قربِ دیدار | Qurb e Deedar

قربِ دیدار 

قسط نمبر 01
مترجم: فاطمہ برہان سروری قادری

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ خَالِقِ کُلِّ مَخْلُوْقَاتِ وَ رَازِقِ کُلِّ مَرْزُوْقَاتِ لَمْ یَزَلْ وَلَایَزالْ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ لَیْسَ فِی الدَّارِیْن اِلَّا ھُوْط

ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تمام مخلوق کا خالق اور روزی دینے والا ہے۔ لم یزل اور لایزال ہے۔ دونوں جہان میں ھُو کے سوا کوئی نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے۔
اس کے بعد نبی مرسل محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ثنا جو امت ِ شقی کے پیشوا و شفیع اور نبیوں اور اصفیا کے شرف ہیں۔
قطعہ:

شد ہر یکی را صورتش نور از نبیؐ
نور حاضر نور شد عارف ولی

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے ہر عارف ولی کی صورت تخلیق ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور کی حضوری پا کر عارف ولی بھی نور ہو جاتے ہیں۔

نور نبیؐ از نور اللہ لازوال
مشتاق مخلوقات بر نورش جمال

ترجمہ:اللہ لازوال کے نور سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور ہے۔ تمام مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ جمال کی مشتاق ہے۔

حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٖ صَلُّوْا عَلَیْہٖ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عِلَیْہٖ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَ اَزْوَاجِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ اَہْلِ بَیْتِہٖ اَجْمَعِیْنَ ط 
اس کے بعد غلام عارف کامل، خانہ زاد، باطن آباد، قادری سروری اویسی تلمیذ الرحمن، فقیر باھوؒ ولد بازید رحمتہ اللہ علیہ عرف اعوان، طالب بامطلوب، مرید لایرید ساکن قلعہ شور کوٹ عرض کرتا ہے کہ میں نے اہل ِتحقیق اور اہل ِ زندیق، اہل تقلید اور اہل توحید، ناقص و خام اور کامل و مکمل میں امتیاز کے لیے اس کتاب میں چند کلمات کی صورت میں ایک کسوٹی پیش کی ہے۔ 

یہ کتاب رسول القطب، قطب الاقطاب، حق و باطل میں فرق کے متعلق صحیح جواب دینے کی اہل، معرفت و فقر کا مغز، ہدایت کی فہرست کا خلاصہ، تصور اسم اللہ  ذات کا مجموعہ اور اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص تجلیات کا مشاہدہ ہے۔ اس کتاب کی برکت سے قربِ الٰہی کی حقیقی توفیق حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت توجہ، تفکر، تصرف، تصوف، ذکر ِ فیض، فکر، فنا النفس، مراقبہ، مجلس نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ملاقات، تجرید و تفرید، حضورِ الہام مع اللہ، الہام کلیم اللہ، تاثیر ِنظر، راستی راہ کی انتہا اور  قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ  (اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُٹھ) پر عیسیٰ ؑ روح اللہ کی طرح قدرت حاصل ہوتی ہے۔ یہ کتاب وسیلہ ٔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مثل ِ خضر ہے۔ اس کے مطالعہ سے طالب کا ظاہر و باطن قرآن اور نص و حدیث کے موافق ہو جاتا ہے جس سے اسے مقام فنا فی اللہ بقا باللہ اور زیر و زبر کے طبقات کی آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔ 

اس کتاب کا نام ’’قربِ دیدار‘‘ رکھا گیا ہے اور قادری طالب کے لیے اسے غرق فی التوحید، نورِ ذات، رویت و دیدارِ الٰہی کی کامل کنجی کا خطاب دیا ہے۔ اگر باطن میں تصور اسم اللہ ذات کے حاضرات سے قرب و دیدارِ نورِ الٰہی، اللہ تعالیٰ کی نظر میں منظور ہونے اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور اس طرح کے دیگر مراتب نہ حاصل ہوتے تو تمام سالک گمراہ ہو چکے ہوتے۔
 بیت

ہر کہ منکر می شود زین خاص راہ
عاقبت کافر شود آن رو سیاہ

ترجمہ:جو اس خاص راہ کا منکر ہے وہ کافر ہے اور آخرت میں روسیاہ ہوگا۔
راہِ تصور اسم  اللہ ذات انبیا و اولیا سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔ حلیم اللہ کی صفت ہے اور یہ راہ صاحب ِ علم اور صاحب ِ حلم کو نصیب ہوتی ہے۔ جان لے کہ شریعت کا قاضی اہل ِ حق اور حق الیقین کے مرتبے پر پہنچ کر ربّ العالمین کے دیدار سے مشرف ہونے والے طالب سے موت کے چار گواہ طلب کرتا ہے۔ دیدارِ الٰہی تین طریقے سے روا ہے:
اوّل: جو طالب اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھے تو یہ از روئے شریعت جائز اور روا ہے۔ ایسے خواب معرفت و وصال کے متعلق ہوتے ہیں، انہیں عام خواب و خیال نہ سمجھا جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
یَنَامُ عَیْنِیْ وَ لَا یَنَامُ قَلْبِیْ  
ترجمہ: میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
نیز ارشاد فرمایا:
  اَلنَّوْمُ اَخُوَ الْمَوْتِ وَ لَا یَمُوْتُ اَہْلُ الْجَنَّۃِ  
ترجمہ:نیند موت کا بھائی ہے لیکن اہل جنت مرتے نہیں۔
جس طالب کا قلب ذکر ِ مذکور سے زندہ اور باشعور ہو جاتا ہے اسے خواب کے ذریعے حضوری سے جواب باصواب حاصل ہوتا ہے۔
دوم: مراقبہ میں دیدارِ الٰہی بھی جائز اور روا ہے۔ یہ مراقبہ اس قسم کا ہوتا ہے جس میں جسم سے روح نکل جاتی ہے۔ ظاہری جسم مردہ معلوم ہوتا ہے لیکن باطن میں روحانی جسم حق تعالیٰ کے حضور پیش رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے روبرو جواب و سوال کرتا ہے۔ یہ مراتب قربِ دیدار سے مشرف ہونے پر حاصل ہوتے ہیں۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
  مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا
ترجمہ: مرنے سے پہلے مر جاؤ۔
ارشادِ خدا وندی ہے:
  اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ  (الانعام۔122)
ترجمہ:کیا وہ مردہ نہ تھا پس ہم نے اسے زندہ کر دیا۔
سوم: طالب روحانی جسم کے ساتھ معرفت کی آنکھ سے عین العیان دیدارِ الٰہی حاصل کرتا ہے جس سے وہ روشن ضمیر بن جاتا ہے۔ دیدارِ الٰہی سے مشرف ہونے اور لامکانی کے مراتب کو امثال کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
اَلْمَوْتُ جَسَرٌ یُوْصَلُ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ 
ترجمہ: موت ایک پل ہے جو دوست کو دوست سے ملا دیتی ہے۔
جب یہ تینوں مراتب ایک ہو جائیں تو قلب قبہ ٔ قبور کی مانند ہو جاتا ہے اور قلب، روح اور سرّ ایک ہو جاتے ہیں۔ ایسا طالب ہمیشہ مشاہدۂ حضور میں مستغرق رہتا ہے اور اس کا وجود مغفور ہو جاتا ہے۔ یہ مراتب عالم و عامل باللہ، فقیر فی اللہ کامل کو حاصل ہوتے ہیں جن کا باطن معمور ہوتا ہے۔ قولہٗ تعالیٰ:
  لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا  تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ    (الفتح۔2)
ترجمہ:تاکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (کی امت کے مومنین)کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دے۔
ارشادِ خداوندی ہے:
تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ   (آلِ عمران۔27)
ترجمہ: تو ہی زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔
یہ سعادتِ کبریٰ اور مراتب ِ عظمیٰ صاحب ِ شریعت اور اہل ِ ہدایت فقرا کو نصیب ہوتے ہیں۔ اہل ِ بدعت ان سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمن، اہل ِ شیطان کے تابع، علما کے دشمن، ابلیس اور مومنین کے رقیب ہیں۔
بیت :

ہر کہ منکر گشت ز دیدار الٰہ
ہر کہ پوشد حق آن کافر روسیاہ

ترجمہ: جو دیدارِ الٰہی کا منکر ہے اور حق کو چھپاتا ہے وہ کافر روسیاہ ہے۔
قولہٗ تعالیٰ:
وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی ط    (بنی اسرائیل۔72)
ترجمہ:اور جو شخص اس دنیا میں (دیدارِ الٰہی سے) اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا۔
اہل ِ معرفت فقیر کی نگاہ دیدارِ الٰہی پر رہتی ہے۔ اس کے لیے (ظاہری اور باطنی) دونوں آنکھیں گواہ ہیں۔ کوئی چیز دل سے باہر نہیں، جو بھی طالب چاہتا ہے کسی اہل ِ دل اور صاحب ِ دل سے طلب کرے۔ عارف باللّٰہ ولی جب قلب کے لازوال مراتب پر پہنچتا ہے تو اس کے نزدیک زندگی اور موت برابر ہوجاتی ہیں۔
حدیث:
  اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ بَلْ یَنْتَقِلُوْنَ مِنَ الدَّارٍ اِلَی الدَّارِ  
ترجمہ:بے شک اولیا اللہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہو جاتے ہیں۔
تصور اسم اللہ  ذات کی برکت سے صاحب ِ معرفت اور صاحب ِ بصیرت کو باطنی آنکھ نصیب ہوتی ہے جس سے اس پر دیدارِ الٰہی کی راہ منکشف ہوتی ہے لیکن جو بے معرفت اور بے بصر ہے وہ مادر زاد اندھا ہے۔ بیت:

دل چون بیدارش بدیدارش دوام
معرفت توحید در دل حق تمام

ترجمہ:جب دل دائمی دیدار سے بیدار ہو جاتا ہے تو معرفت ِ توحید اور حق میں کامل ہو جاتا ہے۔
(جان لے کہ) لوحِ محفوظ، قرآن، نص، حدیث اور تفسیر کا تمام علم لوحِ ضمیر اور دل پر تحریر شدہ ہے۔
 ابیات:

ہر کہ را دل زندہ بادیدار شد
زندہ دل دایم بحق بیدار شد

ترجمہ:جس کا دل دیدارِ الٰہی سے زندہ ہو جاتا ہے وہ دائمی زندگی پا کر حق کے ساتھ بیدار رہتا ہے۔

ایں چنین دل شد مشرف بالقا
ہر کہ را دل زندہ باذکرش خدا

ترجمہ: وہی دل دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوتا ہے جو ذکر ِ خداسے زندہ ہو چکا ہو۔

ایں چنین ذکر است ذاکر جان قلب
ذاکر قلبی بود ہمراز رب

ترجمہ : ایسا ذکر جان و قلب سے کیا جاتا ہے جو ذاکر ِ قلبی کو اللہ کا ہمراز بنا دیتا ہے۔
قلب کے تین حروف ہیں۔ ق، ل، ب۔ حرف ’ق‘ سے مراد قربِ الٰہی، حرف ’ل‘ سے مراد لقائے الٰہی اور حرف ’ب‘ سے مراد بامشاہدہ بقاباللہ ہے۔ جو ان صفات سے متصف ہے وہ صاحب ِ قلب ہے وگرنہ اس کا شمار اہل ِ کلب میں ہے۔ جو اس کتاب کا مطالعہ کرتا ہے‘  یہ کتاب باطن میں اس کے لیے دیدارِ الٰہی، معرفت ِ نور اور قربِ حضور سے مشرف ہونے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ جو شخص ان صفات کے حصول کے لیے اس کتاب کا مطالعہ اخلاص سے کرے گا اسے ظاہری مرشد سے دست ِ بیعت اور تلقین و ارشاد کی ضرورت نہیں رہے گی۔
 ابیات

خوش بخوان تفسیر باتاثیر تر
از مطالعہ می شوی صاحب خضرؑ

ترجمہ: اگر اس تفسیر با تاثیر کا مطالعہ اخلاص سے کیا جائے تو یہ حضرت خضر علیہ السلام کی طرح راہبر ثابت ہوگی۔ 

وعدۂ مردان خدا رہبر خدا
برد حاضر با حضوری مصطفیؐ

ترجمہ: مردانِ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ راہِ خدا پر راہبری کر کے طالب ِ مولیٰ کو مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری تک پہنچا دیتے ہیں۔

از نبیؐ تلقین باتعلیم شد
ذکر قلب معرفت تسلیم شد

ترجمہ: مجلس ِ محمدی میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تعلیم و تلقین حاصل ہوتی ہے اور ان کا قلب ذکر و معرفت میں کامل ہو جاتا ہے۔

نفس باطل را بگذار ای یار
طالب دیدار رو بحق آر

ترجمہ:اے دوست! باطل نفس کو چھوڑ دے اور طالب ِدیدار بن کر حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جا۔
قطعہ

 ہجرت یک الف یک صد سہ کم بود
کتابی شد تصور راز محمود

ترجمہ:تقریباً 1097 ہجری میں تصور کے رازِ محمود کے متعلق یہ کتاب لکھی گئی۔ 

عمل شاہی عبید اللہ الٰہ است
کہ اورنگزیب غازی بادشاہ است

ترجمہ: فرمانبردار بادشاہ کا عمل منجانب اللہ تعالیٰ ہے۔ اورنگزیب عالمگیر غازی بادشاہ ہے۔
طالب ِ مولیٰ کے لیے فرضِ عین ہے کہ مرشد کامل اکمل سے قدیم صراطِ مستقیم طلب کرے۔ اپنا مال و زر، نقد و جنس اور گھر بار راہِ خدا پر قربان کر دے کہ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عظیم سنت ہے۔
ارشادِ خداوندی ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ   (المائدہ۔35)
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستے میں کوشش کرو، شاید کہ تم فلاح پا جاؤ۔
یہ آیت وسیلہ ٔ مرشد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
مَشِیُّ عَنِ الرَّاسِ بِدُوْنِ الْاَقْدَامِ ط 
ترجمہ: (اللہ کی راہ پر) قدموں کے بغیر سر کے بل چلنا پڑتا ہے۔
بیت

سر قدم شد قدم را با سر بجو
غرق شو فی اللہ فنا وحدت بگو

ترجمہ: حق کے راستے پر اپنے قدموں کو سر اور سر کو قدم بنا کر چل اور غرق فی اللہ فنا ہو کر وحدتِ حق کا ترجمان بن جا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
غَمِّضْ عَیْنَکَ یَاعَلِیْ وَاسْمِعْ فِیْ قَلْبِکَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلی اللّٰہُ عَلِیْہٖ وَآلِہٖ وَسَلَمْ۔
ترجمہ:اے علی (رضی اللہ عنہٗ)!اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے دل میں   لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  سنو۔

مرشد کامل اکمل کی دست بیعت کے بغیر کوئی بھی شخص ذکر، تلقین، تصدیق اور یقین کے مراتب حاصل نہیں کر سکتا۔ خواہ وہ تمام عمر (ورد و وظائف) پڑھتا رہے لیکن باطن میں معرفت سے محروم رہے گا۔ ظاہری علم سے (ظاہری) تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ مرشد کامل کی دست ِ بیعت اور ارشاد و تلقین سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ باطن میں معرفت ِ الٰہی حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔چنانچہ دست بیعت اور تلقین کا یہ سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شروع ہو کر چہار پیر، چودہ خانوادوں تک فیض بفیض عطا بعطا پہنچتا ہے جس سے ایک عارف باللہ کو معرفت، ذکر، مراقبہ، قرب مع اللہ اور ذاکر بننے کی نعمت حاصل ہوتی ہے، یہ حضوری سلسلہ ہے جو قیامت تک نہیں رُکے گا۔

جان لے کہ سلطان الفقرا کی ابتدا غیر مخلوق نورِ ایمان ہے اور انتہا غیر مخلوق نورِ ذات رحمن ہے۔ پس معلوم ہوا کہ آدمی کا وجود نفس، قلب، روح اور سرّکا مرکب ہے۔ یہ چاروں مخلوق ہیں، اگرچہ ان کی عبادت باعث ِ ثواب ہے لیکن ان کی بندگی حجاب ہے۔ جب نفس، قلب، روح اور سرّ سے ظلمات کے حجابات اٹھ جاتے ہیں تو ناسوتی وجود سے تقلید کی تکلیف ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد غیر مخلوق اسم اللہ ذات کے تصور سے غیر مخلوق نورِ غیبی چوبیس لطائف میں آفتاب کی طرح روشن ہو جاتا ہے جس سے سر سے قدم تک قلب قالب اور  ہفت اندام نور سے منور ہو جاتے ہیں۔ طالب کو قرب اور دیدارِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ اہل ِ نور کا سخن بھی نور ہوتا ہے اور عمل بھی، ان کا وجود مغفور اور باطن معمور ہوتا ہے۔
 بیت

کی تواند بست مثلش راز نور
ہر کہ دیدارش رسد شد باحضور

ترجمہ: نور ایک راز ہے۔ اس کو مثال کے ذریعے کون بیان کر سکتا ہے۔ جو کوئی دیدار تک رسائی حاصل کر لیتا ہے وہ باحضور ہو جاتا ہے۔  

(جاری ہے)

 
 
 
 

31 تبصرے “قربِ دیدار | Qurb e Deedar

  1. بےشک میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ اقدس ( سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور سلطان باھُوؒ کے حقیقی و روحانی وارث, انسان کامل اکمل نور الہدی ) کے عطا کردہ اسم اللہ ذات مشق مرقوم وجودیہ اور خفی ذکر یاھو سے اللہ پاک اور حضرت محمد ﷺ کا دیدار (ملاقات) اور پہچان ہوتی ہے
    اس طرح انسان کا مقصد حیات حاصل ہوتا ہے
    تحریک دعوت فقر پاکستان لاہور ذندہ باد

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #qurb #deedar

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #qurb #deedar

  4. سبھان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #qurb #deedar

  5. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #qurb #deedar

  6. ترجمہ: نور ایک راز ہے۔ اس کو مثال کے ذریعے کون بیان کر سکتا ہے۔ جو کوئی دیدار تک رسائی حاصل کر لیتا ہے وہ باحضور ہو جاتا ہے۔
    لیکن یہ صرف مرشد کامل کے وسیلہ سے ممکن ہے۔ آئیں آپ بھی تحریک دعوتِ فقر میں شامل ہوں اور مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت ہوکر ذکروتصور اسمِ اللہ ذات اور دیدارِ الٰہی کی نعمت کو حاصل کریں۔

  7. بے شک تمام مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ جمال کی مشتاق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں