وفا اور قربانی | Wafa or Qurbani

وفا اور قربانی  (Wafa or Qurbani)

تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

راہِ فقر دراصل راہِ عشق (ishq) ہے اور اس راہ میں کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک طالب اپنی ہر شے کو راہِ حق میں قربان نہیں کر دیتا۔ راہِ عشق  (ishq)  میں ’’وفا اور قربانی‘‘ (Wafa or Qurbani) کا تقاضا ہے کہ وفا میں کبھی بھی لغزش نہ آئے اور جب قربانی کا وقت آئے تو منہ نہ موڑا جائے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (سورۃ آلِ عمران۔92)
ترجمہ: تم اس وقت تک بَرُّ (اللہ تعالیٰ) کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کرو۔ 

سب سے بڑی سنت راہِ حق میں گھر بار لٹا دینا ہے۔ ﷲ پاک نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) سے فرمایا:
فَلاَ تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ   (سورۃ النسا۔ 89)
ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) (Prophet Mohammad pbuh) ان میں سے کسی کو اپنا ولی (دوست) نہ بنائیں جب تک کہ وہ راہِ خدا میں اپنا گھر بار نہ چھوڑ دیں۔ 

حضورِ اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے اعلانِ نبوت اور دعوتِ الی ﷲ کے جواب میں جن صحابہ کرامؓ نے لبیک کہا اور دل کی تصدیق کے ساتھ کلمہ طیب پڑھ کر ﷲ اور اس کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) پر ایمان لائے، ان پر مصائب اور تکالیف کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ جو مومن غریب و نادار اور غلام طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اُن پر پہلے روز سے تشدد کی چکی چلا دی گئی۔ انہیں اتنی شدت سے جسمانی، روحانی اور مالی اذیتیں دی گئیں کہ انسان اس کا تصور کر کے ہی کانپ اٹھتا ہے۔ مگر آفرین ہے صحابہ کرامؓ کی وفا اور قربانی (Wafa or Qurbani) پر کہ کسی قسم کا ظلم و ستم ان کو نہ تو راہِ حق سے ہٹا سکا اور نہ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) سے ان کی وفا میں کوئی کمی آئی۔ 

جو مومن معاشرہ میں ذی عزت اور صاحبِ حیثیت لوگ تھے ان کو تحریص و ترغیب کے ذریعے دینِ حق سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر اکسایا گیا۔ انہیں طرح طرح سے دنیاوی جاہ و مال کے لالچ دیئے گئے مگر جب ان کے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لغزش نہ آئی تو انہیں مختلف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا گیا۔ ان سے کاروباری اور معاشرتی میل جول بند کر دیا گیا حتیٰ کہ ایک دور ایسا آیا کہ سارے اہلِ مکہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) اور تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا سوشل بائیکاٹ کر دیا۔ متواتر تین سال تک مومنین کی یہ جماعت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) کی معیت میں ’’شعبِ ابی طالب‘‘ میں اہلِ مکہ کے سوشل بائیکاٹ کا شکار رہی۔ لیکن قربان جائیے ان کے جذبۂ ایمانی پر کہ سخت سے سخت تر حالات میں بھی ان کا ایمان متزلزل نہ ہوا۔ اہلِ مکہ کے ظلم و ستم نے ان کی یہ حالت کر دی تھی کہ:
معاش کے ذرائع چھوٹ گئے۔
غربت، مفلسی اور فاقہ کشی نے ان کے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے۔
عزیز و اقارب نے ساتھ چھوڑ دیا۔
جسمانی اذیتیں دی گئیں، گرم ریت اور کوئلوں پر لٹایا گیا، رسیوں اور زنجیروں میں جکڑا گیا۔
قبیلہ میں سرداریاں اور مراتب چھن گئے۔
مال و دولت جاتا رہا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ جیسے صحابہ کرامؓ نے اپنا تمام مال و متاع اﷲ کی راہ میں قربان کر دیا۔
پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میدانِ جہاد میں باپ اپنے بیٹے اور بیٹا اپنے باپ سے نبرد آزما تھا۔ 

یہ ساری تکالیف و مصائب صحابہ کرامؓ کے جذبۂ ایمان اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) سے وفا کو متزلزل نہ کر سکے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Mohammad pbuh) نے صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کی تربیت اس انداز میں فرمائی کہ ان کے دِلوں سے محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا ہر محبت کو ختم کر ڈالا۔ ﷲ تعالیٰ کی محبت کی راہ میں جو بھی چیز حائل ہوئی صحابہ کرامؓ نے کمالِ بے نیازی سے اُسے ﷲ کی راہ میں قربان کر ڈالا اور جب بھی اسلام کو قربانی کی ضرورت پڑی صحابہ کرامؓ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 

وفا اور قربانی کی دوسری مثال واقعہ کر بلا ہے:
سب کو معلوم ہے کہ امامؓ کے ساتھ موت ہے تو یزید کے پاس دنیا اور زندگی کا آرام ہے۔
امامؓ کا ساتھ دے کر شہادت ملتی ہے تو یزید کا ساتھ دے کر آسائشاتِ دنیا اور زندگی ملتی ہے۔
عقل کہتی ہے کہ امام حسینؓ کے ساتھ رہ کر بے بسی کی موت ہے، عشق (ishq) کہتا ہے کہ یہ ’’جاودانی زندگی‘‘ کی ابتدا ہے۔

امام عالی مقامؓ کے تمام ساتھی، راہِ عشق کے راہی، وفا (Wafa) کا حق ادا کرنے اور وقتِ قربانی ’’قربانی(Qurbani)‘‘ کیلئے تیار ہیں۔ عشق (ishq) کا یہی تقاضا ہے اور انہوں نے اس تقاضے کو کمال خوبی سے پورا کیا۔ واہ امامؓ آپ کو کیا عاشق ملے! ایسے عاشق تو کسی مرشد کو نہ ملے۔ ان کی شان، وفا اور قربانی (Wafa or Qurbani) ہی نرالی ہے۔ عشق کی اس بچھی ہوئی بساط پر عقل ہار گئی۔ عشق قربان ہو کر بھی جیت گیا۔ عشق شہادت پاکر جاوداں ہو گیا اور قید ہو کر بھی سربلند اور سرفراز رہا۔ عقل بظاہر فتح یاب نظر آئی لیکن عشق نے اپنے دستور کے مطابق عقل کی اس فتح کے اندر ہی اپنی فتح رکھی ہوئی تھی۔ دِل کے اندھے، نورِ بصیرت سے محروم اس فتح کا ادراک نہ کر سکے۔ عشق (ishq) کی یہ فتح وفا اور قربانی (Wafa or Qurbani) ہی کی بدولت تھی۔ کربلا میں عشق (ishq) کا ایک مستقل باب تحریر کر دیا گیا اور عشق و کربلا کا چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔

؎ جہاں عشق ہو وہیں کربلا

جو حالات اہلِ عشق کے لیے اُس وقت تھے ویسے ہی آج بھی ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo ra) عین الفقر میں لکھتے ہیں:
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’جب تک تواپنے بیٹوں کو یتیم اور اپنی بیویوں کو بیوہ نہیں کر دیتا، خود کو کتے کی طرح خاک میں نہیں ملا دیتا،  لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی
تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ 
(ترجمہ: تم اُس وقت تک برُّ (اللہ) کو نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دو۔سورۃ آلِ عمران، آیت 92 ) کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھر بار کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کر دیتا اور یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٓٗ(ترجمہ: اللہ ان سے محبت کرتاہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔سورۃ المائدہ، آیت 54 )کو ظاہر اور باطن میں اختیار کر کے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ (ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔سورۃ البینۃ،آیت8) کا مقام و مرتبہ حاصل نہیں کر لیتا تب تک تیرا یار جانی تجھ سے کہاں راضی ہو گا؟ (عین الفقر)

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
راہِ فقر راہِ عشق ہے اور عشق قربانی کا طلب گار ہے۔ اس راہ میں اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہوتی جب تک طالب اپنا سب کچھ اور ہر شے اللہ کی راہ میں قربان نہیں کردیتا۔ اس سلسلہ میں طالب کو صحابہ کرامؓ کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے ساتھ وفا اور قربانی کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں کیونکہ طالبانِ مولیٰ کے لئے یہ مثالیں مشعلِ راہ ہیں۔
فقر کی نعمت حاصل کرنے کے لئے اپنا مال، جان اور گھربار سب داؤ پر لگا دینا چاہیے پھر صلہ کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی غم کرنا چاہیے۔
جنہوں نے زندگی میں ہی اپنا سب کچھ مرشد کے حوالے کردیا وہ حیاتِ جاودانی حاصل کر گئے اور اسی عشق (ishq) و مستی میں زندگی گزار رہے ہیں۔
قربِ الٰہی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنا گھربار راہ ِخدا میں قربان نہیں کردیتا اور تکالیف و مصائب میں مرشد کے ساتھ وفا میں ذرا بھی کمی نہیں آتی۔
جو شخص معرفتِ فقر کے انتہائی درجے (وصالِ الٰہی) پر قدم رکھ لیتا ہے وہ  لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ  کا مصداق بن جاتا ہے اور اپنا سب کچھ راہِ خدا میں صَرف کر کے صفاتِ کریمہ اختیار کر لیتا ہے۔ 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

عاشق عشق ماہی دے کولوں، نت پھرن ہمیشہ کھیوے ھوُ
جیں جیندیاں جان ماہی نوں دِتیّ، اوہ دوہیں جہانیں جیوے ھوُ
شمع چراغ جنہاں دِل روشن، اوہ کیوں بالن دِیوے ھوُ
عقل فکر دِی پہنچ نہ کائی باھوؒ، اُوتھے فانی فہم کچیوے ھوُ

عاشق تو اپنے معشوق کے عشق (ishq) میں محو ہیں، انہیں عشق کی لذت نے مدہوش کر رکھا ہے۔ جن عاشقوں نے زندگی میں ہی اپنی جان محبوب (مرشدِ کامل) کے حوالے کر دی وہ زندہ و جاوید ہو گئے۔ جن کے دلوں میں عشقِ اسمِ اللہ ذات روشن ہو چکا ہے وہ کیوں دوسرے ذکر اذکار میں پڑیں! راہِ فقر میں عقل کا کیا کام؟ مقامِ وحدت تک رسائی تو عقل کو فنا کر کے ہی حاصل ہوتی ہے۔ 

عاشق نیک صلاحیں لگدے، تاں کیوں اُجاڑدے گھر نوں ھوُ
بال موُاتا برہوں والا، نہ لاندے جان جگر نوں ھوُ
جَان جہان سب بھل گیونیں، پئی لوٹی ہوش صبر نوں ھوُ
میں قربان تنہاں توں باھوؒ، جنہاں خون بخشیا دِلبر نوں ھوُ

اگر عاشقوں نے لوگوں کے مشوروں پر عمل کرنا ہوتا تو وہ کبھی اپنا گھربار راہِ حق میں قربان نہ کرتے اور دل میں عشق (ishq) کی شمع کو روشن کر کے اپنی جان و جگر کو نہ جلاتے رہتے۔ جب سے دیدار کی لذت سے آشنائی حا صل ہوئی ہے اُنہیں باقی سب بھول گیا ہے۔ میں ان کے قربان جاؤں جنہوں نے راہِ عشق میں سر بھی قربان کر دیا اور اپنا خون بھی محبوب کو بخش دیا۔ 

مال تے جان سب خرچ کراہاں، کریئے خرید فقیری ھوُ
فقر کنوں ربّ حاصل ہووے، کیوں کریئے دلگیری ھوُ
دُنیا کارن دِین ونجاون، کوڑی شیخی پیری ھوُ
ترک دنیا تھیں قادری کیتی باھوؒ، شاہ میراںؓ دِی میری ھوُ

فقیری جان اور مال کے بدلے خریدنا پڑتی ہے۔ اس لیے فقیری حاصل کرنے کی خاطر اپنا مال اور جان سب داؤ پر لگا دینا چاہیے اور چونکہ فقر سے اللہ تعالیٰ کی ذات حاصل ہوتی ہے اس لیے جان و مال جانے کا غم بھی نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے کذاب اور شیخی خور ناقص مرشد بھی موجود ہیں جو مال و متاع کے حصول کے لئے لوگوں کو گمراہ کر کے دین و دنیا دونوں ضائع کر رہے ہیں۔ ترکِ دنیا تو اصل میں قادری کرتے ہیں کیونکہ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سلطنتِ فقر کے شہنشاہ ہیں۔ 

وحدت دے دریا اُچھلے، ہک دِل صحی نہ کیتی ھوُ
ہک بت خانے واصل ہوئے، ہک پڑھ پڑھ رہے مسیتی ھوُ
فاضل چھڈ فضیلت بیٹھے، عشق بازی جاں لیتی ھوُ
ہرگز ربّ نہ ملدا باھوؒ، جنہاں ترٹیّ چوڑ نہ کیتی ھوُ

دریائے وحدت تو کب کا موجزن ہے، ایک توُہی ایسا بدنصیب ہے جس نے اس سے فیض حاصل نہیں کیا۔ مساجد میں ورد وظائف سے پاکیزگی قلب اور معرفتِ الٰہی حاصل نہیں ہوتی اس لئے وہاں عبادت و ریاضت کر کے بھی توُ حجاب میں رہے گا۔ معرفتِ الٰہی کے لئے کسی مرشد کامل کے در پر سر جھکانا پڑے گا۔ عشق کی بازی کھیلتے ہوئے کئی فاضل اپنی فضیلت اور مرتبہ قربان کر چکے ہیں۔ یاد رکھ! دیدارِ حق تعالیٰ گھر بار لٹائے بغیر ہرگز حاصل نہیں ہوتا۔ 

ونجن   سرتے  فرض  ہے  مینوں،  قول قَالُوْا بَلٰی  دا  کر کے  ھوُ
لوک جانے متفکر ہوئیاں، وِچ وحدت دے وڑ کے ھوُ
شوہ دیاں ماراں شوہ وَنج لیساں، عشق دا تلہ دَھر کے ھوُ
جیوندیاں شوہ کسے نہ پایا باھوؒ، جیں لدھا تیں مر کے ھوُ

روزِ الست قَالُوْا بَلٰی کا جو اقرار کیا ہے اس پر ثابت قدم رہنا فرض ہے۔ اس لئے میں وحدت کے دریا میں داخل ہو کر اپنا ازلی عہد نبھا رہا ہوں اور مجھے اس حالت میں دیکھ کر لوگ فکرمند ہو رہے ہیں۔ میں نے دریائے وحدت میں تیرنے کے لیے عشق کو بنیاد اور اپنے من و تن کا حصہ بنا لیا ہے اور مجھے یقین ہے عشق مجھے دریائے وحدت کی انتہا تک لے جائے گا۔ زندگی میں وصالِ حق تعالیٰ حاصل نہیں ہوتا، اگر کسی نے پایا بھی ہے تو اپنا سب کچھ لٹا کر، اپنے آپ کو فنا کر کے پایا ہے۔ 

ہسن دے کے رووَن لیوئی، تینوں دِتا کس دلاسا ھوُ
عمر بندے دِی اینویں وِہانی، جینویں پانی وِچ پتاسا ھوُ
سوڑی سامی سٹ گھتیسن، پلٹ نہ سکسیں پاسا ھوُ
تیتھوں صاحب لیکھا منگسی باھوؒ، رتی گھٹ نہ ماسا ھوُ

اے طالبِ خام! تو نے کائنات کی سب سے بڑی نعمت یعنی ﷲ تعالیٰ کی محبت اور عشق کے بدلے ہنسی خوشی دنیا اور عاقبت کا روگ لے لیا ہے۔ بتا تجھے یہ مشورہ اور تسلی کس نے دی کہ تو ایسا خسارے کا سودا کرے؟ تیری زندگی ہے ہی کتنی، یہ تو ایسے گزر جائے گی جیسے پانی میں پتاسا گھل جاتا ہے اور تجھے قبر کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں پھینک دیا جائے گا جہاں توُ کروٹ بھی نہیں بدل سکے گا۔ یعنی تیرے ہاتھوں سے دین بھی گیا اور دنیا بھی گئی۔ مالکِ حقیقی تجھ سے ایسا حساب لے گا جس میں ماشہ اور رتی (ذرہ) بھر کمی بیشی نہیں ہوگی اور تجھے زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا پڑے گا۔

ہکی ہکی پیڑ کولوُں کل عالم کوُکے، عاشقاں لکھ لکھ پیڑ سہیڑی ھوُ
جتھے ڈَھہن رُڑھن دا خطرہ ہووے، کون چڑھے اُس بیڑی ھوُ
عاشق چڑھدے نال صلاحاں دے، اُونہاں تار کپر وِچ بھیڑی ھوُ
جتھے عاشق پیا تلدا نال رَتیاں دے باھوؒ، اُوتھے عاشقاں لذت نکھیڑی ھوُ

دنیا دار لوگ ایک ہی دکھ اور تکلیف سے تڑپ اٹھتے ہیں لیکن عاشق لاکھوں دکھ اور درد اپنے سینے میں چھپا کر بھی گلہ و فریاد نہیں کرتے۔ عشقِ حقیقی کی کشتی ایسی ہے جو ہر لمحہ خطرات اور طوفانوں سے گھری رہتی ہے اس لئے عام لوگ اس میں سوار ہونے سے کتراتے ہیں لیکن عاشقِ ذات ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ عشق کا ذرّہ ذرّہ بارگاہِ حقیقی میں جواہرات اور موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اتنے قیمتی خزانہ کو حاصل کرنے کے لئے عاشق ہی اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہیں۔
قربِ الٰہی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنا گھربار راہِ خدا میں قربان نہیں کر دیتا اور تکالیف و مصائب میں مرشد کے ساتھ وفا میں ذرا بھی کمی نہیں آتی۔

(یہ مضمون سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیف مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ سے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے)

(Wafa or Qurbani)

 

’’وفا اور قربانی‘‘ بلاگ انگلش میں پڑھنے کے لیے اس ⇐لنک⇒ پر کلک کریں

36 تبصرے “وفا اور قربانی | Wafa or Qurbani

  1. جو شخص معرفتِ فقر کے انتہائی درجے (وصالِ الٰہی) پر قدم رکھ لیتا ہے وہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کا مصداق بن جاتا ہے اور اپنا سب کچھ راہِ خدا میں صَرف کر کے صفاتِ کریمہ اختیار کر لیتا ہے۔

      1. راہِ فقر دراصل راہِ عشق (ishq) ہے اور اس راہ میں کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک طالب اپنی ہر شے کو راہِ حق میں قربان نہیں کر دیتا۔

  2. فقر کی نعمت حاصل کرنے کے لئے اپنا مال، جان اور گھربار سب داؤ پر لگا دینا چاہیے پھر صلہ کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی غم کرنا چاہیے۔

  3. عاشق عشق ماہی دے کولوں، نت پھرن ہمیشہ کھیوے ھوُ
    جیں جیندیاں جان ماہی نوں دِتیّ، اوہ دوہیں جہانیں جیوے ھوُ
    شمع چراغ جنہاں دِل روشن، اوہ کیوں بالن دِیوے ھوُ
    عقل فکر دِی پہنچ نہ کائی باھوؒ، اُوتھے فانی فہم کچیوے ھوُ

  4. راہِ فقر دراصل راہِ عشق ہے ۔اس مضمون میں
    عشق و وفا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے

  5. عاشق عشق ماہی دے کولوں، نت پھرن ہمیشہ کھیوے ھوُ
    جیں جیندیاں جان ماہی نوں دِتیّ، اوہ دوہیں جہانیں جیوے ھوُ

  6. سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    راہِ فقر راہِ عشق ہے اور عشق قربانی کا طلب گار ہے۔

  7. ہسن دے کے رووَن لیوئی، تینوں دِتا کس دلاسا ھوُ
    عمر بندے دِی اینویں وِہانی، جینویں پانی وِچ پتاسا ھوُ
    سوڑی سامی سٹ گھتیسن، پلٹ نہ سکسیں پاسا ھوُ
    تیتھوں صاحب لیکھا منگسی باھوؒ، رتی گھٹ نہ ماسا ھوُ

  8. اس سے بہتر طور پر اس موضوع کو بیان کرنا ممکن نہیں
    بہت اچھی وضاحت کی گئی ہے

  9. اللہ پاک ہمیں راہِ فقر کو سمجھنے اور اس عظیم راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  10. دنیا دار لوگ ایک ہی دکھ اور تکلیف سے تڑپ اٹھتے ہیں لیکن عاشق لاکھوں دکھ اور درد اپنے سینے میں چھپا کر بھی گلہ و فریاد نہیں کرتے۔ عشقِ حقیقی کی کشتی ایسی ہے جو ہر لمحہ خطرات اور طوفانوں سے گھری رہتی ہے اس لئے عام لوگ اس میں سوار ہونے سے کتراتے ہیں لیکن عاشقِ ذات ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ عشق کا ذرّہ ذرّہ بارگاہِ حقیقی میں جواہرات اور موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اتنے قیمتی خزانہ کو حاصل کرنے کے لئے عاشق ہی اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہیں۔

  11. راہِ فقر دراصل راہِ عشق ہے اور اس راہ میں کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک طالب اپنی ہر شے کو راہِ حق میں قربان نہیں کر دیتا۔ راہِ عشق میں ’’وفا اور قربانی‘‘ کا تقاضا ہے کہ وفا میں کبھی بھی لغزش نہ آئے اور جب قربانی کا وقت آئے تو منہ نہ موڑا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں