امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

دعوت کو وجود کے چار عناصر مٹی، ہوا، پانی اور آگ سے تحقیق کیا جا سکتا ہے۔ دعوت پڑھنے والا ان چاروں عناصر کو تصور اور توفیق ِ الٰہی سے ایک نظر میں فنا کرتا ہے اور ایسی دعوت پڑھنے کے دوران دعوت پڑھنے والا ان چاروں عناصر کے فتنہ و فساد کو ختم کر دیتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہتا جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اُقْتُلُوا الْمُوْذِیَاتِ قَبْلَ الْاِیْذَائِ
ترجمہ: موذیات کو ایذا پہنچانے سے قبل ہی قتل کر دو۔
دعوتِ ایک دم کو وہی پڑھتے ہیں جو اس ایک دم کے حامل ہوتے ہیں جیسا کہ خاقانیؒ مردِ حقانی نے کہا۔ بیت:

پس از سی سال این معنی محقق شد بہ خاقانیؒ
کہ یکدم باخدا بودم بہ از ملک سلیمانی ؑ

ترجمہ: پس تیس سال بعد خاقانیؒ پر یہ راز افشا ہوا کہ اللہ کے ساتھ ایک دم گزارنا سلیمان ؑکی بادشاہی سے بہتر ہے۔
مرتبہ ایک دم ’فنا فی الشیخ‘ کا مرتبہ ہے اور دائمی حضوری ’فنا فی الرسول‘ کا مرتبہ ہے جس میں دم کی بھی خبر نہیں رہتی اور مرتبہ نور فی النور ’فنا فی اللہ ‘کا مرتبہ ہے جس میں نہ دم کی خبر ہوتی ہے نہ حضوری کی بلکہ یہ عین ذات کا مرتبہ ہے یہ فنا فی نورِ توحید کے مراتب ہیں۔ ابیات:

بہ بحر غرق فی اللہ شو کہ باخود خود نمیدانی
دمے نامحرم است آنجا کہ باشد راز ربانی

ترجمہ: وحدت کے سمندر میں ایسے غرق ہو جا کہ تجھے خود کی بھی خبر نہ رہے۔ جہاں رازِ ربانی ہوں وہاں دم بھی نامحرم ہوتا ہے۔

نہ آنجا دم نہ دل نہ جسد جان است
کہ عین از عین باشد لامکانست

ترجمہ: وہاں نہ سانس ہیں نہ دل، نہ جسم و جان۔ کیونکہ وہ عین ذات کا مرتبہ ہے جو لامکان ہے۔ 

کسے از خود فنا شد آن چہ بیند
بہ بیند حق کہ باحق حق نشیند

ترجمہ: جو خود سے فنا ہو جاتا ہے وہ کیا دیکھتا ہے؟ (حق میں فنا ہو کر) وہ حق دیکھتا ہے کیونکہ حق ہی حق کا ہمنشین ہوتا ہے۔

سہ حق را حق بگوئی حق کدام است
بنام حق ز حق باحق تمام است

ترجمہ: تو تین خداؤں (اللہ، نفس اور شیطان) کو حق کہتا ہے تو اصل حق کیا ہے؟ اللہ کو پانے اور باقی دو سے نجات پانے کے لیے اللہ کو اس کے نام یعنی اسم  اللہ ذات سے پکار تب صرف حق ہی (تیرے وجود میں) باقی رہ جائے گا (اور باقی دو خداؤں سے جان چھوٹ جائے گی)۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ  (النسائ۔171)
ترجمہ: اور تین (خداؤں) کو نہ پکارو۔
جو تین خداؤں کو پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور جو اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (ترجمہ: بے شک اللہ ہی واحد معبود ہے) کی نافرمانی کرتے ہوئے حق کو ترک کر دیتے ہیں وہ مومن و مسلمان کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ (الاعراف۔179)
ترجمہ: اور وہ جانوروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی گمراہ۔
اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ھُوٰہُ (الفرقان۔43)
ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا آپ نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔

جو کوئی فنا فی الشیخ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ مرتبہ فنا فی الشیطان پر ہے اور جو مرتبہ محبوب فنا فی الرسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ مرتبہ مردود پر ہے اور جو فنا فی اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ مرتبہ نفس و ہوا پر ہے۔ مرتبہ فنا فی الشیخ طالب کو جملہ شر جو کہ معصیت ِ شیطان (شیطان کے گناہ) ہے‘ سے آزاد کرا دیتا ہے اور جملہ فتنہ جو کہ فضیحت ِ نفس (نفس کی بدنامی اور رسوائی) ہے‘ سے نجات دلا دیتا ہے اور جملہ حوادث جو کہ فساد کا سبب اور خطراتِ دنیا ہیں اور اس تک عرش سے تحت الثریٰ تک پہنچتے ہیں اور جملہ باطل سے نجات دلا دیتا ہے اور حق کا دیدار کراتا ہے۔ یہ ہیں مراتب ِ فنا فی الشیخ۔ اور جو فنا فی الرسول کے مرتبہ پر پہنچتا ہے وہ ظاہر و باطن میں ایک لمحہ کے لیے بھی مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جدا نہیں ہوتا اور جو فنا فی اللہ کے مراتب پر پہنچتا ہے اس کے سب امور اللہ کی رضا کے مطابق ہوتے ہیں یعنی اس کا نفس فنا، قلب حیات اور روح بقا پا جاتی ہے اور وہ ہمیشہ مشاہدۂ نورِ ذات، حضوری اور دیدار میں مشغول رہتا ہے۔جو ان تینوں مراتب سے آگاہ نہیں اور دعوت پڑھتا ہے تو وہ احمق اور خود پسند ہے ۔ بعض مرشد ایسے ہوتے ہیں جو خود دور ہوتے ہیں اور اپنے طالبوں کو توجہ سے مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچاتے ہیں۔ بعض مرشد ایسے ہوتے ہیں جو خود تو دائمی حضوری میں رہتے ہیں لیکن طالبوں کو حضوری میں پہنچا کر بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے منظور نہیں کرا سکتے۔ اور بعض مرشد ایسے ہیں کہ ان کے طالب حضوری میں ہوتے ہیں لیکن مخلوق کی نظر سے پوشیدہ اور دور ہوتے ہیں۔ جو باطن کے ان تینوں مراتب سے آگاہ نہیں اور پھر بھی دعوت پڑھتا ہے تو وہ احمق ہے۔ جس وقت دعوت پڑھنے والا کلامِ ربانی سے ورد کرنا شروع کرتا ہے تو وہ اللہ سے ہم کلام ہو کر سوال و جواب کرتا ہے۔ جو دعوت پڑھنے کے دوران ان احوال سے نہیں گزرتا دعوت اسے خوار کر دیتی ہے۔

شرح دعوتِ عظیم

دعوتِ عظیم یہ ہے کہ ان چاروں مراتب کے مجموعہ سے دعوت پڑھی جائے یعنی اوّل قرآن کی تلاوت، دوم انبیا اور اولیا جو درویش، غوث،قطب اور شہید کی مثل ہیں‘ کی قبر پر جا کر جو تیغ ِ برہنہ کی طرح ہے، سوم قربِ حق اور چہارم مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کی قوت سے۔ ایسی دعوت غضب و قہر سے بھی سخت تر ہے یا اسم ِ اعظم کی مثل ہے جو قبر پڑھا جاتا ہے۔ جو ایسی دعوت پڑھتا ہے تو دعوت پڑھتے ہی چودہ طبقات، مدینہ، کعبہ اور عرشِ اکبر ماہ سے ماہی تک جنبش میں آ جاتے ہیں اور تمام انبیا، اصفیا، مرسلین کی ارواح اور تمام زندہ و فوت شدگان اولیا اللہ فقیر ولی اللہ، درویش، عارف باللہ، قطب، ابدال اور اوتاد کی ارواح اور اٹھارہ ہزار عالم کی کل مخلوقات لرز کر حیرت میں آ جاتی ہیں اور فرشتے اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور تمام مخلوقات اللہ کی بارگاہ میں دعوت کی قبولیت کے لیے دست بستہ دعا کرنے کے لیے کھڑی ہو جاتی ہیں جب تک کہ ایسی دعوت پڑھنے والے کا کام اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔ اور تمام انبیا، اصفیا، رسول، اصحاب، مجتہد، علما باللہ، اولیا اللہ، مومن و مسلمان کی ارواح دعوت پڑھنے والے کی قید میں آ جاتی ہیں اور ہرگز خلاصی نہیں پاتیں۔ ایسی دعوت سے کوئی بھی دعوت سخت اور غالب تر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی قبور کی ارواح کی طاقت پر غالب آ سکتا ہے۔ ایسی دعوت پڑھنے سے لوہے جیسا سخت پہاڑ بھی موم بن جاتا ہے۔ اور اگر یہ دعوت پتھر اور لوہے کے بنے قلعے کے سامنے پڑھی جائے جس کے کنگرے ہوا میں اس قدر بلند ہوں کہ پرندوں کے اڑ کر پہنچنے کے سوا کوئی وہاں نہ پہنچ سکے لیکن ایسی دعوت پڑھنے سے اہل ِ قلعہ کے دل دعوت پڑھنے والے کی قید، حکم اور تصرف میں آ جائیں یا پھر یہ کہ اہل ِ قلعہ ناگہانی موت کا شکار ہو جائیں اور اہل ِ قلعہ میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہ رہے۔ یا یہ دعوت پڑھنے سے اہل ِ قلعہ کو مؤکلات قلعہ سے اٹھا کر دور پھینک دیں اس وقت قلعہ کو فتح کرنا آسان کام ہے۔ جو اس دعوت کو اس کی عظمت کے ساتھ پڑھے تو مشرق تا مغرب تمام براعظموں کے ہر ملک و ولایت کو ایک ہفتہ میں قبضہ و تصرف میں لے آنا کچھ دشوار نہیں۔ اس دعوت کو پڑھنے کے قابل وہ عامل و کامل ہوتا ہے جس کا پیٹ اگرچہ بھرا ہو اور اسے جلالی و جمالی جانوروں کے کھانے پر کوئی پابندی نہ ہو کیونکہ اس کا وجود تصور اسمِ   اللہ ذات کے ذریعے نفس کو مار کر پختہ و پاک ہو چکا ہوتا ہے اور اسے ارواح، فرشتوں، جنوں اور مؤکلات کا کیا خوف کیونکہ وہ تو تصور اسم اللہ ذات میں مکمل غرق ہو کر حضوری میں پہنچ چکا ہوتا ہے اور علم ِ دعوت سے قبور کی ارواح پر تصرف رکھتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِذَا تَحَیَّرْتُمْ فِی الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِیْنُوْا مِنْ اَہْلِ الْقُبُوْرِ۔
ترجمہ: جب تم اپنے امور میں پریشان ہو جایا کرو تو اہل ِ قبور کی ارواح سے مدد مانگ لیا کرو۔
مرشد عارف کامل اور اہل ِ دعوت عامل وہ ہے جو ان تین قسم کے لوگوں کو طالب مرید کرے اور ان کے تمام مقصود تک پہنچا دے۔ اوّل علما باللہ جن کی جمعیت مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل کرنے میں ہے۔ دوم دنیاوی بادشاہ‘ جس کی جمعیت مشرق سے مغرب تک کی ہر چھوٹی بڑی سلطنت کو اپنے تصرف و قید میں لے آنے اور لوگوں کو اپنے حکم کے تابع کر لینے میں ہے۔ سوم وہ شیخ جو باطن اور معرفت سے بے خبر ہے۔ مرشد اسے فنا فی اللہ کرکے توحید میں غرق کرتا ہے اور رسوم و تقلید سے باہر نکالتا ہے۔ البتہ یہ یقین ہے کہ نفس پرست تو سب ہی ہیں لیکن اللہ پرست کم ہیں۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ اگر تُو آئے تو دروازہ کھلا ہے میں تجھے لمحہ بھر میں اللہ کے اسرار کی معرفت تک پہنچا دوں گا اور اگر تو نہ آئے تو اللہ بے نیاز ہے۔

