اللہ کا حق | Allah ka Haq

اللہ کا حق

تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری۔ لاہور

ہر انسان کے ذمے کچھ حقوق ہیں جن کی ادائیگی میں ہی انسان کی نجات اور فلاح کا راز مضمر ہے جیسا کہ ماں باپ کے حقوق، بہن بھائیوں کے حقوق، اللہ کے حقوق، اولاد کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، ہمسایوں کے حقوق وغیرہ۔ ان سب حقوق میں فائق تر حق اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے تمام کائنات کو تخلیق کیا، جو زندہ و جاوید ہے۔ جو ہر شے کا خالق و مالک اور رازق ہے۔ جو ہر امر پر قادر ہے۔ جس نے انسان کے لیے انواع و اقسام کے پھل و میوے پیدا کیے، ہر طرح کا آرام و سکون عطا کیا، صحت و تندرستی عطا کی اس لیے انسان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اللہ کا حق ادا کیا جائے۔ لیکن اللہ کا حق ہے کیا؟
حدیث ِ نبویؐ ہے:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا ’’اے معاذؓ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اُسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘ (صحیح بخاری2856)
یعنی اپنی ہر مشکل و آسانی میں، اپنی ہر ضرورت کے لیے، ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنا، اس کے غیر کی طرف متوجہ نہ ہونا اور ہر امر کی انجام دہی میں اللہ کو ہی کارساز سمجھنا اللہ کا حق ہے اور اپنی عبادات میں حضورِ قلب کی کیفیت پیدا کرنا ہی اصل عبادت ہے اور عبادات میں حضورِ قلب کی کیفیت تب تک پیدا نہیں ہوتی جب تک اللہ پاک کی معرفت حاصل نہ کی جائے۔
حدیث ِ قدسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے مقصد کو بیان فرمایا ہے:
میں ایک چُھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ (شمس الفقرا)
تو کیا بحیثیت انسان ہمارا یہ فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے خالق و مالک کی عبادت کریں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اُس کی پہچان، قرب اور دیدار پانے کے لیے جدوجہد کریں جس کے لیے اُس نے ہمیں نہ صرف تخلیق فرمایا بلکہ اپنی تمام مخلوقات میں اشرف المخلوقات بنایا اور بِن مانگے ہمیں ہر سہولت و نعمت عطا فرمائی۔ اگر ایک انسان اپنے وجود پر ہی غور کرے تو اسے احساس ہو جائے گا کہ وہ کس قدر امیر اور خوش قسمت ہے کہ اُسے اللہ نے قائم حواس اور مکمل اعضا عطا فرمائے ہیں اور ہم اسی کی دی ہوئی طاقت کے بل بوتے پر اتنا اتراتے ہیں کہ اپنے ربّ کو ہی مکمل طور پر فراموش کر دیتے ہیں؟ جب کو ئی بندہ ہمارا کوئی کام کر دے تو ہم اس کے قصیدے پڑھتے ہوئے نہیں تھکتے لیکن اپنی بڑی سے بڑی کامیابی پر اللہ عزوجل کی طرف سے یکسر غافل ہو جاتے ہیں اور اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجہ مقصد ِ حیات سے غفلت ہے یعنی ابھی تک ایک عام انسان یہ نہیں سمجھ سکا کہ اُسے دنیا میں بھیجا کیوں گیا ہے؟ اگر انسان کو اس دنیا کی رنگینوں میں مست ہونے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے تو پھر اسے موت کیوں آتی ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس عالم ِ ناسوت میں آنے کا مقصد معرفت اور قرب و دیدارِ حق تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر انسان کو اس کے مقصد ِ حیات کی یاد دہانی فرمائی ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے لوگو! اپنے ربّ کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمانوں کی طرف سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے تمہارے کھانے کے لیے (انواع و اقسام کے) پھل پیدا کئے، پس تم اللہ کے لیے شریک نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم (حقیقت ِ حال) جانتے ہو۔ (البقرہ۔ 21-22 )
اب تمہارے لئے زمین میں معینہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدر کر دیا گیا ہے۔ (البقرہ۔36)
اور اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
زمین کو اسی نے مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اس میں میوے ہیں اور خوشوں والی کھجوریں ہیں اور بھوسہ والا اناج اور خوشبودار پھل (پھول) ہیں۔ پس (اے گروہِ جن و انس) تم اپنے پروردگا ر کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ (الرحمن۔10-13)
الغرض اس عالم ِ فنا میں ہوش سنبھالنے سے لے کر عالم ِ بقا کی جانب سفر کرنے تک اگر انسان کی زندگی پر کسی کا حق سب سے زیادہ ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کا ہے۔ اس حق میں نہ تو اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی ثانی۔

وجود پر اللہ کا حق

مسلمان ہونے کے لیے انسان کلمہ طیب پڑھتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی گواہی ہے۔ اس لیے اﷲ کا اوّل حق کلمہ طیب میں ہی پوشیدہ ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
ہر دو جہان علم کی قید میں ہیں اور علم کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِکی قید میں ہے اور کلمہ طیب اسم ِ اللہ ذات کی قید میں ہے اور جو شخص زبان سے کلمہ پڑھتا ہے اور دِل سے اس کی تصدیق کرتا ہے اور کلمہ طیب کی کنہ اور حقیقت کو جانتا ہے اس سے کوئی بھی علم مخفی نہیں رہتا۔ (امیر الکونین)
سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
کلمہ طیب مسلمان ہونے کی بنیاد ہے جو کوئی کلمہ طیب پڑھتا ہے تو وہ زبان سے اقرار کرتا ہے ’’اللہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘‘۔ اس اقرار کے ساتھ ہی وہ مسلمان ہو جاتا ہے اور تصدیق ِ قلب (دیکھ کر) سے کلمہ پڑھنا خواص کا اور اس کی حقیقت تک پہنچ جانا عارفین کا مرتبہ ہے۔  (شمس الفقرا)
پس کلمہ طیب کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کا اقرار اس بات کی تصدیق ہے کہ انسان پر اللہ کا پہلا حق ہی یہی ہے کہ صرف اور صرف اُسی کو خالق و مالک اور معبودِ برحق مانا جائے یعنی اللہ کے سوا کسی کی بھی کسی بھی حالت میں عبادت، اطاعت و فرمانبرداری ہرگز ہرگز جائز و حلال نہیں بلکہ ہر اطاعت و فرمانبرداری اللہ پاک کی رضا کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ نفس پرستی کے لیے۔
کلمہ طیب کے دوسرے حصے میں مسلمان حبیب ِ خدا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اللہ کا رسول ہونے کی اس طرح گواہی دیتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ پاک آئینۂ حق ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت تکمیل ِ ایمان اور حق ِ خداوندی میں استقامت کے لیے نہایت ضروری اور لازم و ملزوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات حقیقتاً تعلیماتِ فقر ہیں جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
فقر میرا فخر ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فخر حاصل ہے۔ (عین الفقر)
فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (شمس الفقرا)
جو مسلمان ان احادیث کو نفس کے پردے ہٹا کر دل و جان سے قبول کر لے تو یقینا وہ نہ صرف اپنے مقصد ِ حیات کو پا لے گا بلکہ بارگاہِ الٰہی میں اللہ تعالیٰ کے محبوبین کی صف میں بھی شامل ہو جائے گا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور (اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے ( بہشت کے) باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔‘‘ (البقرہ۔25)
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ہے اور بعد از حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اہل ِ بیتؓ کلامِ الٰہی اور سنت ِ رسولؐ کا علمی نمونہ ہیں۔ حق ِ خداوندی کے حصول کے لیے یہی پاکیزہ ہستیاں مشعل ِ راہ ہیں۔ یہاں یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہو گا کہ جب حق ِ باری تعالیٰ کے حصول کے لیے سیّدۃالنساء جگر گوشۂ رسولؐ حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا ؓ نے فقر کو اپنایا تو آپؓ ’’سلطان الفقر‘‘ کے مرتبہ پر فائز ہوئیں، اسے جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنایا تو آپ ؓ ’’حیدرِ کرار اور شیر ِ خدا‘‘ کہلائے۔ اسے جب امام حسنؓ نے اپنایا توآپؓ  ’’مجتبیٰ‘‘ اور امام حسینؓ  ’’امام عالی مقام سیّد الشہدا‘‘ کہلائے۔ اصحاب پاکؓ  نے بھی جب حق ِ خداوندی کی راہ کو اپنایا تو کوئی صدیق کوئی فاروق اور کوئی غنی کہلایا۔ اسی راہ کی بدولت اللہ کے محبوبین غوث الاعظمؓ، سلطان العارفین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا اور شہبازِ عارفاں کہلائے۔ جس نے اللہ کے حق کی راہ کو صدق دِل سے اپنانا ہے تو اس پر اللہ کے محبوبین کی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے۔ کیونکہ ان محبوبین ِ خدا نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار تصدیق ِ قلب سے کیا او ر عبادتِ الٰہی سے اپنے باطن منور فرمائے۔ پس انسان کو چاہیے کہ حق ِ خداوندی کی راہ پراللہ پاک کی عطا کردہ تمام تر جسمانی صلاحیتوں کواللہ پاک کے لیے وقف کر دے اور اسی کی خوشنودی کے لیے عبادات و مجاہدات کرے۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں’’اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ معرفت اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جو اس کے حکم کی پیروی میں سب سے زیادہ مجاہدہ کرتا ہے اور جو اس کے نبی ؐکی سنت کی سب سے زیادہ پیروی کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب ہو گا وہ اس کے احکام کی فرمانبرداری کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے گا اور جو کوئی اس کی بارگاہ سے دور ہو گا وہ اس کے رسولؐ کی پیروی سے زیادہ دور ہو گا۔ (کشف المحجوب)
احکامِ الٰہی کو تصدیق ِ قلب سے سرانجام دینا بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ رکھتا ہے پھر چاہے اس کا تعلق عبادتِ الٰہی سے ہو یا اطاعت ِ الٰہی سے۔
عبادت کیا ہے؟ عبادت اطاعت ہے، سوچ ہے اور فکر ہے۔ یعنی اگر بندے کی سوچ و فکر اللہ تعالیٰ کے کاموں کی ہے تو یہی عبادت ہے ورنہ بے روح کوئی بھی شرعی عمل عبادت کا درجہ ہرگز نہیں رکھتا وہ محض ریاکاری اور دھوکا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ہمارے ظاہری وجود پر اللہ کا مکمل حق ہے بالکل اسی طرح ہماری سوچ اور عمل پر بھی صرف اللہ کا ہی حق ہے۔ظاہری وجود کا تعلق احکامِ شریعت کی ادائیگی سے اور عمل و سوچ کا تعلق ہمارے باطن سے ہے۔

عمل اور سوچ پر اللہ کا حق

حدیث ِ نبویؐ ہے:  
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
انسان کے ہر عمل پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ تمام تر معاملاتِ زندگی خواہ ان کا تعلق حقوق العباد کی ادائیگی سے ہو یاانفرادی و اجتماعی نظام سے ان سب معاملات کی انجام دہی کا بنیادی مقصد اخلاصِ نیت سے رضائے الٰہی ہونا چاہیے نہ کہ کوئی اعلیٰ دنیاوی مقام و مرتبہ کا حصول۔ قارئین کی وضاحت کے لیے کچھ مثالیں ذیل میں تحریر کی جا رہی ہیں:
اگر اولاد رضائے الٰہی کے حصول کے لیے والدین کی خدمت و فرمانبرداری کرے اور ان کے ساتھ ایسا حسن ِ سلوک کرے جیسا کہ اللہ پاک نے حکم فرمایا ہے تو ایسا عمل حکم ِالٰہی کی فرمانبرداری میں شمار ہوتا ہے اور کے برعکس اگر اولاد کسی لالچ کے لیے والدین کی خدمت کرتی ہے تو ایسا عمل اللہ پاک کی نافرمانی شمار ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر والدین بھی اولاد کی پرورش حکم ِ الٰہی کے مطابق کریں تو یہ عمل اللہ پاک کے حکم کی فرمانبرداری کہلائے گا اس کے برعکس اگر والدین اولاد کی پرورش اس نیت و سوچ کے ساتھ کریں کہ یہ اولاد بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے گی تو اس صورت میں والدین پرورش کے عمل میں اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا کر شرک جیسے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھیں گے۔ 
 اگر مالک موجود نہیں تو ملازم اپنی ذمہ داریوں میں بے ایمانی نہ کرے بلکہ اپنے ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظرجانے اور حکم ِ الٰہی کے مطابق اپنے معاملات کو سر انجام دینے کی کوشش کرے اورمالک  کو بھی اللہ سے ڈرتے ہوئے رضائے الٰہی کے لیے اپنے ماتحت کے ساتھ معاملات درست رکھنے چاہیں۔
الغرض انسان کا جو عمل بھی نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے گا تو وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہو گا۔ عمل اسی صورت میں صحیح معانی میں حق ِ الٰہی کی جانب مائل ہوگا کہ جب اسے سر انجام دینے والی سوچ درست ہو گی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کی سوچ ہی اس کا اصل عکس ہوتی ہے۔ جب سوچ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہٹ جاتی ہے تو انسانی وجود میں خناس و خرطوم ڈیرہ ڈال لیتے ہیں اور پھر شیطان و دنیا انسانی وجود کو اپنے حصار میں لے کر اسے نہ صرف اپنے عظیم مقصد (قربِ دیدارِ حق تعالیٰ) سے محروم کردیتے ہیں بلکہ اسے خلیفۂ خدا اور نائب ِ رسولؐ کے عظیم مقام سے بھی گِرا دیتے ہیں اور نتیجتاً ذلت و رسوائی ایسے انسان کا مقدر بن جاتی ہے۔ سوچ اصل میں دماغ کی پیداوار ہے جو محبت و نفرت سے آشنا ہوتی ہے۔ سوچ کی اسی فطرت کا دِل پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اگر سوچ اللہ تعالیٰ کی محبت سے آشنا ہو گی تو دِل بھی ذکر ِ الٰہی،محبت ِ الٰہی اور دیدارِ الٰہی کے حصول کے لیے کی گئی جدوجہد و مجاہدے میں لذت محسوس کرے گا جو کہ حق ِ خداوندی کی راہ ہے۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؓ فرماتے ہیں:
 ’’جب دِل درست ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف تمام چیزوں سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ دِل جب قرآن و حدیث ِ نبویؐ پر عمل کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو تا ہے تو دانا اور بصیر ہو جاتا ہے اور وہ تمام چیزیں جو کہ اس کے نفع اور نقصان کی ہیں اور جو چیز اللہ تعالیٰ اور غیر اللہ کے لیے ہے اور جو کہ حق اور باطل ہے وہ سب کو پہچان لیتا ہے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس53)
اگر سوچ دنیا کی محبت سے آشنا ہو گی تو دل کو بھی لذتِ دنیا اور ہوسِ دنیا کی جانب رغبت حاصل ہو گی۔ جس کے نتیجے میں ایسا وجود اللہ پاک کی جانب سے شدید لعنت کا شکار ہو جائے گا۔
یونانی فلسفی افلاطون نے کیا خوب کہا ہے ’’سوچنا اپنی روح سے ہم کلام ہونا ہے۔‘‘ یہ قول اس حقیقت کا غماز ہے کہ ظاہر ہو یا باطن، انسان کا پورا وجود اس کے خیالات کی عکاسی کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جو محبوب ہوتا ہے وہی معبود ہوتا ہے۔ تو پھر یہ کہاں کی انسانیت ہے کہ ہماری سوچ میں تو ہزاروں معبود ہوں اور ہم بندۂ مومن ہونے کا دعویٰ کریں۔ جو سوچ یادِ الٰہی کی فکر اور فرض کی ادائیگی کے لیے بے قرار رہتی ہے وہی حق ِالٰہی کی جانب رجوع کرتی ہے ورنہ حیوان صفت سوچ شیطان کے ساتھی کی ہوتی ہے، رحمن کے بندے کی ہرگز نہیں۔ لہٰذا وہی انسان بندۂ مومن ہے جس کی سوچ کا محور ذاتِ حق تعالیٰ ہو اور وہی روزِ الست کے عہد میں بھی سچا ہے جس کی سوچ یادِ الٰہی کے لیے وقف ہو۔
بیشک اللہ تعالیٰ کی ذات پاک نہایت لامحدود عظمت و شان والی ہے اور اس کے حقوق بھی لامحدود ہیں۔ لیکن ہمارا یہ فرض تو بنتا ہے کہ ہم صرف اُسی ہی کی بادشاہی اور کبریائی کو مانیں، اُسی کی حقیقی عبادت کریں، اسی کے آگے خود کو جھکائیں (یعنی اپنے آپ کو اسی کے سپرد کر دیں)، اُسی سے اپنی ہر اُمید، ہر خواہش، ہر عمل اور ہر سوچ کو جوڑ لیں  کیونکہ صرف اُسی کا ہماری زندگیوں پر مکمل حق ہے اور اسی ذات پاک کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ پس جو اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کرنے کا خواہاں ہے وہ یہ بات دل و جان سے تسلیم کر لے کہ 

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے مِلا دیتے ہیں

اللہ والوں سے مراد اللہ کے خاص چنے ہوئے معزز و مقرب بندے ہیں جو منجانب اللہ مخلوقِ خدا کی حق تعالیٰ کی جانب رہنمائی فرمانے پر مامور ہوتے ہیں ان کی حقیقی شان، عظمت و مقام سے صرف اللہ تعالیٰ ہی واقف ہوتا ہے۔ مخلوقِ خدا پر یہ اللہ کی رحمت ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی ذات پاک بھی رحمت ِ الٰہی کی مجسم صورت ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس ذکرو تصور اسم ِ اللہ ذات اور اپنی نگاہِ فیض سے حُبّ دنیا سے زنگ آلود قلوب کو نورِ ایمان سے بحکم ِ الٰہی منور فرما رہے ہیں۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی ذاتِ پاک کا ہی کمال ہے کہ آپ کی بارگاہ میں ادب و صدق سے حاضر ہونے والا اپنے قلب کو محبت ِ الٰہی سے معمور کر لیتا ہے اور یہ محبت ہر دم بڑھتی رہتی ہے نتیجتاً اس محبت میں سرشار طالب حق ِ خداوندی کے حصول کے لیے ہر دم مصروفِ عمل ہو جاتا ہے۔ تمام بنی نوع انسان بالخصوص متلاشیانِ حق کو دعوتِ عام ہے کہ وہ دورِ حاضر کے انسانِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں صدق دِل سے حاضر ہو کر اپنے مقصد ِ حیات کو حاصل کر لیں تاکہ جب روزِمحشر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوں تو اس وقت کم ازکم اللہ کے محبوبین کی غلامی کا طوق تو ہمارے گلوں میں ہوجس کی بدولت اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی نظر ِ رحمت فرما دے۔ وگرنہ انسان کے اعمال، جن کی نیت دنیاوی سوچ و لالچ کے ساتھ پایہ تکمیل پر پہنچی ہو، کا کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

استفادہ کتب:
شمس الفقرا ۔ تصنیف از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
کشف المحجوب۔ تصنیف از حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ

 
 
 

اللہ کا حق | Allah ka Haq” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں