ آپؓ کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس لے گئیں۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے عاشق کو اس حال میں دیکھا تو انہیں چوم لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
یہ وہ وقت تھا کہ دعوتِ اسلام کا زبان پر لانا ایسے تھا جیسے جلتا ہوا انگارہ ہاتھ میں لینا۔ مگر آپؓ نے اس دور میں بھی دامنِ نبوت ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اپنایا اور ایسا اپنایا کہ اس راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کی اور اس راستے میں ہر طرح کی تکالیف اور مصائب خندہ پیشانی سے برداشت کیے۔ اشرافِ قریش کی ایک جماعت سیّدنا ابوبکرؓ کی تبلیغ سے ہی حلقہ بہ گوش اسلام ہوئی عشرہ مبشرہ میں سے سیّدنا عثمانؓ ، سیّدنا طلحہؓ، سیّدنا سعد بن ابی وقاصؓ ، سیّدنا عبدالرحمن بن عوفؓ آپؓ کے وعظ و ترغیب سے مسلمان ہوئے۔ آپؓ نے ہر حال میں ساری زندگی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ دے کر ایک خالص طالبِ مولیٰ ہونے کا ثبوت دیا۔ مکہ معظمہ سے ہجرت کے وقت آپؓ سرورِ دو عالم کو کندھے پر اُٹھا کر ایڑیوں کے بل چلے تاکہ دشمن کو پاؤں کے نشانات نہ مل سکیں۔ غارِ ثور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے داخل ہونے سے قبل آپؓ نے تمام سوراخوں کو اپنے کپڑے پھاڑ کر بند کیا۔ ایک سوراخ باقی رہ گیا تو آپؓ نے اس اپنا پاؤں رکھ کر بند کیا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپؓ کی گود میں سر رکھ کر آرام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نیند آگئی۔ سوراخ میں سے سانپ نے حضرت ابوبکرؓ کو ڈسنا شروع کیا لیکن آپؓ نے ذرا حرکت نہ کی کہ کہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے۔ جب شدتِ تکلیف سے صدیق اکبرؓ کی آنکھ سے آنسو نکل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ انور پر گرے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ دریافت فرمایا ابوبکرؓ ! تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوں مجھے کسی موذی نے ڈس لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صدیقِ اکبرؓ کی ایڑھی پر اپنا لعابِ دہن لگایا تو ان کی تکلیف جاتی رہی۔
آپؓ کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شدید محبت تھی آپؓ نے کبھی اپنے آرام کا خیال نہیں کیا ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آرام کو ہی فوقیت دی اور اس کو ہی اپنا فرضِ اوّلین سمجھا۔ ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا’’ مجھ پر ایک رات ایسی آئے گی کہ نہ گھر میں پانی ہوگا جس سے وضو کر سکوں اور نہ آگ ہوگی جس سے بدن کو گرم کر کے نمازِ فجر کو آسکوں‘‘جس دن یہ ارشاد فرمایا اسی دن سے سیّدنا ابوبکرؓ آدھی رات کے بعد آگ اور پانی لے کر دروازے پر کھڑے رہتے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تکلیف نہ ہو ۔ چنانچہ وہ رات آئی حضور علیہ الصلوٰۃوا لسلام پریشان ہو کر باہر نکلے۔ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کو آگ اور پانی لے کر موجود پایا۔ پوچھا کب سے کھڑے ہیں۔ آپؓ نے عرض کیا جس دن سے ارشاد فرمایاتھا روزانہ شب کے بعد حاضر ہو جاتا ہوں ۔آپؓ کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیلئے کس قدر محبت تھی نامعلوم کتنے دنوں بلکہ ہفتوں یا مہینوں کے بعد وہ رات آئی ہوگی لیکن آپؓ کو اپنے آرام کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ آپؓ بس یہ جانتے تھے کہ کس طرح اپنے محبوب کو تنگی سے بچایا جائے اور راضی رکھا جائے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے تمام طالبانِ مولیٰ پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے میں کوئی عار نہیں کرنا چاہیے۔آپؓ نے کبھی اپنے مال کو اپنا نہیں سمجھا ہمیشہ اسے اللہ تعالیٰ کا ہی خیال کیا ۔ جب آپؓ مشرف بہ اسلام ہوئے تو آپؓ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے جو آپؓ نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد کے مطابق خرچ کردئیے۔ آپؓ نے ایسے مسلمان غلاموں کو آزاد کرایا جن کے آقا ان کے مسلمان ہونے کی بنا پر ان کو سزائیں دیتے تھے۔ جامع الترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا سوائے ابوبکر کے احسان کے‘ ان کے احسان کا بدلہ قیامت کے دن اللہ ہی ان کو عطا فرمائے گا۔‘‘
آپؓ عشقِ مصطفی کے سمندر میں اپنی ذات کو فنا کر چکے تھے۔ اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لبوں پر مچلتا تو لہو کی ایک ایک بوند و جد میں آجاتی ۔ ہمہ وقت بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں سراپا ادب رہتے اور سودوزیاں سے بے نیاز ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اشارے کے منتظر رہتے کہ کب حکم ہو اور اپنی جان اور مال آقادو جہان کے قدموں پر نثار کریں۔ غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ کی راہ میں مال طلب فرمایا تو تمام صحابہؓ اپنا مال لے کر دوڑے چلے آئے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اپنے گھر کا سارا مال لے کر حاضر ہوگئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے استفسار فرمایا! ابوبکرؓ! گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! گھر والوں کیلئے اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) چھوڑ آیا ہوں۔‘‘
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس
مال خرچ کرنے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ سب پر سبقت لے گئے آپؓ کے بارے میں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’آج تک اس پوری دنیا میں کسی شخص کے مال و دولت نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا اکیلے ابوبکرؓ کے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا۔‘‘
طالبِ مولیٰ کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اپنی جان و مال اور اولاد پر سب سے بڑھ کر اپنے مرشد سے محبت رکھے۔ یہی فقر کا دستور اور فقر میں کامیابی کا راز ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* ’’قربِ الٰہی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنا گھر بار راہِ خدا میں قربان نہیں کردیتا اور تکالیف و مصائب میں مرشد کے ساتھ وفا میں ذرا سی بھی کمی نہیں آتی۔‘‘
حضرت ابو بکر صدیقؓ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر بات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ آپؓ کیلئے حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ آپؓ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہر اشارے کو سمجھتے تھے طالبانِ مولیٰ کو بھی اپنے مرشد سے ایسا لگاؤ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مرشد کریم کے ہر اشارے کو سمجھ سکیں اور اپنے مرشد کریم کے حکم کو بجا لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جو بلالؓ کو غلامی سے آزاد کرائے گا اس نے اپنے اوپر جنت کو واجب کر لیا ۔رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لب مبارک سے ان الفاظ کا ادا ہونا تھا کہ ایمان لانے میں اوّل، سردارِ صحابہ، یارِ غار حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی جگہ سے اُٹھے اور فرمایا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! میں بلالؓ کو آزاد کروا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں لیکرآتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اجازت لیکر آپؓ حضرت بلالؓ کے مالک امیہ بن خلف کے پاس گئے اور اس سے کہا میں تمہارا یہ غلام خریدنا چاہتا ہوں۔ امیہ نے حیرت سے کہا اس میں ایسی کیا خوبی ہے جو تم خرید نے آگئے ہو آپؓ نے اپنا مطالبہ رکھا کہ تم قیمت بتاؤ؟اچھا ایسی بات ہے میرے لیے تو یہ بیکار ہے ویسے بھی اسی نے ہمارے معبودوں کا انکار کر دیا ہے۔’’ تم بس قیمت بتاؤ‘‘ سیّدنا صدیق اکبرؓ نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا ۔ ظالم کافر نے فوراً کہا‘ ’’دو ہزار دینار‘‘ سیّدنا صدیق اکبرؓ نے بنا عذر کے فرمایا منظور ہے۔ ظالم کافر حیرت میں پڑگیا کہ اس غلام کی قیمت پانچ سو دینار سے زیادہ نہیں اور ابوبکرؓ دو ہزار میں راضی ہوگئے۔ اس کے دل میں لالچ آگیا بولا اب میں پانچ ہزار دینار سے کم میں نہیں بیچتا آپؓ نے فرمایا تُو اپنی زبان سے پھر گیا ہے مجھے اس قیمت پر بھی منظور ہے۔ لالچی کافر نے دل میں سوچا اس غلام میں ایسی کیا بات ہے کہ ابوبکرؓ اس کی دس گنا زیادہ قیمت دینے کو بھی تیار ہے اس نے اپنی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا میں نہیں بیچتا جاؤ۔ سیّدنا صدیقِ اکبرؓ تو بلالؓ کو کسی بھی قیمت پر آزاد کرانے آئے تھے۔ چاہے وہ قیمت ان کی اپنی جان ہی کیوں نہ ہو۔ سیدالانبیاؐ کے لب مبارک سے الفاظ ادا ہوں اور صدیقِ اکبرؓ اس کو پورا نہ کریں ایسا تو ممکن ہی نہ تھا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اس کافر اُمیہ بن خلف سے پھر فرمایا ’’تو کیسا عرب ہے جو اپنی زبان سے منکر ہوگیا۔‘‘ پھر اس کافر نے لالچ میںآکر آخری دام دس ہزار دینار اور ایک غلام طلب کیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیقؓنے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کافر کو دس ہزار دینار اور نصرانی غلام دیا۔ لالچی کافر نے زور سے قہقہہ بلند کیا اور بولا اے ابوبکرؓ تو نے گھاٹے کا سودا کر لیا صدیق اکبرؓ نے فرمایا ’’آج اگر توبدلے میں میری جان بھی مانگتا تو میں دریغ نہ کرتا مگر تو چند معمولی سکے لیکر خوش ہوگیا جبکہ میری خوشی میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرے کا تبسم ہے اور یہ تُو کیا جانے۔‘‘
راہِ فقر میں کامیابی کی ریت یہی ہے کہ طالب اپنی جان، مال، اولاد سب اللہ کے حوالے کر دے اور نکتہ صرف ذاتِ حق تعالیٰ ہی ہو۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بیٹے حضرت عبدالرحمن ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے غزوہ بدر میں مشرکینِ مکہ کے ساتھ تھے۔ چنانچہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ایک روز حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہنے لگے بابا جان! بد ر کے روز آپؓ میرے نشانے پر آئے لیکن میں نے درگزر سے کام لیا اورآپؓ کو قتل نہیں کیا۔ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا ’’(اے میرے بیٹے!) اگر تو میری تلوار کی زد میں آجاتا تو خدا کی قسم میں ضرور تجھے قتل کر دیتا۔‘‘
حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنی پیاری اور نو عمر صاحبزادی حضرت عائشہؓ کا نکاح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیا یہ بھی آپؓ کی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ہی کی مثال ہے۔ایک دفعہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’ مجھے تمہاری دنیا میں تین چیزیں پسند ہیں۔ خوشبو ، نیک خاتون اور نماز‘‘۔
سیّدنا صدیق اکبرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مجھے بھی تین چیزیں ہی پسند ہیں۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرہ اقدس کو تکتے رہنا ، اللہ کا عطا کردہ مال رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدموں میں نچھاور کرنا اور میری بیٹی کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عقد میں آنا۔‘‘ (منہیات ابن حجر 22 – 21 )
غارِ ثور کی تنہائی میں آپؓ کے سوا کوئی زیارت سے مشرف ہونے والا نہ تھا اس طرح مالی قربانی بھی اس قدر فراوانی کے ساتھ نصیب ہوئی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’سب سے زیادہ میری رفاقت اختیار کرنے والے اور مجھ پر مال خرچ کرنے والے ابوبکرؓ ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری516:1 )
آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے آپؓ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ اقدس دوگھڑی کیلئے اوجھل ہو جاتا تو آتشِ فرقت میں پروانہ وار جلنے لگتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سیّدنا صدیق اکبرؓ کی والہانہ محبت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے سیّدہ عائشہؓ فرماتی ہیں ’’میرے والد گرامی سارا دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر رہتے جب عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر گھر آتے تو جدائی کے یہ چند لمحے کاٹنا بھی ان کے لیے دشوار ہوجاتے۔ ساری ساری رات جلنے کی وجہ سے ان کے جگر سوختہ سے اس طرح آہ اُٹھتی جس طرح کوئی چیز جل رہی ہے اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی جب تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرہ اقدس کو دیکھ نہ لیتے۔‘‘
جب جان و مال اور فکر و خیال کا مرکز و محور محبوب کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور نہ رہے تو پھر عشق و محبت کو کامل گردانا جاتا ہے۔ عشق و محبت کے اس معیار پر جب ہم حضرت سیّدنا صدیق اکبرؓ کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں تو بلا خوف و تردید یہ کہہ گزرتے ہیں کہ عشق و محبت کو جس معیار پر جس پیمانے پر جس سمت سے، جس رنگ سے بھی پرکھا جائے حضرت ابو بکر صدیقؓ ہر لحاظ سے اس پر پورا اترتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپؓ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں بلند و اعلیٰ مرتبہ ملا۔
آپؓ کے اخلاص اور وفاشعاری نے قیامت تک آنے والے ہر طالبِ مولیٰ کو سلیقہ محبت اور قرینہ ادب سکھا دیا جو دیدارِ الٰہی اور قرب الٰہی کا خواہشمند ہے۔ آج کے مادیت پرستی کے دور میں جب نفسا نفسی کا عالم ہے اگر ہم نظر دوڑائیں تو میرے مرشد کریم کی ذات جو مثلِ صدیق اکبرؓ دینِ اسلام کی راہ میں اپنی جان، مال اور اولاد کو حق تعالیٰ کی راہ میں قربان کر کے اسلام کی اصل روح اور فقر کو زندہ کئے ہوئے ہیں جس سے بے شمار طالبانِ مولیٰ فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے بے پناہ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بنا پر آپؓ کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سلطان العاشقین کا لقب عطا ہوا۔ آپ مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہیں۔ اور فقر کی تعلیمات اور معرفتِ الٰہی کے پیغام کو ساری دنیا میں عام کرنے کیلئے خانقاہ اور مسجد کی تعمیر کا بھی آغاز کیا ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صرف دینِ اسلام کی اصل تعلیمات اور فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور لوگوں کی معرفت الٰہی اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی کا حصول ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مرشد کریم کے ساتھ خلوصِ نیت اور صدق سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور ہمیں بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح ایسا سوز او ر عشق عطا کرے کہ ہم ہر چیز سے بیگانہ ہو کر صرف ذاتِ خدا تعالیٰ میں فنا ہو جائیں۔ (آمین)

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے            دلِ مرتضیٰ سوزِ صدیقؓ دے

اپنا تبصرہ بھیجیں