درود شریف کی فضیلت-Durood Shareef ki Fazeelat

درود شریف کی فضیلت

تحریر: رافیعہ گلزار سروری قادری ۔لاہور

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں مسلمانوں کی راہنمائی اور بھلائی کے لیے بے شمار احکامات نازل فرمائے ہیں اور عبادات فرض کی ہیں جن میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ شامل ہیں مگر کسی جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ فلاں کام یا عبادت ہم بھی کرتے ہیں اور فرشتے بھی‘ لہٰذا اے مومنو! تم بھی کیا کرو لیکن جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام کی بات آتی ہے تو اللہ فرماتا ہے ’’اِنَّ اللّٰہَ وَ  مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُ تَسْلِیْمَا‘‘ (سورۃ الاحزاب)
ترجمہ: ’’بیشک اللہ اور اس کے فرشتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘
مفسرین اور اکابرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درجات بلند فرمانا ہے جبکہ فرشتوں اور مومنوں کے درود و سلام پڑھنے کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف و توصیف اور مدح و ثنا کرنا اور اللہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے دعائے رحمت کرنا ہے ۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درودو سلام بھیجنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ترین عمل ہے۔ حضرت وہب بن منبہؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھنا اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔
اس آیت مبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے دوسرے حصہ میں مومنوں کو اللہ حکم دے رہا ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف و توصیف کو اپنی عبادات کا لازم جز بنائیں۔ اپنے گھروں، مساجد اور محافل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدح و ثنا سے مزین کریں۔ (القول البدیع فی الصلوٰۃ الحبیب الشفیع)
حدیثِ مبارکہ ہے ’’ تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درود پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا درود پاک پڑھنا قیامت کے روز تمہارے لیے نور ہو گا‘‘ (جامع الصغیر)۔ اسی سلسلے میں اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ’’مجلسوں کی زینت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام پڑھنا ہے لہٰذا مجالس کو درود پاک سے مزین کرو۔‘‘
محافل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام پڑھنا ان محافل کی شان بڑھاتا ہے اور جو جماعت درود و سلام کو اپنا معمول بناتی ہیں وہ ہمیشہ کامیا ب و کامران ہوتی ہے۔ ابنِ نعمان ؒ فرماتے ہیں ’’اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھنا سب اعمال سے افضل ہے اور اس سے انسان دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کر لیتاہے۔‘‘ اسی ضمن میں امام زین العابدینؓ فرماتے ہیں ’’حق جماعت کی علامت ہے کہ وہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درودِپاک کی کثرت کرتی ہے۔‘‘

احادیث مبارکہ میں درود پاک پڑھنے کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے بے شمار فضائل ہیں کیونکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے شمار احادیث ہیں جن میں ان انعامات کا ذکر کیا گیا ہے جو درود و سلام پڑھنے والے مومنوں پر نازل ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
* ’’جو مجھ پر (ایک دن میں) 100 مرتبہ درود پاک بھیجے اللہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ بندہ نفاق اور دوزخ کی آگ سے بری ہے اور قیامت کے دن اللہ اس کو شہیدوں کے ساتھ رکھے گا۔‘‘
* تمہارا مجھ پر درود پاک پڑھنا قیامت کے دن پل صراط کے اندھیرے میں تمہارے لیے نور ہوگا اور جو شخص یہ چاہے کہ قیامت کے دن اس کے اجر کا پیمانہ بھر بھر کر دیا جائے اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود کی کثرت کرے۔ (سعادت الدارین)
* قیامت کے روز اللہ جب محدثین کرام اور علمائے دین (کثرت سے درود پاک پڑھنے والوں) کو اٹھائے گا تو ان کی پیشانی خوشبو سے مہکتی ہوگی اور وہ دربارِ خداوندی میں حاضر ہونگے تو اللہ ان سے فرمائے گا ’’تم عرصہ دراز تک میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر درود پاک بھیجتے رہے تھے فرشتو! ان کو جنت میں لے جاؤ۔‘‘ (سعادت الدارین)
* حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود پاک پڑھنا مومن کے لیے روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت کا باعث بنے گا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو مجھ پر درودِ پاک پڑھے گا قیامت کے روز میں اسکی شفاعت کروں گا۔‘‘ (ترمذی)
* قیامت کے روز میرے حوضِ کو ثر پر کچھ گروہ آئیں گے جنہیں میں کثرتِ درود پاک کی وجہ سے پہچانتا ہوں گا۔ (کشف الغمہ فی المعرفۃ الائمہ)
* جس نے مجھ پر دس (10) مرتبہ درود پاک پڑھا اللہ اس پر سو (100) رحمتیں نازل فرماتا ہے اور جو مجھ پر سو (100) مرتبہ درود پاک پڑھتا ہے اللہ اس پر ہزار (1000) رحمتیں نازل فرماتا ہے اور جو محبت و شوق سے اس سے بھی زیادہ پڑھے میں قیامت کے روز اس کا شفیع اور گواہ بنوں گا۔ (القول البدیع)
* جو مجھ پر دن بھر میں پچاس بار درود پاک پڑھے تو قیامت کے دن میں اس سے مصافحہ کروں گا۔(القول البدیع)
* حضور علیہ الصلوٰۃ اسلام پر درود پاک پڑھنا دعاؤں کی قبولیت کا باعث ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب تک مجھ پر درود نہ بھیجا جائے دعا قبولیت سے روک دی جاتی ہے۔‘‘ (طبرانی)
* تمہارا مجھ پر درود پاک پڑھنا تمہاری دعاؤں کا محافظ ہے اور تمہارے لیے پروردگار کی رضا کا باعث ہے۔ (سعادت الدارین)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھنا گناہوں کی بخشش کاسبب بنتا ہے۔ درود پاک پڑھنے والے کے دل کو اللہ یوں پاک صاف کر دیتا ہے جیسے پانی گندے کپڑوں کو۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھنا گناہوں کو یوں مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی میں مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھا اسکی موت کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات سے فرمائے گا کہ اس بندے کے لیے بخشش کی دعا مانگو۔ (نزہتہ المجالس)
* حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’جو میری محبت اور میری طرف شوق کی وجہ سے مجھ پر ہر دن اور ہر رات کو تین تین بار درود شریف پڑھے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کے اس دن اور اس رات کے گناہ بخش دے۔ ‘‘ (الترغیب الترہیب)
* جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اس میں رہے گا فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے رہے گے۔ (سعادت الدارین)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھنا نہ صرف گناہوں کی بخشش کا سبب ہے بلکہ اعمال کی پاکیزگی کا باعث بھی ہے جیسا کہ احادیث میں ہے :
* ہر چیز کے لیے طہارت اور غسل ہے اور ایمان والوں کے دلوں کے زنگ کی طہارت مجھ پر درود پڑھنا ہے۔ (القول البدیع)
* تمہارا مجھ پر درود پاک پڑھنا تمہارے اعمال کی طہارت ہے۔ (سعادت الدارین)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود و سلام بھیجنا ہرمومن و مسلمان پر فرض ہے کیونکہ اسی عمل کی بدولت اللہ عزّوجل نہ صرف مومنوں کے درجات بلند فرماتا ہے بلکہ ان کے گناہ بخش کر ان کی نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے اور پریشانیوں (خواہ دنیاوی ہو یادینی) سے نجات دیتا ہے اس طرح بندۂ مومن معرفت کی منازل طے کر کے قرب و وصال کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود و سلام خالص عشق اور خلوصِ نیت سے بھیجا جائے نہ کہ کسی مطلب کے لیے۔

جمعہ کے روز درود پاک پڑھنے کی فضیلت

ویسے تو ہفتے کے ساتوں دن اور سال کے تین سو پینسٹھ دن ہر روز آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود و سلام پڑھنا افضل ہے لیکن جمعتہ المبارک کے دن درود و سلام پڑھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی چند احادیث پیش کی جا رہی ہیں:
* جمعہ کی چمکتی دمکتی رات ( یعنی شبِ جمعہ) اور جمعہ کے روشن دن میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھو کیونکہ تمہارا درود پاک مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ (براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے)۔ (جامع الصغیر)
* جمعہ کے روز مجھ پر درود کی کثرت کروکیونکہ یہ یومِ مشہود ہے۔ اس روز فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور بے شک تم میں سے کوئی جب درود پڑھتا ہے تو ا سکے درود پڑھنے سے فارغ ہونے سے پہلے ہی اس کا درود پاک میرے دربار میں پہنچ جاتا ہے۔ (جامع الصغیر)
* روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ (یعنی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب) مجھ پر درود کی کثرت کرو کیونکہ جو ایسا کرے گا میں قیامت کے روز اس کا شفیع اور گواہ ہونگا۔ ( جامع الصغیر)
* جب جمعرات کا دن آتا ہے اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا ہے جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ کون جمعرات اور جمعہ کی شب سرورِ کونین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کثرت سے درود پڑھتا ہے۔ (سعادت الدارین)
* جو شخص روزِ جمعہ سو (100 ) بار مجھ پر درود پاک پڑھے جب وہ قیامت کے روز آئے گا تو اس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا کہ اگر وہ ساری مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو سب کو کفایت کرے۔ (دلائل الخیرات)
* مجھ پر شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ درود پاک کی کثرت کر لیا کرو کیونکہ باقی دنوں میں فرشتے تمہارا درود پاک پہنچاتے رہتے ہیں مگر جمعہ کے دن اور رات جو مجھ پر درود پڑھتے ہیں اس کو میں خود سنتا ہوں۔ (نزہتہ المجالس)
سیّدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت زید بن وہب سے فرمایا ’’جب جمعہ کا دن آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہزار مرتبہ درود پاک پڑھنا ترک نہ کرو۔‘‘
حضرت امام جعفر صادقؓ فرماتے ہیں کہ جب جمعرات کا دن آتا ہے تو عصر کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے زمین پر اتارتا ہے۔ ان کے پاس چاندی کے ورق اور سونے کے قلم ہوتے ہیں جو جمعرات کے دن عصر کے وقت سے لے کر جمعہ کے دن غروبِ آفتاب تک زمین پر رہتے ہیں اوروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھنے والوں کا درود پاک لکھتے ہیں۔
اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے اپنی ریاست میں فرمان جاری کر دیا کہ جمعہ کے دن علم کی اشاعت کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک کی کثرت کرو۔ یہی وجہ تھی کہ درود پاک کی برکت سے آپؓ کا نظامِ حکومت اس وقت کے تمام نظامِ حکومت سے بہترین اور کامیاب تھا۔
عشق و محبتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں کثرت سے درود و سلام پڑھنے والوں کا مقام و مرتبہ ناقابلِ بیان ہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوذرؓ مسجد نبویؐ میں آئے اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل ؑ آئے ہوئے تھے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہٗ کو دیکھ کر فرمایا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ابوذرؓ آئے ہیں‘‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا ’’اے جبرائیل ؑ کیا تم ابو ذرؓ کو پہچانتے ہو؟‘‘ تو روح الامین ؑ نے فرمایا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ابوذرؓ آسمانوں میں زمین کی نسبت زیادہ مقبول ہیں۔ ان کے تین اعمال اللہ ربّ العزت کو بے حد پسند ہیں پہلا تواضع و انکساری، دوسرا سورۃ اخلاص کی کثرت سے تلاوت اور تیسرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس پر بے حد درود و سلام پڑھنا۔‘‘
حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے ’’درود پاک پڑھنا درود پاک پڑھنے والے کو اور اس کی اولاد کو اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے۔‘‘ یعنی آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کثرت سے درود پاک پڑھنے والے کو اور اس کی نسل کو اللہ بے حد نوازتا ہے۔
ایک مرتبہ ابو جہل اور چند کافرایک جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک سائل نے آکر سوال کیا تو اس نے تمسخر کے طور پر کہا کہ تم حرم میں چلے جاؤ وہاں (حضرت) علیؓ بیٹھے ہیں وہ تم کو بہت سا مال دیں گے کیونکہ وہ بہت سخی ہیں۔ سائل یہ سن کر حضرت علیؓ کے پاس چلا گیا اور کہا’’مجھے کچھ مرحمت فرمائیں میں تنگدست ہوں۔‘‘ اس وقت بظاہر آپؓ کے پاس کچھ نہ تھا جو آپؓ اس سائل کو دیتے لیکن آپؓ اپنی باطنی فراست سے جان گئے تھے کہ کفار نے تمسخر کے لیے بھیجا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے درود پاک پڑھ کر اس سائل کی ہتھیلی پر پھونک ماری اور فرمایا ’’ہتھیلی کو بند کرلے اور کافروں کے سامنے جا کر ہاتھ کھولنا‘‘۔ سائل نے ایسا ہی کیا۔ جب سائل نے کفار کے سامنے مٹھی کھولی تو وہ سونے کے دیناروں سے بھری ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر کئی کافر مسلمان ہو گے۔ (فضائل درود و سلام)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؓ کو بہت خوش پایا۔میں نے اس مسرت کی وجہ پوچھی تو آپؓ نے فرمایا ’’میں آج رات خواب میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے ٹھنڈا پانی عطا فرمایا۔ میں نے سیراب ہو کر پیا جس کی سیرابی اور خنکی ابھی تک محسوس ہورہی ہے۔‘‘ میں نے عرض کی ’’یہ کرم کس وجہ سے ہوا‘‘ تو آپؓ نے فرمایا’’ درودشریف کی وجہ سے‘‘۔ (تحفۃ الصلوٰۃ)

درود پاک نہ پڑھنے پر وعید

جہاں درود پاک پڑھنے کے بے شمار فوائد و فضائل ہیں وہیں نہ پڑھنے پر سخت وعید بھی سنائی گئی ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے:
* جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔ (القول البدیع) (ابنِ ماجہ)
* جس کے پاس میرا ذکر ہو ا اور اس نے مجھ پر درود پاک نہ پڑھا وہ دوزخ میں جائے گا۔ (القول البدیع)
* جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام نہیں پڑھتا وہ قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدار سے محروم رہے گا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ’’تین شخص میری زیارت سے محروم رہیں گے:اوّل والدین کا نافرمان، دوم میری سنت کا تارک اور سوم جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ درود پاک نہ پڑھے۔‘‘ (القول البدیع)
* حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب چند لوگ کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں پھر اللہ کا ذکر اور مجھ پر درود و سلام پڑھے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو ان کی یہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعثِ حسرت و ملال ہو گی۔‘‘ ( ابنِ حبان)
* حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس مجلس میں لوگ نہ اللہ کا ذکر کریں اور نہ ہی درودو سلام پڑھیں وہ مجلس قیامت کے دن ان لوگوں کے لیے باعثِ حسرت ہو گی خواہ وہ نیک اعمال کے بدلے جنت میں ہی کیوں نہ چلے جائیں۔‘‘ (احمد،ابنِ حبان، حاکم)
* ہر نیک اور اہم کام جو اللہ کی حمدو ثناء اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درودو سلام بھیجے بغیر شروع کیا جائے وہ ہر طرح کی برکت سے خالی ہو جاتا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ہر بامقصد کام جو بغیر ذکرو درود شروع کیا جائے وہ بے برکت اور خیر سے منقطع ہے۔‘‘ (مطالع المسرات بجلا دلائل الخیرات)
* حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب تک مجھ پر درود شریف نہ پڑھا جائے کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ (رواہ الدیلمی)
* حضرت عمرؓ بن خطا ب فرماتے ہیں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود شریف نہ پڑھا جائے آدمی کی دعا آسمان و زمین کے درمیان لٹکتی رہتی ہے۔ (ترمذی)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے درود و سلام نہ پڑھنے والے کو بخیل قرار دیا۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود شریف نہ پڑھے وہ بخیل ہے۔‘‘(مشکوٰۃ۔ ترمذی)
* حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’رسوا ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔‘‘ (ترمذی)
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ ہمیں آقائے دو جہان سرورِ کائنات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر خلوصِ نیت سے درود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدا رسے مشرف ہو سکیں۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں