Shan-e-Mustafa

شانِ مصطفیؐ Shan-e-Mustafa

Rate this post

شانِ مصطفیؐ-Shan-e-Mustafa

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری۔ سیالکوٹ

Shan-e-Mustafa. اللہ پاک نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مقدس ذات کو تمام بنی نوع انسان کے لیے رحمتہ للعالمین بناکر بھیجا۔آپؐ کی مقدس ہستی نہ صرف بندے کو اللہ سے ملانے اور بزمِ جہاں میں شمعِ ہدایت بن کر آئی بلکہ آپؐ تمام بشری کمالات و محاسن کا مجموعہ اور سراپا حسن و جمال بن کر تشریف لائے۔ پیکر دلربا بن کر آئے، روحِ ارض و سما بن کر آئے، سب انبیا پیغمبرِ خدا بن کر آئے لیکن آپؐ حبیبِ خدا بن کر آئے۔ آپؐ کو ربِ کائنات نے چونکہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو احسن تقویم کا شاہکار بناکر بھیجا۔ Shan-e-Mustafa

نبوت و رسالت کے تمام تر درجات، کمالات، معجزات اور فضائل جو مختلف انبیا کرامؑ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں بدرجہ اُتم پائے جاتے ہیں بلکہ جو سب پیغمبروں اور رسولوں کو جدا جدا ملا وہ میرے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہ صرف یکجا ملابلکہ کئی گنا اور کئی درجے زیادہ ملا۔آپؐ کے احسانات اور رحمتوں کا عالم یہ ہے کہ سارے جہانوں کے لیے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود سراپا رحمت ہے۔

سورۃ انبیا میں ارشاد ربانی ہے :
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلعٰلَمِیْنَ (سورۃالانبیا۔107)
ترجمہ: بیشک آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔Shan-e-Mustafa
اللہ پاک نے آپؐ کو دنیا و آخرت میں بے شمار خصائص و امتیازات سے نوازا ہے۔جن میں سے بعض کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

تخلیق میں اوّلیت

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ پاک کی اوّل تخلیق ہیں۔عالم کون و مکان کو ابھی وجود بھی نہیں ملا تھا کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب کو عدم سے عالم وجود میں منتقل فرمادیا۔
 حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں:
میں نے عرض کیا: یارسول اللہؐ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، مجھے بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کیا چیز پیدا فرمائی؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اے جابر! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبیؐ کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا پھر وہ نورمشیتِ ایزدی کے مطابق جہاں چاہتا سیر کرتارہا۔اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم، نہ جنت تھی نہ دوزخ، نہ فرشتہ تھا نہ آسمان، نہ زمین تھی نہ سورج نہ چاند، نہ جن تھا نہ انسان۔جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایاکہ مخلوقات کو پیداکرے تو اس نور کوچار حصوں میں تقسیم کر دیا پہلے حصے سے قلم بنایا، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش۔ پھر چوتھے حصے کو چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصے سے عرش اٹھانے والے فرشتے بنائے اور دوسرے سے کرسی اور تیسرے سے باقی فرشتے۔ پھر چوتھے حصے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیاتو پہلے سے آسمان بنائے، دوسرے سے زمین، تیسرے سے جنت اور دوزخ۔ (امام بخاری کے دادا استاد امام عبد الرزاقؒ نے اپنی تالیف ’’المصنف‘‘ میں یہ حدیث نقل کی ہے)۔
Shan-e-Mustafa

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ میں تخلیق کے لحاظ سے تمام انبیا سے اوّل اور مبعوث ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری نبی ہوں۔(دیلمی، الفردوس بما ثور الخطاب 282:3  رقم:4850)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے ربّ کی بارگاہ میں نور کی صورت میں موجود تھا۔

نبوت میں اوّلیت

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان ہے کہ جس طرح خلقت میں شرفِ اوّلیت حاصل ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نبوت و رسالت میں اوّلیت کے درجے پر فائز ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! یہ ارشاد فرمائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شرفِ نبوت سے کب نوازا گیا؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’(میں اس وقت بھی نبی تھا) جبکہ آدم علیہ السلام کی تخلیق ابھی روح اور جسم کے مرحلے میں تھی۔‘‘(ترمذی) (مقامِ حبیبؐ۔ امام احمد رضا خان )
حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت سے خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جبکہ آدمؑ ابھی خمیر سے پہلے مٹی میں تھے اور میں تمہیں بتاؤں کہ میری نبوت کے بارے میں پہلی خبر ابراہیم ؑ کی دعا تھی اور عیسیٰؑ کی بشارت تھی اور اس کے علاوہ میری والدہ کا وہ خواب تھا جو انہوں نے میری ولادت سے پہلے دیکھا تھا اور انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس کے سبب شام کے محلات روشن ہو گئے۔‘‘ (خصائصِ مصطفیؐ)
Shan-e-Mustafa

عالمِ ارواح میں تصدیقِ رسالت

عالمِ ارواح میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیا سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نصرت و تائید کا پختہ عہد لیا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور (اے محبوبؐ ! وہ وقت یاد کریں) جب اللہ نے انبیا سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے۔ فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا:ہم نے اقرار کیا۔فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔(سورۃ آل عمران۔ 81)

اس آیتِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیا کرامؑ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت پر ایمان لائے اور اس اقرار کے صلے میں اللہ پاک نے تمام انبیا کرام علیہم السلام کو نبوت کے منصب پر فائز کیا۔

عمومیتِ رسالت

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری سے قبل تمام انبیا کرامؑ کسی خاص علاقے یا خاص قوم کے لیے آتے رہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے رحمت بنا کربھیجا گیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور اے محبوبؐ! ہم نے آپؐ کو تمام بنی نوع انسان کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔(سورۃسبا۔28)

سابقہ کتبِ سماویہ میں ذکرِ خیر الوریٰ

تمام الہامی کتب و صحائف میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری کے تذکرے اور بشارتیں بڑی کثرت سے بیان ہوتی رہی ہیں۔
حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں۔‘‘

امام جلال الدین سیوطیؒ روایت درج کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے قبل کفار پر غلبہ کی دعا مانگا کرتے تھے اور کہتے ’’ اے اللہ! ہم اْمی نبی کے وسیلے سے تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں کہ ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔ پس ان کی مدد کی جاتی۔‘‘ (خصائصِ مصطفیؐ)

ختمِ نبوت

حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت و رسالت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، اپنے اختتام کو پہنچ کر ختمِ نبوت کے پیکرِ دلنواز میں ظہور پذیر ہوا ۔ جس کے بعد قیامت تک کسی قوم ،ملک یا زمانے میں نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اب ہر زمانہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ ہے۔ اللہ پاک نے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شریعت سے دینِ اسلام کی تکمیل فرما دی اور بنی نوع انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وجود کی صورت میں آخری نعمت عطا کردی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین کے پسند کر لیا۔ (سورۃالمائدہ۔3)

دیگر انبیا کے مقابلہ میں رسول اکرمؐ کو دی گئی فضیلتیں

سیدّناجابرؓ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
مجھے پانچ ایسی خوبیاں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔
۱۔میں ایسے رعب کے ذریعے مدد کیا گیا ہوں جو ایک مہینے کی مسافت سے اثرانداز ہوتا ہے۔
۲۔میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کر دینے والی بنا دی گئی ہے۔ چنانچہ میرا ہر امتی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے۔
۳۔میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہیں کیا گیا۔
۴۔مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔
۵۔میں تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں جبکہ اس سے پہلے نبی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔(شانِ مصطفیؐ)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان ساری مخلوق سے بڑھ کر ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر دنیا کے کونے کونے میں قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر(اپنے ذکر کے ساتھ ملا کردنیا و آخرت میں ہر جگہ ) بلندفرما دیا۔ (سورۃالانشراح۔3)

 

 قرآنِ کریم کی حفاظت

حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک وحی کے نزول کا سلسلہ جاری رہاجس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے صحائف اور آسمانی کتب نازل فرمائیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توریت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوانجیل سے نوازا گیا۔تاہم ان انبیا کرام ؑپر نازل ہونے والی الہامی کتب کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ پاک نے نہیں لی۔اس لیے ان میں سے کوئی بھی کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں۔ وقت کے علما نے اپنے مفاد اور نظریۂ ضرورت کے مطابق ان کتب میں اس قدر ردّ و بدل کر ڈالی ہے کہ اب ان کتب کا ایک حصہ بھی اپنی حقیقی شکل اور متن میں موجود نہیں ہے۔ نبی آخر الزماں ، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتاب ’’قرآنِ مجید‘‘ سے نوازا۔قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سب سے بڑی خاصیت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیاہے۔کئی صدیا ں گزرنے کے بعد بھی اس الہامی کتاب کے الفاظ تو دور کی بات ایک زیر زبر میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔یہ کتاب تا قیامِ قیامت نہ صرف اپنی اصلی شکل میں موجود رہے گی بلکہ مخلوقِ خدا کو ہدایت بھی عطا کرتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ(سورۃ الحجر۔9)
 ترجمہ: بے شک ہم نے اس ذکر (قرآن ) کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ 

Shan-e-Mustafa.  حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا اورساتھ ہی الہامی کتب کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ اب قیامت تک نہ تو کوئی نبی یا رسول آئے گا اورنہ ہی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوگی۔ قرآنِ مجیدہی رشد و ہدایت کا واحد سرچشمہ ہے اس لیے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا۔

شریعتِ محمدیؐ

 حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کونہ صرف الہامی کتب سے نوازا گیا بلکہ یہ تینوں رسول اپنی اپنی شریعت بھی لے کر آئے۔رسول اور نبی میں فرق ہی یہ ہے کہ رسول اپنی شریعت لے کر آتا ہے اور نبی اسی شریعت کے مطابق لوگوں کو راہِ حق کی طرف بلاتاہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ایک رسول کی شریعت میں اس قدر بگاڑ پیدا ہو جاتا کہ سدھار ممکن نہ رہتا تو اللہ پاک نئے رسول کو نئی کتاب اور شریعت عطا فرماتااور گزشتہ رسول کی شریعت منسوخ ہو جاتی۔ ایک رسول سے دوسرے رسول کے درمیان بے شمار انبیا کرام ؑ بھی آتے رہے اوررائج شریعت کے مطابق لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دیتے رہے۔حضرت موسیٰؑ، حضرت داؤدؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی شریعت جامع اور مکمل نہ تھی۔خاتم النبیین سرورِ کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا ہونے والی شریعت ایک مکمل ضابطۂ حیات اور ہر لحاظ سے جامع ہے۔ شریعتِ محمدیؐ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدائش سے وفات تک بلکہ وفات کے بعد کفن ، دفن اور دیگر معاملات سے بھی آگاہ کردیا۔ شریعتِ محمدیؐ اس لحاظ سے بھی جامع اور مکمل ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بذاتِ خود شریعت کے ایک ایک پہلو کو عملاًپیش کرکے مثال قائم کر دی۔غم ہو یا خوشی، حقوق العباد ہوں یا معاملاتِ زندگی ہر بات کا جواب ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طیب و طاہر اسوۂ حسنہ کی صورت شریعت ِ محمدی میں موجود ہے۔ شریعتِ محمدی سے باہر کچھ بھی نہیں۔ بڑے سے بڑا عالم، فاضل، ولی ، فقیر جس بھی مقام و مرتبہ پر پہنچا وہ شریعتِ محمدیؐ پر عمل پیرا ہو کر ہی کامیاب و کامران ہوا۔ 

سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل اور موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
شریعتِ مطہرہ کی مکمل پیروی اور اتباع کے بغیر سلوک و معرفت کا کوئی مقام اور منزل حاصل نہیں ہو سکتی اور فقر کے تمام مدارج بھی شریعت کی برکت سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ (سلطان العاشقین)

اولادِ آدم کی سرداری

Shan-e-Mustafa. حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس عظیم شان سے نوازا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اولادِ آدم کے دنیا میں بھی سردار ہیں اور روزِ حشر بھی اولادِ آدم کی سرداری آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا ہو گی۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:   
’’روزِ محشر میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا۔‘‘(مسلم)Shan-e-Mustafa

لوائے حمد کے علم بردار 

لوائے حمد سے مراد اللہ ربّ العزت کی حمد و ثنا کا جھنڈا ہے ۔احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ روزِ قیامت یہ شرف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا کیا جائے گا اور آپؐ حمدِ باری تعالیٰ کا علم بلند کیے ہوئے ہوں گے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’قیامت کے دن حمدِ الٰہی کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا، میں یہ بات فخر سے نہیں کہتا۔‘‘(المستدرک)
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی ایسی ہی احادیث روایت کی گئی ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے:
 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا’’میں قیامت کے دن (تمام) اولادِ آدم کا قائد ہوں گااور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگااور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا،حضرت آدم ؑ اور دیگر تمام انبیا کرامؑ اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں یہ بطور فخر نہیں کہہ رہا۔‘‘

لوائے حمد کا سایہ اگر محشر میں سر پر ہے
تو اس دن آفتاب ِحشر کی تیزی کا کیا ڈر ہے

انبیا کرامؑ کے امام

روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام انبیا کرامؑ کے امام ہوں گے اور شفاعت دلانے والی ذات بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہو گی۔حضرت ابی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’روزِ محشر میں سب نبیوں کا امام اور خطیب ہوں گا۔‘‘(ترمذی) 

اہلِ محشر کے لیے نجات کی بشارت

Shan-e-Mustafa. روزِ محشر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی اہل ِ محشر کو نجات کی خوشخبری سنانے والے ہوں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
’’روزِ محشر میں ہی خوشخبری دوں گا جب تمام لوگ یاسیت و ناامیدی میں مبتلا ہوں گے۔‘‘ (ترمذی)

پل صراط سے گزرنے میں اوّلیت

Shan-e-Mustafa.آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظیم الشان ذاتِ مبارکہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی امت کے ہمراہ تمام انبیا سے پہلے پل صراط سے گزریں گے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’پل صراط جہنم کے اوپر ہو گا،رسولوں میں سے سب سے پہلے میں اپنی امت کے ہمراہ اسے عبور کروں گا۔‘‘(بخاری) (روزِ محشر اور شانِ مصطفیؐ)

شفاعتِ کبریٰ کا عظیم شرف

شفاعتِ کبریٰ کی امتیازی اور انفرادی خصوصیت صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کی شان ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوئی۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی اور(میں یہ بطور) فخر نہیں کہہ رہا۔(ترمذی)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا ، اور سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی اور سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہوں گا اور سب سے پہلا شخص بھی میں ہی ہوں گا جسکی شفاعت قبول کی جائے گی۔(اس حدیث کو امام مسلم، ابو داؤد، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔)

جنت کی کنجیاں دستِ مصطفیؐ میں

اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا فرما دیں۔ اسی طرح آخرت میں بھی جنت کی کنجیاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا فرمائی جائیں گی۔حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’روزِ قیامت جنت کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔‘‘

عطائے کوثر و تسنیم

Shan-e-Mustafa.نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جنت الفردوس کی ایک خاص نہر کوثر عطا کی گئی ہے۔یہ نہر میدانِ محشر میں واقع ایک حوض میں گرتی ہے جسے حوضِ کوثر کہا جاتا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’بیشک ہم نے آپؐ کو (ہر خیر و فضیلت میں) کوثر عطا کی۔(سورۃ الکوثر۔1)Shan-e-Mustafa

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے:
کوثر ایک نہر ہے جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا کی جائے گی اس کے دونوں کناروں پرخولدار موتی ہوں گے اور نہر کے جام (آسمان کے) ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔(بخاری)

مصحفِ محمدیؐ

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کی جنت میں تلاوت کی جائے گی۔امام جلال الدین سیوطیؒ اور امام محمد یوسف صالحیؒ نے فرمایا :
جنت میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کتاب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی۔(خصائصِ مصطفیؐ)

زبانِ محمدیؐ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور اہلِ جنت کی زبان بھی عربی ہی ہو گی۔‘‘ (طبرانی)Shan-e-Mustafa

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا آپؐ کی یہ خوبی تمام خصائص سے افضل ہے۔چاند کے ٹکڑے ہونا، شجر و حجر کا سلام کرنا، رسالت کی شہادت دینا، درخت کے تنے کا رونا یہ سب معجزات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا۔اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام کو اپنا مستقل عمل قرار دیا۔اللہ پاک کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام مخلوق میں سے سب سے افضل اور محبوب ہیں بلکہ دونوں جہانوں میں تمام فضیلتیں اور برکتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے سے ہی ہیں۔اللہ پاک اپنی رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے سے ہم سب کوا حسن خاتمہ نصیب فرمائے اور اپنادیدار اور قربِ مصطفیؐ عطافرمائے۔ آمین۔

استفادہ کتب:
مقامِ حبیبؐ: تصنیف امام احمد رضا خانؒ
شانِ حبیبؐ کبریا: تصنیف علامہ عبدالرسول ارشد
خصائصِ مصطفیؐ: ڈاکٹر طاہر القادری
روزِ محشر اور شانِ مصطفیؐ:ڈاکٹر طاہر القادری
شانِ مصطفیؐ: تصنیف ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی

Shan-e-Mustafa

’’شانِ مصطفیؐ‘‘  بلاگ انگلش میں پڑھنے کے لیے اس ⇐لنک⇒   پر کلک کریں

 

 

37 تبصرے “شانِ مصطفیؐ Shan-e-Mustafa

  1. آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام مخلوق میں سے سب سے افضل اور محبوب ہیں بلکہ دونوں جہانوں میں تمام فضیلتیں اور برکتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے سے ہی ہیں۔اللہ پاک اپنی رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے سے ہم سب کوا حسن خاتمہ نصیب فرمائے اور اپنادیدار اور قربِ مصطفیؐ عطافرمائے۔ آمین۔

  2. آپؐ کے احسانات اور رحمتوں کا عالم یہ ہے کہ سارے جہانوں کے لیے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود سراپا رحمت ہے۔

  3. اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام کو اپنا مستقل عمل قرار دیا۔اللہ پاک کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام مخلوق میں سے سب سے افضل اور محبوب ہیں بلکہ دونوں جہانوں میں تمام فضیلتیں اور برکتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے سے ہی ہیں۔اللہ پاک اپنی رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے سے ہم سب کوا حسن خاتمہ نصیب فرمائے اور اپنادیدار اور قربِ مصطفیؐ عطافرمائے۔ آمین۔

  4. سبحان اللہ ماشااللہ انتہائی خوبصورت آرٹیکل ہے 💯🌹🌹🌹🌹❤❤❤❤

  5. آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان ساری مخلوق سے بڑھ کر ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر دنیا کے کونے کونے میں قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا ہے۔

  6. (سورۃالانبیا۔107)
    ترجمہ: بیشک آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔

  7. لوائے حمد کا سایہ اگر محشر میں سر پر ہے
    تو اس دن آفتاب ِحشر کی تیزی کا کیا ڈر ہے

  8. حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
    ’’میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور اہلِ جنت کی زبان بھی عربی ہی ہو گی۔‘‘ (طبرانی)

  9. آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان ساری مخلوق سے بڑھ کر ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر دنیا کے کونے کونے میں قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا ہے

  10. ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ’’اور اے محبوبؐ! ہم نے آپؐ کو تمام بنی نوع انسان کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔(سورۃسبا۔28)

  11. اللہ پاک اپنی رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلے سے ہم سب کوا حسن خاتمہ نصیب فرمائے اور اپنادیدار اور قربِ مصطفیؐ عطافرمائے۔ آمین۔

  12. نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے
    ” میری حقیقت میرے اور میرے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا “

  13. حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے:
    حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے ربّ کی بارگاہ میں نور کی صورت میں موجود تھا۔

  14. اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا فرما دیں۔ اسی طرح آخرت میں بھی جنت کی کنجیاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا فرمائی جائیں گی۔حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
    ’’روزِ قیامت جنت کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔‘‘

    عطائے کوثر و تسنیم

  15. حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ میں تخلیق کے لحاظ سے تمام انبیا سے اوّل اور مبعوث ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری نبی ہوں۔(دیلمی، الفردوس بما ثور الخطاب 282:3 رقم:4850)

  16. صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ۔ اس مضمون میں شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو شاندار انداز فقر سے بیان کیا گیا ہے

  17. آپؐ کو ربِ کائنات نے چونکہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو احسن تقویم کا شاہکار بناکر بھیجا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں