hazrat abu bakr saddique

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں اٹھنے والے فتنے | Syedna Abu Bakr Siddique First Caliph

حضرت ابوبکر صدیقؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique)کے دورِ خلافت میں اٹھنے والے فتنے 

ابوبکر صدیقؓ(Abu Bakr Siddique)
 (حصہ اوّل)                                                                      تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

ابوبکر صدیقؓ(Abu Bakr Siddique)-خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa-Aalihi Wasallam) کے وصال مبارک کے فوراً بعد لاتعداد فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ  (Abu Bakr Siddique) کی خلافت کا دورانیہ دو سال اور چار ماہ ہے۔ آپ کی خلافت انہی فتنوں کو حکمت و دانائی سے کچلنے میں گزری۔ جتنے فتنوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا اتنا دیگر خلفائے راشدین میں سے کسی اور کو نہ کرنا پڑا۔ ان فتنوں کا آغاز اسی لمحہ ہو گیا جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کا وصال ہوا۔

محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
وہ نہایت نازک دور تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی وفات کی خبر انتہائی تیزی کے ساتھ ملک عرب کے طول و عرض میں پھیل رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل عربوں کی تاریخ میں کوئی خبر اتنی سرعت کے ساتھ نہیں پھیلی تھی جس قدر سرعت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی وفات کی خبر پھیلی۔ ہر قبیلے اور ہر علاقے میں یہ افسوسناک خبر پہنچ چکی تھی۔

 اس خبر کا ایک رخ تو یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کا وصال مسلمانانِ عرب و عجم کے لیے غم واندوہ کا پہاڑ تھا جیسا کہ علامہ عبدالرحمن ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کا انتقال ہو گیا تو کسی کے ہوش و حواس بجا نہ رہے، ایک تہلکہ عظیم برپا ہو گیا۔ تمام صحابہؓ غم سے نڈھال تھے۔ جبکہ دوسری طرف خطرناک فتنے جنم لینے لگے۔ یہ وہ وقت تھا کہ معمولی سی تحریک بڑے سے بڑے فتنے کا دروازہ کھول سکتی تھی جو تاقیامت نہ بند ہوتا اور کوئی اسلام کا نام تک نہ جانتا۔ (تاریخ ابنِ خلدون)

 جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو کفر و شرک کا قلع قمع کیا اور جب وصال فرمایا تو منافقین کی اندرونی غلاظت کو بے پردہ کر دیا تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے اور یہ دینی فریضہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے نائب اور خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے بخوبی سرانجام دیا۔
ابوالقاسم بغوی اور ابوبکر صافی اپنے قواعد میں اور ابنِ عساکر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے وفات پائی تونفاق نے ہر طرف سے سر اٹھایا اور بہت سے قبائل مرتد ہوگئے۔

علامہ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وفات پائی تو عرب کے کئی قبائل مرتد ہو گئے۔ (تاریخ الخلفا)

علامہ عبدالرحمن ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
اگرچہ اس وقت تقریباً کل عرب مرتد ہو گیا تھا، اکثر قبائل کے قبائل اسلام سے پھر گئے تھے، ہر طرف نفاق کی تاریکی چھا گئی تھی، مخالف ہواؤں کے جھونکے چل رہے تھے، ارتداد کی سیاہ گھٹائیں امڈتی آ رہی تھیں۔ مسلمان غریب ایسی شبِ تاریک میں اپنی قلت جماعت اور مرتدین کی کثرتِ تعداد سے حیران و پریشان ہو رہے تھے۔  (تاریخ ابنِ خلدون)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری پردہ فرمانے کے ساتھ ہی ارتداد کی لہر چل پڑی۔ جوں جوں وصال کی خبر پھیلی توں توں منافقین بغاوت کا علم بلند کرتے گئے۔ مزید برآں یہ وہ موقع تھا کہ جس کا انتظار یہودی اور عیسائی عرصہ دراز سے کر رہے تھے۔ 

اب ہم جائزہ لیں گے کہ مختلف علاقوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے وصال مبارک کی خبر کا کیا نتیجہ سامنے آیا۔

مکہ کے حالات:

مکہ وہ جگہ ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیدائش مبارک ہوئی، وہیں آپ نے نبوت کا اعلان کیا، وہیں آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال مبارک کی خبر سنتے ہی مکہ کے حالات بگڑنا شروع ہو گئے۔ ان حالات کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ عتاب بن اسید جو کہ مکہ کے عامل تھے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے خود منتخب کیا تھا، وہ خراب حالات سے گھبرا کر نامعلوم مقام پر چلے گئے۔ جب حالات مزید بگڑنے لگے تو حضرت سہیلؓ بن عمرو نے تمام مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور خطاب فرمایا۔ اس سلسلے میں محمد حسین ہیکل اپنی تصنیف ’’حضرت ابوبکرؓ‘‘ میں لکھتے ہیں:
اللہ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے مکہ میں اسلام کی حفاظت کا انتظام کیا۔ مکہ مکرمہ میں ایک صحابی سہیلؓ بن عمرو تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ وہاں کے مسلمان اسلام کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں تو انہوں نے شہر کے تمام مسلمانوں کا اجتماع طلب کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
’’یاد رکھو جو شخص اسلام کی سچائی کے متعلق شبہے کا اظہار کرے گا اور ارتداد کی راہ پر گامزن ہو گا اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔‘‘

یہ بہت بڑی دھمکی تھی جو سہیل بن عمرو نے اہل ِمکہ کو دی۔ اس پر باشندگانِ شہر کا الٹا ردِعمل بھی ہوسکتا تھا اور یہ ردعمل شدت بھی اختیار کر سکتا تھا اس لئے انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھا اور لہجہ بدل کر فرمایا
’’کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، اسلام دائمی مذہب ہے جو دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا، اس میں نہ کسی قسم کی کمزوری واقع ہو گی اور نہ اسے کوئی شخص نقصان پہنچا سکے گا۔‘‘ (حضرت ابوبکرؓ) 

 آپ کے خطاب کا اہلِ مکہ پر بہت اثر ہوا اور وہ یقین کے ساتھ اسلام پر دوبارہ کاربند ہو گئے۔

 

طائف کے حالات:

طائف کے قبیلے بنو ثقیف نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس قبیلے کے عامل نے جب اہلِ طائف کو ڈگمگاتے دیکھا تو سب کو اکٹھا کر کے فرمایا:
’’اے فرزندانِ ثقیف! تم لوگوں نے سب سے آخر میں اسلام قبول کیا تھا، اب سب سے پہلے ارتداد کی راہ اختیار کرنے والے نہ بنو۔‘‘

اس کے بعد اہلِ طائف اپنے ارادۂ ارتداد سے باز آ گئے۔
یہ تو ان علاقوں کے حالات ہیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے زندگی گزاری تھی، خود تبلیغ کی، ان سب کے سامنے آپ کا کردار رہا، وہ سب اسلام کی حقانیت کو جانتے تھے اور صحابہؓ کے عزم و ہمت سے بھی واقف تھے۔ اگر ان علاقوں اور قبائل کے یہ حالات ہیں تو اندازہ کریں جو علاقے اور قبائل مکہ اور مدینہ سے دور تھے ادھر کیا عالم ہو گا۔ 

بیعتِ خلافت:

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعدسب سے پہلے جو معاملہ درپیش ہوا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب مقرر کرنے کا معاملہ تھا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) تحریر فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحلت اور تجہیز و تکفین کے بعد انصار اور قریش کے مختلف قبائل نے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانشینی کی سعادت حاصل کرنے کے لیے دبے لفظوں میں اظہار کرنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے منافقین کی ایک جماعت نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی جانشینی میں حصہ دار بننے کا ارادہ ظاہر کر دیا۔ اگر اس وقت جانشینی کے ان نازک امور پر سنجیدگی اور متانت سے توجہ نہ دی جاتی تو فسادِ امت کا خدشہ تھا۔ (خلفائے راشدین)

 اس سلسلے میں علامہ عبدالرحمن ابنِ خلدون رقمطراز ہیں:
سقیفہ میں ایک دوسرا ہنگامہ (یعنی خلافت کے متعلق) شروع ہوگیا جو اس سے زیادہ خوفناک تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس موقع پر نہایت سنجیدگی اور عقل سے کام لیا اور درحقیقت یہ انہی کا کام تھا کہ انہوں نے فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وصیت کے مطابق تجہیز وتکفین پر بنوہاشم کو متعین کیا اور خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور جلیل القدر صحابہ کے ساتھ سقیفہ پہنچ کر فتنہ و فساد کے اس دروازے کو بند کر دیا جس کے کھلنے کے بعد عرب سے دینِ اسلام کمسنی میں جلاوطن ہو جاتا اور پھر اس کا نام لینے والا دنیا کے صفحہ پر نہ ملتا۔ (تاریخ ابنِ خلدون)

اس معاملے کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کی بیعت کا معاملہ بہت اہم اور سنجیدہ تھا۔ یہ کوئی بھی صورت اختیار کر سکتا تھا۔ یہ حضرت ابوبکرؓ (Syedna Abu Bakr Siddique)   کی دانشمندی تھی کہ امت کو ٹوٹنے اور تفرقے سے بچا لیا۔ یہ آپؓ کی متانت اور فہم و فراست تھی کہ مسلمان آپس میں جڑے رہے جس سے اتحادِ امت برقرار رہا۔ ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
اگر حضرت ابوبکرؓ (Syedna Abu Bakr Siddique) ایسے ہنگامہ میں جس وقت کسی کے ہوش و حواس بجا نہ تھے، پیش پیش نہ ہوتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو پرجوش کلام سے کون روکتا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سینے پر سے سر مبارک کون اٹھاتا (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب وصال فرمایا تو آپ کا سر مبارک حضرت عائشہؓ کے سینہ پر تھا)، سقیفہ میں انصار و مہاجرین کے جھگڑے کون ختم کرتا۔ ان واقعات کو جاننے والے بخوبی سمجھ لیں کہ یہ امور اہم تھے جنہیں حضرت ابوبکرؓ نے بخیر و خوبی انجام دیا۔ (تاریخ ابنِ خلدون)

 

مدینے کی حاکمیت سے انکار کا فتنہ:

منافقین کا نقطہ نظر یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے نہ تو اپنا نائب مقرر کیا اور نہ قرآن و نص میں ایسی بات موجود ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ مان لیا جائے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی حیات میں ہی لوگوں اور قبائل کو خود مختاری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد بھی خود مختاری کا مطالبہ کرنا ناجائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں وہ مختلف استدلال پیش کرتے تھے۔ محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
وہ اس سلسلے میں حسبِ دلیل واقعات سے استدلال کرتے تھے کہ بحرین اور خضر موت وغیرہ کے تمام حکمرانوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے ان کو ان کے مناصبِ حکمرانی پر قائم رکھا، ان کی جگہ کسی اور کو عامل مقرر نہیں فرمایا۔ ہم بھی اگر اپنے اپنے علاقے کا کسی کو حکمران بنا لیں تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے جب کہ ہم اسلام پر قائم رہیں گے۔ (حضرت ابوبکرؓ)

یہ قبائل نہ انصار کی حاکمیت کو مانتے تھے اور نہ مہاجرین کی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی اسلام کو مانتے ہیں اور ہم بھی۔ اگر ان کو فوقیت حاصل ہے تو وہ علم کی بنیاد پر ہے۔ اسلئے وہ ہمیں صرف علم سکھائیں۔ ہم ان کو اپنے پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

رسولِؐ خدا کے فیصلہ پر اعتراض:

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ایک لشکر تیار کر کے رومیوں کا قلع قمع کرنے کا قصد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے اس لشکر کا امیر حضرت اسامہؓ کو مقرر فرمایا۔ ابھی لشکر روانہ نہ ہو پایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال ہو گیا۔ بہت سے لوگ حضرت اسامہؓ کی کم عمری کی بنا پر ان کی سپہ سالاری پر انگلیاں اٹھانے لگے۔ اس سلسلے میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں:

لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ کو مشورہ دیا کہ اس لشکر کی روانگی ملتوی کر دی جائے لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے لوگوں کی اس رائے سے اتفاق کرنے کی بجائے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بھجوائے ہوئے لشکر کو واپس بلانا مناسب نہ سمجھا اور فرمایا ’’میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کی بجا آوری کو نہیں روک سکتا۔‘‘ (خلفائے راشدین)

مکمل مرتد قبائل:

جو قبائل مکہ اور مدینہ سے دور تھے ان میں سے کافی قبائل مکمل طور پر مرتد ہو گئے۔ اس کے علاوہ جو قبائل عرب کے شمال میں روم کی سرحد سے ملتے تھے وہ بھی عیسائیوں کے زیر اثر تھے جس کی وجہ سے انہوں نے بھی ارتداد کی راہ اختیار کی۔ دوسری طرف جو قبائل عرب کے جنوب میں ایران کی سرحد کے ساتھ مکین تھے ان کا ملنا جلنا اور کاروبار مجوسیوں کے ساتھ تھا جس کی وجہ سے انہوں نے بھی علمِ بغاوت بلند کر دیا۔

زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار:

اس سلسلے میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کا وصال ہوا تو عرب کے کئی قبائل مرتد ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نماز تو پڑھتے ہیں مگر زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ یہ بات سن کر میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور عرض کی اے خلیفۃ الرسول! لوگوں سے نرمی سے کام لیجئے۔ حضرت ابوبکرؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique)نے جواب دیا بخدا میں اس وقت تک لڑوں گا جب تک تلوار میرے ہاتھ میں ہے۔ اگرچہ وہ مجھے ایک اونٹ کی رسی ہی کیوں نہ دیں۔ (تاریخ الخلفا)

سلطان العاشقین مدظلہ الا قدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) تحریر فرماتے ہیں:
کئی مالدار مسلمانوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے ہاتھ روک لیا تھا۔ مسلمانوں کا یہ مسئلہ اس قدر زیادہ اہمیت حاصل کر گیا تھا کہ اس کی گھمبیرتا اور سنگینی کو دیکھ کر حضرت عمرؓ جیسے معتمد کو بھی یہ کہنا پڑا’ ـ’ اے ابوبکرؓ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جانا چاہیے، انہیں اور انداز میں لیجئے۔‘‘

 اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique) نے ایک طرح کی وضاحت کے ساتھ حضرت عمرؓ سے فرمایا:
’’اے عمرؓ! تم تو اسلام میں بہت سخت ہو لیکن اب تم اس قدر کمزور کیوں ہو گئے ہو! اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو چکا ہے اور منشائے ایزدی تکمیل پا چکی ہے، اب تم اسے تبدیل نہیں کرسکتے اور ہاں اگر مجھے محض ایک رسی کے برابر بھی زکوٰۃ کے حصول کے لیے جنگ کرنا پڑی تو بخدا اس کے لیے تیار ہوں۔‘‘ (خلفائے راشدین)

اس سلسلے میں محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
وہ لوگ زکوٰۃ کو جزیہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جزیہ غیرمسلموں سے وصول کیا جاتا ہے ہم تو پکے مسلمان ہیں، ہم سے جزیہ وصول نہیں کرنا چاہیے ۔ہم اسی طرح مسلمان ہیں جس طرح مدینہ کے لوگ مسلمان ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت پڑی کہ مدینہ کے حکمران کو زکوٰۃ ادا کریں۔ (حضرت ابوبکرؓ)

اس ضمن میں ابنِ خلدون رقمطراز ہیں:
قبیلہ عبس اور زیبان جوشِ مردانگی سے ابل پڑے۔ عبس، ابرق اور ذیبان ذی القصہ میں اتر آئے۔ ان کے ساتھ کچھ لوگ بنی اسد اور بنی کنانہ کے بھی تھے۔ ان لوگوں نے متفق ہو کر چند آدمیوں کو بطور وفد حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے بمقابلہ معززین ِمدینہ نماز کی کمی اور زکوٰۃ کی معافی کی درخواست کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا ’’واللہ! اگر ایک عقل (جس رسی سے اونٹ کے پاؤں باندھتے ہیں) نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا اور پانچ وقت کی نماز میں ایک رکعت کی بھی کمی نہ کی جائے گی۔‘‘

مرتدین کے وفود یہ خشک جواب سن کر اپنے گروہ میں واپس آئے اور مسلمانوں کی قلیل تعداد سے آگاہ کیا۔ عبس اور ذیبان اس خبر کے سنتے ہی مارے خوشی کے آپے سے باہر ہوگئے۔ اسی وقت بلا پس و پیش مدینہ پر حملہ کر دیا لیکن ان کے حملہ کرنے سے پہلے حضرت ابوبکرؓ  (Syedna Abu Bakr Siddique) نے انتظام کر رکھا تھا جس سے مرتدین کو شکست ہوئی۔ (تاریخ ابنِ  خلدون)

مدعیانِ نبوت: 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے وصال مبارک کے بعد حضرت ابوبکرؓ جب ارتداد اور بغاوت کی راہ اختیار کرنے والوں، منکرینِ زکوٰۃ اور مدینہ کی حاکمیت سے انکار کرنے والوں سے نپٹ رہے تھے تو مسیلمہ کذاب اپنا دعویٰ نبوت عام کرنے میں مصروف رہا۔ اس نے اتنے لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کر لیا کہ اس کا چالیس ہزار کا لشکر تیار ہو گیا۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ اسکی نبوت نہ ماننے والوں کو قتل کرنا شروع کر دیا گیا۔ 

اس فتنے کے متعلق سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) رقمطراز ہیں:
وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فوراً بعد ہی عرب میں چند ایک کاذب اور جعلی نبوت کے دعویدار بھی پیدا ہوگئے تھے۔ ان تمام کاذب نبیوں میں سے مسیلمہ کذاب سب سے زیادہ طاقتور تھا۔ لہٰذا اس کی سرکوبی کے لیے حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کے ساتھ ایک خونی معرکہ کیا اور مسیلمہ کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ (خلفائے راشدین)

طلیحہ اسدی نے بھی نبوت کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں ابنِ خلدون لکھتے ہیں:
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے زمانہ میں طلیحہ مرتد ہوکر سمیرا میں آکر مقیم ہو گیا تھا۔ یہ کاہن تھا، اس نے دعوائے نبوت کیا تھا اور بنی اسرائیل کے چند فرقے اس کے مطیع ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے اس کی سرکوبی کے لئے ضرار بن الازور کی سرکردگی میں چند مسلمانوں کو روانہ فرمایا تھا۔ ابھی سرکوبی نہ ہونے پائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کی خبر پھیل گئی۔ جس سے اس کے کاموں میں ایک گونہ استحکام پیدا ہوگیا۔ قبیلہ غطفان، ہوازن اور طے اس کے حامی ہو گئے۔ خالد بن ولیدؓ انکی سرکوبی کے لئے آگے بڑھے لیکن ان کی روانگی سے پہلے طے کی طرف عدی بن حاتم روانہ کیے گئے جن کی کوششوں اور مدبرانہ حکمت عملیوں کی وجہ سے قبیلہ طے کے لوگ طلیحہ کی ہمراہی سے علیحدہ ہو کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ (تاریخ ابنِ خلدون)

اسی طرح ایک خاتون نے نبیہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کا تعلق بنوتغلب سے تھا۔ اس نے مسیلمہ کذاب سے شادی کر لی اور مسیلمہ نے حق مہر میں اس کے پیرو کاروں کی دو نمازیں معاف کر دیں۔ نبوت کے ایک اور دعویدار سجاح اور اسکے پیروکاروں نے بھی مسلمانوں کے خلاف جنگیں کی۔ 

عربوں کے مرتد ہونے کی خبریں وقتاً فوقتاً آتی رہیں۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ادھر سوائے قبیلہ قریش اور ثقیف کے، کل قبائلِ عرب مکمل یا ان میں سے بعض مرتد ہوگئے اور ادھر مسیلمہ کذاب کے کاموں میں ایک گونہ استحکام پیدا ہو گیا۔ طلیحہ کے پاس قبائل طے اور اسد کا ایک خاصہ گروہ جمع ہوگیا، غطفان مرتد ہوگئے۔ بنو ہوازن نے ان سے اتفاق کیا اور صدقہ بند کر دیا۔ بنو سلیم کے خاص خاص لوگ اسلام سے پھر گئے۔ علیٰ ہذا ہر مقام پر اکثر آدمی ارتداد کی بلائے بد میں مبتلا ہوگئے۔ یمن، یمامہ، بنی اسد اور ہر ایک مقام کے امرا و نوابین کے قاصد عرب کے مرتد ہونے کی خبر کثرت سے لانے لگے۔ (تاریخ ابنِ خلدون)

اسکے علاوہ اسود عنسی نے دعویٰ نبوت کیا اور مسلمانوں کے خلاف ایک منظم فتنہ اپنی نبوت کی صورت میں کھڑا کیا۔ اس کے کافی زیادہ پیروکار تھے۔ 

بیرونی خطرات:

روم اور ایران اسوقت کی بہت طاقتور سلطنتیں تھیں۔ اتنی تیزی سے پھیلتا ہوا اسلام ان کو خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ وہ خائف تھے کہ اگر ان کے لوگ بھی کثرت سے مسلمان ہونا شروع ہو گئے تو ان کی حاکمیت کو زوال آجائے گا۔ اس خطرے کے پیشِ نظر انہوں نے نہ صرف ارتداد کی راہ اختیار کرنے والوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی بلکہ خود بھی بڑے بڑے لشکر جمع کرنا شروع کر دیے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
یہ وہ دور تھا جب قیصر اور کسریٰ جو اس عہد کے طاقتور حکمران (Super Power) تھے، انہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے منصوبے بنا لیے تھے۔ اسی طرح وہ ایرانی کہ جنہوں نے صدیوں تک عربوں پر باتسلط حکمرانی کی تھی وہ یہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ بادیہ نشین عرب اس قدر مضبوط اور عسکری حوالے سے مستحکم ہو جائیں کہ ان کے حکمرانوں کے لیے خطرہ بنے رہیں۔ (خلفائے راشدین)

(جاری ہے)

استفادہ کتب:
۱۔ خلفائے راشدین، تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۲۔ تاریخ ابنِ خلدون، تصنیف عبدالرحمن ابنِ خلدون
۳۔ ابوبکرؓ، تصنیف لطیف محمد حسین ہیکل
۴۔ تاریخ الخلفا، تصنیف علامہ جلال الدین سیوطیؒ

 

36 تبصرے “حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں اٹھنے والے فتنے | Syedna Abu Bakr Siddique First Caliph

  1. حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا دورانیہ دو سال اور چار ماہ ہے۔ آپ کی خلافت انہی فتنوں کو حکمت و دانائی سے کچلنے میں گزری۔ جتنے فتنوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا اتنا دیگر خلفائے راشدین میں سے کسی اور کو نہ کرنا پڑا۔

    1. جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دنیا میں لائے تو کفر و شرک کا قلع قمع کیا اور جب وصال فرمایا تو منافقین کی اندرونی غلاظت کو بے پردہ کر دیا تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے اور یہ دینی فریضہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کے نائب اور خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ (Syedna Abu Bakr Siddique) نے بخوبی سرانجام دیا۔

  2. خلیفہ رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ظاہر ہو نے والے فتنوں پر ایک منفرد اور مستند مضمون

  3. نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد تاریخ اسلام کے اس نازک موڑ پر خلیفہ رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی جس طرح قیادت کی اور اپنے مختصر سے دور خلافت میں جس طرح اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کا خاتمہ کیا وہ ایک روشن مثال ہے

  4. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جس حکمت سے فتنوں کا قلع قمع کیا وہ اپنی مثال آپ ہے

  5. بہت اچھی تحریر ہے ماشااللّہ۔ بہت کچھ جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا اگلے حصہ کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں