Gaflat

غفلت | Ghaflat

غفلت

تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

غفلت کے لغوی معنی بے توجہی، لاپرواہی اور بے احتیاطی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق غفلت سے مراد احکاماتِ دین کی تکمیل میں کوتاہی، بھول اور لاپرواہی ہے۔ جبکہ حقیقت میں غفلت سے مراد مقصد ِ حیات سے غافل ہونا ہے۔ انسان کا اصل خسارہ غفلت میں مبتلا ہونا ہے۔ مقصد ِ حیات سے غفلت کے نتیجے میں انسان اپنے وجود میں پوشیدہ خزانے (ذاتِ حق تعالیٰ) سے غافل ہو کر خود کو برباد کر لیتا ہے۔

سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
 انسان کا مقصد ِ حیات اللہ تعالیٰ کی پہچان یا دیدارِ الٰہی ہے ۔ اس سے بے توجہ اور لاپرواہ رہنا غفلت ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی پہچان کی کوشش نہیں کرتا اور اس سے بے خبر رہتا ہے وہ غافل ہے۔  (شمس الفقرا) 

اصل غافل وہ ہے جو اپنے نفس کے غلبہ کے باعث اندھیرے میں ہے اور اسے اس بات کا شعور تک نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح نافرمان نفس، دنیا اور شیطان کے ہاتھوں کٹھ پُتلی بن کر رہ گیا ہے۔ ایسے ہی نافرمان اور غافل لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 اور ہم نے بہت سے انسانوں اور جنوں کو دوزخ ہی کے لیے پیدا کیا ہے وہ دِل رکھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے، وہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی نورِ بصیرت سے محروم ہیں (یعنی ان کو کچھ نظر نہیں آتا) ان کے کان ہیں لیکن وہ سنتے نہیں، یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے، یہی لوگ غافل ہیں۔ (الاعراف179)
غفلت ایک ایسا حجاب ہے جو ایک پردے کی مانند انسان کے پورے وجود کو اس طرح اپنے حصار میں لے لیتا ہے کہ نہ صرف اُسے قربِ الٰہی حاصل کرنے اور اس کی جانب بڑھنے سے روکے رکھتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت سازی میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ مقصد ِ حیات سے غفلت ہی کے باعث انسان میں منفی جذبات و احساسات، خود غرضی، حرص و ہوس، مادیت پرستی، خواہشاتِ نفس کی پیروی، حسد اور دیگر نفسانی بیماریاں پروان چڑھتی ہیں جس کے نتیجے میں انسان کا اپنا حقیقی نور زائل ہو جاتا ہے۔ 

غفلت غافل دِل پر قبضہ جما کر اسے بنجر اور بے آباد کر دیتی ہے۔ نتیجتاً  دل میں چُھپا نورِ الٰہی کا بیج اس بنجر زمین میں پروان نہیں چڑھتا اور مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ غفلت میں ڈوبے اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے والوں کا انجام نہایت عبرتناک ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بیشک جو لوگ لقائے الٰہی (دیدارِ الٰہی) پر یقین نہیں رکھتے اور دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے اور مطمئن ہیں اور یہی لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔ انہیں ان کے اعمال سمیت دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ (سورہ یونس: 8-7) 

غفلت دین کے معاملات سے ہو یا دنیاوی معاملات سے، دونوں صورتوں میں انسان کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں غفلت کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک طالب ِ علم اپنے تمام تر تعلیمی امور سے غافل رہے تو نتیجتاً نہ صرف وہ تعلیمی میدان بلکہ دنیاوی میدان میں بھی ناکامی کا شکار ہو گا۔

دین کے معاملات میں غفلت سے مراد یہ ہے کہ ہم عبادات تو کرتے ہیں لیکن ان عبادات کو قربِ الٰہی کے حصول کی بجائے اپنی خواہشوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے سر انجام دیتے ہیں نتیجتاً اپنے دل پر مزید حجابات کا اضافہ کرتے جاتے ہیں کیونکہ غافل دل کے ساتھ قربِ الٰہی کے نیت کے بغیر کی گئی عبادت محض ایک دھوکا ہے جو ہر غافل انسان خود سے کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے غافل لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
  اللہ نے (ان کے اپنے انتخابِ غفلت کے نتیجے میں) ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ (سورہ البقرہ   7) 
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے اور حق کے درمیان ستر ہزار نور و ظلمت کے حجاب ہیں۔‘‘
ظلمت کے حجاب سے مراد جہالت اور غفلت کے حجاب ہیں اور نور کے حجاب سے مراد راہِ سلوک طے کرتے ہوئے طالب ِ مولیٰ کی راہ میں آنے والے مقامات ہیں۔ نور کے حجابات سے گزرتے ہوئے قربِ الٰہی کو پانا ہی اصل منزل ہے۔ نوری سفر کے کسی بھی مقام پر ٹھہر جانا مقامِ فنا فی اللہ بقاباللہ سے غافل ہونا ہے۔

محمد الغزالی الشافعی ؒ غفلت کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان تین وجوہات کی بِنا پر غفلت کا شکار ہوتا ہے :
۱) کمزور ایمان کی بدولت
۲) غلبہ ٔ  شہوت کی بنا پر
۳) تاخیر کے سبب 

یعنی اپنے آپ کو یوں کہہ کر ٹالتے رہنا کہ بعد میں کر لیں گے، پھر دیکھا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس کا سبب اکثر غلبہ ٌشہوت ہی ہوتا ہے  کیونکہ حال میں آدمی اس سے باہر نہیں آنے پاتا فقط نقد ہی کو دیکھتا ہے اور ادھار کو (یعنی اگلے جہان کو) فراموش کر دیتا ہے۔ (کیمیائے سعادت)

الرسالۃ الغوثیہ میں اللہ تعالیٰ سیّدنا غوث الاعظم ؓ سے فرماتا ہے :
’’اے غوث الاعظمؓ!جو باطن میں میری طرف سفر سے محروم رہا (یعنی میرے قرب و دیدار کی کوشش نہ کی اور غافل بنا رہا) مَیں اس کو ظاہری سفر میں مبتلا کرتا ہوں۔‘‘
ظاہری سفر سے مراد غافل شخص پر دنیا کو اس طرح مسلط کر دینا کہ اُسے اپنی عزہ و جاہ، مال و دولت اور خواہشاتِ نفس کے حصول کے علاوہ کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔ حُبّ دنیا کا نشہ ایسے شخص کو باطنی طور پر اندھا کر دیتا ہے ، دنیا میں بھی اس شخص کے لیے ذلت ہے اور آخرت میں بھی سخت وعید ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال رکھے ہیں، جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، اس وجہ سے ان کے سر اوپر کو اُٹھے رہ گئے ہیں اور ہم نے ایک آڑ اُن کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک آڑ اُن کے پیچھے کھڑی کر دی ہے اور اس طرح انہیں ہر طرف سے ڈھانک دیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ (سورہ یٰسین: 9-8)

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ ہمیں ایک روز اپنے خالق ِ حقیقی کی بارگاہ میں ضرور حاضر ہونا ہے، جہاں ہم سے اُن سب اعمال کے متعلق سوال کیا جائے گا جو ہم اس دنیا میں سرانجام دیتے رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم نے اس شدید سخت امتحان کی کیا تیاری کی ہے؟ اس کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ اور ہم نے اپنے لیے آگے کیا بھیجا ہے؟

میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
بندے کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو پانا ہے جو اس مقصد سے غافل رہے گاوہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔ (سلطان العاشقین)

اگر غور کیا جائے تو روح کے جسم سے نکلتے ہی ہر رشتہ ناطہ، ہر خواہش، اور ہر عمل ختم ہو جاتا ہے۔ پھر تن تنہا ہی آخرت کا ابدی سفر طے کرنا پڑتا ہے یہ سب نشانیاں ہمارے سامنے ہیں اس کے باوجود انسان غافل بنا ہوا ہے۔
غفلت کی اہم وجوہات میں ایک وجہ ذکر ِ الٰہی سے غافل ہونا بھی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
اور صبح و شام ذکر کرو اپنے ربّ کا، دل میں سانسوں کے ذریعے، بغیر آواز نکالے، خوف اور عاجزی کے ساتھ اور غافلین میں سے مت بنو۔ (الاعراف۔205)
حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا:
اَلشَّیْطٰنُ جَاثِمٌ عَلٰی قَلْبِ اِبْنِ اٰدَمَ اِذَا ذَکَرَ اللّٰہُ خَنَسَ الشَّیْطٰنُ
ترجمہ: شیطان ابن ِ آدم کے قلب پر قبضہ جمائے ہوئے ہے، جب بندہ ذکر ِاللہ کرتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے۔
جو دل ذکر ِ الٰہی سے غافل رہتا ہے وہ بے نور اور تاریک ہو جاتا ہے اور نورِ ایمان سے خالی تاریک دل شیطان کا مورچہ ہے جہاں سے وہ غافل قلب پر اس قدر شدید وار کرتا ہے کہ انسان نفس کے تابع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ غفلت کا ایک سبب خواہشاتِ نفس کی پیروی بھی ہے۔ جب نفس خواہشات کی جانب رغبت اختیار کرتا ہے تو دنیا آراستہ و پیراستہ ہو کر اس کے سامنے آجاتی ہے، شیطان باطن سے حملے کرنا شروع ہو جاتا ہے، پھریہ انسانی وجود مکمل طور پر ان کے حصار میں آجاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خواہشات پر خواہشات کا گہرا سیاہ رنگ چڑھتا جاتا ہے اور باطن میں بھی حجاب پر حجاب بنتے چلے جاتے ہیں۔
ذکر ِ الٰہی سے غافل ہونے والوں کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’جس شخص نے میرے ذکر سے اعراض کیا پس اس کی (باطنی یعنی روح کی) روزی تنگ کر دی جاتی ہے اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا کر کے اُٹھائیں گے۔ (سورۃ طٰہٰ: 124 )
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’جو ذکر ِ اللہ کرتا ہے اس کی مثال زندہ کی اور جو نہیں کرتا اس کی مثال مردہ کی ہے۔‘‘ (بخاری)
ذکر سے غفلت کے بارے میں سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہو جانا دِلوں کی موت ہے۔ (الفتح الربانی ۔مجلس49:)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں:

جو دم غافل سو دم کافر، سانوں مرشد ایہہ فرمایا ھُو

یعنی جو سانس بھی ذکر ِ اللہ کے بغیر نکلے وہ کفر ہے یہ بات مرشد نے ہمیں سمجھائی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسا کون سا ذکر ہے جس کو کرنے سے انسان کا باطن اس قدر منور ہو جائے کہ اسے دیدارِ حق تعالیٰ کی نعمت نصیب ہو جائے ؟
امام الوقت‘ آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
ایک ذکر ِ لسانی ہے جو زبان سے کیا جاتاہے اس میں تلاوتِ کلامِ پاک، کلمہ پاک، درود پاک اور وہ تمام اذکار شامل ہیں جو زبان سے کیے جاتے ہیں۔ زبانی ذکر سے درجات اور ثواب تو حاصل ہوتا ہے لیکن قلب یا مَن کا قفل کھولنے والا ذکر، ذکر ِ پاس انفاس (سانسوں سے اسم ِ اَللّٰہ ذات کا ذکر) ہے جسے سلطان الاذکارکہا جاتا ہے۔ (شمس الفقرا)
ذکر ِ پاس انفاس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
پھر جب تم نماز ادا کر چکوتوکھڑے ، بیٹھے اور کروٹوں کے بَل لیٹے ذکر ِ اَللّٰہ کرو۔ (النسائ: 103)
ذکر ِ پاس انفاس (سانسوں کا ذکر ) ہی وہ واحد ذکر ہے جو ہر حالت (نیند اور بیداری) اور ہر حال میں جاری رہتا ہے۔ تصور اسمِ اَللّٰہ ذات اور سلطان الاذکار ھُو کا ذکر ہی غفلت کے باطنی حجاب کو ختم کر کے دِل کو نورِ ایمان اور عشق ِ الٰہی سے منور کرتا ہے اور یہی عشق بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ بھی ذکر ِ الٰہی سے غفلت کے بارے میں فرماتے ہیں:
جس نے ذکر ِ اسم ِ اللہ ذات سے اپنی سانسوں کو اور تصور اسم ِ اللہ ذات سے اپنے قلب (باطن) کو زندہ نہ کیا وہ دنیا سے بے مراد گیا۔ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

ہر    کراں    بہ    اسم ِ     اَللّٰہ    شد   قرار
ہر چہ باشد غیر اللہ زاں فرار

ترجمہ: جس نے اسم ِ اللہ کے ساتھ قرار پکڑا وہ غیر اللہ کے ہر تعلق سے نجات پا گیا۔ (عین الفقر)
فقر و تصوف کے موجودہ امام، انسانِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس دورِ حاضر میں بحکم ِ الٰہی مخلوقِ خدا میں ذکر و تصور اسم ِاللہ ذات کا فیض عام فرما رہے ہیں اور آنے والا ہر لمحہ ہر گھڑی اس بات کی شاہد ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل ہونے والا ہر خوش نصیب اپنے قلب کودنیا میں غافل کرنے کی بجائے عشق ِ الٰہی سے منور کر رہا ہے۔
ہر خاص و عام کو دعوتِ عام ہے کہ وہ غفلت کی روش کو چھوڑنے اور اپنے قلوب کو نورِ ایمان سے منور کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے دست ِ اقدس پر بیعت ہو کر ذکر و تصور اسم ِ اللہ ذات کی لازوال نعمت حاصل کرے اور اپنے ازلی ٹھکانہ کی فکر دِل میں پیدا کرے۔

بے خبر غافل نہ بن اپنا ٹھکانہ یاد کر

استفادہ کتب:

الفتح الربانی تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ
عین الفقر تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
شمس الفقرا ۔ تصنیف از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ حیات و تعلیمات   ایضاً
سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
کیمیائے سعادت تصنیف امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ

 

41 تبصرے “غفلت | Ghaflat

        1. اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارا غفلت میں ڈوبا دل ذکر اللہ میں میں مائل کر دیں! (آمین)

      1. غفلت دین کے معاملات سے ہو یا دنیاوی معاملات سے، دونوں صورتوں میں انسان کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔

  1. اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارا غفلت میں ڈوبا دل ذکر اللہ میں میں مائل کر دیں! (آمین)

  2. ماشا اللہ ۔ بہت خوبصورتی سے غفلت کے پہلو کو منظر عام پر لایا گیا ہے اس مضمون میں۔

  3. غفلت کے لغوی معنی بے توجہی، لاپرواہی اور بے احتیاطی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق غفلت سے مراد احکاماتِ دین کی تکمیل میں کوتاہی، بھول اور لاپرواہی ہے۔ جبکہ حقیقت میں غفلت سے مراد مقصد ِ حیات سے غافل ہونا ہے۔ انسان کا اصل خسارہ غفلت میں مبتلا ہونا ہے۔ مقصد ِ حیات سے غفلت کے نتیجے میں انسان اپنے وجود میں پوشیدہ خزانے (ذاتِ حق تعالیٰ) سے غافل ہو کر خود کو برباد کر لیتا ہے۔ مزید پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک کو وزٹ کریں۔

    https://bit.ly/3nD1jVQ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #islam #faqr #ghaflat

اپنا تبصرہ بھیجیں