alif

alif | الف

حیات النبیؐ

 حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام ا بھی مٹی اور پانی کے درمیان تھے یعنی اُن کا خمیر تیار نہیں ہوا تھا جس سے اُن کے جسد کو بنایا جا سکے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس وقت سے نبی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نور کو جدا کیا اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی اختیار کی اس لیے بشری ولادت سے قبل بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نبی تھے اور نورِ محمدی ہر نبی میں منتقل ہوتا رہا۔ 

 اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’رسول‘‘ کے طور پر دیکھا جائے تو کلمہ طیبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘  کا ترجمہ ذرا غورسے پڑھیے … اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے رسول ہیں۔ اس کو ہم یوں لے سکتے ہیں کہ جو دور بھی گزر رہا ہو اُس کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رسول ہیں۔ جو گزر گیا اُس کے بھی رسول ہیں، جو گزر رہا ہے اس کے بھی رسول ہیں اور جو گزرے گا اس کے بھی آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رسول ہیں اور رسول وہ ہوتا ہے جو موجود ہو۔ اگر ہم حیاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منکر ہو جائیں تو عقیدہ ختم ِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بھی منکر ہوں گے۔ اب کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ ’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول تھے،‘‘ وہ یہی کہے گا کہ ’’محمد  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اگر کوئی ایسا نہ کہے تو وہ بالا تفاق کافر ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت کو ابدلآباد تک کے لیے مانا جائے۔ اگر حیاتِ نبوی نہ ہو تو حقیقت ِ محمدیہ کی کوئی حقیقت نہیں رہتی حقیقت ِ محمدیہ اصل میں حیات ِ نبوی ہی ہے ۔

یہ عقیدہ رکھنا فرض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اب بھی اسی طرح اللہ کے رسول ہیں جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے تھے، اسی طرح ہمارے لیے ہیں اور اسی طرح تا قیامِ قیامت بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے بھی ہوں گے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تریسٹھ (۶۳) برس تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہر کوئی سر کی آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا مگر وصالِ مبارک کے بعد عاشقین و عارفین آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سِرّ کی آنکھوں سے دیکھتے اور آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی محفل میں حاضر ہوتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اَلْاَنْبِیَآ ئُ اَحْیَائٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ یُصَلُّوْنَ۔  (جامع صغیر سیو طی جلد1،خصائص کبریٰ جلد2)
ترجمہ: انبیا ِکرام علیہم السلام اپنے اپنے مزارات میں زندہ ہیں وہ نمازیں پڑھتے رہتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ صرف حیات ہیں بلکہ آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی مجلس اسی طرح موجود ہے جس طرح ظاہری حیات میں صحابہ کرامؓ کے ساتھ موجود تھی۔عاشق اور عارف آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں اور فیض حاصل کرتے ہیں۔ دیدارِ حق تعالیٰ مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضری کے بعد حاصل ہوتاہے۔ حیات ِ نبویؐ اور مجلس ِمحمدیؐ کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
پس جو شخص حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ کس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہو سکتا ہے وہ جو بھی ہے جھوٹا ہے وہ بے دین و منافق ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ’’جھوٹا آدمی میرا اُمتی نہیں ہے۔‘‘(کلید التوحید کلاں)

(ماخوز از کتاب ’’حقیقت ِ محمدیہ‘‘ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں