دین کیا ہے ؟ | Deen Kya Hai

دین کیا ہے ؟

محترمہ روبینہ فاروق سروری قادری۔ لاہور

دنیامیں سینکڑوں مذاہب کے پیروکار موجود ہیں۔ ہرصاحب ِمذہب اپنے ہی مذہب کو صحیح اور برحق سمجھتا ہے لیکن دنیامیں جتنے بھی مذاہب کی تقلید اور پیروی کی جاتی ہے وہ مذہب ہیں دین نہیں۔ مذہب محض عبادات کا نام ہے جبکہ دین تو مکمل اور جامع ضابطہ حیات ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ اور ہر پہلو میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ معاشرے میں بھی لوگوں کی بھاری اکثریت ظاہری عبادات یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کو دین سمجھتے ہیں اور انہی کی ادائیگی سے سمجھتے ہیں کہ دین کا حق ادا ہو گیا جبکہ یہ سب دین کا ایک حصہ ہیں اسلام تو بہت ہی جامع اور مکمل دین ہے۔
سورۃ البقرہ آیت 213میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
(ابتدا میں) سب لوگ ایک ہی دین پر جمع تھے، (پھر جب ان میں اختلافات رونماہو گئے) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ حق پر مبنی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں میں ان امور کا فیصلہ کردے جن میں وہ اختلاف کرنے لگے تھے اور اس میں اختلاف بھی فقط انہی لوگوں نے کیا جنہیں وہ کتاب دی گئی تھی۔ باوجود اس کے کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں (اور انہوں نے یہ اختلاف بھی) محض باہمی بغض و حسد کے باعث کیا پھر اللہ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے وہ حق کی بات سمجھا دی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما دیتا ہے۔

قرآن پاک میں یہ بھی ہے کہ اپنے آباؤ اجد اد کے دین پر مت رہو بلکہ غور و فکر کر کے صحیح اور سچا دین اختیار کرو۔ 

میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مطابق جب اندر والا انسان (روح) باہر والے انسان پرغالب آجائے اس کو دین کہتے ہیں۔
اندر اور باہر والے انسان سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس مزید بیان فرماتے ہیں:
انسان کی دو جہتیں ہیں ایک اندر والا انسان ہے جس کو روح کہتے ہیں اور ایک باہر والا انسان جس کو جسم بھی کہتے ہیں جب تک اس ظاہری جسم کا تزکیہ نہیں ہوتا تب تک اندر والا بیدار نہیں ہوتا۔ یہ بیداری مرشد کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ جس کا مرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہوتا ہے۔ اصل دین ِاسلام وہی ہے جو مرشد کی زیرِ نگرانی اسم ِ اللہ ذات اور مشق ِمرقومِ وجودیہ کے ذریعے اصل انسان یعنی روح کو بیدار کرلے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اسی کی طرف اس کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس سارے سفر کو فقر کہتے ہیں اور فقر ہی اصل دین ِ اسلام ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’حق تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے اور اس کو اس کے نفس کے عیوب دکھا دیتا ہے۔‘‘
دین کی سمجھ نفس کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت میں تڑپنے کا نام دین ہے جو ادب سے شروع ہو کر عشق پہ ختم ہوتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی چوکھٹ تک پہنچنا ہی دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دنیا میں دین کو غالب کرنے کے لیے بھیجا۔ دین کو غالب کرنے سے مراد دین کی محبت کو باقی تمام محبتوں پر غالب لانا ہے یعنی انسان میں دین کی محبت اس کی باقی تمام خواہشات اور محبتوں پر غالب آ جائے۔ جب یہ محبت باقی محبتوں پر غلبہ پا لے گی تو عشق کی صورت اختیار کر لے گی۔ جب تک ہمارے نفس کا تزکیہ نہیں ہوجاتا تب تک عشق پیدا نہیں ہوتا اور تزکیہ کا یہ عمل ہم خود سرانجام نہیں دے سکتے۔ یہ صرف کامل اکمل مرشد ہی انجام دے سکتا ہے۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے اصحابؓ کے دلوں سے دنیا و مافیہا کی خواہشات اور محبتوں کا اپنی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت سے قلع قمع کر دیا اور اس طرح ان کے نفوس کا تزکیہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ نفس ِ مطمئنہ کے درجہ پر فائز ہو گئے۔ چونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد دین کو زندہ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ولایت کا سلسلہ جاری و ساری کر دیا ہے کہ راہِ حق پر چلنے والے اولیا اللہ کے ذریعے اپنے دین کی تکمیل کر سکیں۔ اللہ پاک ہر زمانہ میں ایک انسانِ کامل جو کہ قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے‘ ضرور بھیجتا ہے جس کے ذمے اہل ِحق کی تربیت کر کے ان کو اصل دین پر پہنچانا ہوتا ہے۔ جب ایک چلا جاتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ آجاتا ہے۔ ہمارے اس زمانہ کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو اسم ِاللہ ذات اور مشق ِمرقومِ وجودیہ کے ذریعے نفوس کا تزکیہ کرتے ہوئے اللہ پاک کی معرفت اور مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری عطا کرتے ہیں۔ جب تک اللہ پاک کی معرفت اور مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل نہیں ہوتی تب تک ہمارا دین مکمل نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے ’’جس نے مجھے اس دنیا میں نہیں دیکھا وہ آخرت میں بھی نہیں دیکھ سکتا‘‘۔ تو اس دنیا میں اس کی معرفت اور دیدار حاصل کرنا فرض ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ الزخرف کی آیت نمبر 36 تا 38 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

اور جو شخص (خدائے) رحمن کی یاد سے آنکھیں بند کرلے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے اور وہ (شیطان) انہیں (ہدایت کے) راستے سے روکتے ہیں اور وہ یہی گمان رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ یہاں تک کہ  جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی شیطان سے) کہے گا اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا پس (تو) بہت ہی برا ساتھی تھا۔

اس آیت کی شرح یہ ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے جب ایک بچہ بالغ ہوجاتا ہے اگر وہ غور و فکر نہیں کرتا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ اسے پیدا کرنے والا کون ہے؟ اور ان سب باتوں سے غافل ہو کر دنیا کی زندگی میں مگن ہوجاتا ہے اور جس نے اس کو پیدا کیا اس کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے دین کے بارے میں جانتا ہے کہ دین کیا ہے؟ اگر اس کو اللہ اور اس کے دین کی سمجھ بوجھ ہوتی تو وہ اللہ کو یاد کرتا۔ ایسے ہی غافل شخص کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ جب وہ اللہ کو چھوڑ کر دنیا کو اختیار کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ایک شیطان لگا دیتا ہوں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور اگر وہ کبھی اللہ اور اس کے دین کے راستے کی طرف چل پڑے تو یہ شیطان اس طرف جانے نہیں دیتا اور وہ شخص سمجھتا ہے کہ شاید وہ سیدھے راستے پر ہے اور جب مرنے کے بعد اللہ پاک کے پاس جائے گا تو کہے گا کاش! میں اپنے شیطان ساتھی کو دنیا کی زندگی میں پہچان لیتا تو دھوکہ نہ کھاتا اور کہتا ہے کہ کاش! تیرے اور میرے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ ہوتا کیونکہ تو نے میری دنیا کی زندگی اور آخرت بھی برباد کر دی، تُو بہت ہی برا ساتھی ہے۔ اب وقت ِمہلت ختم ہو چکا۔ پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اب تو فیصلے کی گھڑی ہے۔ جنت میں جانا ہوگا یا جہنم میں‘ اب جو کر چکے وہ واپس نہیں ہوسکتا۔ 

شیطان کوئی گناہگار نہ تھا وہ بہت پرہیز گار اور بہت بڑا عالم تھا۔ اس نے گناہ یہ کیا کہ تکبر کی بنا پر اللہ کا حکم نہ مانا۔ اسی طرح جب تک ہم اپنے نفس کو تزکیہ کے ذریعے طاقتور نہیں بنا لیتے تب تک ہم اپنے دین کی اصل کو نہیں سمجھ سکتے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ہم زندہ و جاوید مرشد کامل اکمل ڈھونڈیں گے اور خود کو اس کے حوالے کر دیں گے کیونکہ وہ ہمارے نفس کے عیوب کو جانتا ہے۔ خود کو کامل اکمل مرشد کے حوالے کیے بنا نفس کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔

سیّدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
جب تک تو خدا تعالیٰ کو جملہ ماسویٰ پر، اپنے دین کو اپنی خواہشات پر، آخرت کو اپنی دنیا پر اور اپنے خالق کو مخلوق پر ترجیح نہ دے گا تیرے لیے نہ فلاح ہے اور نہ نجات۔ خواہش کو دین پر اور دنیاکو آخرت پر اور مخلوق کو خالق پر تر جیح دینے میں بربادی ہے۔
دین مختلف چیزوں کے مجموعے کا نام ہے جس میں اعتقادات، عبادات، نظریات، معاملات، اخلاقیات اور ایمانیات شامل ہیں۔ جب تک ہم اپنے مال، اولاد اور اپنی خواہشات سے پہلے اللہ کو نہیں رکھیں گے تو اللہ واحد کو نہیں پا سکتے خواہ ہم جتنی مرضی عبادت و ریاضت کر لیں۔ نہ ہم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی مجلس ِمحمدی ؐ کی حضوری پا سکتے ہیں۔
جب تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ہم کون ہیں اور کس لیے اس دنیا میں آئے ہیں تب تک ہم صحیح دین اختیار نہیں کر سکتے۔ اصل انسان جو کہ ہمارے اندر ہے اور جسے روح کہتے ہیں جب تک ہم اس کو اس کی خوراک نہیں دیں گے تب تک وہ قوی نہیں ہوگا۔ اس کی خوراک اللہ پاک کا عشق ہے۔ جب تک ہم اللہ کے عشق میں مست نہیں ہو جاتے تب تک ہم اپنے اللہ کی رضا کو دیگر چیزوں پر ترجیح نہیں دے سکتے کیونکہ جب ہم ترجیح دیں گے تو اس دنیا کی زندگی میں وہی فیصلے کریں گے جو اللہ کو پسند ہیں، ہم اپنی زندگی ویسے گزاریں گے جیسے اللہ کو پسند ہے۔ تاہم ہمارے خاندان، معاشرے اور اس دنیا کی سوچ ضروری نہیں کہ ایک جیسی ہو کیونکہ ہر کسی کی سوچ اور نظریہ مختلف ہوتا ہے اس لیے جب ہم اللہ اور اس کی رضا کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی زندگی کا ہر فیصلہ کریں گے تو ہمارا معیارِ زندگی اور رہن سہن کا طریقہ بدل جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ اس دوران خاندان اور معاشرہ کی طرف سے شدید رکاوٹیں بھی درپیش ہوں لیکن اللہ پاک سے عشق کی بدولت یہ سب مشکلات برداشت کرتے جائیں گے۔

قرآن پاک کی سورۃ الاانعام آیت نمبر 70 میں اللہ پاک فرماتا ہے:
اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب دے رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعے ان کو نصیحت فرماتے رہیں تاکہ کوئی جان اپنے کیے کے بدلے سپردِ ہلاکت نہ کر دی جائے (پھر) اس کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی، اور اگر وہ (جان اپنے گناہوں کا) پورا پورا بدلہ بھی دے تو (بھی) اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کیے کے بدلے ہلاکت میں ڈال دیئے گئے ۔ ان کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا پینا ہے اور دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے۔
اس آیت کے مطابق جو لوگ اپنے دین کو کھیل اور تماشا بناتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ دین کیا ہے اور نہ ہی دین کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ پاک انہی کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ دنیا کی زندگی میں محو اور گم ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ جو دین کو نہ جانتے اور نہ ہی سمجھتے ہیں ان لوگوں سے کچھ تعلق نہ رکھیں بلکہ اگر ہوسکے تو قرآن کے ذریعے ان کو نصیحت کرتے رہا کریں جس دن وہ اللہ سے کہیں گے ہم جو زمین پر اپنا مال وجائیداد چھوڑ آئے ہیں وہ ہم سے لے لے لیکن اللہ پاک اس دن کوئی مال و جائیداد اور سفارش قبول نہ کرے گا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں، خود ہی اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ ان کو دوزخ میں جانا پڑے گا اور وہاں کھولتا ہوا گرم پانی پینا پڑے گا اور وہاں انہیں دردناک عذاب بھی سہنا پڑے گا۔ کیونکہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں صرف اور صرف اپنے ظاہری جسم کی پرورش کی، اسی کو معبود بنائے رکھا۔ جو خوراک وہ مانگتا وہ خوراک اس کو مہیا کرتے اور جو آسائش مانگتا وہ آسائش اس کو مہیا کرتے لیکن اندر والا انسان جو کہ اس کی اصل ہے‘ اس کو کوئی خوراک نہیں دی۔ اس کی خوراک تو معرفت و دیدارِ الٰہی ہے جو صرف مرشد ہی اس کو عطا کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کوئی مرشد ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی جو اس کے نفس کا تزکیہ کر کے اندر والے انسان کو طاقتور بناتا جو ہمیشہ رہنے والا ہے، جس نے اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا ہے جبکہ اس ظاہری جسم نے مٹی میں جانا ہے، اور ادھر اس فانی دنیا میں ہی رہ جانا ہے۔ قرآن پاک میں سورۃالممتحنہ کی آیت 8 اور 9 میں اللہ پاک فرماتا ہے:
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے کہ تم ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرو اور ان سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو۔ بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی اور جو شخص ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

جن لوگوں نے دین کے بارے میں جنگ کی‘ سے مراد یہ ہے کہ جب ہم مرشد کامل اکمل کے دامن سے وابستہ ہوتے ہیں تو اپنی جان، مال اپنے تمام اختیارات مرشد کے حوالے کرنے پڑتے ہیں۔ چونکہ مرشد اصل دین پر ہوتا ہے اور وہ اسی نظریہ کے مطابق طالب کو تلقین و ارشاد کرتا ہے۔ اس دوران ہر اس چیز کو ترک کرنا پڑتا ہے جو راہِ حق میں رکاوٹ ہو، اس عمل میں جنگ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے نہ صرف نفس بلکہ گھر والے بھی رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ اللہ کی خاطر گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اصحاب و احباب کے ساتھ مکہ سے ہجرت کی۔ جو لوگ گھروں سے نکال دیتے ہیں ان سے دوستی سے منع کر دیا گیا ہے لیکن وہ لوگ جو اس مشکل وقت میں مدد کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں اللہ پاک ان لوگوں سے جڑنے اور دوستی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جن لوگوں نے ظلم کیا ان سے جڑے لوگوں سے بھی دوستی نہ کرنے کاحکم دیا ہے کیونکہ اللہ بہت انصاف کرنے والا ہے۔ ان لوگوں سے دوستی نقصان دہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں میں پھوٹ ڈلواتے ہیں جس سے لڑائی جھگڑا اور فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے۔ 

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں :
دین چار چیزوں سے مکمل ہوتا ہے ۔ دین کے بارے میں علم ہو اور اس پر عمل کرے، روز مرہ زندگی میں ہر کام اپنے دین کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرے، اگر دین کا علم نہیں تو سیکھ اورسمجھ کہ دین کیا ہے۔ دین کا علم دوسروں کو بھی سکھائے تاکہ وہ بھی دین دار بن جائے۔

ان لوگوں پر افسوس! جو جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اپنی تجارت کو فروغ دیتے ہیں اور دین میں خسارہ اُٹھاتے ہیں۔ دین کو انجیر کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔ جو لوگ حرام لقمہ کے بدلے اپنا دین بیچ دیتے ہیں ان کا دل سیاہ ہوجاتا ہے کیونکہ وہ مخلوق کی پر ستش میں مبتلا ہوتے ہیں، حرام غذا کھانا تیرے دین کے بدن کے لیے زہر ہے۔ جب تونے صبر نہ کیا تو نہ تیرا دین رہا اور نہ ایمان۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’صبر کاایمان سے وہ تعلق ہے جو سر کا بدن سے ہے‘‘۔ لوگو! تمام حالتوں میں تقویٰ اختیار کرو کہ تقویٰ دین کا لباس ہے۔ 

اپنے دین کا لباس مجھ سے مانگو، میری پیروی کرو کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طریقے پر ہوں۔ اللہ کے دین میں کسی بدعت اور ایسی چیز کو راہ نہ دو جو اس میں موجود نہ تھی۔ دو منصف گواہوں یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرو دونوں تجھ کو خدا کے حضور میں پہنچا دیں گے۔

علم زندگی ہے اور جہالت موت۔ صدیق جب علم ِشریعت جو عام مومنین کے لیے ہے‘ حاصل کر لیتا ہے تو خاص علم یعنی قلوب و اسرار کے علم کے مکتب میں داخل کر دیا جاتا ہے اور اپنے بادشاہ بنانے والے حق تعالیٰ کی اجازت سے حکم کرتا ‘ باز رکھتا‘ بخشش کرتا اور محروم بناتا رہتا ہے، وہ مخلوق میں بادشاہ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے حکم دیتا ہے اور اسی کے منع کرنے سے منع کرتا ہے۔ حکم کے لحاظ سے خدا کے ساتھ اور حکم کے اعتبار سے اس کے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔

 
 

29 تبصرے “دین کیا ہے ؟ | Deen Kya Hai

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #deen

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #deen

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #deen

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #deen

  5. بےشک میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ اقدس ( سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور سلطان باھُوؒ کے حقیقی و روحانی وارث, انسان کامل اکمل نور الہدی ) کے عطا کردہ اسم اللہ ذات مشق مرقوم وجودیہ اور خفی ذکر یاھو سے اللہ پاک اور حضرت محمد ﷺ کا دیدار (ملاقات) اور پہچان ہوتی ہے
    اس طرح انسان کا مقصد حیات حاصل ہوتا ہے
    تحریک دعوت فقر پاکستان لاہور ذندہ باد

  6. اللہ پاک دین حق کو سمجھ کر مرشدکی راہنمائی میں اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

اپنا تبصرہ بھیجیں