ایمان کا مرکز و محور ذاتِ مصطفیؐ -Iman ka markaz mehwar Zaat e Mustafa

ایمان کا مرکز و محور ذاتِ مصطفیؐ

تحریر: مسز سونیا نعیم سروری قادری۔لاہور

* سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، عمل، دعوت، تبلیغ الغرض پورے دین کا مرکز و محور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔
حدیثِ قدسی ہے:
لَوْلَاکَ لِمَا اَظْھَرْتُ الرَّبُوْبِیَّۃَ ۔
ترجمہ:’’ اے محبوب اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نہ ہوتے تو میں اپنا ربّ ہونا ظاہر نہ کرتا۔‘‘
لَوْ لَاکَ لِمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ ۔
ترجمہ:’’ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نہ ہوتے تو میں کائنات ہی تخلیق نہ کرتا۔‘‘
اے کہ تیرے ؐ وجود پہ خالقِ دو جہاں کو ناز
اے کہ تیرؐا وجود ہے وجہ وجودِ کائنات
اللہ نے اپنی پہچان کا ذریعہ اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس کو بنایا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اس کو بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے:
* ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک نہ ہوتی تو اللہ کا ہونا بھی ظاہر نہ ہوتا۔ یعنی اس کی ربوبیت بھی ظاہر نہ ہوتی اور وہ خود بھی ظاہر نہ ہوتا۔ پس ہوتا لیکن نہ ہوتا۔ پس وہ وجود جو ہر شے کی تخلیق کا باعث ہے وہ ایک جہت سے خود ذاتِ حق تعالیٰ ہے اور ایک جہت سے ذاتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ اگر حقیقتاً سمجھا جائے تو یہ وجود دو نہیں بلکہ ایک ہے لیکن اگر ظاہر اً دیکھا جائے تو وجود دو ہو کر بھی ایک دوسرے کے عین اور مشابہ ہیں ہیں ۔‘‘ (حقیقتِ محمدیہ)
مانا خدا کو ہم نے توسط سے آپؐ کے
مفہوم کیاہے اس کے سوا لا اِلٰہ کا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانا ہی ربّ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے۔ قرآن پاک میں ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
*اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔(سورہ الفتح۔10)
ترجمہ: (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) بے شک جو لوگ آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے ہاتھوں پراللہ کا ہاتھ ہے۔
*مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ (سورۃ النساء۔80)
ترجمہ: جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
یعنی جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا۔
بے شمار احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات ہی ایمان کا محورو مرکز ہے ان میں سے چند احادیث یہاں بیان کی جارہی ہیں:
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
* تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنے والد،اپنی والدہ اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم، مشکوٰۃ شریف)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہٗ اور حضرت عبد اللہ بن ہشامؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
* تم میں سے کوئی شخص ہر گز مسلمان نہ ہوگا جب تک مجھے اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہ رکھے گا۔ (بخاری، شفا شریف، کنز العمال)
ایک اور حدیث مبارک ہے:
* مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں جب تک کہ وہ مجھے اپنے باپ اور اپنی اولاد سے عزیز تر نہ جانے۔(صحیح بخاری)
قاضی عیاضؒ نے حضرت انسؓ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے:
* ’’ جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔‘‘ (الشفاء ۔566-2 )
ایک صحابی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں عرض کیا :
* یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! اپنا دستِ اقدس عنایت فرمائیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دستِ اقدس عنایت فرمایا۔ اس نے (بیعت کرتے ہوئے) عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اسے محبت ہو گی۔‘‘ (الشفاء۔ 566-2 )

محمدؐ کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے
اگر ہو اس میں خامی تو ایمان نامکمل ہے

اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شرطِ اوّل ہی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارک سے محبت کو قرار دیا ہے اور محبت بھی وہ جس کے آگے دنیا کی کوئی محبت نہ ٹھہر سکے کوئی رشتہ اس کی مضبوطی کو کم نہ کر سکے کوئی مال و اسباب اور دنیاوی عمل اس تعلق سے توجہ نہ ہٹا سکے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود قرآنِ پاک میں فرماتا ہے کہ
ترجمہ: اے نبیؐ (ان سے) فرما دیں کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیزو اقارب، تمہارے کمائے ہوئے مال، تمہارے وہ کاروبار جن کے کمزور ہو جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے پسندیدہ مکانات و گھر تم کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اسکی راہ میں مجاہدہ و ریاضت سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ (عذاب) تمہارے سامنے لے آئے۔ اور اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔ (سورۃ التوبہ ۔24)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی ایمان کی سب سے پہلی شرط یہ قرار دی ’’انسان کائنات کی ہر شے سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کرے۔‘‘ (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان)
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس سے عشق ہی کامل ایمان ہے۔ عشق جو وفاو قربانی سے بھر پور ہو جس میں اطاعت و تعظیم کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مومنوں کی سب سے بڑی متاعِ زندگی ہے۔ جس شخص کا دامن اس دولت سے خالی ہے اس کا دعویِٰ ایمان باطل ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کامل ایمان کی حقیقت کے بارے میں فرماتے ہیں:
* ’’ ایمان کامل تو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ عشق کی تعریف یہ ہے کہ جو ’’محبت‘‘ تمام ’’محبتوں‘‘پر غالب آجائے وہ عشق ہے اور عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ایمانِ کامل ہے۔ صحابہ کرامؓ کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق عشق کا تعلق تھا۔اسی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باعث وہ آسمانِ دنیا کی بلندیوں پر ستاروں کی طرح چمکے۔‘‘ (حقیقتِ محمدیہ)
صحابہ کرامؓ ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کو اپنے ایمان کا مرکز و محور سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس کے ساتھ تعلق جس قدر مضبوط و مستحکم ہوگا اسی قدر ایمان بھی مضبوط و مستحکم ہوتا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے ہادی و رہنما حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس قدر تعظیم کرتے تھے کہ مخالفین بھی ان کے اس عمل پر پکار اُٹھے کہ اب یہ قوم ناقابلِ تسخیر قوت بن گئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود قریش کی طرف سے سفیر بن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو صحابہ کرامؓ کے عشق کا جو مشاہدہ اس نے کیا وہ روایات میں اس طرح سے ہے’’ عروہ بن مسعود اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غور سے دیکھنے لگا۔ وہ دیکھتا رہا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھوکتے تو وہ لعابِ دہن کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ میں آتا جس کو وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کسی بات کا حکم دیتے تو اس کی فوراً تعمیل کی جاتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وضو فرماتے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کیلئے ٹوٹ پڑتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ یہ پانی میں حاصل کروں۔ جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں گفتگو کرتے تو اپنی آوازوں کو پست رکھتے تھے اور غایت تعظیم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف نظر جما کر نہیں دیکھتے تھے۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا ’’ اے قوم! خدا کی قسم میں بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں میں قیصرو کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا ہوں لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اسطرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعابِ دہن کسی نہ کسی آدمی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے جسے وہ اپنے بدن اور چہرے پر مل لیتا ہے۔ جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ جب وہ وضو فرماتے ہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے وضو کا استعمال شدہ پانی حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ وہ ان کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور غایت تعظیم کے باعث ان کی طرف آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے۔‘‘(بخاری شریف )
صحابہ کرامؓ کی زندگیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ ایمان بالرسالت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان درِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اپنی جبینِ نیاز اس طرح جھکا دے کہ وہاں عقل و خرد اور فکر وفلسفے کا کوئی دخل نہ ہو اس لئے کہ عقل و خرد کے چراغ جلا کر جانے والے درِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دولتِ ایمان نہیں لاسکتے بلکہ وہ قیامت تک ابو جہل اور ابو لہب کہلاتے ہیں لیکن جو نقش پائے یار کو بلا چوں و چرا اپنا کعبہ بنا لے اور عشق کے معیار پر پورا اُترے و ہ صدیقِ اکبر کہلاتا ہے۔
اس کی نہایت خوبصورت مثال ہمیں اس واقعہ سے ملتی ہے جب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مرضِ وصال کے ایام میں علالت بڑھ جانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جسم مبارک کمزور ہوگیا اور نماز پڑھانے کیلئے مسجد تشریف نہ لے جا سکے، اسی طرح تین دن گزر گئے اور سوموار کا دن آگیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مرضِ وصال کے دنوں میں علالت کے باعث حضرت ابو بکر صدیقؓ کو امامت کیلئے مقرر فرمایا تھا اور وہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق نماز باجماعت ادا کرواتے تھے۔ چنانچہ سوموار کے روز حضرت صدیق اکبرؓ نماز کی امامت فرما رہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین صف در صف کھڑے ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے افاقہ محسوس فرمایا تو بسترِ علالت سے اٹھے اور اپنے حجرۂ انور کے دروازے پر تشریف لے آئے۔ اپنے غلاموں کو ابوبکرؓ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہوئے ملاحظہ فرمانے کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دروازے پر آکر پردہ ہٹایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں:
’’پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حجرۂ مبارک کا پردہ اٹھایا اور کھڑے ہوکر ہمیں دیکھنے لگے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسکرا رہے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک مصحف کا ورق لگتا تھا۔‘‘(صحیح بخاری)
صحابہؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھنے کیلئے قبلہ کو چھوڑ کر اپنے چہروں کو درِ یار کی جانب موڑ لیا تھا۔ کعبے کی سمت سے نگاہ ہٹا کر کعبے کے کعبہ کی جانب اپنے چہروں کو متوجہ کر لیا تھا۔ محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے مسکراتے ہوئے چہرہ کا نظارہ کرتے ہوئے دیدار کی جس لذت سے وہ محظوظ ہو رہے تھے اس کا بیان مشکل ہے۔ عقل کہہ رہی تھی کہ نماز پوری کریں لیکن عشق کا تقاضا تھا کہ نماز تو اب صحیح ادا ہورہی ہے کعبے سے نگاہ ہٹ جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے لیکن اگر کعبے سے ہٹ کر چہرہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف پلٹ جائے تو نماز اپنی معراج کو پالیتی ہے۔
اقبال ؒ نے حالتِ نماز میں صحابہؓ کے دیدارِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں مگن ہونے کے منظر کو کیا خوب قلمبندکیا ہے:

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

اس سارے معاملے میں عشق فتح یاب ہوا اور عقل ہار گئی، مسلسل چہرہ مبارک کے دیدار میں مگن صحابہ کرامؓ پر ایک خاص کیفیت طاری ہوگئی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ نماز ٹوٹنے کا اندیشہ پید ا ہو گیا۔ حضرت ابو بکرؓ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹے تاکہ صف میں مل جائیں انہوں نے سمجھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز کیلئے باہر تشریف لارہے ہیں لہٰذا ان کے لیے امام کی جگہ خالی کر دی جائے۔ جب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھا کہ ان کے عشاق ان کے دیدار میں نماز بھی بھول گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسکرا کر فرمایا کہ اپنی نمازیں پوری کر لو اور پردہ گرا دیا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زندگی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق واطاعت کی بہترین مثال ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی غلامی ہی آپؓ کا ایمان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضاہی آپؓ کا مقصدِ حیات تھا۔ ایک غزوہ کے دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کسی کام کیلئے کہیں بھیجا۔ وہ واپس پہنچے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ علیؓ! میں تھکن محسوس کر رہا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علیؓ کی گود میں سرِ انور رکھا اور استراحت فرمانے لگے۔ حضرت علیؓ نے ابھی نمازِ عصر اد انہیں کی تھی اس وقت انہوں نے عقل کی بجائے عشق سے کام لیا اور اپنی نماز محبوب کے آرام پر قربان کر دی جس کے نتیجے میں آپؓ کو وہ نماز نصیب ہوئی جو کائنات میں کسی دوسرے کا مقدر نہ بن سکی۔ یہی وجہ ہے کہ عشق منزل کو پا لیتاہے اور عقل گردِ سفر میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ نہیں کہا کہ میں نے نمازا دا کرنی ہے وہ ایسا کہہ ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ تو متلاشی ہی اس بات کے رہتے تھے کہ کسی انداز سے ہی سہی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب اور خدمت کا موقع نصیب ہو جائے۔ آج تو ان کی گود کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سرِ انور نصیب ہو رہا تھا چنانچہ حضرت علیؓ نے گود بچھادی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سرِ انور گود میں رکھ دیا اور سو گئے۔ ادھر حضرت علیؓ اپنی خوش بختی کی کیفیت میں آفتابِ نبوت کو تکے جارہے تھے۔ ادھر سورج اپنی منزلیں طے کرتا ہوا غروب کے قریب جا پہنچا۔ جب آپ کرم اللہ وجہہ کی نظر ڈوبتے سورج پر پڑی تو آپ کے چہرۂ اقدس کا رنگ متغیر ہو گیا، چشمانِ مقدس سے آنسو بہہ نکلے۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیدار ہوئے تو پوچھا کیا بات ہے ؟ عرض کیا ’’آقا! میری نمازِ عصر قضا ہو گئی ہے۔‘‘ فرمایا ’’ قضا پڑھ لو۔‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چہرۂ اقدس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا کہہ رہے ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی غلامی میں نماز جائے اور قضا پڑھوں؟ اگر اس غلامی میں گئی ہوئی نماز قضا پڑھوں تو پھر ادا کب پڑھوں گا؟ جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھا کہ علیؓ قضا نہیں بلکہ نماز ادا ہی پڑھنا چاہتے ہیں تو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ کلمات اد ا کیے’’اے اللہ! علیؓ تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا کہ اس کی نماز قضا ہوگئی اس کی نماز ادا کروا‘‘۔( مدارج النبوۃ، الصوائق المحرقہ)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس بات کو تمام امت پر واضح کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت اللہ کی ہی اطاعت ہے کیونکہ خدمت تو حضرت علیؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کر رہے تھے، نیند حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تھی اللہ تو نیند سے پاک ہے، حضرت علیؓ کی نماز آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نیند پر قربان ہوگئی لیکن آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما رہے ہیں ’’اے اللہ ! علیؓ تیری او ر تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھا۔‘‘ چنانچہ اطاعت کا مفہوم بھی خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبانِ اقدس سے واضح ہو گیا۔ جب آقائے دوجہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دستِ اقدس دعا کیلئے بلند فرمائے تو ڈوبا ہوا سورج اس طرح پلٹ آیا جیسے حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھوں میں ڈوریاں ہوں جنہیں کھینچنے سے سورج آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب کھنچا آرہا ہو یہاں تک کہ سورج عصر کے وقت پر آگیا اور حضرت علیؓ نے نمازِ عصر ادا کر لی۔
تمام ارکانِ اسلام کی اہمیت اپنی جگہ درست اور بجا ہے مگر بنیاد اور اصل ایمان تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت اور ان سے عشق ہے۔ اقبال نے سچ کہا ہے :

مغزِ قرآں، روحِ ایماں، جانِ دیں
ہست حبِ رحمتہ اللعالمینؐ

جس طرح دین و ایمان کا مرکز حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے اسی طرح جملہ دینی اعمال اور عبادات کا محور بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات ہے۔ نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ غرضیکہ ہر عمل صالحہ کا مرکز و محور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات ہے۔ الحمد سے والناس تک پورا قرآن پڑھ لیجئے نماز کے ضمن میں قرآنِ حکیم نے کسی بھی مقام پر یہ نہیں بتایا کہ قیام کا طریقہ یہ ہے اس طرح قیام کیا کرو اس طرح تکبیرِ تحریمہ کہا کرو، رکوع اس طرح اور سجدہ اس طرح کیا کرو بلکہ صرف حکم دیا کہ نماز قائم کرو اور اس کی تفصیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عمل سے مشروط کر دی کہ جیسے وہ پڑھیں ویسے ہی پڑھو۔
جب نماز کا حکم آیا کہ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃ (لوگو! نماز پڑھو) تو صحابہ کرامؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا ’’ آقا! ہم نماز کس طرح ادا کریں‘‘تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ’’ جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے دیکھو ویسے ہی تم بھی پڑھو۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الاذان ۱:۸۸)
یعنی کسی الجھن میں پڑنے کی ضرورت نہیں مجھے دیکھ لو جیسے میں کرتا ہوں تم بھی کرتے جاؤ۔ سب عبادات کی تفصیلات حضورا کرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عطا کردہ ہیں۔
اس طرح حج کے بارے میں صحابہ کرامؓ نے پوچھا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہم حج کس طرح ادا کریں‘‘ فرمایا (میرے صحابیو) مجھ سے مناسکِ حج سیکھو۔( السن الکبریٰ بیہقی،۵،۱۲۵)
صحابہ کرامؓ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت سے ہی ہر شے کو پہچانتے تھے۔ ایک مرتبہ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ حج پر آئے، طواف کیا اور حجرِ اسود کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے، اس سے فرمانے لگے:
ترجمہ:’’بے شک تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا‘‘ یہ کلمات ادا کرنے کے بعد آپؓ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ (الشفاء ۲:۵۵۸)
صحابہ کرامؓ کے نزدیک یہی ایمان تھا اور یہی دین یعنی وہ کسی بھی شے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کے بغیر اپنا تعلق قائم ہی نہیں کرتے تھے۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عثمان غنیؓ کو سفیر بنا کر مکہ معظمہ بھیجا کہ کفارو مشرکین سے مذاکرات کریں۔ کفار نے پابندی لگا دی تھی کہ اس سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو مکہ میں نہیں آنے دیں گے اس لیے ابھی واپس چلے جائیں پھر اگلے سال حج کیلئے آئیں ۔چونکہ حضرت عثمان غنیؓ سفیر تھے اور حرم شریف پہنچ چکے تھے اس لیے کفارِ مکہ نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا کہ چونکہ آپ آگئے ہیں تو طواف کر لیں اجازت ہے ۔ حضرت عثمان غنیؓ کے ایمان کی حقیقت کو کفارِ مکہ کیا جانتے، آپؓ نے فرمایا ’’خدا کی قسم ! میں اس وقت تک طوافِ کعبہ نہیں کروں گا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم طواف نہ کرلیں۔‘‘ (الشفاء 594:2 )
اے مکہ والو! تم کو کعبہ پر ناز ہے اور اس عاشق کو اپنے کعبہ پر!
کعبہ حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے منع بھی نہیں اور شریعت بھی اجازت دے رہی ہے۔ سات سال کا فراق کہہ رہا ہے کہ عثمانؓ ! کعبہ سامنے ہے طواف کرلو لیکن یہ عشق ہے جو اس طواف سے روک رہا ہے کہ عثمانؓ ! جب محبوب کا ساتھ نہیں تو پھر طواف میں کیا مزہ، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ساتھ موجود نہیں تو پھر طواف کا کیا مطلب؟ آپؓ نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ جب تک میرے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام طواف نہیں کریں گے میں بھی ہر گز نہیں کروں گا چنانچہ آپ طواف کئے بغیر واپس چلے گئے۔
صحیح بخاری میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ جب جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیچھے پہلی صف میں دائیں طرف کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے حالانکہ امام کے ٹھیک پیچھے کھڑے ہونے میں اجر زیادہ ہے اور جتنا فاصلہ زیادہ ہو اجر کم ہو تا چلا جاتا ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ فاصلے پر کیوں کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ امام کے پیچھے کھڑا ہونے میں زیادہ اجر ہے ۔ انہوں نے فرمایا ’’ثواب تم لے لو میں تو فاصلے پر اس لئے کھڑا ہوتاہوں کہ نماز کے دوران اوّل تا آخر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مکھڑے کو دیکھتا رہوں اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت سے آنکھوں کی پیاس بجھاتا رہوں۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایک مرتبہ اپنے اونٹ کو ایک جگہ گھما رہے تھے۔ صحابہ کرامؓ نے دیکھا تو پوچھا’’ ابنِ عمر کیا کر رہے ہو اونٹ کو بغیر کسی وجہ کے چکر دیئے جارہے ہو۔‘‘ انہوں نے فرمایا’’ یہ بات تو میں بھی نہیں جانتا البتہ ایک روز آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس مقام پر ایسا کرتے دیکھا تھا لہٰذا اتباعِ نبویؐ میں مَیں نے بھی ایسا کیا ہے۔‘‘
ایمان والے وجہ کو نہیں جانتے انہیں تو فقط محبوب کی اداؤں سے غرض ہوتی ہے۔ یہی کمالِ عشق ہے جو ایمان کی بنیاد اور اساس ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’جو شخص مجھ سے محبت رکھے اس کی جانب فقراس تیزی کے ساتھ آئے گا جس طرح پہاڑ کے درے سے پانی بہتا ہوا آتا ہے۔‘‘ (الشفاء ۲:۲۲)
عرفِ عام میں فقر افلاس ، تنگدستی اور عسر کی حالت کو کہتے ہیں اس کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں لیکن عارفین کے نزدیک فقر سے مراد وہ منزلِ حیات ہے جس کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
* ’’فقر عین ذات ہے۔ ‘‘ (عین الفقر)
* ’’ فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔‘‘( عین الفقر)
جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سچی محبت اور عشق کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو فقر کی دولت سے نوازتا ہے۔ فقر سرِّ الٰہی ہے۔ فقر پر چل کر ہی انسان دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشرف ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں فقر کی اس امانت کے وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں آپ مدظلہ الاقدس قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہیں، آپ مدظلہ الاقدس نے حقیقتِ محمدیہ کو آج کے دور میں بہت وضاحت اور شان کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آج کے دور میں جو بھی سچا عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے اور اپنے ایمان کا محور و مرکز آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس کو سمجھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ تحریک دعوتِ فقر میں شامل ہو کر حقیقت محمدیہ کو جانے اور اسے پہچان کر راہِ فقر پر چلتے ہوئے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ الٰہی حاصل کرے جس کے لیے انسان کو پید اکیا گیا ہے۔
استفادہ کتب:
کتب احادیث
حقیقتِ محمدیہ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
فضائل اہل بیت اور صحابہ کرامؓ ۔تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں