Ameer ul kunain

امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

علمائے حق کی مجلس انبیا کی مجلس کی مثل ہے جو تکبر، حرص اور خواہشاتِ نفس سے پاک ہوتی ہے۔ ابیات:

عالم خدا فاضل خدا باخود نماند
ہر کہ باخود بماند علم از حق نخواہد

ترجمہ: حق تعالیٰ کا عالم و فاضل اپنی خودی کے ساتھ نہیں رہتا اور جو خودی کے ساتھ رہتا ہے وہ حق تعالیٰ سے علم نہیں سیکھ سکتا۔

نفس موذی را بکش باتیغ قال
نفس اہل قال را می کشد تیغ از زوال

ترجمہ: موذی نفس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کلام کی تلوار سے قتل کرو۔ نفس گفتگو کرنے والوں کو زوال کی تلوار سے مار دیتا ہے۔

ہر کہ خواہد گشت کشتن نفس را
با تصور تیغ بکشد و ز ہوا

ترجمہ: جو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو مار دے وہ اسم ِاللہ ذات کے تصور کی تلوار سے اسے مارے اور خواہشاتِ نفس کو ترک کرے۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَنَہَی النَّفْسَ عَنِالْھَوٰی ۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی (النٰزعٰت۔40,41)
ترجمہ: اور جس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اس کا ٹھکانہ جنت ِ ماویٰ ہے۔
نفس جب تک حضوری و دیدار سے مشرف ہونے کا سبق نہیں پڑھتا ہرگز گناہ اور خواہشات سے باز نہیں آتا چاہے کوئی تمام عمر ریاضت کے پتھر سے سر ٹکراتا رہے کوئی فائدہ نہیں۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ ج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ(یوسف۔53)
ترجمہ: ا ور میں اپنے نفس سے چھٹکارے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ بے شک نفس تو برائی کا حکم دینے والا ہے۔
ابیات:

این نفس را در قید آوردن چہ غم
کیشناسد نفس را اہل از صنم

ترجمہ: اگر اس نفس کو قید کر لیا جائے تو کیا پریشانی۔ اس نفس کو بت پرست کیسے پہچان سکتے ہیں۔

نفس را بشناختن قرب از خدا
نفس را شرمندہ بماند و ز ہوا

ترجمہ: نفس کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے بعد پہچانا جا سکتا ہے تب نفس کو گناہ کرتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے اور وہ خواہشاتِ نفسانی سے باز رہتا ہے۔

نیست نفس و نے بروح و نے قلب
غرق فی التوحید عارف باادب

ترجمہ: جب طالب اللہ کے قرب کی انتہا پر پہنچ جائے تب نہ نفس باقی رہتا ہے نہ روح اور قلب۔ وہ ایک باادب عارف بن کر توحید میں غرق ہو جاتا ہے۔

و ز ہفت اندام بود ہفتاد نور
باز گردد یک شود باشد حضور

ترجمہ: وجود کے ساتوں اندام سے ستر نور نکلتے ہیں جو ایک ہو کر طالب کو حضوری کی طرف لے جاتے ہیں۔

طالب ِ دیدار می یابد خدا
طالب ِ مردار بانفس و ہوا

ترجمہ: دیدار کا طالب اللہ کی ذات کو پا لیتا ہے اور مردار دنیا کا طالب نفس و ہوا کا شکار ہو جاتا ہے۔

طالبان را چیست آخر حق طلب
جان خود را کن فدا بر راز ربّ

ترجمہ: طالبانِ مولیٰ حق کے سوا کچھ طلب نہیں کرتے اور اللہ کے اسرار پر اپنی جان فدا کر دیتے ہیں۔

دم مزن گر عاشقی سر پیش نہ
سر ز گردن شد جدا این راہ بہ

ترجمہ: اگر تو عاشق ہے تواپنا سر قربان کرنے سے پیچھے نہ ہٹا۔ اگر سر گردن سے جدا بھی ہو جائے تو بھی یہ راہ بہتر ہے۔

ہر کہ شد گمنام آن نامزد تر
نام را نام آرد دہد صاحب ِنظر

ترجمہ: جو اس راہ میں (خود کو) گمنام رکھتا ہے وہ مزید مشہور ہو جاتا ہے۔ صاحب ِ نظر اس کے نام کو مزید بلند کرتے ہیں۔ 

باھوؒ کہتر و مہتر ہمہ دارد طلب
طلب قلب از قلب کلب از باکلب

ترجمہ: اے باھُوؒ! ہر کمتر اور برتر کی اپنی طلب ہے۔ (باصفا) قلب کی طلب باصفا قلب سے ہی پوری ہوتی ہے اور کلب (مردار دنیا) کی طلب کلب سے پوری ہوتی ہے۔
جان لو کہ شاعروں کو علم بلاغت اور دانش سے حاصل ہوتا ہے تاہم ان کے اشعار کو شعور سے پختگی حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ فقرا کا علم اللہ کے قرب و حضوری سے حاصل کردہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ اتنا پختہ معلوم نہیں ہوتا۔ شاعروں کا کلام اگر پختہ ہو تو اس میں بہت لذت محسوس ہوتی ہے جبکہ فقرا کے کلام میں شہد کی سی مٹھاس ہوتی ہے اگرچہ وہ کلام پختہ نہیں ہوتا۔ ان کا کلام دیدار کے شوق سے پُر ہوتا ہے اور سونا و چاندی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ بیت:

سخن من سرّیست خواندن آن بی سر
عارف بے سر بود صاحب ِنظر

ترجمہ: میرا کلام اسرار سے پُر ہے اور اسے سمجھنے کے لیے اپنا سر قربان کر۔ عارف اپنا سر قربان کرنے والے صاحب ِ نظر ہوتے ہیں۔
اہل ِ علم ِ تصوف کے لیے تقویٰ ضروری ہے اور متقی عالم کے لیے دو گواہ ضروری ہیں۔ اہل ِ تقویٰ کا کھانا نور اور ان کی نیند معرفت اور دیدار و حضوری سے مشرف ہونا ہے۔ متقی عالم دو صفات کا حامل ہوتا ہے اوّل یہ کہ ذات و صفات کے تمام مقامات کو تصور اسم اللہ ذات اور توفیق ِ الٰہی سے لمحہ بھر میں طے کر لیتا ہے اور ہر مقام کی تحقیق کر لیتا ہے اور اپنی نظر و تصرف سے ہر مردہ کو زندہ کر سکتا ہے۔ اہل ِ تقویٰ وہ ہے جو کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ کو اپنی زبان سے اس کی کنہ اور حقیقت سے پڑھتا ہے تو جو کچھ اللہ نے تخلیق کیا ہے‘ اس سے کچھ بھی مخفی اور پوشیدہ نہیں رہتا۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ  اللّٰہُ ط ھُوَ اَہْلُالتَّقْوٰی وَ اَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ (المدثر۔56)
ترجمہ: اور یہ لوگ اسے یاد نہیں کرتے سوائے اس کے جب اللہ چاہے گا اور وہی تقویٰ کا مستحق اور مغفرت کا مالک ہے۔
علم ِ تقویٰ‘ علم ِ تصور و تصرف کی طرح معرفت، مشاہدہ اور دیدار کی کلید ہے۔ تقویٰ سے مراد مجاہدہ نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حضوری اور لازوال وصالِ حق ہے۔ جاننا چاہیے کہ تصور کی تجلیاتِ نور کے غلبہ اور حضوری کے شوق کے باعث اللہ کے اشتیاق کی پیاس طالب میں بڑھتی ہے کہ اللہ سے ازلی فراق اللہ کے فیض و فضل میں بدل گیا ہے۔ تب طالب صرف توفیق و توکل اور توحید کی صدق سے تحقیق کرتا ہے اور اس کی کنہ کو سمجھتا ہے۔ جب طالب کا قلب آوازِ کن سے اللہ کا نام یعنی اسم ِ اللہ ذات عزت سے پکارتا ہے تو اللہ کا نام سنتے ہی اس کی عظمت و ہیبت سے نفس مکمل طور پر مر جاتا ہے اور وجود کے ساتوں اندام میں سر سے قدم تک اللہ کا نور پیدا ہوتا ہے۔ اور وجود میں جو کدورت، زنگار، ظلمات کے حجابات اور پردے ہیں‘ سب ختم ہو جاتے ہیں جس کے بعد قلب روح سے متفق ہو جاتا ہے اور روح ذوق کے ساتھ اللہ کا نام پڑھتی ہے۔ اللہ کا نام سنتے ہی اس نام کے قہر و قدرت سے نفس زندہ نہیں رہتا اور طالب اللہ کی عیاں معرفت اور دائمی دیدار حاصل کرتا ہے اور اس پر فقر مکمل ہو جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ۔ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ بِالْفَنَآئِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗبِالْبَقَآئِ
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچانا تحقیق اس نے اپنے ربّ کو پہچانا۔ جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا تحقیق اس نے اپنے ربّ کو بقا سے پہچانا۔
پس نفس کے مرنے سے انسا ن کس طرح زندہ رہ سکتا ہے۔ نفس کے مرنے سے مراد یہ ہے کہ نفس اپنی بدخصلت اور گناہ سے قبر میں جانے تک باز رہتا ہے۔ ابیات:

از ازل تا ابد بودم بے حجاب
در چشم من ہرگز نیاید ہیچ خواب

ترجمہ: میں ازل سے ابد تک بے حجاب ہوں اس لیے میری آنکھیں سوتی نہیں۔

دیدہ را دیدار بردہ خواب نیست
از میان خود رفتہ را عذاب نیست

ترجمہ: جس کی آنکھیں دیدار میں مشغول ہوں وہ سو نہیں سکتا اور جو خودی سے نجات حاصل کر لیتا ہے وہ عذاب سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ 

خواب مارا بہر مذکور و جواب
اہل ِحاضر را نباشد ہیچ خواب

ترجمہ: ہم نیند میں بھی اللہ کے ذکر اور اس سے ہم کلامی میں مصروف رہتے ہیں۔ اہل ِ حضور کو تو نیند ہی نہیں آتی۔

خواب مارا خلوت و باشد حضور
چشم را پوشید بہر از صد ضرور

ترجمہ: ہماری نیند خلوت اور حضوری ہے۔ ہم اپنی آنکھوں کو سینکڑوں بار بند کرتے ہیں لیکن صرف اس خلوت کے لیے۔

ہر کہ پوشید چشم را آن کور تر
کے بہ بیند کور مثل ِ گاؤ خر

ترجمہ: جو اپنی آنکھوں کو بند رکھتا ہے وہ اندھوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اندھے کیسے دیدار کر سکتے ہیں یہ تو گائے اور بیل کی مثل حیوان ہیں۔

باعیان بینم بقا ہم حق لقا
چشم پوشیدن بود مکر و ریا

ترجمہ: میں اللہ کو باعیاں دیکھتا ہوں اور مجھے اس کے ساتھ بقا حاصل ہے۔ آنکھوں کو بند رکھنا تو مکر و ریاکاری ہے۔
جو علم میں کمال حاصل کر کے عالم باللہ بن جاتا ہے وہ ہمیشہ مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں رہتا ہے۔ فقیر جب اللہ کی معرفت حاصل کر کے مشرفِ دیدار ہو جاتا ہے وہ بھی ہمیشہ مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں رہتا ہے اور جو متقی علم ِ تقویٰ میں کمال کو پہنچ جاتا ہے اسے بھی مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل ہوتی ہے۔ ابیات:

این مراتب از علم توفیق تر
اولیا اللہ بخشد بانظر

ترجمہ: یہ مراتب علم سے بالاتر ہیں اور اولیا اللہ یہ مراتب اپنی نگاہ سے عطا کرتے ہیں۔

ہر کرا مرشد نہ ای مردود دان
بی خبر از معرفت وحدت عیان

ترجمہ: اور جس کا مرشد نہیں اسے مردود سمجھ کیونکہ وہ وحدت کی بے حجاب معرفت سے بے خبر ہے۔
مرشد عیاں مراتب کا حامل ہوتا ہے اور (دل کے) آئینے میں دونوں جہان عیاں دکھاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلْعَقْلُ یَنَامُ فِی الْاِنْسَانِ۔ اَلْاِنْسَانُ مِرْأَۃُ الْاِنْسَانِ۔ اَلْاِنْسَانُ مِرْأَۃِرَبِّہٖ۔
ترجمہ: عقل انسان میں سوئی ہوئی ہے۔ انسان‘ انسان کا آئینہ ہے۔ انسان اپنے ربّ کا آئینہ ہے۔
ابیات:

خوش بہ بین دیدار را گوید حدیث
ہر کرا باور نہ ای کاذب خبیث

ترجمہ: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بخوشی دیدار کرنے کا حکم فرمایا ہے اور جو اس فرمان کی حقیقت کو نہ سمجھا وہ جھوٹا اور خبیث ہے۔

ہر کہ علم عالم شدہ بہر از لقا
نہ از برائے لذت دنیا ہوا

ترجمہ: اصل عالم وہ ہے جو قرب و دیدارِ الٰہی کی خاطر علم حاصل کرتا ہے نہ کہ دنیا، خواہشاتِ نفس اور اس کی لذات کے لیے۔

اولیا در قبر ہمچون آفتاب
ہر کہ گیرد نام حاضر باصواب

ترجمہ: اولیا اپنی قبروں میں آفتاب کی مثل ہوتے ہیں۔ جو کوئی ان کا نام پکارتا ہے تو فوراً (مدد کے لیے) حاضر ہو جاتے ہیں۔

بانظر عارف شناسد اولیا
این قدر قدرت بود قرب از خدا

ترجمہ: عارف اپنی نگاہ سے ہی اولیا کو پہچان لیتے ہیں اور انہیں یہ طاقت و قدرت اللہ کے قرب سے حاصل ہوتی ہے۔
باطن کا علم ِ غیب، شک و شبہ سے پاک وحدتِ حق تعالیٰ میں یکتا ہو جانے کا علم، دیدار کا علم، قلب کو بیدار کرنے کا علم، اللہ کے قرب کا علم، نفس کو فنا کرنے کا علم، زندہ قلب اور بقا یافتہ روح کا علم، علم ِ ادب، علم ِ حیا، علم ِ جمعیت، ضمیر کے آئینہ کو روشن اور صاف کرنے کا علم اور علم ِقرب‘ سب علم ِ موت کے مطالعہ سے روشن اور واضح ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھ:
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ (آلِ عمران۔185)
ترجمہ: ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
 قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ  (النسائ۔77)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرما دیجیے کہ متاعِ دنیا قلیل ہے۔
لہٰذا دنیا کو ترک کر دے تاکہ تو علم ِموت کے مطالعہ سے دیدارِ پروردگار کے قابل ہو سکے۔ معرفت تین طرح کی ہے۔ جب طالب ابتدائی مقام پر علم ِ موت سے آگاہ ہوتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی محبت بڑھتی ہے اور جب طالب متوسط مقام پر اس سے آگاہ ہوتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے اور جب طالب انتہائی مقام پر اس علم سے آشنا ہوتا ہے تو اس کے دل میں مشاہدہ، دیدار، حضوری اورقربِ الٰہی کا نور بڑھتا ہے۔ مرشد کے لیے فرض ہے پہلے طالب ِ مولیٰ کو اس علم کے مطالعہ سے یہ تین سبق سکھائے تاکہ طالب اس علم سے محروم اور جاہل نہ رہے۔ طالب رات دن اس علم کو پڑھتا ہے ۔ تمام علم کا حصول اس ایک آیت میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ط۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ۔ (الزلزال۔7,8)
ترجمہ: پس جو ذرّہ برابر بھی بھلائی کرتا ہے تو وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرّہ برابر بھی برائی کرتا ہے تو وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔
ابیات:

ہر ذرہ مثل ِ زراعت خرمن است
نیک بد را نظر کن در جان تن است

ترجمہ: فصل کا ہر ذرّہ کھیتی کا حصہ ہے اسی طرح اپنے جسم و جان کے نیک و بد اعمال پر نظر رکھ۔

نیست در تو ہیچ بیرون آنچہ ہست
آنچہ شد مخلوق زان روزش الست

ترجمہ: تیرے اردگرد جو کچھ بھی ہے وہ تیرے اندر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ سب مخلوق ہے جو روزِ الست پیدا کی گئی۔
طالب ِ مولیٰ ایسا علم پڑھتا ہے کہ زندگی و موت میں بھی وہ علم اس سے جدا نہیں ہوتا۔ ایسا علم معرفت و دیدار سے مشرف کرنے والا علم ہے۔ علم تو وہ ہے جو توفیق ِ الٰہی سے قبر میں بھی محافظ، رفیق اور شفیع ہو۔ جو وجود کے ساتوں اندام کو پاک کر دے اور قبر و حشر میں ہونے والے محاسبہ سے آزادی دلا دے۔ وہ علم تصور اسم ِاللہ ذات ہے جو غیر اللہ سے نجات دلاتا ہے۔ بیت:

آنچہ میخوانی از علم اللہ بخوان
اسم اللہ با تو ماند جاودان

ترجمہ: تو جو علم پڑھتا ہے اسے اسم ِ اللہ کے علم سے پڑھ۔ اسم ِاللہ ذات ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گا۔ 

قرآن، توریت، زبور، انجیل، فقہ، مسائل ِ شریعت اور تفسیر کی ہر کتاب اسم ِاللہ ذات سے ہے اور چاروں کتابیں اسم ِاللہ ذات کی شرح ہیں۔ جو اسم ِاللہ ذات کو اس کی کنہ اور حقیقت جان کر پڑھتا ہے اس پر ظاہر و باطن کے سب علوم واضح ہو جاتے ہیں اور اسے مزید علم پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اوراق کے مطالعہ سے استغراق کا علم بہتر ہے۔ بیت:

ذکر باشد از لقا فکر از بقا
این چنین عالم بود علم از خدا

ترجمہ: اگر کوئی دیدارِ الٰہی کے لیے ذکر کرے اور اللہ سے بقا کی خاطر فکر کرے تو وہ ایسا عالم بن جاتا ہے جو اللہ سے علم سیکھتا ہے۔
اللہ کے فضل سے دیدار کا درس قلب ِ باصفا سے حاصل ہوتا ہے۔ جو علم ِ دیدار سے ناواقف ہو وہ بے حیا، مردہ دل اور جاہل ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
بَلٰی ق مَنْ اَسْلَمَوَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٓٗ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ص وَلَا خَوْفُعَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ  ۔(البقرہ۔112)
ترجمہ: ہاں!جو اپنا چہرہ اللہ کی طرف موڑتا ہے وہ محسن ہے۔ اس کے لیے اس کے ربّ کے پاس بڑا اجر ہے اور اس پر نہ کوئی خوف طاری ہوتا ہے نہ غم۔
وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْہَہٓٗ اِلَی اللّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی (لقمٰن۔22)
ترجمہ: اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ صاحب ِ احسان بھی ہو تو گویا اس نے مضبوط حلقہ کو مضبوطی سے تھام لیا۔

(جاری ہے)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں