قربانی کی حقیقت | Qurbani ki haqeeqat

قربانی کی حقیقت 

روبینہ فاروق سروری قادری۔ لاہور

قربانی عربی زبان کے لفظ ’’قرب‘‘ سے ہے جس کا مفہوم ہے کسی شے کے نزدیک ہونا۔ قربان قرب سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ امام راغب اصفحانی قربانی کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قربانی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے۔
شرع میں یہ قربانی یعنی جانور ذبح کرنے کا نام ہے۔

 قربانی کی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔

 1۔ دنیاوی زند گی گزارنے کے لیے قربانی دینا۔
 2۔ حق کے راستے پر چلنے کے لیے قربانی دینا۔

1۔ دنیاوی زند گی گزارنے کے لیے قربانی دینا

دنیا کی زندگی گزارنے کے دوران لو گ جو قربانیاں دیتے ہیں وہ اللہ کی ذات کے قرب کی خاطر تو نہیں ہوتیں لیکن ان کے پیچھے کوئی ذاتی غرض یا انانیت پوشیدہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اخلاص کے ساتھ رشتوں کے تقدس کو برقرار رکھنے یا انہیں قائم رکھنے کے لیے دی جاتی ہیں جیسا کہ ماں باپ اپنی اولاد کی پرورش کے دوران اپنی خوشیوں اور خواہشوں کو قربان کر دیتے ہیں یا اپنی اولاد کی ہر خوشی پوری کرنی کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔ ایسا وہ محض اپنی اولاد کی محبت میں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر رشتوں کو آپس میں جوڑے رکھنے کے لیے بھی خاندان قربانیاں دیتے ہیں تاکہ آپس کا پیار و محبت اور الفت برقرار رہے جیسا کہ اکثر عزیز و اقارب یا دوست احباب تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے کسی حد تک سمجھوتا کرتے ہیں۔ اس طرح کے دیگر معاملات ہماری زندگیوں میں پیش آتے ہیں جن کے لیے انسان قربانی دیتا ہے لیکن اگر اس میں بھی اللہ کی رضا کا عنصر شامل ہو جائے تو ان کا یہ عمل مستحب ہوگا۔

 2۔ حق کے راستے پر چلنے کے لیے قربانی دینا 

قربانی کی حقیقت اور اس کے پیچھے اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ دل میں جس چیز کی محبت اور طلب ہو وہی اللہ کی خاطر قربان کر دی جائے لیکن انسان تو صرف اپنی نفسانی خواہشات کی طلب اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں دن رات کمربستہ رہتا ہے۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ انسان سوچتا ہے تو محض یہ کہ وہ اپنے خواب کیسے پورے کرے، اپنی خواہشات کیسے حاصل کرے، مال و دولت کیسے کمائے، معاشرے میں مقام و مرتبہ کیسے بنائے۔ نہیں سوچتا تو بس یہ کہ اللہ کا قرب کیسے حاصل کیا جائے، گناہوں سے کیسے بچا جائے، اپنے نفس کی اصلاح کیسے کی جائے۔ وہ اپنی آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے ہر شے قربان کر دیتا ہے اگر قربانی نہیں دیتا تو محض اپنے نفس کی کیونکہ وہ اپنے نفس کی تسکین کی خاطر تو یہ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔لیکن انسان تب تک خیر نہیں پا سکتا جب تک اپنے نفس کی قربانی نہیں دیتا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آلِ عمران۔92)
ترجمہ: تم ہرگز بھلائی نہیں پا سکتے جب تک اسے خرچ نہ کر دو جسے تم محبوب رکھتے ہو۔ 
وہ محبوب کوئی بے جان شے بھی ہو سکتی ہے اور کوئی جاندار رشتہ بھی۔ کیونکہ اللہ چاہتا ہے کہ انسان حق کے راستے پر چلے، نورِ ہدایت سے اس کا دل منور ہو اور اللہ اور بندے کے درمیان کوئی حجاب اور رکاوٹ نہ ہو لیکن غیر اللہ کی محبت و طلب سے بڑھ کر کوئی حجاب نہیں۔ پس جس شخص کے لیے جو چیز محبوب ہو اللہ اسی سے ہی انسان کو آزما لیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ
اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ (البقرہ۔155)
جو جس قدر استقامت سے اس راہ پر چلتا ہے اور ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا ہے تو اللہ پاک آخر وہی چیز اس کو دوبارہ لٹا دیتا ہے۔ تنگی کا وقت گزر جاتا ہے اس کے بعد اللہ پاک انعام میں وہی شے یا رشتے دوبارہ عطا کر دیتا ہے۔  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا 
ترجمہ: بیشک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ (الم نشرح۔6)
ذوالحجہ کے مہینے میں دی جانے والی قربانی کا تصور بہت اعلیٰ سمجھا جاتا ہے جس کے متعلق ہر مسلمان جانتا ہے اور اس ماہِ مبارک میں ہر مسلمان نہایت شوق اور مذہبی جذبے سے قربانی دیتا ہے۔ قرآن پاک میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
تمہارے لیے ان (قربانی کے جانوروں) میں مقرر ہ مدت تک فوائد ہیں پھر انہیں قدیم گھر ( خانہ کعبہ) کی طرف ( ذبح کے لیے) پہنچنا ہے۔ اور ہم نے ہر اُمت کے لیے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تا کہ وہ ان مویشی چوپایوں پر جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں سو تمہارا معبود ایک (ہی) ہے۔ پس تم اُسی کے فرمانبردار بن جاؤ اور (اے حبیبؐ!) عاجزی کرنے والو ں کو خو شخبری سنا دیں ۔(سورۃ الحج ۔ 33,34)
تاہم اس قربانی کے پیچھے جو حقیقت ہے وہ بھی نفس کی قربانی سے متعلق ہے بلکہ دورانِ حج ادا ہونے والے بہت سے مناسک کے پیچھے قربانیوں سے متعلق بہت اہم واقعات ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ اپنی بیوی حاجرہؑ کو صفا و مروہ کی بیابان پہاڑیو ں پر چھوڑ آئیں۔ حضرت اسماعیل ؑ جس وقت پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر سو سال کے قریب تھی اور عمر کے اس حصے میں جب انسان کو کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ایسے میں اہل و عیال ہی سہارا بنتے ہیں لیکن اللہ پاک نے آزمائش و قربانی مانگی بھی تو اسی اولاد کی۔ حضرت ابراہیم ؑ جب حضرت حاجرہ ؑ اور ننھّے اسماعیل ؑ کو بیابان میں چھوڑ کر واپس جانے لگے تو حضرت حاجرہؑ نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ تو آپؑ نے فرمایا: اللہ کے حکم سے۔ یہ سنتے ہی حضرت حاجرہؑ نے کہا! اگر اللہ کا حکم ہے تو میں اس قربانی اور آزمائش کے لیے تیار ہوں۔ اس بے گیاہ و بیابان وادی میں جب معصوم اسماعیل ؑ کو پیاس لگی تو حضرت حاجرہؑ پانی کی تلاش میں ایک پہاڑی سے دو سری پہاڑی تک گئیں اس طرح سات چکر لگائے لیکن پانی تلاش کرنے میں ناکام رہیں تاہم جب واپس آئیں تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل ؑ کی ایڑھیاں رگڑ نے والی جگہ سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا ہے۔ آپؑ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اللہ پاک کو حضرت حاجرہؑ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ ہر حاجی کے لیے صفا ومروہ کے سات چکر مقرر کر دئیے۔ وہ وقت مشکل ضرور تھا لیکن نفس کی آزمائش اور پیارے رشتے کی قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل بھی دور فرما دی اور ان کے عمل کو بھی قیامت تک کے لیے زندہ فرما دیا اور وہ جاری ہونے والا چشمہ آبِ زم زم آج بھی اسی طرح رواں ہے۔
جب حضرت اسما عیل ؑ جوان ہوئے تو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ کو ذبح کر رہا ہوں۔ حضرت اسماعیل ؑ نے کہا اگر اللہ کا حکم ہے تو میں اس قربانی کے لیے تیار ہوں۔ قربانی کے لیے جاتے وقت شیطان نے مختلف مقامات پر آ کر ان کے ارادے کو متزلزل کرنا چاہا تو حضرت ابراہیم ؑ نے ان پر کنکریاں پھینکیں اور ان کی یہ ادا بھی حج کے موقع پر اللہ نے لازم قرار دے دی۔
جب حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ اسماعیل ؑ کی جگہ دُنبہ ذبح ہو چکا ہے اور اسماعیل ؑ ساتھ کھڑے ہیں یعنی اللہ نے ان کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے جنت سے ان کے لیے ایک دنبہ بھیج دیا اور اللہ پاک نے ان کی اس قربانی کو زندہ رکھنے کے لیے ہر حاجی کے لیے احرام کھولنے سے قبل جانور ذبح یعنی قربان کرنا لازم قرار دے دیا۔ 
قربانی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے نمرو د اور حضرت ابراہیم ؑکی مثال سے بھی رہنمائی ملتی ہے۔
نمرود نے حضرت ابراہیم ؑ کو جلانے کے لیے آگ بھڑکائی۔ جبرائیل ؑ بھی اُن کی مدد کے لیے حاضر ہوئے لیکن حضرت ابراہیم ؑنے مدد لینے کی بجائے اپنے آپ کو راہِ حق میں قربان کرنا زیادہ مناسب سمجھا کہ اگر اللہ کی رضا خود کو قربان کرنے میں ہے تو انہیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پس یہی سوچ کر بلاخوف و خطر اور بے دھڑک عشق ِ حقیقی کی تڑپ لیے اپنے محبوب کو پانے کے لیے اُس آگ میں کود گئے۔ اللہ پاک نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ! ابراہیم ؑکے لیے ٹھنڈک او ر سلامتی والی بن جا۔ تو وہی آگ حضرت ابراہیم ؑکے لیے گلزار بن گئی۔ جبکہ آگ کا کا م جلانا ہے لیکن اللہ پاک کا مقصود یہ تھا کہ اپنے بندے کو آزما سکے کہ وہ اللہ کی خاطر جان دے سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم جیسے ہی ابراہیم ؑ اللہ کی خاطر اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے آگ میں کودے وہ اللہ کے حکم سے سلامتی والی بن گئی۔

بے خطر کود پڑا آتش ِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب ِ بام ابھی 

حضرت مریم علیہا السلام کے پاس جبرائیل ؑ بشر کی صورت آئے اور پیغام دیا کہ میں اللہ کے حکم سے آپ کو بیٹے کی بشارت دینے آیا ہوں جبکہ حضرت مریم علیہ السلام کنواری اور غیر شادی شدہ تھیں۔ اُنہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا۔ لوگوں نے انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا لیکن انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا اور اللہ کے حکم سے خاموشی اختیار کی۔ پھر جب حضرت عیسیٰ ؑنے گہوارے میں لوگوں سے کلام کیا کہ میں اللہ کا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں تو لوگوں نے ان سے معافی مانگی اور مریم ؑ کو اللہ نے عزت اور بلند مرتبے سے سرفراز فرمایا۔
اسی طرح حضرت یعقوبؑ نے حضرت یوسف ؑ کی قربانی دی اور طویل عرصہ ان کی جدائی کو برداشت کیا۔ حضرت یوسف ؑ نے بھی اپنے والد اور بھائیوں سے دور رہ کر قربانی دی۔ جیل کی سختیاں بھی برداشت کیں پھر اللہ نے انہیں نوازا۔ عزیز ِ مصر کا مرتبہ بھی عطا کیا اور ہجر و فراق کو بھی ختم کر دیا۔ 
حضرت سلیمانؑ نے جب بلقیس کو دعوتِ حق دی کہ وہ اپنی فوج سمیت حق قبول کرے تو بلقیس اپنا تخت و تاج چھوڑ کرحضرت سلیمانؑ کے پاس تشریف لے گئیں اور اپنی فوج سمیت ایمان لے آئیں۔
جب حضرت نوح ؑ کو حکم دیا گیا کہ وہ کشتی تیار کریں اور اُس میں تمام اہل ِ ایمان مرد و خواتین، ہر جانور کا ایک جوڑا اور ضروری چیزیں سوار کر لیں کیونکہ ہم ہر شے تباہ کرنے والے ہیں اُن کی بیوی اور بیٹا چونکہ ایمان نہیں لائے تھے اس لیے کشتی میں سوار نہ ہوئے اور طوفان میں ڈوب کر مر گئے۔ حضرت نوح ؑ نے ہر چند کوشش کی کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئیں مگر جب ہر کوشش بے سود گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے بھی ان کی پرواہ نہیں کہ بلکہ دونو ں کو قربان کر دیا۔ 
موسیٰ علیہ السلام کے ولادت سے قبل ہی فرعون کو نجومیوں نے بتا دیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس سے اس کی حکومت اور زندگی کو خطرہ ہوگا اس لیے اس نے اعلان کر دیا تھا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ قتل کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں خیال ڈالا جسے قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
ترجمہ: اور ہم نے موسیٰؑ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم انہیں دودھ پلاتی رہو۔ پھر جب تمہیں ان پر (قتل کر دیئے جانے کا ) اندیشہ ہو جائے تو اُنہیں دریا میں ڈال دینا اور تم (اس صورتحال سے) نہ خوفزدہ ہونا اور نہ رنجیدہ ہونا بے شک ہم انہیں تمہار ی طرف واپس لو ٹانے والے ہیں اور انہیں رسولوں میں (شامل) کرنے والے ہیں۔ (سورۃ القصص۔ 7)
حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے اللہ کے الہام کو سچ جان کر حضرت موسیٰ کو ایک صندوق میں ڈالا اور اسے بندکر کے دریا میں ڈال دیا اور اللہ پر یقین رکھا کہ ایک دن وہ اُس کو ضرور ملا دے گا۔ اُدھر صندوق کو فرعون کی فوج نے دریا میں سے نکال لیا۔ قریب تھا کہ وہ اُس بچے کو قتل کر دیتے۔ فرعون کی بیوی آسیہ جو صاحب ِ ایمان تھیں اُنہوںنے فرعون سے کہا کہ اس بچے کو قتل نہ کریں اور اپنے پاس رکھ لیں یہ ہماری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک بن جائے گا۔ اس کو ہم بیٹا بنا لیں گے۔ اس انجام سے بے خبر کہ کل کو یہی بچہ فرعون کو مٹا ڈالے گا۔ اِدھر موسیٰ ؑکی والدہ کا دل صبر سے خالی ہوگیا قریب تھا کہ وہ اپنی بیقراری کے باعث اس راز کو ظاہر کر دیتیں۔ اگر اللہ ان کے دل پر صبرو سکون نازل نہ کرتا تاکہ وہ اللہ کے وعدہ پر یقین رکھنے والو ں میں سے رہیں۔ اُدھر حضرت موسیٰ ؑکی والد ہ نے اپنی بہن سے کہا کہ صندوق کے پیچھے پیچھے چلتی رہو اور دور سے دیکھتی رہنا کہ صندوق کدھر جاتا ہے۔ تمام لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ موسیٰ ؑکی والد ہ او ر اُن کی بہن کیا کر رہی ہیں۔ جب اُس نے دیکھا کہ صندوق محل کے آگے جا کر رک گیا ہے اور فوج نے وہ صندوق اٹھا کر فرعون کے حوالے کر دیا ہے تو وہ بھی محل میں چلی گئیں۔ بادشاہ نے کہا کہ دائیوں کو بلوایا جائے تو اس پر حضرت موسیٰ ؑکی والدہ کی بہن نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو ایسا گھر بتاتی ہوں جو آپ کے بچے کے لیے بہترین ہے اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں گے۔ پس اللہ پاک نے موسیٰ ؑکو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تا کہ ان کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو ں اور وہ یقین سے جان لیں کہ اللہ کا وہ وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر بہت ہی مشہور ہے۔ آپ ؑ نہ صرف کثیر العیال تھے بلکہ مال و دولت کی بھی فراوانی تھی۔ وسیع جائیداد کے مالک تھے۔ کثیر غلام بھی موجود تھے۔ اللہ پاک نے حسن و جمال بھی خوب عطا کر رکھا تھا۔ شیطان نے کہا کہ ایوبؑ اس لیے اللہ کے شکرگزار بندے ہیں کہ اللہ نے انہیں خوب نواز رکھا ہے اگر ان کی آزمائش کی جائے تو وہ ناشکری کریں گے۔ تاہم شیطان کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب ؑ سے قربانی طلب کی تو وہ خود کو پیش کرنے سے ذرہ برابر بھی نہ ہچکچائے۔ آزمائش کے نتیجے میں ایک بیوی کے علاوہ سب بیویاں چھوڑ کر چلی گئیں، سب جانور مر گئے، پھر اولاد بھی انتقال کر گئی، بیماری نے آ لیا۔ عزیز و اقارب حتیٰ کے قبیلے والوں نے بھی خود سے دور کر دیا کہ کہیں ان کو بھی وہ بیماری نہ ہو جائے۔ ایسی حالت میں بھی حضرت ایوب ؑ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے تھے۔ آخر اللہ نے ان کے طویل صبر کے بعد نہ صرف ان کو شفا عطا فرمائی بلکہ ان کا حسن و جمال بھی واپس لوٹا دیا۔بیوی بچے بھی عطا کر دئیے اور مال و دولت بھی۔
  اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ طیبہ پر روشنی ڈالی جائے تو وہ بھی آزمائشوں اور قربانیوں سے عبارت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے راہِ حق میں پیش آنے والی تمام مشکلات اور تکالیف کو برداشت کیا اور اپنی امت کی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہے۔ جو بھی مال و متاع تھا سب اللہ کی راہ میں اس کے دین کی خاطر قربان کر دیا۔ خاندان والوں نے بائیکاٹ بھی کیا، طعن و تشنیع کے نشتر بھی چلائے، اہل ِ خانہ کو بھی ستایا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا حتیٰ کہ اپنا سب کچھ مکہ میں چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنی پڑی لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے صحابہ حوصلے اور دلجمعی سے اللہ کے دین کے کام میں مشغول رہے اور آخر اللہ نے انہیں فتح و کامرانی سے سرفراز فرمایا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ مالدار شخص تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم پر سب مال و متاع راہِ حق میں قربان کر دیا اور ان کی قربانیوں کے نتیجے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہم نے ہر کسی کے احسانات کا بدلہ دے دیا ہے سوائے ابوبکرؓ کے احسانات کے۔
حضرت بلال حبشیؓ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کا مالک انہیں تپتی دھوپ میں لٹا کر اوپر پتھر رکھ دیتا تھا لیکن وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں پھر بھی احد احد پکارتے تھے جس پر ان کا مالک اُنہیں کانٹے دار لکڑی سے مارتا تھا اور اُن کے جسم سے خون اُبلتا تھا۔ عشق ِ مصطفیؐ میں وہ اپنے جسم کو کانٹوں پر قربان کر رہے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ وہاں سے گزرتے ہوئے حضرت بلالؓ کو دیکھا کرتے اور ان کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھتے۔ آخر ایک دن انہوں نے اپنے مال کو راہِ حق میں قربان کرتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عاشق کو اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا۔ 

چمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا 

اسی طرح حضرت اما م حسینؓ نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کرکے اپنے سارے خاندان کو اللہ کی رضا کے لیے کربلا کے مقام پر قربان کر دیا۔ حضرت امام حسین ؓ اگر ہوا کو حکم دیتے تو وہ ایسے چلتی کہ یزید کے لشکر کو تباہ و برباد کر دیتی۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہٗ نے اللہ کی رضا کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے باطنی تصرف اور اختیار کے استعمال پر اپنے خاندان کی قربانی کو ترجیح دی۔

جے کر دین علم وچ ہوندا، تا ں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو
اٹھارہ ہزار جو عاَلم آہا، اگے حسینؓ دے مردے ھُو
جے کُجھ ملا خطہ سرور ؐدا کردے، تا ں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو
جے کر مندے بیعت رسولیؐ، پانی کیوں بند کردے ھُو
پر صادق دین تنہاں دا باھُوؒ، جو سر قربانی کردے ھُو 

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور دیگر اہل ِ بیتؓ کی قربانی نے اسلام کو ایک نئی روح بخشی اور اگر آج اسلام زندہ ہے تو حضرت امام حسینؓ اور ان کے اہل ِ بیتؓ کی قربانی کی بدولت۔ اگر آج نام زندہ ہے تو حضرت امام حسین ؓ اور ان کے اہل ِ بیتؓ کا نہ کہ دشمنانِ اسلام کا۔ 
حضرت ابراہیم بن ادھمؒ نے اللہ کو پانے کے لیے بادشاہت چھوڑ دی، مولانا رومؒ نے اپنے علم اور عزت و شرف کی قربانی دی، سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہٗ نے 26 سال کے طویل مجاہدات کیے اور اپنے نفس کی اصلاح کے لیے خود کو طرح طرح کی مشقتوں اور مجاہدوں میں مشغول رکھا، حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اللہ کے قرب کے لیے ہر شے ترک کر دی۔ اس طرح بیشمار اولیا کرام کی قربانیوں کے واقعات سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں جنہوں نے اللہ کے قرب اور وصال کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور ان تمام آزمائشوں اور امتحانات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ سب کچھ دوبارہ سے لوٹا دیا۔
یہ راہِ حق کا اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ طالبوں کو ظاہری و باطنی آزمائشوں اور قربانیوں سے گزارتا ہے تب ہی اپنا قرب عطا کرتا ہے جیسا کہ انبیا کرامؑ، صحابہؓ اور اولیا کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ ِ اسلام قربانیوں سے بھرپور ہے۔ اسلامی سال کی ابتدا بھی قربانی اور اختتام بھی قربانی۔ پس راہِ حق کے طالبوں کو بھی ہر طرح کی آزمائش اور قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ قربانیوں کے بغیر اللہ کی ذات کا قرب پانا ناممکن ہے۔
راہِ حق میں مرشد کامل اکمل کا ساتھ بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک مرشد کا وسیلہ اختیار نہ کیا جائے انسان اس قابل نہیں ہو سکتا کہ اللہ کا قرب پا سکے۔ دیگر عبادات سے اجر و ثواب تو حاصل ہو سکتا ہے لیکن اللہ کی معرفت اور قرب پانے کے لیے نصاب ایک ہی ہے۔ جیسے انبیاکرام نے اپنے رشتوں، اپنی جانوں اور اپنے مال کی قربانی دی اسی طرح طالب ِ مولیٰ کو بھی ایسے ہی اپنے رشتوں اور اپنی جان و مال کی قربانی دینی پڑتی ہے اور مرشد کامل اکمل ہی طالب کو اس قابل بناتا ہے کہ اللہ کی راہ میں آنے والی ان آزمائشوں میں پورا اتر سکے اور جو قربانیاں اللہ پاک طلب کرے طالب اللہ کی رضا کی خاطر وہ قربان کر دے۔راہِ فقر تو ہے ہی عشق کی راہ اور راہِ عشق میں کامیابی کی کلید وفا اور قربانی ہے۔ حالات خواہ کچھ بھی ہوں لیکن وفا میں کمی نہ آئے اور جب قربانی کا وقت آئے تو منہ نہ موڑا جائے۔ جب طالب کا ارادہ مصمم ہوگا اور وہ اس راہ پر استقامت سے گامزن رہے گا تو اللہ پاک نہ صرف اپنا قرب عطا فرما دے گا بلکہ وقت ِ آزمائش جو چیز طالب نے قربان کی ہوگی وہ بھی اس کو واپس لوٹا دے گا۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے دامن سے وابستہ ہو کر اللہ کے قرب اور رضا کے سفر کی تیاری کریں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کی آزمائش اور قربانی کے لیے حوصلہ اور توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭٭

 

اپنا تبصرہ بھیجیں