دعوت پڑھنے کے چار طریق ہیں اوّل طریق تصور اسم ِ  اللہ ذات سے اللہ کا قرب اور معرفت ِ توحید حاصل کرنے کے لیے دعوت پڑھنا۔ دوسرا طریق اسم اللہ ذات کی روحانی قوت کے تصرف سے مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں داخل ہونے کے لیے دعوت پڑھنا۔ دعوت پڑھنے کا تیسرا طریق مؤکلات، فرشتوں اور جنوں کو اپنی قید میں لے آنا اور انہیں اپنی نگاہ میں رکھنا۔ دعوت پرھنے کا چوتھا طریق تمام دنیا کو اپنے تصرف میں لے آنا۔ دعوت تیغ ِ برہنہ کی مثل ہتھیار ہے۔ جو کوئی ان چاروں طریق سے دعوت پڑھتا ہے وہ عارف باللہ ہے۔ اللہ ہی اس کے لیے کافی اور اس کا کفیل ہے۔ متوکل کو کسی چابی یا مؤکل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس زمانہ میں کامل فقیر ولی اللہ اہل ِ دعوت کوئی نہیں اس لیے علم ِ فقہ و مسائل اور قرآن کو وسیلہ بنایا جائے تو یہ صرف حیلہ ٔ شیطان ہے۔ نفس ِ امارہ اور اہل ِ ہوس کا فتنہ مرشد کے وسیلہ، معرفت ِ توحید اور قربِ الٰہی سے روکتے ہیں۔ مرشد مخلوق کو پسند نہیں کرتا وہ خالق کو پسند کرتا ہے۔ بیت:

ہر کہ باشد پسند خالق پاک
ور نہ باشد پسند خلق چہ باک

 ترجمہ: جو اللہ کو پسند آ جائے وہ پاک ہے۔ اگر وہ مخلوق کو پسند نہ بھی آئے تو کیا ڈر۔
علما پر فرضِ عین ہے کہ مرشد ولی اللہ سے دست ِ بیعت ہو کر ذکر کی تلقین حاصل کریں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْآ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ (المائدہ۔35)
ترجمہ: اے ایمان والو! تقویٰ اختیارکرو اور اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
ذِکْرُ اللّٰہِ فَرَضُ مِّنْ قَبْلِ کُلِّ فَرَضٍ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
ترجمہ: ہر فرض سے پہلے ذکر ِ اللہلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہفرض ہے۔
سن! جس طرح خواب کی تعبیر ہوتی ہے، علم کی تفسیر ہوتی ہے اور کیمیا اکسیر کی غنایت ہوتی ہے اور تمام عالم کو قید اور تصرف میں لے آنا علم ِ دعوتِ تکسیر سے ممکن ہے اس طرح ذکر کی تاثیر ہوتی ہے۔ مرشد عارف کامل روشن ضمیر ہونے کی بدولت اللہ کے قرب سے آگاہ ہوتا ہے اور اسم  ِاللہ ذات کی حضوری سے ہر شے عیاں دیکھنے والا ہوتا ہے اور اسمِ اللہ ذات کے تصور سے تُو جو بھی مشاہدہ کرتا ہے وہ مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ کی معرفت اور خاص وصال سے متعلق ہے۔ اور جو کچھ اسم  ِاللہ  ذات کے تصور و تصرف کے بغیر مراقبہ یا نیند میں دکھائی دے وہ محض خیال ہے اور مراتب ِ زوال کی دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ لاسویٰ اللہ ہے۔ یہ سب مراتب فرحت بخش اور دلپذیر ہیں اور فنا فی اللہ فقیر جو نفس پر حکمران ہو‘ اور اسم ِاللہ ذات جو لازوال ہے‘ سے حاصل ہوتے ہیں ۔ اپنے ضمیر کی لوح سے تمام غلاظت نکال دے اور مراتب ِ نعم البدل سے باخبر رہ کیونکہ اس راہِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اصل نعم البدل ہے جو وصال کی طرف لے جاتے ہیں۔ مراتب ِ نعم البدل کی مکمل شرح مرشد کامل بیان کرتا ہے۔ ہر مشکل کو کھولنے والا باتحقیق طریق توفیق ِ الٰہی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَمَا تَوْفِیْقِیْٓ اِلَّا بِاللّٰہِ   (ھود۔88)
ترجمہ: اور میری توفیق اللہ سے ہی ہے۔
توفیق اللہ کا فیض و فضل اور عطا ہے جو وہ تصور اسم ِاللہ ذات کے ذریعے کل و جز مراتب اور علم و حکمت کے راز بغیر کسی ریاضت کے عطا کرتا ہے۔ ناسوت سے لاھوت لامکان میں پہنچنے تک ستر کروڑ تیس لاکھ دکھائی و سنائی نہ دینے والے حجابات ہیں جو راہزن ہیں۔ مرشد وہ ہے جو ایک دم اور ایک قدم میں ان تمام حجاباتِ باطنی کو دور کر کے تمام مقامات طے کرا دیتا ہے اور لاھوت لامکان میں پہنچا دیتا ہے۔ اور اس کے بعد تصور اسم ِاللہ ذات سے تمام تصرف عطا کر دیتا ہے جس سے طالب اللہ کے حکم سے کونین پر امیر مالک الملکی فقیر بن جاتا ہے۔ مالک الملک لازوال مرتبہ ہے جو اللہ کے فضل سے قرب، معرفت اور وصال حاصل کر کے عطا ہوتا ہے۔ جو نفس کی قیدی اور استدراج کا شکار ہیں اور معرفت و معراج سے بے خبر ہیں وہ فقیر نہیں ہیں۔ ابیات:

فتح دعوت در تصور باخدا
این چنین دعوت عمل در اولیا

ترجمہ: دعوت کے فیوض و برکات تصور اسم ِاللہ ذات سے حاصل ہوتے ہیں اور ایسی دعوت اولیا پڑھتے ہیں۔

باتصور سر بسر جان نور شد
بشروع دعوت جسد او مغفور شد

ترجمہ: تصور اسم اللہ ذات سے جسم و جان نور ہو جاتے ہیں اور دعوت شروع کرتے ہی وجود مغفور ہو جاتا ہے۔
تصور اسم ِاللہ ذات سے اس دعوت کے پڑھنے سے زبان، نظر، آنکھیں، سماعت، کان، ہاتھ پاؤں، نفس ِ مطمئنہ، قلب اور قالب نور بن جاتے ہیں اور رحمت ِ رحمن سے روح اور ہفت اندام نور بن جاتے ہیں۔ اس دعوت کے پڑھنے کے قابل وہی طالب ہے جو شہسوار اور عامل ہو اور اولیا کی قبر پر عمل کر سکتا ہو۔

وجود کے ہفت اندام کے نور ہونے کی شرح

نفس دائمی ذکر اور فکر کے ساتھ فنا ہوتا ہے اور چوبیس بار مشق ِ مرقومِ وجودیہ کرنے سے حضورِ حق حاصل ہوتا ہے جس کے ساتھ تصور، توجہ، تفکر کی مشق سے مشاہدہ اور قربِ حق حاصل ہوتا ہے جو وجود کو نور میں بدل کر حضوری عطا کرتا ہے اور مراتب ِ معشوق پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ آیت مشق ِ مرقومِ وجودیہ کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا محبوب بننے کے متعلق آئی ہے فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْھُمْ ج تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا (الکہف۔28)
ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)آپ خود کو ان لوگوں کی صحبت میں مشغول رکھیں جو صبح شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں۔ آپ کی نگاہیں ان سے نہ ہٹیں۔ کیا آپ دنیاوی زندگی کی آرائش چاہتے ہیں۔ اور آپ اس شخص کی اطاعت نہ کریں جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہے۔

جو خود کو یقینا توفیق ِ الٰہی سے حضورِ حق میں پہنچا کر اللہ سے جواب باصواب پاتا ہے اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں رہتا ہے اسے کیا ضرورت کہ اسم ِ بدوح سے دعوت پڑھے۔ جو خود کو توجہ کی طاقت سے حضوری میں لے جاتا ہے اسے کیا ضرورت کہ خط کھینچے اور دائرہ و مثلث کے وسیع نقش بنائے اور ان بیس در بیس نقشوں کو پُر کرے۔ یہ سب کام اللہ کے قرب، حضوری اور معرفت ِ توحید سے دور ہیں۔ بیت:

ورد را بگذار وحدت را طلب
و ز وحدت عارف شوی باقرب ربّ

ترجمہ: وظائف کو چھوڑ اور وحدت کی طلب کر۔ وحدت سے تو عارف بن کر اللہ کا قرب پا لے گا۔
سر اور دماغ پر تصور سے بیس بار مشق ِ مرقومِ وجودیہ کرنے سے نفس کے خلاف چلنے کی طاقت حاصل ہوتی ہے اور چار بار مقامِ ناف پر مشق کرنے سے نفس کے محاسبہ اور انصاف کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ اسم اللہ ذات کی چار منازل اَللّٰہُ، لِلّٰہ، لَہٗ، ھُوْ  اور اسم ِ محمد رسول اللہ سب کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہُ میں شامل اور اس سے متعلق ہیں۔ اسم ِ محمد، اسم ِ فقر اور اسم ِ اعظم بھی اسم اللہ ذات ہیں یہ سب حضوری اور تیس حروفِ تہجی کا مکمل علم عطا کرتے ہیں جو سب سے پہلے حضوری کا علم جانتا اور اسے (اسم اللہ ذات سے) حاصل کرتا ہے اس کا دعوت پڑھنے کے عمل کی تاثیر روزِ قیامت تک کم نہیں ہوتی۔ ابیات:

دم روان دل زندہ روح دعوت بخوان
لائقی خواندن بود عارف عیان

ترجمہ: دعوت پڑھنے کے قابل وہی عارفِ عیاں ہوتا ہے جسکا سانس جاری، دل زندہ اور روح باصفا ہوتی ہے۔ 

مرد مرشد گنج بخشد بے نیاز
مرشدے نامرد را با زر آواز

ترجمہ: مرد (کامل و اکمل) مرشد ہر شے سے بے نیاز ہوتا ہے اور خزانے بخشتا ہے جبکہ نامرد مرشد دولت کے متعلق ہی باتیں کرتا رہتا ہے۔ (جاری ہے)

36 تبصرے “امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

  1. MashaAllah
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #faqr #ameerulkonain

  2. سلطا ن باھوؒ بہت ہی اعلیٰ پایہ کے بزرگ ہیں۔ آپ کی تمام تصانیف بہت کے بہترین اور اعلیٰ رہنمائی دیتی ہیں

  3. دعوت کو وجود کے چار عناصر مٹی، ہوا، پانی اور آگ سے تحقیق کیا جا سکتا ہے۔ دعوت پڑھنے والا ان چاروں عناصر کو تصور اور توفیق ِ الٰہی سے ایک نظر میں فنا کرتا ہے اور ایسی دعوت پڑھنے کے دوران دعوت پڑھنے والا ان چاروں عناصر کے فتنہ و فساد کو ختم کر دیتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہتا جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
    اُقْتُلُوا الْمُوْذِیَاتِ قَبْلَ الْاِیْذَائِ
ترجمہ: موذیات کو ایذا پہنچانے سے قبل ہی قتل کر دو۔ مزید پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک کو وزٹ کریں۔
    https://bit.ly/34HqcXA
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #faqr #ameerulkonain

  4. تو تین خداؤں (اللہ، نفس اور شیطان) کو حق کہتا ہے تو اصل حق کیا ہے؟ اللہ کو پانے اور باقی دو سے نجات پانے کے لیے اللہ کو اس کے نام یعنی اسم اللہ ذات سے پکار تب صرف حق ہی (تیرے وجود میں) باقی رہ جائے گا (اور باقی دو خداؤں سے جان چھوٹ جائے گی)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں