میرے حضورؐ-Mere Huzoor

میرے حضورؐ

تحریر فوزیہ فرید سروری قادری

وہ دانائے سُبل، ختم الرسُل، مولائے کُل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے تھے۔ انسانی ارتقا کے باوجود ابھی بھی وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے کہ پتھر کے تراشے ہوئے اور گیلی مٹی سے ڈھالے گئے بت کسی کی زندگی و موت اور روزمرہ رونما ہونے والے واقعات کو بدلنے پر بااختیار نہیں ہوسکتے۔ باپ دادا کی بتائی تمام تعلیمات اور رسوم و رواج معیارِ عرب کے حوالے سے زندگی اور انسانی ذہن کی نشوونما سے برتر تھے۔ یہ لوگ اپنے بزرگوں کے قصے کہانیوں پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے تھے اور تمام معاملاتِ زندگی میں درپیش مشکلات کو اپنے خداؤں کی ناراضگی تصور کرتے تھے۔ ان کے ناخدا کم ناپ تول، ملاوٹ، بے ایمانی، بدکاری، بدسلوکی، قتل و غارت، جھگڑا فساد، چوری، ظلم، کمسن اور نوزائیدہ لڑکیوں کے قتل، بدمعاشی، خیانت پر بالکل خاموش تھے، انسانیت مہر بہ لب تھی، غلام بکتا تھا، خریدا جاتا تھا اور اسکے ساتھ کیا جانے والا سلوک حیوانیت کے درجے سے بھی کم تر تھا۔ سفید کو سیاہ پر، امیر کو غریب پر، طاقتور کو کمزور پر، خطیب کو خاموش پر، جلال کو سکون پر، عشرت کو عسرت پر اور صحرائے عرب کو عجم پر برتری تھی۔ عرب جب دوسرے خطوں سے روشناس ہوئے تو کسی کو بہتر اور برتر ماننے پر تیار نہ تھے۔ دوسرے ممالک اور ریاستوں کی دولت پر تو نظر پڑی مگر وہاں کے انسانی ذہن کے ارتقا اور معاشرتی ترقی کو اپنے ماحول میں جگہ دینے پر تیار نہ ہوئے۔ چنانچہ جب تجارت اپنائی تو دولت تو کمانے لگے لیکن پختگیِ سوچ پروان نہ چڑھ سکی۔ دیگر قافلے ان سے زیادہ تجارت کرتے تھے کیونکہ یہ لوگ یکسانیت اور کرختگی کی وجہ سے زیادہ میل جول کے عادی نہ تھے۔
البتہ اس معاشرے کا مذہبی جنون ایک بزرگ عمارت کا احاطہ کئے ہوئے تھا جسے اس کائنات کے مالک اور پروردگارِ دو جہان نے کرۂ ارض پر اپنی نمائندگی کا اعلیٰ نشان بنایا۔ خطہ عرب خانہ کعبہ کا عاشق تھا۔ یہ مقام نہ صرف ان کے تمام خداؤں کا مسکن تھا بلکہ عرب کے تمام بڑے مذہبی اور ملی تہواروں کا مرکز بھی تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ کے ہاتھوں تعمیر پانے والا یہ گھر جو کہ خدائے بزرگ و برتر کے انمول رازوں میں سے ایک ہے، ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے اپنے حقیقی انوار سے ان لوگوں کے باعث محروم تھا۔
کسی بھی گھر کی رونق اس کے آباد کرنے والوں سے ہی ہوتی ہے۔ خانہ کعبہ کی آج کی حرمت کا تصور کیجئے اور ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی حالت کو ذہن میں لائیے جہاں یہ خانۂ خدا مشرکین کے سینکڑوں بتوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کے چاروں طرف جہالت اور ظلمت کی تاریک لمبی رات چھائی ہوئی تھی۔
وہ رات کائنات کی تمام راتوں سے زیادہ پُر نور ہوگی جس میں میرے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ہوں گے۔ محسنِ انسانیت، وجہ تخلیقِ دو جہان، خدا کے محبوب، معراج کے دولہا، انبیا کے سردار، مظلوموں کے پالن ہار، گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے، عبادت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز نماز ادا کرنے والے اور یتیموں کے والی دنیا میں تشریف لائے تو خود باپ کی شفقت اور سائے سے محروم تھے۔ عرب کے رواج کے مطابق دودھ پلانے والی دائیوں کا انتظار کیا گیا اور سواری کے بڑھاپے اور کمزوری کے باعث سب سے آخر میں پہنچنے والی دائی حلیمہؓ کے حصے میں دوجہان کا یہ لعل آیا۔ خاندان قریش عرب کے چیدہ اور برگزیدہ خاندانوں میں سے ایک تھا لیکن حضرت عبداللہؓ کے اس سعید بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس خاندان کو دائمی عروج اور دوام بخش دیا، حلیمہؓ کی قسمت خاندان قریش کی قسمت کے ساتھ چمک اُٹھی۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ساری عمر اس پرورش اور خدمت کو یاد رکھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک بار جب حضرت حلیمہؓ حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی چادر جسے ہم دنیا کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنے کندھے سے اتاری اورحضرت حلیمہؓ کے بیٹھنے کے لئے زمین پر بچھا دی اور میری ماں ، میری ماں کہتے ہوئے ان سے لپٹ گئے۔
بچپن ہی میں ماں کے سایہ سے محروم ہوئے اور دنیا میں ماں کے مقام و رتبہ کو تمام دنیاوی رشتوں میں سر فہرست بنا دیا۔ ماں کے پیروں میں جنت کی بشارت رکھ دی اور ماں کے الفاظ کو اولاد کا اوّلین اور دائمی قانون بنا دیا۔ ماں کا اولاد پر حق فرض کر دیا اور ماں باپ کی نافرمانی کو بحکم خدا پاک گناہِ کبیرہ قرار دیا۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا میں تشریف لائے اور خدائے بزرگ و برتر کے پیغام کو دوام بخش دیا۔
بچپن سے لڑکپن کی طرف بڑھے تو غور و فکر اور سنجیدگی کی طرف مائل رہے۔ دادا ور چچا کی کفالت حاصل رہی اور عرب رسوم و رواج اور مذاہب کا کھوکھلا پن یکے بعد دیگرے اس کفالت کے دور میں آپ کی نگاہوں پر عیاں ہوتا گیا۔ کم گوئی، سنجیدگی، ٹھہراؤ، ذہنی پختگی، غور و فکر کی عادت، جاہلانہ رسومات اور بت پرستی سے بیزاری شروع سے ہی میرے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طبیعت میں تھی۔ کائنات کے وجود اور انسان کی دنیا میں حیثیت پر تفکر پروردگار کی طرف سے شروع سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سوچ کا حصہ تھے۔
جو  پیغامِ الٰہی دنیا کا کوئی بھی پہاڑ اپنے وجود پر اتروانے سے قاصر تھا اس کی نزولیت کا وقت جوں جوں قریب آتا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنجیدگی میں اضافہ ہوتا گیا اور تنہائی میں وقت گزارنے کا شوق بڑھتا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بکریاں بھی چرائیں، تجارت میں حصہ بھی لیا اور صادق، منصف اور امین ہونے کا لقب بھی پایا اور جوان ہونے تک عرب کے اس کثیف معاشرے میں ہر دنیاوی آلائش سے پاک رہے۔ امانت اورصداقت کے انہی اُصولوں کی وجہ سے حضرت خدیجہؓ نے نکاح کا پیغام بھجوایا۔نکاح کے بعد بھی میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اکثر تنہائی اور غور و فکر کی خاطر غارِ حرا تشریف لے جاتے۔ غار کے دہانے سے خانہ کعبہ آج بھی صاف نظر آتا ہے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بشری وجود پیغامِ الٰہی کے لئے تیار ہوا تو بحکمِ خدا تعالیٰ حضرت جبرائیل ؑ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس غارِ حرا میں پیغامِ حق لے کر نازل ہوئے اور اس دن کے بعد صحرائے عرب انسانیت کے لئے وہ گلزار بن گیا جس میں مدفون ہونے کے لئے آج دنیا کے تمام مسلمان روساء اپنی ساری دولتِ دنیا دینے کیلئے تیار ہیں۔
میرے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُمّی تھے لیکن دنیا کو وہ سبق پڑھا دیا جس کا لکھنے والا خود خالقِ کائنات ہے۔ میرے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام زمین پر چلتے تھے لیکن معراج کی رات ان کے قدموں تلے عرش بطورِ زمین تھا۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انسان تھے لیکن خدا پاک کے فضل سے آپ کا سایہ مبارک نہ تھا اور سدرۃ المنتہیٰ سے آگے جانے کی جہاں فرشتوں کی بھی استطاعت نہ تھی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وہاں گئے اور خدا پاک سے ہمکلام ہوئے۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیا کے سلسلے کے آخری نبی ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے تمام پیش رواؤں کے سردار اورامام الانبیا ہیں۔
میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کی مثال نہ ان کے دنیا میں آنے سے قبل موجود تھی نہ قیامت تک ہو گی۔ ساری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی کسی کو گالی نہیں دی، کسی کمزور کو یا طاقتور کو ناجائز غلط نہیں کہا، کسی کا دل نہیں دکھایا، کسی کی امانت میں خیانت نہیں کی، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی، کبھی معاہدہ کر کے نہیں توڑا، کسی کے ساتھ کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، ہمیشہ دوسروں سے حسنِ اخلاق سے پیش آئے، کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔ دوسروں کے درمیان کبھی پھیل کر نہیں بیٹھے، کبھی دوسروں کے آگے سے کھانا نکال کر نہیں کھایا، کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا، کبھی دوسروں سے امتیازی سلوک کا تقاضا نہیں کیا، کبھی کسی کو ناحق قتل نہیں کیا، کبھی کسی تکلیف دینے والے کے خلاف بددعا نہیں کی، کسی سائل کو کبھی ٹالا نہیں، ہر راستے سے تکلیف دہ پتھر و کنکر ہٹا دیا کرتے تھے۔ ہر یتیم اور مسکین کے سر پر اپنا دستِ شفقت رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا میں تکلیفیں بھی اُٹھائیں۔ سفرِ طائف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جوتے خونِ مبارک سے تر بھی ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر بھی باندھے لیکن پھر بھی کبھی گِلہ و شکایت زبان پر نہ آیا، نہ ہی بدلے کی خواہش کی رمق بھی دل میں پیدا ہوئی۔ ہر حال میں سراپاءِ رحمت و شفقت ہی رہے۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دو جہانوں کے امام تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس اس دنیا کے گھر میں کوئی قابلِ ذکر اثاثہ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بیٹے بھی پیدا ہوئے اور ان کی وفات بھی ہوئی میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شدتِ غم سے روئے بھی اور صحابہؓ کرام کی محفلوں میں سنجیدہ گفتگو کے ساتھ شیریں سخن بھی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کبھی قہقہہ مار کر نہیں ہنسے مگر آپ تبسم بھی فرماتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شادیاں بھی کیں اور اُمورِ خانہ داری بھی چلاتے رہے۔
میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حق تعالیٰ کے پیغامِ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ خط و کتابت بھی کی اور جنگ بھی۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسلام کا پُرامن پیغام پھیلایا لیکن خدا کی راہ میں نافرمان مشرکین اور کفار کے خلاف صف آرا بھی ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خندق کی کھدائی میں بھی حصہ لیا اور قحط کے دنوں میں بھوکے پیاسوں کی داد رسی کے لئے صحابہؓ کرام سے امداد کی درخواست بھی کی۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسلام کے ذریعے لوگوں کو فلاح و کامیابی کا راستہ دکھایا۔ عورت کو اسکا جائز مقام دلوایا، وراثت میں حصہ دیا اور عزت کی حرمت کو تا دمِ قیامت دوام بخشا۔
میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بچوں کے ساتھ کھیلتے بھی تھے اور اپنے کندھوں پر نواسوں کے سوار ہو جانے کی وجہ سے سجدہ طویل بھی کرتے تھے، میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بازار بھی جایا کرتے تھے اور خود خریداری بھی کرتے تھے۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کبھی مہنگا کپڑا نہیں پہنا لیکن صاف سادہ اور پاک کپڑے کو ہمیشہ پسند فرمایا، میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کبھی آرام دہ بستر کو پسند نہیں فرمایا لیکن اپنے امتیوں کے آرام کی خاطر ساری رات عبادت میں کھڑے ہونے کا پیغام بھی نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی اُمت کو بھی جانتے تھے اور دوزخ و جنت کے حالات کے ناظر بھی تھے۔ چنانچہ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ساری رات خدا پاک سے اس اُمت کی بخشش کی دعائیں کرتے تھے۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت قریش کے خاندان سے شروع ہوئی اور آج دنیا کے تمام براعظموں میں قائم و دائم ہے۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تمام اعمال حسنِ اخلاق کا مجموعہ ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کی وہ اکلوتی معراج الخلائق داستان ہے جو نہ کبھی تاریخ میں اس سے پہلے رقم تھی اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے بعد ہمیں کبھی ملے گی۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خد اکی وحدانیت کا پیغا م یوں دیا کہ ہر مومن کو اپنے خالق سے بیک وقت پیار اور خوف محسوس ہوا۔
کوئی انسانی ذہن قرآنِ پاک کے پیغام کی تشریح یوں نہ کر سکے گا جیسے میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کی۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حبیبِ ربّ العلٰی، شفیع روزِ جزا ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر نے خود ان پر درود بھیجا ہے۔ نگاہِ مسلم کا مدعا ہیں، خیالِ کائنات کا آسرا ہیں، محبوبِ کبریا ہیں۔ میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود بقول سبحان و تعالیٰ ’’محمد‘‘ہیں۔
میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام امتِ مسلمہ کا قرار ہیں، ساقیِ کوثر ہیں، رحمتہ اللعالمین ہیں، بعد از خدا بزرگ آپ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات و صفات اور آپ کی حیاتِ طیبہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ اور مشعلِ راہ ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر آپ کے اسوۂ حسنہ تمام دنیا کے انسانوں کو ہدایت فراہم کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سخت دل، ظالم، اڑیل اور جاہل معاشرے کو اپنی محنت، استقامت اور اخلاق سے ظاہر و باطن میں سدھار کر ایسا عروج بخشا جو کہ ایک لازوال داستان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت تمام جہانوں کے لئے ہے، ہر دکھی انسان کے غمخوار ہونے کی دلیل ہے، تہذیبِ کامل اکمل کا پیام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی انفرادیت کا اقرار تمام دنیا کے محققین مسلم اور غیر مسلم بلاتفریق کرتے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر کی ذات و صفات کا بیان میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے زیادہ کوئی نہیں کرسکا۔
ہمیں نہ صرف اس دنیاکی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کرم کی طلب ہے بلکہ ہم آخرت میں بھی انکی شفاعت اور کرم کے محتاج ہیں۔
میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر دنیا اور آخرت کی تمام آسائشیں اور رشتے قربان۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام اُمتیوں کو ان کی پاک ذاتِ مبارکہ کی سنتوں پر عمل پیر ا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں