حضرت سخی سلطان باھُوؒ فقیر ِ کامل| Hazrat Sakhi Sultan Bahoo Faqeer e Kamil

حضرت سخی سلطان باھُوؒ فقیر ِ کامل 

تحریر: انیلا یاسین سروری قادری۔ لاہور

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تاقیامت رشد و ہدایت کا منبع آقائے دوجہان، سرورِ کونین، آئینہ ھُو جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس ہی ہے اور آپؐ ہی انسانِ کامل ہیں۔ تاہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری وصال کے بعد بنی نوع آدم کا معرفت ِحق تعالیٰ کی جانب سفر میں رہنمائی کا سلسلہ ہرگز منقطع نہیں ہوا بلکہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی ہر دور میں اکمل و کامل صورت میں اپنی اُمت کے راہنما ہیں۔ اس حقیقت کو علامہ ابن ِعربی ؒ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
ہر زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ازل سے لیکر ابد تک لباس بدلتے رہتے ہیں اور اکمل افراد کی صورت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی جلوہ نما ہوتے ہیں۔ (شرح فصوص الحکم والایقان۔ فتوحاتِ مکیہ، صفحہ97)
ازل سے ابد تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی انسانِ کامل اور خلیفۂ برحق ہیں۔ آپؐ کے ظاہری وصال کے بعد آپؐ کی باطنی راہنمائی اور وسیلہ سے ہی ہر زمانہ میں آپؐ کے تابعین کو فقیر ِکامل کے مرتبہ کا شرف عطا ہوتا ہے اور یہی فقیر کامل آپؐ کا حقیقی نائب اور خلیفہ ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وہ رحمن ہے سو پوچھ اس کے بارے میں اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہے۔ (سورۃ الفرقان۔ 59)
یہ آیت مبارکہ اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ کا علم اس کے خاص چنے ہوئے مقرب بندے ہی رکھتے ہیں اور انہی مقرب و ممتاز بندوں کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ 

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ہر زمانہ میں ایک شخص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کامل و مکمل آئینہ اور خلیفہ ہوتا ہے جو مخلوقِ خدا کے لیے بحکمِ الٰہی فیض بخش ہوتا ہے۔ انہی فقرا کاملین و صالحین میں ستارھویں صدی عیسوی کے فقیر ِکامل، سلطان الفقر پنجم، سلطان العارفین، برہان الواصلین فقیرمالک الملکی حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ آپؒ کی ولادت باسعادت یکم جمادی الثانی 1039ھ (17۔جنوری 1630) بروز جمعرات بوقت ِفجر شاہجہان کے عہدِحکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں ہوئی۔ آپؒ پیدائشی ولی اللہ، محبوبِ الٰہی اور واصل بحق فقیر ِکامل تھے اور ازلی نورِ حق آپ کی پیشانی مبارک سے چمکتا رہتا تھا۔ آپؒ جس پر بھی نگاہ فرماتے اسے واصل باللّٰہ فرما دیتے ۔ اپنے فقیر ِکامل ہونے کے بارے میں آپؒ فرماتے ہیں:
مَیں کامل مکمل اکمل اور نور الہدیٰ جامع مرشد ہوں اور مالک الملکی مرتبے کا جامع فقیر ہوں۔  (نور الہدیٰ کلاں)

فقیر ِکامل کسے کہتے ہیں؟

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ فرماتے ہیں:
فقیر (انسانِ کامل) وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ فقیر وہ ہے جو ’’کُن‘‘ کہے اور ’’فیکون‘‘ ہو جائے۔ (الرسالۃ الغوثیہ)
بقول علامہ اقبالؒ :

بر عیارِ مصطفیؐ خود را زند
تا جہانے دیگرے پیدا کند 

مفہوم: پہلے وہ (فقیر ِکامل) خود کو حضور اکرمؐ کی ذات میں فنا کرتا ہے پھر ایک نئی دنیا وجود میں لاتا ہے۔ یعنی وہ جو کچھ کرتا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طریق کے مطابق کرتا ہے اور پھر وہ جو کچھ وجود میں لاتا ہے وہ حضور اکرمؐ کی دنیا بن جاتی ہے۔ (فقر ِ اقبالؒ) 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کا مخلوقِ خدا پر جاری و ساری فیض اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آپؒ ’ھُو‘ کا عین مظہر ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:

اگر بائے بشریت حائل نبودے باھُو ؒ عین یاھُو است

ترجمہ: اگر بشریت کی ’با‘ درمیان میں حائل نہ ہو تو ’’باھُو‘‘ عین ’’یاھُو‘‘ ہے۔
آپؒ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
باھُوؒ کی والدہ نے اس کا نام باھُوؒ اس لیے رکھا کہ وہ ہر لمحہ ’ھُو‘ کے ساتھ رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھُوؒ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف رسالہ روحی شریف میں اپنے مقامِ وحدت کے متعلق یوں تحریر فرماتے ہیں:
فقر کی منزل پر بارگاہِ کبریا (حق تعالیٰ) سے حکم ہوا ’’تو ہمارا عاشق ہے‘‘، اس فقیر نے عرض کی ’’عاجز کو حضرتِ کبریا کے عشق کی توفیق نہیں ہے‘‘۔ فرمایا ’’تو ہمارا معشوق ہے‘‘۔ یہ عاجز پھر خاموش ہو گیا تو حضرتِ کبریا کے انوارِ تجلی کے فیض نے بندے کو ذرّے کی طرح استغراق کے سمندر میں مستغرق کر دیا اور فرمایا ’’تُو ہماری ذات کی عین ہے اور ہم تمہاری عین ہیں، حقیقت میں تو ہماری حقیقت ہے اور معرفت میں تو ہمارا یار ہے اور ’’ھُو‘‘  میں ’’یاھُو‘‘ کا راز ہے۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)

میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
فقیر ِکامل اپنی نگاہ سے زنگ آلود قلوب کو نورِ حق سے منور کرتا ہے اور تزکیہ نفس کر کے قربِ الٰہی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ طالب اور سالک کی روح کی غذا فقیر ِکامل کی صحبت اور قرب ہے۔ (سلطان العاشقین)

فقیر ِکامل کبھی خدا سے جدا نہیں ہوتا اس کا بولنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور مخلوقِ خدا کو فیض بخشنا منجانب خدا ہوتا ہے۔ اس کی شان و عظمت، علم و فراست اور قربِ حق تعالیٰ کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ فقیر ِکامل  سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ نے کوئی ظاہری علم حاصل نہیں فرمایا تھا مگر آپؒ کے مقامِ حضوریٔ حق تعالیٰ کا یہ عالم تھا کہ آپؒ ہر وقت مشاہدۂ حق تعالیٰ میں ہی مصروف رہتے۔ آپؒ اپنے علم و فراست اور باطنی مقامِ حضوریٔ حق تعالیٰ کے متعلق فرماتے ہیں:
مجھے اور محمد عربیؐ کو کوئی ظاہری علم حاصل نہیں تھا لیکن وارداتِ غیبی کے سبب علمِ باطن کی فتوحات اس قدر تھیں کہ (انہیں تحریر کرنے کے لیے) کئی دفتر درکار ہیں۔ (عین الفقر)
فقیر ِکامل کا تمام علم ’علم لدنیّ‘ ہوتا ہے جو فقیر کی ظاہری حیات کے بعد بھی مخلوقِ خدا کے لیے فیض بخش ہوتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے کوئی ظاہری علم حاصل نہیں فرمایا بلکہ بحکمِ الٰہی علم وتصوف اور معرفت ِحق تعالیٰ پر ایسی بے مثال 140 کتب تحریر فرمائیں جو ہر دور میں طالبانِ مولیٰ کے لیے مشعل ِراہ ہیں۔ ان کتب میں معرفت کے رموز کو جس قدر آپؒ نے واضح طور پر بیان فرمایا اس میں آپؒ کا کوئی ثانی نہیں۔
عارفین میں حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی مثل کوئی نہیں۔ جو مقام و مرتبہ آپؒ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ آپؒ کی نگاہِ کامل ایسی کیمیائے خاص تھی کہ جس تاریک قلب پر پڑتی وہ قلب نورِ حق کی تجلیات سے منور ہو کر دیدارِ الٰہی میں محو ہو جاتا۔ آپؒ کی کرامات تو آپ کے بچپن سے ہی ظاہر ہو چکی تھیں۔ جس پر آپ نگاہ ڈالتے وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا آپؒ کی یہ کرامت نہ صرف آخری عمر تک جاری و ساری رہی بلکہ اب بھی جو متلاشیانِ حق نہایت خلوص و نیک نیتی، عاجزی و ادب سے آپؒ کی بارگاہ میں ذاتِ حق تعالیٰ کا سوال لے کر حاضر ہوتا ہے وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا۔ آپؒ اس کی ضرور حق کی جانب راہنمائی فرماتے ہیں، بس سوالی کی طلب خالص طلب ِ مولیٰ ہونی چاہیے۔
حضرت سخی سلطان باھُوؒ کا فرمان مبارک ہے:
جو شخص حق کا طالب ہے مَیں اس کے لیے حاضر ہوں۔ مَیں اسے ابتدا سے انتہا تک فوراً پہنچا دونگا۔ اے طالب آ! اے طالب آ! اے طالب آ! تاکہ مَیں تجھے پہلے ہی دِن خدا تعالیٰ تک پہنچا دوں۔ (رسالہ روحی شریف)
آپؒ مزید فرماتے ہیں:
 جب سے لطف ِازلی کے باعث حقیقت ِحق تعالیٰ کی عین نوازش سے سربلندی حاصل ہوئی ہے اور حضور فائض النور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تمام خلقت، کیا مسلم، کیا کافر، کیا بانصیب، کیا بے نصیب، کیا زندہ، کیا مردہ سب کو ہدایت کرنے کا حکم ملا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
تمہارے درمیان صورتاً کوئی نبی موجود نہیں کہ تم اس کی اتباع کرو۔ پس جب تم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبعین (حقیقی باطنی جانشین، باطنی خلیفہ) کی اتباع کرو گے جو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم ہیں توگویا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کی۔ جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کی۔ (الفتح الربانی۔ مجلس14 )

حضرت سخی سلطان باھُوؒ کو آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے ’’مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ کا لقب بھی ملا ہے جس کے بارے میں آپؒ نے رسالہ روحی شریف میں یوں بیان فرمایا ہے۔ 
’’آپؐ (حضور فائض النوراکرم) نے اپنی زبانِ گوہر فشاں سے مجھے مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخر زمانی فرمایا ہے۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ان القاب کی وضاحت نہایت خوبصورت الفاظ میں یو ں بیان فرماتے ہیں:
  مصطفی و مجتبیٰ یہ دونوں القاب خاص طور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہیں۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے آپؒ کو مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخر زمانی فرمایا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ؒ آخری زمانہ میں ہدایت کا منبع ہونگے۔ اس لقب کی اصل حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ میں جب گمراہی عام ہو جائے گی، حق کی پہچان مشکل ہو گی تو آپؒ کے سلسلہ سے لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک ایسی ہستی ظاہر ہو گی جس کو آپؒ کی راہبری و راہنمائی حاصل ہو گی۔ (رسالہ روحی شریف)

حضرت سخی سلطان باھُوؒ کا ارشادِ مبارک ہے ’’جب گمراہی عام ہو جائے گی، باطل حق کو ڈھانپ لے گا، فرقوں اور گروہوں کی بھرمار ہو گی، ہر فرقہ خود کوحق پر اور دوسروں کو گمراہ سمجھے گا اور گمراہ فرقوں اور گروہوں کے خلاف بات کرتے ہوئے لوگ گھبرائیں گے اور علمِ باطن کا دعویٰ کرنے والے اپنے چہروں پر ولایت کا نقاب چڑھا کر درباروں اور گدیوں پر بیٹھ کر لوگوں کو لوٹ کر اپنے خزانے اور جیبیں بھر رہے ہوں گے تو اس وقت میرے مزار سے نور کے فوارے پھوٹ پڑیں گے۔‘‘ (مجتبیٰ آخر زمانی)

اس فرمان مبارک سے یہ مراد ہے کہ گمراہی کے بدترین دور میں آپؒ کے سلسلہ مبارک سے ایک ایسا مردِ حق ہو گا جسے آپؒ کی روحانی رہنمائی حاصل ہو گی اور وہ آپؒ کی تعلیمات کے فیض کو مخلوقِ خدا میں عام کر دے گا۔ 
 پس فقیر ِکامل کی حقیقی تعلیمات کو صرف وہی سمجھ اور جان سکتا ہے جس کی نیت خالص اور باطن غیر ماسویٰ اللہ سے پاک ہو۔ تمام اُمت ِ مسلمہ کا ایمان ہے کہ آقا پاک ؐ کی زبانِ گوہر فشاں سے نکلا ہوا ہر حرف حق تعالیٰ ہی کے الفاظ ہیں تو پھریہ کیسے ممکن ہے کہ جب آقا پاکؐ نے سلطان العارفینؒ کو ’’مصطفی ثانی و مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ فرمایا تو اس زمانے میں آپؒ کی تعلیمات (تعلیماتِ فقر) کو مخلوقِ خدا تک پہنچانے کے لیے کوئی نہ ہو۔ جو اللہ کی راہ میں اس کی طلب لے کر نکلتا ہے وہ (اللہ) خود ہی اپنے طالب کا محافظ و نگہبان بن جاتا ہے اور جس کا نگہبان اللہ ہو وہ حق کو پا ہی لیتا ہے۔ 

موجودہ دور میں جس پاکیزہ ومقرب ہستی نے تعلیماتِ باھُوؒ کو اپنی حقیقی باطنی روح کے ساتھ بحکمِ الٰہی زندہ رکھا وہ مبارک ذات امانتِ الٰہیہ کی حامل ، سلطان العارفینؒ کے حقیقی روحانی وارث اور آپؒ کے سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ ِکامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس صاحب ِمسمّٰی مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہیں۔ کامل اکمل فقیر کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ طالب کو چلّہ کشی، سخت ریاضت و مجاہدات اور ورد و وظائف میں مبتلا کیے بغیر اپنی نگاہِ کرم سے ہی واصل بحق کر دیتا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس بھی اپنے مریدین کو کسی مشقت میں ڈالے بغیر صرف ذکرو تصور اسم ِاللہ ذات اور اپنی نگاہِ کامل سے روشن ضمیر اور زندہ قلب بنا رہے ہیں۔
مجدّدِ دین وہی ہوتا ہے جو دین ِمحمدیؐ (فقرِ محمدیؐ) کو اپنی حقیقی روح کے ساتھ زمانہ میں عام کرے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے نہ صرف فقر کے فیض کو عام فرمایا بلکہ موجودہ دور کے تمام ذرائع ابلاغ کو استعمال میں لاتے ہوئے حصولِ دین کو مخلوقِ خدا کے لیے مزید سہل فرما دیا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے دورِ حاضر میں فقر کو جو عروج عطا فرمایا اس بِنا پر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے آپ مدظلہ الاقدس کو ’آفتابِ فقر‘  کے لقب سے نوازا ہے۔ بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس ہی فقر کے وہ آفتاب ہیں جو فقر کی کرنیں مخلوقِ خدا پر یکساں نچھاور فرما رہے ہیں، اسی آفتاب کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

چڑھ چناں تے کر رُشنائی، تارے ذِکر کریندے تیرا ھُو
تیرے جیہے چن کئی سَے چڑھدے، سانوں سجناں باجھ ہنیرا  ھُو
جِتھے چَن اساڈا چڑھدا، اُوتھے قدر نہیں کُجھ تیرا ھُو

مفہوم: اے فقر کے چاند! تُو جلد طلوع ہو کر اس ظلمت کدہ کو اللہ کے نور سے بھر دے، طالبانِ مولیٰ اور مومنین تیرا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ سینکڑوں مصنوعی چاند تیرا روپ دھار کر طلوع ہو چکے ہیں اور اُمت کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن اے محبوب! تیرے بغیر یہ دنیا ظلمت کدہ ہے۔ جہاں ہمارا چاند طلوع ہوگا وہاں دوسرے مصنوعی چاندوں کی روشنی جو اصل میں ظلمت ہے، ختم ہو جائے گی اور یہ دھوکہ باز، جو راہنما بن کر اُمت کو دھوکا دے رہے ہیں، بھاگ جائیں گے۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)

بے شک سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہی وہ آفتاب ہیں جو مخلوقِ خدا کے اندھیروں میں ڈوبے قلوب کو نورِ حق سے روشن فرما رہے ہیں۔ اس گمراہی اور منافقت کے دور میں آپ مدظلہ الاقدس بغیر کسی غرض و مفاد کے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی تعلیمات کو اپنی حقیقی باطنی روح کے ساتھ نہ صرف قائم رکھے ہوئے ہیں بلکہ علم ِفقر و تصوف سے بھرپور ان کتب کو اردوکے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ترجمہ کروا کر ہر نسل کے لیے فیض ِفقر کو عام فرما رہے ہیں۔ بیشک جس طرح آپ مدظلہ الاقدس نے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام، سیّدنا غوث الاعظمؓ اور سلطان العارفینؒ کی روحانی راہنمائی میں فیض فقر کو عام فرمایا ہے  ’’مصطفی ثانی و مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ کے القاب آپ مدظلہ الاقدس پر صادق آتے ہیں۔
فیض ِفقر جاری ہے ،اے متلاشی حق! تعصب کو چھوڑ اور جلد آ، تاکہ تیری مُراد پوری ہو۔

 استفادہ کتب:
۱۔رسالہ روحی شریف از سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھُوؒ
۲۔مجتبیٰ آخر زمانی از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۳۔سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور

 

30 تبصرے “حضرت سخی سلطان باھُوؒ فقیر ِ کامل| Hazrat Sakhi Sultan Bahoo Faqeer e Kamil

      1. فیض ِفقر جاری ہے ،اے متلاشی حق! تعصب کو چھوڑ اور جلد آ، تاکہ تیری مُراد پوری ہو۔

  1. سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فقیر مالک الملکی اور مرشد کامل اکمل جامع نورالہدی ہیں

  2. SubhanAllah ♥️
    Sultan Bahoo ra aur apke Silsila Sarwari Qadri ki Shan bohat buland hai. Allah Pak Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman madzillah ul aqdas ki Shan aur maratab ko char Chand lagaye.ameen

اپنا تبصرہ بھیجیں