alif

alif | الف

الف

مردانِ حق کون ہیں؟

دنیا کی زندگی ایک امتحان گاہ ہے جس میں کیے گئے اعمال کا بدلہ آخرت میں ملے گا۔ جس نے نیک اعمال کیے گئے ہوں گے اُسے اچھا بدلہ ملے گا اور جس نے گناہوں اور نافرمانیوں میں زندگی بسر کی ہوگی اسے عذاب ملے گا جیسا کہ طالبانِ دنیا کی عبادت و محنت اور ان کا ہر عمل دنیا کی زندگی کو سہل بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ ان میں اپنے نفس سے لڑنے اور اللہ کی خاطر اپنی دنیاوی خواہشات قربان کرنے کی ہمت نہیں ہوتی، ساری زندگی وہ اپنے نفس کے غلام بن کر دنیا کی قید میں ہی گزارتے ہیں اس لیے وہ ہیجڑے کی مثل ہیں۔ طالبانِ عقبیٰ کی عبادت و محنت اور ان کا ہر عمل آخرت میں حور و قصور اور جنت کی نعمتوں کے حصول کے لیے ہوتا ہے اور ان میں بھی خواہشاتِ عقبیٰ کو چھوڑ کر اللہ کے قرب کی طرف سفر کرنے اور اعلیٰ روحانی مقامات تک پہنچنے کی ہمت نہیں ہوتی، ان کی ہمت صرف خواہشاتِ دنیا کو چھوڑ دینے تک محدود رہتی ہے لہٰذا کم ہمتی کے باعث وہ عورت کی مثل ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے برعکس طالبانِ مولیٰ کی عبادت و ریاضت اور ان کا ہر عمل محض اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے اور ان میں اپنے نفس سے جہاد کر کے جیت جانے، قرب و دیدارِ الٰہی کی خاطر ہر طرح کی خواہشات و لذات کو قربان کر دینے اور اعلیٰ ترین روحانی مقامات تک رسائی حاصل کرنے کی ہمت ہوتی ہے اور اسی اعلیٰ ہمتی کی بدولت وہ مرد مذکر کی مثل ہیں اور یہی مردانِ حق ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
 مرد مذکر کسے کہتے ہیں؟ مرد مذکر وہ ہے جس کے دل میں بجز طلب ِ مولیٰ اور کوئی طلب نہ ہو۔ نہ دنیا کی طلب، نہ زینت ِ دنیا کی طلب، نہ حور و قصور کی طلب، نہ میوہ و براق کی طلب اور نہ لذتِ بہشت کی طلب۔ (عین الفقر) 
مردانِ خدا،مرد مذکریامردانِ حق کی طلب محض اللہ کی رضا اور اس کا دیدار ہوتا ہے اور ان کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے۔ اللہ کے عشق اور طلب میں ہی وہ نیک اعمال کرتے ہیں، خود کو نفسانی خواہشات اور لذات سے روکے رکھتے ہیں اور نفس و شیطان کی پیروی نہیں کرتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں سے خوش ہو کر انہیں انعام میں جنت عطا فرمائے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ(سورۃ البقرہ۔82)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو وہی جنتی لوگ ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
طالبانِ مولیٰ کو جنت کی نعمتوں اور حور و قصور میں کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔ وہ جنت میں بھی اللہ کے دیدار کے طلبگار ہوں گے۔ ان کے لیے جنت ِ قرب کا انعام ہے جہاں وہ اللہ کے دیدار میں محو اس کے قر ب کی لذت سے محظوظ ہو رہے ہوں گے۔حدیث ِ مبارکہ ہے:
 اگر عاشقوں کو جنت اس کے جمال کے بغیر نصیب ہو تو سخت بدقسمتی ہے اور اگر مشتاقوں کو اس کے وصال سمیت دوزخ بھی نصیب ہو تو بھی نہایت ہی خوش قسمتی ہے۔ (اسرارِ قادری)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں