سولی یا دائمی حیات! منصور حلاجؒ | Soli ya Daimi Hayat Mansur Al-Hallaj

سولی یا دائمی حیات!منصور حلاجؒ
(Soli ya Daimi Hayat Mansur Al-Hallaj)

(حصہ سوم)                                    تحریر: صاحبزادی منیزہ نجیب سروری قادری

ذاک العلیم بما لاقیت من دنف
و فی مشیئتہ موتی و احیائی

ترجمہ: اللہ عزوجل (Allah) کی ذات بابرکات علیم ہے اور وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ میرے دل نے اس کی محبت میں کیسے کیسے دکھ اٹھائے ہیں، باوصف اس کے کہ میری زندگی اور موت اس کی مشیئت کے تابع ہے۔ (دیوان منصور حلاجؒ)

منصور حلاجؒ کی جس تصنیف کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ طواسین ہے لیکن ایک عربی دیوان بھی آپؒ کی کتب میں شامل ہے جس میں توحید کے اسرار پوشیدہ ہیں۔
آپؒ کے دیوان میں عشقِ حقیقی کا متواتر ذکر ملتا ہے اور وصل کا جامع تذکرہ بھی ہے۔ اس عربی دیوان کا اردو ترجمہ مظفر اقبال نے کیا۔ اگرچہ یہ کتاب نایاب ہو چکی ہے لیکن انٹر نیٹ سے اس کی سوفٹ کاپی مل سکتی ہے۔ 2014ء میں سنگِ میل پبلیکیشنز نے محمد اکرام چغتائی کی تصنیف ’’حسین بن منصور حلاج۔ شہیدِعشق‘‘ شائع کی جس میں ایک باب مظفر اقبال کے اردو ترجمہ کا بھی ہے۔

اس قسط میں منصور حلاجؒ کے مختلف اشعار کی جھلک ہے جن کو مختلف عنوانات کے تحت رقم کیا گیا ہے۔

اسم اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat/ Ism-e-Azam)

۱حرف  اربع  بہا  ہام  قلبی
و تلاشت بہا  ہمومی  و  فکری

ترجمہ: چار حروف جن کے لیے میرا دل بے قرار ہے اور ان سے میری خواہش اور فکر آزردہ ہے۔

الف تألف الخلائق بالصنع
و  لام   علی   الملامۃ   تجری

ترجمہ: الف جو خلق کو عمل پر آمادہ کرتا ہے۔ اور لام جو ملامت کی طرف رواں کرتا ہے۔

ثم      لام       زیادۃ      فی     المعانی
ثم  ہاء  اھیم  بہا  اتدری

ترجمہ: پھر لام جو میرے مطلب کو بڑھاتا ہے پھر ھا جو مجھے محبت اور سمجھنے (معرفت) پر آمادہ کرتی ہے۔ 

عشقِ حقیقی (Ishq-e-Haqiqi)

فکیف اصنع فی حب مکفت بہ

ترجمہ: میں اپنی اس محبت کو کیا معانی پہناؤں جس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔

لم ذا اللجاجۃ فی بعدی واقصائی

ترجمہ: تو مجھے اس فراق اور اس دوری میں کیوں رکھتا ہے؟

یا    جملۃ    الکل   التی   کلھا 
احب   من   بعضی  و  من   سائری

ترجمہ: اے ہر لحاظ سے مکمل اور جامع یعنی ربّ العزت! میں تیری جامعیت سے محبت کرتا ہوں۔ اس محبت میں میرے (ظاہری) وجود کا انگ انگ اور سارا (باطنی) وجود دونوں ہی شامل ہیں جو تیری ہر صفت اور ذات سے بھرپور محبت رکھتے ہیں۔

للناس حج ولی حج الی سکنی
تھدی الاضاحی واھدی مہجتی و دمی

ترجمہ: لوگوں کے لیے (کعبہ کا) حج ہے، میرے لیے اس کے ساکن کا حج۔ وہ گوشت کی قربانی دیتے ہیں اور میں خونِ دل کا ہدیہ پیش کرتا ہوں۔

مثالک فی عینی و ذکرک فی فمی
و مثواک  فی  قلبی  فاین  تغیب

ترجمہ: تیری صورت میری آنکھ میں ہے، تیرا ذکر میرے لبوں پر، تیرا مسکن میرے قلب (Qalb) میں ہے، پھر تو کہاں چھپتا ہے؟

فقلت اخلائی ہی الشمس نورہا 
قریب ولکن فی تنا و لھا  بُعد

ترجمہ: میں نے بھائیوں سے کہا کہ سورج جس سے روشنی ہے، قریب ہے لیکن اس کا ملنا بعید۔

دق             علٰی             فؤادی
فقد          عدمت          رقادی

ترجمہ: جب ربّ العزت نے میرے دل پر اپنی محبت بھری دستک دی تو میرے آنکھوں سے نیند غائب ہو گئی۔

دیدارِ الٰہی (Dedar-e-Illahi)

ان کنت بالغیب عن عین محتجبًا
فالقلب یرعاک فی الابعاد والنائی 

ترجمہ: اگر توُ غیب میں میری آنکھوں سے پوشیدہ ہے تو میرا قلب تجھے دیکھتا ہے باوجود اس فراق اور ہجر کے۔

لی   قلب   لہ   الیک   عیون
ناظرات   وکلہ   فی   یدیک 

ترجمہ:میرے قلب کی آنکھیں تجھے دیکھنے کے لیے ہیں اور میری نظر اور سب کچھ تیرے ہاتھ میں ہے۔

تراہم     ینظرون     الیک     جھراً 
وھم   لایبصرون   من   العماء

ترجمہ: تو انہیں دیکھتا ہے، اپنی طرف دیکھتے ہوئے لیکن وہ نہیں دیکھ پاتے کہ اندھے ہیں۔

وصالِ الٰہی (Wasal-e-Illahi)

حویت   بکلی کل حبک  یا  قدسی
تکا شغنی حتی کانک فی نفسی

ترجمہ: اے ذاتِ پاکیزہ! میں نے اپنی کلُ میں تیری محبت کو جگہ دی۔ تونے خود کو ظاہر کیا حتیٰ کہ تو مجھ میں سما گیا۔

قد   تجلت  طوالع   زاہرات
یتشعشعن    فی    لوامع   برق

ترجمہ: وصل کے بعد اصل روشنی یعنی نورِ الٰہی اس طرح ظاہر ہوا جیسے بجلی کی چمکیلی لہریں اچانک اپنا اظہار کرتی ہیں۔

جبلت روحک فی روحی کما
تجبل العنبر بالمسک الفتق

ترجمہ: تیرا نور (نورِ الٰہی) میری روح کے ساتھ اس طرح مل گیا جیسے عنبر مشک کے ساتھ ملتا ہے۔

توحید (Tuheed)

شربت من مائہ ریا بغیر فم
والماء قد کان بالافواہ مشروب

ترجمہ: بحرِوحدت کے پانی کو میں نے خوب سیراب ہو کر پیا ہے۔ یہ ایک ایسا پانی ہے جس سے عاشقِ زار بخوبی واقف ہوتے ہیں اور محبت کے منہ سے پیتے ہیں۔

لان روحی قدیما فیہ قد عطشت 

ترجمہ: یہ ایک ایسا پانی ہے جس کی طلب روح کو روزِ اوّل سے ہی تھی۔

وحدت الوجود (Wahdat Al-Wujud)

وای الارض تخلو منک حتی
تعالوا یطلبونک فی السماء

ترجمہ: کون سی زمین تیرے وجود سے خالی ہے کہ لوگ تجھے اوپر آسمانوں میں ڈھونڈتے ہیں۔

انت   الذی  حزت   کل   این
بنخو  لا این  فاین  انت

ترجمہ:  تو وہ ہے کہ ہر جگہ کو گھیرے ہوئے ہے اس طرح کہ تو کہیں نہیں ہے، پھر تو کہاں ہے؟

دخلت بناسوتی لدیک علی الخلق
 ولولاک لاھوتی خرجت من الصدق

ترجمہ: میں نے خلق کو تیری ناسوتی حقیقت سے متعارف کروایا۔ تیری لاھوتی حقیقت کے لیے میں سچ کو قربان کر دوں۔

و  ظاہراً   باطناً   تجلی
فی   کل  شیئٍ   لکل   شیئٍ 

ترجمہ: تو ظاہر اور باطن میں عیاں ہوتا ہے ہر شے میں، ہر شے کے لیے۔

استفادہ کتب
۱۔دیوان منصور حلاجؒ (Mansur Al-Hallaj) ،ترجمہ مظفر اقبال
۲۔حسین بن منصور حلاجؒ   (Mansur Al-Hallaj)۔ شہیدِعشق از محمد اکرام چغتائی

 

36 تبصرے “سولی یا دائمی حیات! منصور حلاجؒ | Soli ya Daimi Hayat Mansur Al-Hallaj

    1. ترجمہ: اے ہر لحاظ سے مکمل اور جامع یعنی ربّ العزت! میں تیری جامعیت سے محبت کرتا ہوں۔ اس محبت میں میرے (ظاہری) وجود کا انگ انگ اور سارا (باطنی) وجود دونوں ہی شامل ہیں جو تیری ہر صفت اور ذات سے بھرپور محبت رکھتے ہیں۔

    1. ترجمہ: اے ہر لحاظ سے مکمل اور جامع یعنی ربّ العزت! میں تیری جامعیت سے محبت کرتا ہوں۔ اس محبت میں میرے (ظاہری) وجود کا انگ انگ اور سارا (باطنی) وجود دونوں ہی شامل ہیں جو تیری ہر صفت اور ذات سے بھرپور محبت رکھتے ہیں۔

  1. انا ایک راز ہے جو اس راز کو جان لیتا ہے وہ راز الہی’ کو حاصل کر لیتا ہے (عین الفقر)

  2. میں تیری جامعیت سےمحبت کرتا ہوں۔ اس محبت میں میرے (ظاہری) وجود کا انگ انگ اور سارا (باطنی) وجود دونوں ہی شامل ہیں جو تیری ہر صفت اور ذات سے بھرپور محبت رکھتے ہیں۔

  3. آپؒ کے دیوان میں عشقِ حقیقی کا متواتر ذکر ملتا ہے اور وصل کا جامع تذکرہ بھی ہے

  4. ترجمہ: اے ہر لحاظ سے مکمل اور جامع یعنی ربّ العزت! میں تیری جامعیت سے محبت کرتا ہوں۔ اس محبت میں میرے (ظاہری) وجود کا انگ انگ اور سارا (باطنی) وجود دونوں ہی شامل ہیں جو تیری ہر صفت اور ذات سے بھرپور محبت رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں