Book

سابقہ الہامی کتب میں تذکرئہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم | Sabiqa Ilhami Kutab Main Tazkara e Mohammad s a w w

سابقہ الہامی کتب میں تذکرۂ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

تحریر: مسز عنبرین مغیث سروری قادری۔ لاہور

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیروکاروں کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور تخلیق کیا اور پھر اس نور سے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا: ’’اے جابر (رضی اللہ عنہٗ) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے نور کو پیدا فرمایا‘‘۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’میں اللہ پاک کے نور سے ہوں اورتمام مخلوقات میرے نور سے ہیں‘‘۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عاشقین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نور کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جسمانی و باطنی اوصاف کو بھی سب سے پہلے متعین فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جن کمالات و اوصاف سے سجانا چاہتا تھا وہ اس نے دنیا کی کسی بھی شے کو تخلیق کرنے سے پہلے ہی طے کر لیے تھے اور پھر دنیا کو اس کے مطابق بنایا۔ دنیا کی تخلیق کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تمام اوصاف، کمالات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان اور دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری کا اعلان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے انبیا کو عطا کی جانے والی تمام آسمانی کتب اورصحائف میں بہت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا اور تمام انبیا نے عالم ِ ارواح میں اللہ سے کیے ہوئے عہد کی تکمیل میں خود بھی اپنی اپنی اُمتوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنے کی اطلاع دی اور ان کے اوصاف و کمالات سے بھی مطلع فرمایا تاکہ اُن کے آنے پر تمام اُمتیں ان کو پہچان کر اُن کی پیروی کر سکیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے ہی اُن کے ظاہری و باطنی اوصاف کا سابق انبیا کے علم میں ہونا اور اپنی امت سے اُن کا بیان کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام انبیا سے پہلے تخلیق کر چکا تھا۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس عہد کا ذکر کرتے ہوئے، جو اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق کے لیے تمام انبیاسے لیا تھا، فرماتا ہے:

ترجمہ:یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش میں سے جو کچھ دیا ہے، پھر تمہارے پاس ایک رسول اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔ پھر (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا ’’کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اورمیری طرف سے اس عہد کی ذمہ داری اٹھاتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا’’ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں‘‘۔ اللہ نے فرمایا ’’اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں‘‘۔ (آلِ عمران۔ 81)

چنانچہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے قبل تمام انبیا کی بعثت کا پہلا مقصد اپنی اُمت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد سے مطلع کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوصاف سے آگاہ کرنا تھا تاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا میں تشریف لے آئیں تو پچھلی امتوں کے لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نشانیوں سے آگاہ ہوں، تبلیغ ِ دین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد کریں۔ انبیا کرام علیہم السلام، جو اللہ تعالیٰ کے معصوم اور فرمانبردار بندے ہیں، نے اللہ سے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے اپنی تعلیمات میں جہاں ایک اللہ کی عبادت، اپنی اپنی عطا کردہ شریعت کی پیروی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمل کی تلقین کی وہاں آنے والے زمانے میں اللہ کے خاص بندے کے نزول کا بھی بطورِ خاص تذکرہ کیا۔ قرآنِ کریم بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پچھلی امتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوصاف سے اچھی طرح آگاہ تھیں۔
الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ  (الاعراف۔157)
ترجمہ: جس (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے اوصاف و کمالات کو اہل ِ کتاب اپنی تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَھُمْ (البقرہ۔ 146)
ترجمہ:جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس (نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔ 

قرآنِ کریم کی اس شہادت کے بعد کہ تمام گذشتہ کتب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد اور اوصاف کا تذکرہ ہے، دین ِ اسلام کے عالموں نے تحقیق شروع کی کہ ان کتابوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مبارک تذکرہ کن جگہوں اور کن الفاظ میں ہے تو انہیں اس وقت نہایت مایوسی کا سامنا کرنا پڑاجب انہیں تورات اور انجیل کا کوئی نسخہ بھی اپنی اصلی حالت میں نہ ملا اور جو نقلیں ملیں وہ آپس میں نہایت مختلف تھیں۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ عیسائی اور یہودی عالموں نے ان کتب میں تحریف کی ہے جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے۔
یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (سورۃ المائدہ۔13)
ترجمہ: بدل ڈالتے ہیں (یہودی) لفظوں کو ان کی جگہوں سے۔
لیکن قرآن کے بیانات اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت پر یقین رکھنے والے کچھ بزرگانِ دین نے نہایت خلوص اور عرق ریزی سے جستجو اور تحقیق کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کو کامیاب کیا اور انہیں تورات، زبور و انجیل کے ان نسخوں تک رسائی عطا کی جن میں پیغمبر ِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبعوث ہونے کی بشارتیں موجود تھیں۔ چنانچہ یہ سب روایتیں اب تورات و انجیل کے موجودہ نسخوں میں موجود ہوں یا نہ ہوں لیکن مسلمانوں کی مذہبی کتابوں، قرآنِ مجید کی تفسیروں اور کتب ِ سیر و تواریخ میں مندرج ہیں۔

زیر ِ نظر مضمون میں ایک جائزہ پیش کیا جا رہا ہے کہ سابقہ الہامی کتب میں ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تذکرہ مبارک کن الفاظ میں موجود ہے۔

تورات

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلہ نبوت کے دوسرے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کا نام تورات ہے جو آپ علیہ السلام پر 1450ق م کے لگ بھگ نازل ہوئی۔ تورات کے پانچ حصے ہیں جن کو پانچ کتابیں کہا جاتا ہے۔ پانچویں کتاب کا نام استثناء ہے ۔اس کتاب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقامِ بعثت کا واضح تذکرہ ان الفاظ میں موجود ہے 

جَاّ الرَّبُّ مِنْ سِیْنَائَ اشْرَقَ لَنَا مِنْ سَاعیر اسْتَعْلَنَ مِنْ جَبَلِ فَارَانَ  (تورات (استثنا) باب33۔ آیت 2)
ترجمہ:خدا طورِ سینا پر تجلی فرما ہوا اور کوہِ سعیر سے اس کے انوار ظہور پذیر ہوئے اور فاران کی چوٹیوں سے خود جلوہ نما ہوا، دس ہزار قدسیوں کے ساتھ۔ 

تورات کی اس آیت کی تفسیراس طرح سے ہے کہ طورِ سینا وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوتا تھا اور آپؑ کو تورات بھی اسی پہاڑ پر عطا ہوئی۔ کوہِ سعیر وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نبوت کا اعلان فرمایا اور یہیں انہیں انجیل عطا ہوئی۔ فاران کی چوٹیاں مکہ مکرمہ میں ہیں جہاں پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبوت عطا ہوئی اور قرآنِ کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ دس ہزار قدسیوں سے مراد وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے جن کی تعداد تاریخی کتب کے مطابق دس ہزار ہی تھی۔ اس آیت کی شرح یوں بھی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے انوار و تجلیات کے مظہر تھے جبکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اللہ کی ذات پاک کے مکمل مظہر ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام کی صورت میں اللہ کے انوار و تجلیات کا ظہور ہوا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صورت میں اللہ کی ذات کا ظہور ہوا۔

تورات میں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت اور صفات کے متعلق اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرماتا ہے:
ترجمہ:میں بنی اسرائیل کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تمہارے جیسا نبی قائم کروں گا اور میں اپنا کلام اُن کے منہ مبارک میں رکھوں گا‘‘ (یعنی زبان ان کی ہوگی اور کلام میرا)۔ (تورات۔ باب 18آیت 18)
اس آیت کی شرح بہت واضح ہے کہ وہ نبی جس کا یہ مقام ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کی زبان کے ذریعے مخلوق سے کلام کرے گا وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسمٰعیل سے ہوگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ صفت قرآن پاک میں بھی مذکور ہے کہ:
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی ۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی (سورہ النجم3-4)
ترجمہ: اور یہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے بلکہ وہی فرماتے ہیں جو ان پر وحی کی جاتی ہے۔ 

یہودیوں کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت کی وجہ یہی تھی کہ انہیں یہ بات قبول نہ تھی کہ سب سے عظیم شان کا حامل نبی ان کی قوم بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسمٰعیل سے ہو۔ بنی اسرائیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد تھے۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد تمام انبیا بنی اسرائیل سے تشریف لائے جس کی وجہ سے یہ قوم خود کو باقی تمام اقوام سے برتر خیال کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے جس عظیم نبی کے آنے کی خبریں تواتر سے تمام صحائف اور کتب میں دے رہا تھا وہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد ایک لمبے عرصے کے بعد بنی اسمٰعیل سے ظاہر ہونے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل کو نبوت اپنی قوم سے جاتی نظر آئی تو انہوں نے اپنی کتب میں موجود اس عظمت والے نبی کی تمام نشانیوں کو مٹا دیا یا تبدیل کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ جس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کر کے رہتا ہے چنانچہ اس نے بنی اسرائیل کے اس بغض کو قرآن میں ظاہر کر دیا کہ وہ اللہ کے سب سے عظیم اور آخری نبی کی نشانیاں چھپانے کے لیے اللہ کی آیات کو تبدیل کر دیتے ہیں۔

تورات میں کئی مقامات پر حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کی نعت و صفات کا تذکرہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ تورات میں فرماتا ہے:
وہ میرے ایسے عبد ِخاص ہیں کہ میری ذات ان کی وجہ سے خوش ہو گئی ہے۔
وہ میرے بندے خاص ہیں اور پسندیدہ، وہ میری مسرت و خوشی ہیں، میں ان پر اپنی مخصوص روح کا فیضان کروں گا۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی شان ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
میں اُن پر وحی نازل کروں گا تب تمام امم و اقوام میں ان کا عدل ظاہر ہوگا۔ وہ امتوں کو مختلف وصیتیں فرمائیں گے، وہ قہقہہ مار کر نہیں ہنسیں گے اور نہ اُن کی آواز بازاروں میں سنی جائے گی۔ (حق کو دیکھنے سے) اندھی آنکھوں کو نور عطا کریں گے، (حق کے سماع سے) بہرے کانوں کو قوتِ سماعت عطا کریں گے اور مردہ دلوں کو حیات و زندگانیِ دوام سے مشرف فرما دیں گے۔ جو میں اُن کو عطا کروں گا وہ اور کسی کو نہیں عطا کروں گا (یعنی دوسرے انبیا کے کمالات و فضائل محدود ہوں گے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کمالات، فضائل و معجزات لامحدود ہوں گے)۔ وہ احمد ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لائیں گے۔ ایسی حمد جو انوکھے انداز و اسلوب میں ہوگی اور ان صفات کے ساتھ جو پہلے کسی نے بیان نہیں کی ہوگی۔ وہ زمین کی انتہا یعنی ساحل ِ سمندر کے قریب ظہور فرما ہوں گے۔ سب روئے زمین کو اور اس کے رہنے والوں کو نوید ِ فرحت وسرور سنانے والے ہوں گے (یعنی تمام انبیا کی نبوت کسی ایک قوم کے لیے تھی سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام روئے زمین کے لیے نبی ہیں) ان کی امت مقام بلند پر چڑھتے ہوئے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ   کا نغمہ الاپیں گے اور ہر مکانِ رفیع پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے والے ہوں گے۔

ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صفت و نعت کا بیان یوں ہے:
نہ وہ ضعیف و ناتواں ہوں گے اور نہ مغلوب۔ نہ خواہشاتِ نفس کی طرف مائل ہوں گے اور نہ بازاروں میں شور و شغب کرنے والے بلکہ اُن کی آواز بھی بازاروں میں سنائی نہیں دے گی۔ صلحا و اخیار کو، خواہ وہ ضعیف کیوں نہ ہوں، ذلیل و رسوا نہیں کریں گے بلکہ وہ مخلصین و صدیقین کو قوی و توانا بنائیں گے۔ وہ فروتنی و عاجزی میں لوگوں کے ملجیٰ و ماویٰ اور آسرا و سہارا ہیں۔ وہ اللہ کے ایسے نور ہیں جن کو بجھایا نہ جا سکے گا اور نہ ان کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ حتیٰ کے زمین میں میری حجت و دلیل راسخ ثابت ہو جائے گی اور جہالت و لاعلمی کا عذر ختم ہو جائے گا۔ انسان تو انسان جن بھی ان کی کتاب کی اطاعت و اتباع کریں گے۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہٗ اور حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہٗ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودی تھے اور تورات کے عالم تھے۔ چنانچہ قرآن پاک کی ان آیات کے نزول کے بعد، جن میں اللہ تعالیٰ نے امت ِ محمدیہ کو آگاہ فرمایا تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صفات اور بعثت کے متعلق تورات و انجیل میں آیات موجود ہیں، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہٗ اور حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہٗ سے ان صفات کے متعلق دریافت فرمایا تو انہوں نے بھی کم و بیش وہی صفات بتائیں جو مندرجہ بالا آیاتِ تورات میں مذکور ہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہٗ سے دریافت کیا کہ تورات میں اوصافِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کس طرح بیان فرمائے گئے ہیں۔ انہوں نے جواباً فرمایا کہ ہم اس میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں ’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں ان کی جائے پیدائش مکہ مکرمہ ہے اور مقامِ ہجرت مدینہ طیبہ۔ اللہ کے یہ رسول نہ فحش گو ہیں اور نہ بازاری زبان استعمال کرنے والے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے بلکہ عفو سے کام لینے والے ہیں اور ایذا پہنچانے والوں کو دعاؤں سے نوازنے والے ہیں۔ ان کی امت بہت زیادہ حمد و ثنا کرنے والی ہوگی۔ ہر بلندی پر چڑھتے وقت عظمت ِ باری تعالیٰ کو دیکھ کر اللہ اکبر کہیں گے اور ہر نشیب میں اترتے وقت تسبیح و تحمید بجا لائیں گے۔ (نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کے لیے) ہر وقت سورج کا خیال رکھتے ہیں اور جونہی نماز کا وقت آئے ادا کرتے ہیں‘‘۔ (خصائص ِ کبریٰ)

حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ نے حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے سورۃ البقرہ کی آیت ’’جنہیں ہم نے کتاب عطا کی وہ اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے‘‘ کے متعلق دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا ’’اے عمر رضی اللہ عنہٗ! میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا تو بے اشتباہ پہچان لیا اور میرا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہچاننا اپنے بیٹوں کو پہچاننے سے بدرجہا اُتم اور اکمل ہے‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ نے پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ نے جواب دیا’’اُن کے اوصاف اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب تورات میں وضاحت سے بیان فرما دئیے ہیں‘‘۔

عطا بن یسارؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ بن عمرو بن العاص سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ صفات دریافت کیں جو تورات میں آئی ہیں۔ انہوں نے فرمایا ’’خدا کی قسم! تورات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وہی صفات بیان ہوئی ہیں جو قرآنِ مجید میں ہیں۔ (چنانچہ تورات میں ہے) ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور اُمیوں کی حفاظت کرنے والا بنا کربھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میرے بندے میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام ’متوکل‘ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ سخت گو ہیں، نہ سخت دل، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں‘‘۔ (مسند احمد۔ بخاری شریف۔ البیہقی)

زبور

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانشینوں میں حضرت داؤد علیہ السلام بڑے عالی مرتبت پیغمبر گزرے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زبور عطا فرمائی۔ زبور کا سالِ نزول تقریباً 1000ق م کے لگ بھگ ہے۔  اس الہامی کتاب میں بھی حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے نزول کی خبر اور اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔

علامہ ابن ِ جوزی رحمتہ اللہ علیہ ابن ِ قتیبہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ زبور میں مرقوم ہے’’اللہ تعالیٰ نے ان (آنے والے نبی) کو صیفون (عرب) سے ظاہر فرمایا۔ وہ قابل ِ ستائش اکلیل و تاج ہیں‘‘۔

زبور کی یہ آیت یقینا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق ہی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے کوئی نبی صیفون (اس زمانے میں عرب کا نام) سے ظاہر نہ ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ’’قابل ِ ستائش‘‘ کا لقب زبور میں استعمال کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ناموں محمدؐ ، احمد اور محمود کی طرف اشارہ ملتا ہے جن کے معنی بھی ’’تعریف کے قابل‘‘ ہی ہیں۔ ’’اکلیل و تاج‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام عالموں کے سردار ہیں اور تمام مخلوق پر اُن کی نبوت و حکومت ہے۔

زبور کے ایک اور باب میں منقول ہے کہ :
’’آنے والے نبی سمندر سے اور دریاؤں سے منتہائے ارض تک کو اپنے تصرف میں لے آئیں گے۔ اہل ِ جزائر اُن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے اور دشمن خاک بوسی کریں گے۔ بادشاہ نذرانے لے کر حاضر ہوں گے اور جن تعظیم بجا لائیں گے اور تمام امم و قبائل اُن کے سامنے اطاعت سے پیش آئیں گے کیونکہ وہ مجبور اور مفلوک الحال غربا و ضعفا کو زبردستوں اور ظالموں کے پنجہ سے چھٹکارا دلائیں گے۔ ضعیفوں، ناتوانوں پر رافت و رحمت فرمائیں گے۔ بلادِ سبا کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اُن پر ہر وقت درود پڑھا جائے گا اور ہر دن ان کے لیے برکت دی جائے گی اور اُن کا ذکر ہمیشہ قائم و دائم رہے گا‘‘۔

جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اُس وقت تک تمام انبیا کرام ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے اس وقت نبیوں کے سوا عام لوگوں کے لیے یہ طے کرنا ناممکن تھا کہ یہ آیات کس نبی کی شان میں نازل ہوئیں لیکن آج جب تمام انبیا کرام کا ظہور ہو چکا تو یہ سمجھنا کسی کے لیے بھی مشکل نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیات میں جس نبی کی اتنی عظیم شان کو بیان کیا وہ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوا اور کوئی نہیں۔

زبور شریف کے ایک اور باب میں تعریف ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان الفاظ میں کی گئی ہے:
’’اے قدرتِ الٰہیہ اور سطوتِ خداوندی کے مظہر نبی! اپنی تلوار حمائل کرو کیونکہ تمہاری عزت و عظمت اور شرائع و احکام کا اجرا تمہارے زورِ بازو کے ساتھ وابستہ ہے۔ تمہارے تیر تیز کیے ہوئے ہیں اور اقوام و اُمم تمہارے آگے تعظیماً جھکنے والی ہیں‘‘۔

پس یہ آیات بھی ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں ہی ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا کسی نبی نے اللہ کے دین کی تبلیغ کے لیے اپنے دشمنوں سے غزوات نہ لڑے اور نہ ہی کسی نبی کو ایسی عظیم فتح نصیب ہوئی کہ تمام اقوام اُن کے اور اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے زیرِ نگیں آ گئیں۔

 ابن ِ ابی حاتم نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداؓ ے کہا کہ میں نے زبور کے ایک نسخے میں ایک سو پچاسی سورتیں دیکھیں جن کی چوتھی سورت میں یہ الفاظ تھے ’’اے داؤدؑ سنو! اور سلیمانؑ سے کہہ دو کہ لوگوں کو بتا دیں کہ زمین میری ہے اور اس کا وارث میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور ان کی امت کو بناؤں گا‘‘۔ (خصائص ِ کبریٰ۔ جلد1 صفحہ 65)

علامہ سیوطیؒ نے حضرت وہب بن منبہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو خوش خبری دی ’’اے داؤدؑ! تمہارے بعد ایک نبی آئے گا جس کا نام احمد اور محمد ہوگا جس سے میں کبھی ناراض نہ ہوں گا اور وہ کبھی میری نافرمانی نہیں کرے گا میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور ان کی امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی ہے‘‘۔ (خصائص ِ کبریٰ۔ جلد1 صفحہ 29)

زبور شریف میں اُمت ِ محمدیہ کی تعریف اللہ تعالیٰ اس انداز سے فرماتا ہے:
’’ربّ تعالیٰ کی تازہ اور نو بنو تعریف کرو۔ اس ذاتِ اقدس کی حمد و ثنا بجا لاؤ جس کا مسکن صالحین کے قلوبِ منورہ ہیں۔ (بنی) اسرائیل کو اپنے خالق پر خوش ہونا چاہیے اور صیہون والے گھروں پر کیونکہ اس نے اپنے آخر الزماں پیغمبر کے لیے اُن کی امت کو چن لیا ہے اور اس کو خصوصی نصرت و اعانت سے نوازا ہے اور ان کی بدولت صلحا و اتقیا کو کرامت و عزت کے ساتھ مضبوط و توانا کر دیا ہے۔ اس امت کے افراد اپنے مولا جل و علیٰ کی حمد و ثنا اپنی خوابگاہوں میں جاری رکھیں گے۔ بلند آوازوں (اذانوں) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کریں گے۔ ان کے ہاتھوں میں دو دھاری تلواریں ہوں گی تاکہ وہ لوگ جو خالق و مالک کو بھول گئے ہیں اور اس کی عبادت نہیں کرتے، ایسے باغی امم و اقوام کے ملوک کو قیود اور بیڑیوں میں جکڑیں اور ان کے ا مرا و اشراف کے گلے میں طوق ڈالیں‘‘ (امت ِ محمدیہ پر جہاد کی فرضیت کی طرف اشارہ ہے)۔

تسبیحاتِ سلیمان ؑ

حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے مقدس فرزند اور اپنے عہد کے عظیم حکمران حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی اپنے پیش رو انبیا کی طرح اس عظیم نبی ِعربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نزول کی بشارت دی اور یہ بشارت اس لحاظ سے سب سے واضح ہے کہ اس میں اشاروں کنایوں سے کام لینے کی بجائے صاف طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اسم ِ گرامی بھی بتا دیا گیا ہے۔ چنانچہ تسبیحاتِ سلیمان علیہ السلام میں ہے:
’’خلو محمدیم زہ رو دی زہ رَعی‘‘ (تسبیحاتِ سلیمانؑ۔ پ12-5)
ترجمہ:وہ ٹھیک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہیں وہ میرے محبوب ہیں میری جان‘‘۔

صحف ِ حضرت یسعیاہ علیہ السلام

حضرت سلیمان علیہ السلام کے جانشین انبیا میں سے حضرت یسعیاہ علیہ السلام (یا حضرت شعیاہ علیہ السلام) نے اپنے صحیفے میں جو الہامی الفاظ بیان فرمائے ہیں وہ واضح طور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت، واقعۂ ہجرت اور غزوات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
ترجمہ:’’بیابان اور اس کی بستیاں، قیدار کے آباد گاؤں میں اپنی آواز بلند کریں گے۔ سلع کے باشندے ایک گیت گائیں گے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے للکاریں گے، وہ خدا کا جلال ظاہر کریں گے‘‘۔(یسعیاہ باب 42 آیت 11)

اس بیان میں بیابان سے مراد صحرائے عرب ہے۔ قیدار حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بیٹے تھے جن کی اولاد سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے۔ ’سلع‘ ایک پہاڑ ہے جو مدینے سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل ِ مدینہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اُس وقت پُرجوش استقبال کیاجب وہ ہجرت کر کے تشریف لا رہے تھے اور مدینے کی چھوٹی چھوٹی بچیاں گیت گا رہی تھیں۔
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا  
ترجمہ:ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے۔
پہاڑوں کی چوٹیوں سے للکارنے سے مراد غزوات میں دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کرنا ہے۔
اللہ کے اس مقدس نبی حضرت یسعیاہ ؑنے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُمی ہونے کی صفت بھی اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہے۔
ترجمہ:بے پڑھے لکھے کو کتاب دی گئی کہ پڑھ۔ وہ کہتا ہے میں پڑھا لکھا نہیں۔ پڑھ نہیں سکتا۔ (یسعیاہ باب29 آیت12)

چنانچہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جب پہلی بار حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر حاضر ہوئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سورۃ العلق کے یہ الفاظ سنائے۔
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقْ 
ترجمہ:پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔
کتاب یسعیاہ کے باب چالیس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد کی بشارت اور انبیا کو ان کے آنے سے پہلے ان کی راہ ہموار کرنے کا حکم یوں دیا گیا ہے:
ترجمہ:بیابان میں ایک منادی کرنے والے کی آواز۔ تم خداوند کی راہ درست کرو۔ صحرا میں ہمارے خدا کے لیے ایک سیدھی راہ تیار کرو۔ ہر نشیب کو اونچا کیا جائے اور ہر ایک ٹیڑھی چیز اور ناہموار جگہیں ہموار کی جائیں اور خداوند کا جلال آشکار ہوگا اور سب بشر اُسے ایک ساتھ دیکھیں گے کہ یہ خداوند کی آواز ہے۔ (یسعیاہ باب40 آیت 3۔7)
آگے چل کر فرماتے ہیں:
ترجمہ:خوب پکار اور مت ڈر۔ یہود کی بستیوں سے کہہ! دیکھو اپنا خدا! دیکھو خداوند! خدا زبردستی کے ساتھ آوے گا اور اس کا بازو اپنے لیے سلطنت کرے گا۔ دیکھو اس کا صلہ اس کے ساتھ ہے اور اُس کا اجر اس کے آگے۔ وہ چوپان کی مانند اپنا گلہ چراوے گا۔ وہ مظلوموں کو اپنے ہاتھ سے فراہم کرے گا اور اپنی گود میں اٹھا کے چلے گا۔ (یسعیاہ باب40آیت 9۔ 11)

انجیل

سلسلۂ موسوی کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کا نام انجیل ہے۔ قرآنِ پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَاِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ مُبَشِّرًا م بِرَسُولٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِیْ اسْمُہٗ اَحْمَدُ (الصف۔4)
ترجمہ: اور جب عیسیٰ بن مریمؑ نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس خدا کا قاصد بن کر اور مجھ سے پہلے جو تورات آئی، اس کی تصدیق کرتا ہوا اور اپنے بعد ایک پیغمبر کی خوشخبری لے کر آیا ہوں جن کا نام احمد ہے۔ 

قرآنِ کریم کی اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا ایک مقصد شریعت ِ موسوی کی تصدیق اور گردشِ ایام سے اس میں جو بگاڑ پیدا ہو گیا تھا اس کی اصلاح کرنا تھا اور دوسر ا مقصد یہ تھا کہ آپ علیہ السلام نبی آخر الزماں، ہادی ٔ کُل، رحمت ِ عالم، احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور کی بشارت دیں اور اقوامِ عالم کو انسانیت کے محسن ِ اعظم کے استقبال کی تیاری کرنے پر آمادہ کریں۔ اس اعتبار سے لازم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کا بڑا حصہ انہی دو مقاصد کے تابع ہو لیکن آپ علیہ السلام کی تعلیمات جس وسیع پیمانے پر تحریف و تبدل کا شکار ہوئیں ہیں اس کی بدولت موجودہ زمانے میں رائج انجیل میں ان مقاصد کی جھلک سب سے زیادہ دھندلائی ہوئی نظر آتی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جب انجیل نازل ہوئی تو آپ ؑ مختلف نشستوں اور مجلسوں میں اسے اپنے شاگردوں اور حواریوں سے بیان کرتے جو اسے قلمبند کرتے۔ لیکن ان کے قلمبند کرنے کا انداز ویسا نہیں تھا جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کاتبین ِ وحی کا تھا جو آیات کو بعینہٖ بغیر کسی فرق کے قلمبند کرتے تھے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری ان آیات کو اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں لکھتے اگرچہ متن ملتا جلتا ہوتا لیکن انداز و الفاظ جدا جدا۔

مزید یہ کہ وہ انجیل میں اپنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوال و جواب کو بھی شامل کر لیتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والے خاص خاص واقعات کو بھی لکھتے۔ یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہی ان کے مختلف حواریوں کی لکھی ہوئی بہت سی اناجیل موجود تھیں ۔ کچھ اناجیل ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لکھی گئیں جن کا ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی بیان کردہ روایات تھیں۔ اناجیل میں یوحنا، لوقا، متی، مرقس اور برناباس کی لکھی ہوئی اناجیل قابل ِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ جو بہت سی اناجیل موجود تھیں انہیں 329ء میں مسیحی رہنماؤں نے کالعدم قرار دے دیا۔ جبکہ موجودہ زمانے میں رائج بائبل زبور و تورات کے کچھ حصوں، گزشتہ انبیا کے صحائف، یوحنا، مرقس، متی اور لوقا کی ترمیم شدہ اناجیل پر مشتمل ہے۔

مختلف لوگوں کے مختلف اندازِ تحریر کی وجہ سے انجیل میں تحریف اور تبدیلی کرنا نہایت آسان تھا۔ تمام کتابوں میں ایک ہی جیسی مستند آیات کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس تبدیلی کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے زمانے کے آنے سے پہلے ہی ان اناجیل میں کافی تبدیلیاں آ چکی تھیں لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اور بعثت کے متعلق اتنی زیادہ آیات انجیل میں موجود تھیں کہ تبدیلیوں کے باوجود وہ مٹ نہ سکیں۔ اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے پہلے ہی بہت سے عیسائی راہب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نشانیوں کو یکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پہچان لیتے۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا حضرت ابو طالبؓ کے ساتھ تجارت کی غرض سے ملک شام کی طرف گئے تو راستے میں بصریٰ کے مقام پر ایک عیسائی راہب ’’بحیرہ‘‘ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قیام ہوا تو اس نے انجیل میں بیان کردہ نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور حضرت ابو طالبؓ سے کہا ’’یہ سارے جہان کے سردار اور ربّ العالمین کے رسول ہیں جن کو خدا نے رحمتہ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجر اِن کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر ِنبوت ہے‘‘۔ (ترمذی، ماجہ)

اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہؓ کا سامانِ تجارت لے کر ملک شام کا دوسرا سفر کیا تو راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت خدیجہؓ کا غلام میسرہ ایک عیسائی راہب ’نسطورا‘ کی خانقاہ کے قریب ٹھہرے۔ نسطورا میسرہ غلام کو پہلے ہی جانتا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھتے ہی وہ میسرہ کے پاس آیا اور پوچھا ’’اے میسرہ! یہ کون شخص ہیں جو اس درخت کے نیچے ٹھہرے ہیں‘‘۔ میسرہ نے جواب دیا کہ یہ مکہ کے رہنے والے اور خاندان بنو ہاشم کے چشم و چراغ ہیں ان کا نام ’’محمد‘‘ اور لقب امین ہے۔نسطورا نے کہا  ’’سوائے نبی کے اس درخت کے نیچے آج تک کوئی نہیں اترا۔ اس لیے مجھے یقین ِ کامل ہے کہ نبی آخر الزماں یہی ہیں کیونکہ آخری نبی کی تمام نشانیاں جو میں نے تورات و انجیل میں پڑھی ہیں وہ سب ان میں دیکھ رہا ہوں۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب یہ اپنی نبوت کا اعلان کریں گے تو میں ان کی بھرپور مدد کرتا اور پوری جانثاری کے ساتھ ان کی خدمت گزاری میں اپنی تمام عمر گزار دیتا‘‘۔

جب پہلی بار حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں وحی لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بہت گھبرا گئے۔ گھر آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وحی کے واقعہ کا تذکرہ حضرت خدیجہؓ سے کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو بت پرستی سے بیزار ہو کر عیسائی ہو چکے تھے اور انجیل کا ترجمہ عبرانی زبان سے عربی میں کیا کرتے تھے۔ ورقہ بن نوفل نے وحی کا تمام واقعہ سننے کے بعد کہا ’’یہ تو وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی بھیجا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قوم آپ کو مکہ سے باہر نکالے گی‘‘۔ یہ سن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تعجب سے فرمایا ’’کیا مکہ والے مجھے مکہ سے نکال دیں گے‘‘۔ تو ورقہ بن نوفل نے کہا ’’جی ہاں جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرح نبوت لے کر آیا لوگ اس کے ساتھ دشمنی پر کمربستہ ہو گئے‘‘۔

چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت تک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوصاف اور نبوت کے متعلق بہت سی آیات انجیل مقدس میں موجود تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد بنی اسمٰعیل سے بغض رکھنے والے عیسائی عالموں نے تمام اناجیل میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی اور اُن آیات کو سرے سے تلف ہی کر دیا جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق واضح بیانات موجود تھے لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:
وَیَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ(سورۃ الانفال۔30)
ترجمہ:(ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور ادھر اللہ چال چل رہا تھا اور اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔
چنانچہ اللہ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصدیق کے نشانات محفوظ رکھنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک انتہائی قریبی حواری سینٹ برناباس کی انجیل اس تمام عرصے میں عرب کے عیسائی عالموں کے پاس موجود ہی نہ رہی بلکہ اس انجیل کے نسخے اپنی اصلی حالت میں عرب کے عیسائیوں کی دسترس سے دور کسی اور ملک میں محفوظ پڑے رہے اور تحریف و تبدل سے بچ رہے۔ جس ذاتِ اقدس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مبعوث فرمایا اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصدیق کے اسباب بھی مہیا فرمائے اور ان اسباب کی حفاظت بھی خود فرمائی۔ اور وہ اس طرح سے کہ یہ انجیل 325ء تک تو مستند انجیل تسلیم کی جاتی رہی لیکن 329ء میں عیسائیوں کے بڑے پادری بابائے گلائس اوّل نے اور بہت سی اناجیل کی طرح برناباس انجیل کو بھی گمراہ کن قرار دے کر عیسائیوں کے لیے اس کو اپنے پاس رکھنا جرم ٹھہرایا۔ یوں یہ کتاب رفتہ رفتہ منظرِ عام سے غائب ہو گئی البتہ 383ء میں پوپ نے اس کا ایک نسخہ حاصل کر کے اپنی لائبریری میں محفوظ کر لیا۔ اطالوی زبان میں لکھا ہوا یہ نسخہ 1713ء میں شہزادے یوگین نے جے ایف کریحر کی مدد سے وی آنا کے شاہی کتب خانے سے حاصل کیا۔ چنانچہ 329ء سے لے کر 1713ء تک یہ انجیل دنیا کی نظر سے پوشیدہ رہی جبکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش کا سال 573ء ہے۔1713ء میں اس کے دریافت ہونے کے بعد  جب اس کا علم عیسائی علما کو ہوا تو انہوں نے اسے جعلی قرار دے دیا اور کہا کہ یہ کسی مسلمان عالم نے لکھی ہے جس میں اس نے اپنے نبی کا تذکرہ بڑھ چڑھ کر کیا ہے حالانکہ اس وقت تک مسلمان عالموں کو اس انجیل کے وجود کا بھی علم نہ تھا۔ پھر خود ہی ایک عیسائی عالم نے انکشاف کیا کہ اسی انجیل کا ایک ہسپانوی ترجمہ بھی موجود ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ انجیل بھی عیسائی علما کی دست برد کا شکار ہو جاتی اس کی خبر مسلمان علما تک پہنچ گئی۔ 1907ء میں ایک انگریز پادری لانسڈیل راگ (Lonsdale Ragg) نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا جس سے مصر کے ایک مسلمان عالم ڈاکٹر خلیل سعادت نے 1908ء میں اس کا عربی ترجمہ کیا جس کا اردو ترجمہ ہندوستان میں مولوی محمد حلیم انصاری نے کیا جسے اسلام مشن (سنت نگر) کے ادارہ نے 1910ء میں لاہور سے شائع کیا۔ اس انجیل کے اب تک چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا 1910ء میں، دوسرا 1916ء میں، تیسرا 1962ء میں اور چوتھا ایڈیشن 2003ء میں ادارہ اسلامیات نے لاہور اور کراچی سے شائع کیا جبکہ 1973ء میں انگریزی ترجمہ قرآن کونسل آف پاکستان کراچی سے دوبارہ شائع ہوا۔ یہ انجیل اب بھی کافی حد تک تحریف سے محفوظ ہے۔ عیسائی علما نے اس انجیل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اسے جعلی قرار دینے کی بہت کوشش کی اور اسے مسلمان عالموں کی اپنی تصنیف قرار دیا لیکن انہوں نے جو اعتراضات اس انجیل پر کیے وہ دوسری اناجیل پر بھی اسی طرح لاگو ہوتے ہیں کیونکہ تمام اناجیل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ عیسائی سینٹ برناباس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بہت قریبی حواری (صحابی) تو مانتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے انجیل لکھی تھی لیکن وہ انجیل جب انہیں دستیاب ہوئی تو اسے ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ اس میں اسلام کی حقانیت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کی واضح بشارتیں موجود تھیں۔ برناباس حواری کا اصل نام یوسف تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے حواریوں نے اُن کا لقب برناباس رکھا جس کے معنی ’’نصیحت کا فرزند‘‘ ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں ان کی کیا قدر و منزلت تھی اور ان کی لکھی ہوئی انجیل کی کیا اہمیت ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود عیسائیوں نے ان کی انجیل کو صرف اسلام کے خلاف بغض کی وجہ سے رد کر دیا۔ عیسائی علما کے پاس کسی بھی انجیل کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی ٹھوس بنیاد موجود نہیں لیکن مسلمان علما اس انجیل کو درست اس لیے قرار دیتے ہیں کیونکہ جب انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور اور اوصاف کے متعلق اس انجیل سے تحقیق کی تو یہ امر واضح ہوا کہ یہ انجیل بنیادی عقائد کے معاملے میں جس قدر قرآن و سنت ِ نبوی سے قریب ہے اتنی قریب عیسائیوں کی اور کوئی مقدس کتاب نہیں۔ سینٹ برناباس کی انجیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے آثار اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خصائص ِ کبریٰ جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو افضل الانبیا اور خاتم الانبیا اور خاتم المرسلین کے بلند رتبہ سے سرفراز فرمایا‘ اس قدر تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں کہ ایک عام قاری کے لیے ان کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان کو جاننا اور سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگرچہ عیسائی علما نے جب خود اس انجیل کے تراجم کیے تو پھر اپنی پرانی فطرت کے مطابق اس میں ردو بدل کر لی اس لیے اب یہ انجیل بھی اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں لیکن مسلمان علما کے کیے ہوئے تراجم کے مطابق ذیل میں انجیل برناباس کے اقتباسات درج کیے جا رہے ہیں جن میں بہت وضاحت کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اللہ تعالیٰ کے اوّلین تخلیق اور سب سے محبوب نبی ہونے کا بیان موجود ہے۔ انجیل برناباس کے باب 35میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں سے فرماتے ہیں:
جب اللہ نے ایک مٹی کا ٹکڑا پیدا کیا اور اس کو پچیس ہزار سال بغیر اس کے ڈالے رکھا کہ کچھ اور کرے۔ شیطان نے جو کاہن اور فرشتوں کے سردار کی مانند تھا، بوجہ اُس بڑے ادراک کے جو اُس کو حاصل تھا، یہ معلوم کر لیا تھا کہ بے شک اللہ اسی ٹکڑے سے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کو بنائے گا جن کو نبوت کی عزت دی گئی ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی جن کی روح اللہ نے ہر دیگر چیز سے ساٹھ ہزار سال قبل پیدا کی ہے۔ (باب35آیت 8-6)

اپنے حواریوں کو اللہ کی عبادت کی تلقین کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد کی خبر بھی دیتے ہیں۔
میں تم سے سچ کہتا ہوں جو آدمی نماز نہیں پڑھتا وہ شیطان سے بھی بُرا ہے اور عنقریب اس پر بہت ہی بڑا عذاب وارد ہوگا اس واسطے کہ شیطان کے لیے اُس کے (اپنے مقام سے) گرنے سے قبل ڈرنے کے بارے میں کوئی عبرت (کی مثال) موجود نہ تھی اور اللہ نے اس کے لیے کوئی رسول نہیں بھیجا جو اُس کو توبہ کی طرف بلاتا، لیکن انسان بے فکری کے ساتھ بغیر کسی خوف کے یوں زندگی بسر کرتا ہے گویا اللہ موجود ہی نہیں‘‘۔ بہ حالیکہ تمام انبیا سوائے اُس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے آچکے ہیں جو میرے بعد آئے گا کیونکہ اللہ اسی امر کا ارادہ رکھتا ہے کہ میں اُس کا راستہ صاف کروں۔ (باب36 آیات6-2)

اس ارشاد میں اس امر کی تصریح بھی موجود ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آخری نبی ہوں گے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق ِ آدم کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (سورۃ الحجر۔29)
ترجمہ:پھر میں نے اس میں اپنی روح پھونکی۔
انجیل میں بھی تخلیق ِ آدمؑ کے متعلق ایسی ہی آیت موجود ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے انسان کو جان عطا کی۔ (باب39 آیت13)
اس آیت کے فورا بعد انجیل میں چند الفاظ کے ردو بدل کے ساتھ وہ واقعہ بیان کیا گیا ہے جو المواہب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ بن خطاب نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام سے خطا کا ارتکاب ہوا تو انہوں نے عرض کیا ’’اے پروردگار میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے واسطے سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں‘‘۔ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے آدم ؑ تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو کیسے پہچانا حالانکہ میں نے اب تک ان کو پیدا نہیں فرمایا‘‘۔ آدم علیہ السلام نے عرض کیا ’’اے ربّ! میں نے اس طرح پہچانا کہ جب آپ نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح میرے اندر پھونکی تو میں نے جب سر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر یہ لکھا ہوا دیکھا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  سو میں نے معلوم کر لیا کہ آپ نے اپنے نام پاک کے ساتھ ایسے ہی شخص کے نام کو ملایا ہوگا جو آپ کے نزدیک تمام مخلوق سے پیارا ہوگا‘‘۔ حق تعالیٰ نے فرمایا ’’اے آدم تم سچے ہو۔ واقعی وہ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارے ہیں اور جب تم نے ان کے واسطے سے مجھ سے درخواست کی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت کی اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نہ ہوتے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا‘‘۔ انجیل مقدس میں یہی واقعہ ان الفاظ میں آیا ہے:
پس جب آدم ؑ اپنے پیروں پر کھڑا ہوا اس نے آسمان میں ایک تحریر سورج کی طرح چمکتی دیکھی جس کی عبارت تھی ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ‘‘ تب آدم ؑ نے اپنا منہ کھولا اور کہا ’’میں تیرا شکر کرتا ہوں اے میرے پروردگار کیونکہ تو نے مہربانی کی پس مجھ کو پیدا کیا لیکن میں تیری منت کرتا ہوں مجھے خبر دے کہ ان کلمات کے کیا معنی ہیں ’محمد رسول اللہ‘ ۔ تب اللہ نے جواب دیا ’’مرحبا ہے تجھ کو اے میرے بندے آدم۔ میں تجھ کو بتلاتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جس کو میں نے پیدا کیا اور یہ شخص جس کا نام تو نے دیکھا ہے، تیرا ہی بیٹا ہے جو اس وقت کے بہت سال بعد دنیا میں آئے گا اور وہ میرا ایسا رسول ہو گا کہ اس کے لیے میں نے سب چیزوں کو پیدا کیا۔ وہ رسول کہ جب آئے گا دنیا کو ایک روشنی بخشے گا۔ یہ وہ نبی ہے کہ اس کی روح ایک آسمانی روشنی میں رکھی گئی ساٹھ ہزار سال قبل اس کے کہ میں کسی چیز کو پیدا کروں۔  ( باب 29 ۔ آیات 22-15)

انجیل میں بیان کردہ اس حقیقت کو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر تخلیق سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تخلیق کیا، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے:
یا جابر اوّل ما خلق اللہ نور نبیک من نورہٖ
ترجمہ:اے جابرؓ سب سے پہلے اللہ نے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا کیا۔
اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی تبلیغ کے آغاز میں بہت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن جب اللہ کے عطا کردہ معجزات اور آپ ؑ کے اخلاق و کردار اور جہد ِ مسلسل کی بدولت بنی اسرائیل نے آپ ؑ کو اللہ کا بھیجا ہوا نبی برحق مان لیا تو انہیں سب سے پہلے یہ گمان ہوا کہ آپ ؑ ہی وہ آخری نبی ہیں جن کا تذکرہ زبور، تورات اور صحف ِ حضرت یسعیاہ ؑ میں ہے۔ حضرت یسعیاہ ؑ کے صحیفے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے ’’مَسیّا‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے طبقہ علما کے کچھ افراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ ’’کیا آپ ہی مَسیّا ہیں؟‘‘ تو آپ ؑ نے جواب دیا:
تحقیق خدا کی نشانیاں، جو اللہ میرے ہاتھ سے عیاں کرتا ہے وہ ظاہر کرتی ہیں کہ میں وہی کہتا ہوں جو اللہ کا ارادہ ہوتا ہے اور میں اپنے آپ کو اس کی مانند شمار نہیں کرتا جس کی نسبت تم کہہ رہے ہو کیونکہ میں اس لائق بھی نہیں کہ اُس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے موزے کے بند یا جوتے کے تسمے کھولوں جس کو تم مسیّا کہہ رہے ہو۔ جو مجھ سے پہلے پیدا کیا گیا اور اب میرے بعد آئے گا اور وہ بہت جلد کلامِ حق کے ساتھ آئے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ (باب42 ۔ آیات 17-12)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نورانی حقیقت اور رحمت اللعالمین ہونے کی صفت بیان کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل مقدس (برناباس) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں فرماتے ہیں:
اور اسی لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ایک روشنی (نور) ہے جو تقریباً تمام مصنوعاتِ باری کو مسرور کرے گا کیونکہ وہ فہم و فراست کی روح سے آراستہ ہے، عدل اور تقویٰ کی روح سے، لطف اور جبر کی روح سے۔ ایسی (صفات کی) روحیں کہ من جملہ اُن (تمام صفات) کے جو اللہ نے اپنی مخلوقات کو عطا کی ہیں، اس رسول نے اس کا سہ چند (کئی گنا) اللہ سے لیا ہے۔ وہ کیسا مبارک زمانہ ہے جس میں یہ دنیا میں آئے گا۔ تم مجھے سچا مانو میں نے ہر آئینہ میں اُس کو دیکھا ہے کیونکہ اللہ اُن (نبیوں) کو اُس کی روح بطورِ پیش گوئی عطا کرتا ہے اور جب میں نے اُس کو دیکھا تو میں نے اطمینان سے بھر کر کہا ’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ تیرے ساتھ ہو اور مجھے اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں کیونکہ اگر میں یہ حاصل کر لوں تو بڑا نبی اور اللہ کا قدوس ہو جاؤں۔ (باب 44۔ آیت30)

مندرجہ بالا اقتباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاک نام ’’محمد‘‘ کے اظہار کے لیے اپنے زمانے میں بولی جانے والی سریانی زبان کا لفظ ’’مُنْحَمْنَا‘‘ استعمال کیا ہے جس کا ترجمہ عربی لغت کے مطابق ’محمد‘ یعنی تعریف کیا گیا ہی ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام اقوامِ عالم کے لیے نبی اور ان پر ایمان سب کے لیے ذریعہ نجات ہونے کی بشارت انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ایک سامری عورت کے مکالمے میں دی گئی ہے۔
عورت نے کہا ’’تحقیق ہم مسیّا کے منتظر ہیں پس جب وہ آئے گا ہمیں تعلیم دے گا‘‘۔ یسوع نے کہا ’’اے عورت کیا تُو جانتی ہے کہ مسیّا ضرور آئے گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’ہاں! اے سیّد‘‘۔ اُس وقت یسوع کا چہرہ چمک اُٹھا اور انہوں نے کہا ’’اے عورت مجھے دکھائی دیتاہے کہ تو ایمان والی ہے پس اب تو جان لے کہ تحقیق مسیّا پر ایمان لانے ہی سے اللہ کا ہر برگزیدہ نجات پائے گا اور اس حالت میں واجب ہے کہ تُو مسیّا کو جانے‘‘۔ عورت نے کہا ’’شاید تو ہی مسیّا ہے اے سیّد!‘‘۔ یسوع نے جواب دیا ’’حق یہ ہے کہ میں صرف اسرائیل ہی کے گھرانے کی طرف نجات کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں لیکن میرے بعد جلد ہی آنے والا اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا مسیّا تمام دنیا کے لیے آئے گا۔ وہ مسیّا کہ اللہ نے اس کی وجہ سے دنیا کو پیدا فرمایا ہے اور اُس وقت تمام دنیا میں اللہ کو سجدہ کیا جائے گااور رحمت حاصل کی جائے گی۔ (باب 82۔آیت 17-9)

اسی طرح انجیل برناباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک کاہن سے مکالمہ درج ہے جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبارک نام ’’محمد‘‘ کا تذکرہ ہے اور اس کے متعلق یہ وضاحت موجود ہے کہ یہ نام اللہ نے خود رکھا جیسا کہ سیرت کی تمام کتب میں حضرت بی بی آمنہ ؓ کا یہ بیان موجود ہے کہ انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت سے قبل ہی  خواب کے ذریعے اللہ نے یہ بتا دیا تھا کہ پیدا ہونے والی مبارک ذات کا نام ’محمد‘ ہوگا۔ انجیل مقدس میں ہے:
اس وقت کاہن نے کہا ’’اس مسیّا کا نام کیا رکھا جائے گا اور وہ کیا نشانی ہے جو اُس کے آنے کا اعلان کرے گی؟‘‘ یسوع نے جواب دیا ’’مسیّا کانام عجب ہے اس لیے کہ اللہ نے جس وقت اُن کی ذات کو پیدا فرمایا اور انہیں آسمانی روشنی میں رکھا اور خود ہی اُن کا نام بھی رکھا۔ اللہ نے کہا ’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! آپ صبر کریں اس لیے کہ میں جنت اور دنیا اور مخلوقات کی بھاری بھیڑ جو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو بخشوں گا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کا مالک و مختار بنا دوں گا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے لیے ہی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ یہاں تک کہ جو آپ کو برکت دے گا (درود پڑھے گا) مبارک ہوگا اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر لعنت کرے گا ملعون ہو گا اور جس وقت میں دنیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو بھیجوں گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو نجات کے لیے اپنا رسول بناؤں گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا کلام سچا ہوگا یہاں تک کہ زمین اور آسمان دونوں کمزور ہو جائیں گے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا ایمان کبھی کمزور نہ ہوگا‘‘۔ تحقیق اُن کا مبارک نام ’’محمد‘‘ ہے۔ اس وقت عام لوگوں نے یہ کہتے ہوئے شور مچایا یا اللہ! ہمارے لیے اپنے رسول کو بھیج۔ اے ’’محمد‘‘ آپ جلد ہی دنیا کو نجات دینے کے لیے آئیں‘‘۔ (باب 97 آیات 19-10)

انجیل برناباس میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں بہت سی بشارتیں موجود ہیں لیکن دیگر اناجیل میں بھی تحریف و ردو بدل کے باوجود اِکا دُکا آیات اب بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق موجود ہیں۔ انجیل متی باب 3 آیت 8، انجیل لوفا باب 3آیت 17، 16 اور انجیل مرقس باب اوّل آیت 8۔6میں یہ بشارت تقریباً ایک ہی جیسے الفاظ میں موجود ہے۔ 

میں تو تم کو توبہ کے پانی سے بپتسمہ (عیسائیوں میں نوزائیدہ بچے کو پانی کے چھینٹے مار کر پاک کرنے اور عیسائی قرار دینے کی رسم) دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آئے گا وہ مجھ سے زورآور ہے۔ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں۔ وہ تم کو روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔ 

انجیل یوحنا میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کی پیش گوئی ان الفاظ میں موجود ہے:
اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ جہان کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی ہی کوئی چیز نہیں۔ (انجیل مقدس،نیا عہد نامہ باب 14 آیت31)

مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب تم ان کو برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لیے کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ نہ کہے گا لیکن جو کچھ (اللہ سے) سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ (باب16 آیت 13،12) 

مندرجہ بالا تمام الہامی کتابوں کے اقتباسات سے بہت سی ایسی احادیث ِ مبارکہ، احادیث ِ قدسی اور ہمارے بزرگ اولیا اللہ کے فرامین کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے جن میں ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے حد و حساب شان کو بیان کیا گیا ہے، انہیں مظہر ِنورِ الٰہی کہا گیا ہے اور ان کے علم ِ غیب کی تصدیق کی گئی ہے لیکن جنہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تمام مخلوقات پر برتری اور فضیلت کو تسلیم نہ کرنے والے غلط سمجھتے اور اللہ کے ساتھ شرک قرار دیتے ہیں حالانکہ ایمان تو ہے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظمت کی تصدیق، ایک اللہ کی عبادت تو ہمیشہ سے دنیا کی کثیر مخلوق کرتی آ رہی ہے اور ایمان کی صورت ہمیشہ سے ایک ہی ہے خواہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد سے قبل کا زمانہ ہو یا بعد کا، صرف احکامِ شریعت ہر نبی اور قوم کے لیے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اسی لیے تمام انبیا نے ایک اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظمت کی تصدیق اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی کی تلقین کی جو ایمان کا لازمی جزو ہے۔ اللہ کی ہر تخلیق کی طرح ایمان کے مختار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ہیں بلکہ ایمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہی ذات ہے جیسا کہ انجیل برناباس میں مذکور ہے:

یسوع نے کہا ’’ایمان ایک مہر ہے کہ اللہ اُس کے ذریعے اپنے پسندیدہ بندوں پر مہر لگا دیتا ہے اور یہ وہی انگشتری ہے جو اللہ نے اپنے رسول کو عطا کی ہے۔ ایسا رسول کہ ہر ایک برگزیدہ نے ایمان کو اسی کے ہاتھوں سے لیا۔ پس ایمان ایک ہی ہے جیسے اللہ ایک ہی ہے۔ اسی لیے جب اللہ نے ہر چیز سے پہلے اپنے رسول کو پیدا کیا اُس کو ہر چیز سے قبل ایمان دیا جو بمنزلہ اللہ کی صورت اور اُسی کی کل مصنوعات اور اس کے فرمان کے ہے۔ (باب90۔ آیات4-2)

تمام نبی اسی ایمان کو لے کر آئے اور ان کی تعلیمات اسی ایمان یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق پر مبنی تھیں لیکن ان تعلیمات کو بگاڑا جاتا رہا۔ ہر پرانی تعلیم کے بگڑ جانے پر اللہ نئی تعلیم کو بھیجتا لیکن اس کو بھی بغض رکھنے والے انسان بگاڑ دیتے حتیٰ کہ اللہ نے اپنے پسندیدہ و عظیم ترین نبی کو ایسی تعلیم یعنی قرآن کے ساتھ بھیجا جس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لے لیا۔ انجیل برناباس کے باب124میں ہے:

پھر وہ چیز جو موسیٰ علیہ السلام کی کتاب پر منطبق ہوتی ہے، حق ہے۔ پس تم اس کو قبول کر لو اس لیے کہ جب اللہ ایک ہے حق بھی ایک ہی ہوگا۔ پس اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ تعلیم ایک ہی ہے اور یہ کہ تعلیم کے معنی ایک ہی ہیں تو ایمان بھی اس حالت میں ایک ہی ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بے شک اگر موسیٰ علیہ السلام کی کتاب سے حق (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارتیں) محو نہ کیا گیا ہوتا تو اللہ ہمارے باپ داؤد علیہ السلام کو دوسری کتاب کبھی نہ دیتا اور اگر داؤد علیہ السلام کی کتاب بگاڑ نہ دی گئی ہوتی تو اللہ اپنی انجیل میرے حوالے نہ کرتا، اس لیے کہ ہمارا معبود غیر متغیر ہے اور البتہ اس نے ایک ہی پیغام انسانوں کے لیے کہا ہے۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آئے گا وہ اس لیے آئے گا کہ ہر اُس چیز کو، جسے میری کتاب میں بدکاروں نے خراب کر دیا ہے، پاک کر دے۔ (باب124 آیات11-5)

اگر آج تمام الہامی کتب اپنی اصل حالت میں موجود ہوتیں تو ان میں سب سے زیادہ آیات ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں ملتیں کیونکہ وہ ازل سے اللہ کے محبوب ہیں اور اللہ نے جیسے قرآن میں ان کی بے حد و حساب شان بیان کی اسی طرح اپنی ہر الہامی کتاب میں کی۔ سب سے زیادہ شان والے نبی کی اُمت ہونے کی خوش نصیبی کے ساتھ ساتھ ہماری خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ہمارے نبی کی تعلیمات اور ان پر نازل کردہ قرآن آج بھی اصل حالت میں محفوظ ہیں لیکن کینہ پرور انسانوں نے آج بھی اپنا پرانا وطیرہ نہیں بدلا۔ اب وہ آیات و احادیث کو تو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن اُن سے اپنی مرضی کے معنی اخذ کر کے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان کو کم کرکے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آیات و احادیث کے اصل معنی اُن اذہان کو حاصل ہوتے ہیں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں اور اُن قلوب پر نازل ہوتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق سے معمور ہیں۔ جس طرح بارش کا پانی سبز گھاس کو اور سرسبز بناتا ہے اور کیچڑ کو اور گدلا کر دیتا ہے اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے بھرا دل تمام آیات و احادیث کو پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان کا مزید قائل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں مزید آگے بڑھ جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بغض رکھنے والا دل ان آیات و احادیث سے ایسے ہی معنی اخذ کرے گا جو اس کے بغض میں اور اضافہ کریں گے۔ ایمان کی اصل حقیقت عشق ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے کیونکہ عشق ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وہ نور ہے جس میں ہر شے واضح اور اپنی اصل صورت میں نظر آتی ہے جبکہ اس عشق کے بغیر دل و دماغ تاریک رہتے ہیں اور دوسری اشیاء کی حقیقت تو دور کی بات انسان اپنی حقیقت کو بھی نہیں پہچان سکتا۔

 

39 تبصرے “سابقہ الہامی کتب میں تذکرئہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم | Sabiqa Ilhami Kutab Main Tazkara e Mohammad s a w w

  1. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #faqr #prophetmuhammad

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #faqr #prophetmuhammad

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #faqr #prophetmuhammad

      1. میٹھا میٹھا ہے میرے محمد (pbuh)کا نام! ان(pbuh )پے لاکھوں کروڑوں درود و سلام!♥️♥️

اپنا تبصرہ بھیجیں