الف-Alif

الف

قرآنِ پاک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ  (سورۃ الانشرح: 4) ترجمہ: اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا ذکر بلند فرما دیا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)کا ذکر بلند کردیں گے یا کر دیا جائے گا بلکہ فرمایا’’کر دیا ہے۔‘‘ کب سے کررہا ہے؟ جب سے اللہ تعالیٰ موجود ہے اور کب تک بلند رہے گا؟ جب تک اللہ تعالیٰ موجود رہے گا۔ وہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا! اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گاکیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو اُس وقت بھی نبی تھے جب آدمؑ مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی عمر کے متعلق بتایا کہ وہ اپنی عمر تو نہیں جانتے بس اتنا جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نورانی حجابات کے چوتھے پردہ میں ستر ہزار سال بعد ایک نوری تارا ظاہر ہوتا ہے اور انہوں نے اُسے بہتّر ہزار بار دیکھا ہے۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)نے فرمایا ’’اے جبرائیل ‘وہ تارا میں ہی ہوں۔‘‘
پھر کہاں کہاں بلند فرمادیا!کیا صرف اس دنیا میں؟ کیوں؟ وہ خود ’’ربّ العالمین‘‘ ہے اور اس کا محبوب’’رحمتہ اللعالمین‘‘ہے لہٰذا جتنے عالمین (جہان) اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے وہ اُن کا ربّ ہے اور اُن تمام جہانوں کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رسول ہیں۔ اسی لیے ان تمام عالمین میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بلند فرمادیا ہے ۔ عالم (جہان) کتنے ہیں یہ تو ہمارے حدِ ادراک سے باہر ہے اور اُن تمام میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا ذکر بلند ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت اور ذکر کی بلندی کو سمجھنا عقل و فہم سے بالاتر ہے۔
اس آیت کریمہ میں لفظ لَکَ  یعنی ’’آپ کے لیے‘‘ اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) ہمیں کسی کی کیا پرواہ ہے؟ کوئی خوش ہو یا ناخوش‘ راضی ہو یا ناراض ہم تو مالک ہیں بے نیاز ہیں، ہر کوئی ہمارا محتاج ہے ہم کسی کے محتاج نہیں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی بات آتی ہے تو آپ کا ذکر بھی اس لیے کرتا ہوں کہ آپ راضی ہو جائیں۔
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ  کے مفہوم پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کریمہ اس حقیقت کی وضاحت کر رہی ہے کہ کائنات میں کوئی شے ایسی نہیں جس سے حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر بلند تر نہ ہو کیونکہ فرمایا ’’محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہم نے تمہارا ذکر ہر شے سے بلند کردیا۔‘‘ اب بتائیے آپ کی عقل‘ آپ کا علم‘ آپ کا مطالعہ‘ آپ کے مناظرے‘ مجادلے‘ استدلال اور آپ کے عقلی نقلی دلائل‘ تحریریں‘ بیان‘ کلام وغیرہ یہ سب لفظ ’’شے‘‘ کے دائرے میں آتے ہیں کہ نہیں؟ جب یہ سب کچھ لفظ ’’شے‘‘ کے دائرے میں آتا ہے تو فرمانِ الٰہی کا مفہوم یا مطلب یہ ہوا کہ ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمہارے علم سے بھی بلند ہے اور تمہاری عقل سے بھی‘ تمہاری فکر و بصیرت سے بھی بلند ہے، تمہارے ادراک سے بھی بلند ہے اور تمہارے مطالعوں سے بھی‘ تمہاری کتابوں سے بھی بلند ہے اور تمہارے مناظروں سے بھی۔ عمر بھر تم پرواز کرتے رہو تمہاری پرواز جہاں جاکر ختم ہوگی میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر اس سے بھی بلند ہے۔ غرضیکہ ’’حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مقام یہ ہے اور یہ نہیں ہے‘‘ کی بحث میں پڑنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقام و مرتبے کو متعین کرنے کے مترادف ہے جو سراسر ضلالت و گمراہی اور جہالت ہے۔
(ماخوذ از کتاب ’’حقیقتِ محمدیہ‘‘ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں