تقویٰ اور توحید |Taqwa aur Tawhid

تقویٰ اور توحید

تحریر: ڈاکٹر سحر حامد سروری قادری۔ لاہور

تقویٰ

چار حروف پر مشتمل یہ لفظ (تقویٰ) مقصدِ حیات اور توشۂ آخرت ہے۔ تقویٰ دینِ کامل کی اساس اور بزرگانِ دین کا اثاثہ ہے ۔ تقویٰ اُمتِ مسلمہ پر ربّ کا احسان ہے، اس کی رضاہے ، درجۂ خاص ہے۔ تقویٰ کے بغیر مومن ادھورا ہے کیونکہ تقویٰ روح کا سکون اور ربّ کے دیدار کا ذریعہ اور خدا کے قرب و معرفت کی کنجی ہے۔ اگر تقویٰ کے لفظی معنی کو دیکھا جائے تو لفظ ’’تقویٰ‘‘ کے معنی ’’زرہ‘‘ کے ہیں جو ضرر سے محفوط رکھتی ہے۔ جبکہ شریعت میں اس کے معنی ہر اس عمل سے گریزکرنا ہے جو اللہ تبارک و تعا لیٰ کے غیظ و غضب کا باعث ہواور ہر اس کا م کو اپنا نا ہے جو مو لیٰ کی رضاکا موجب ہو۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تقویٰ کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
* تقویٰ کے لغوی معنی تو پرہیز گاری اور پارسائی کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں قلب کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام تقویٰ ہے اور جس انسان کا دل (باطن) جتنا زیادہ قربِ الٰہی میں ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ متقی یا صاحبِ تقویٰ ہو گا۔ یہ انسان کی باطنی کیفیت ہے اور تقویٰ کی انتہا دیدارِ الٰہی ہے۔ اس کی تصدیق اس حدیثِ مبارکہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک بار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دل کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔‘‘ (شمس الفقرا)

توحید 

پانچ حروف پر مشتمل یہ لفظ اپنے اندر وجہ وجودِ کائنات کو سموئے ہوئے ہے۔ توحید ایک مومن کے ایمان کا حاصل ہے ۔ یہ کوئی ایک مقام نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ پر وان چڑھنے والی وہ بیل ہے جو مومن کو رفتہ رفتہ اپنی لپیٹ میں لے کر اسے غرق فنا فی اللہ بقا باللہ کر دیتی ہے۔ اب یہ مومن پر ہے کہ وہ عشق و معرفت اور تقویٰ کے کتنے پانی سے اسے سیراب کر تا ہے ۔ یہ اقرار باللسان سے تصدیق بالقلب کا وہ حسین سفر ہے جو طالبِ مولیٰ کو قربِ الٰہی کے عمیق سمندرمیں غوطہ زن کر تا چلا جاتا ہے ۔
تقویٰ کے چار حروف (ت، ق، و، ی) میں ’’ت‘‘ سے مراد توحید یعنی تمام غیر اللہ سے انحراف کرنا ہے جو اسمِ اعظم کے طفیل ممکن ہے ۔
’’ق‘‘ سے مرادنفس مردود کا قلع قمع کرنا اور تزکیہ کرنا ہے جو محض کسی مردِ کامل مرشد کے فیض کا نتیجہ ہے ۔
’’و‘‘ سے مراد درجہ بہ درجہ ’’ وحد انیت کا سفر ہے اور ’’ی‘‘ سے مراد ’’یاھو سلطان الا ذکار‘‘ کے ذکر سے عشق و معرفت کا حصول ہے ۔ 
گویا ان حروف سے ہی ظاہر ہوا کہ تقویٰ تو ایک طالب مولیٰ کی زندگی کا توشہ ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی کے انمول جوہر اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ توحید کے حروف کو دیکھا جائے تو ’’ت‘‘ سے مراد تقویٰ ہے۔ جیسے جیسے تقویٰ بڑھتا ہے توحید کے مخفی رموز بندہ پر عیاں ہوتے جاتے ہیں۔
’’و‘‘ سے مراد ’’وحدت الوجود‘‘ یعنی واحد ربّ تعالیٰ کی معرفت کی انتہا کو پہنچنا ہے ۔
’’ ح‘‘ سے مراد حمیتِ خداوندی کے حصول سے حاملِ کُل جہان ہو جانا ہے۔ 
’’ی‘‘ سے مراد یاھوت کی کنہ تک کا سفر ہے۔
’’د‘‘ سے مراد دنیاواغر اضِ دنیا سے بے غرض ہو کر ’’ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس‘‘ کا نعرۂ حق بلند کرنا ہے۔
در حقیقت فنافی اللہ بقاباللہ کا سفر تقویٰ اور توحید کا سفر ہے۔ توحید اور تقویٰ ایک دو سرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ تقویٰ اختیار کئے بغیر توحید کی انتہا تک پہنچنا نا ممکن ہے اور تقویٰ کی بنیاد توحید پر ہے، جتنا ایک طالب تقویٰ میں کامل ہو گا اتنا ہی توحید کی حقیقت کو پائے گا اور جتنا توحید اختیار کرے گا یعنی واحد ذاتِ حق تعالیٰ کی محبت، خوف اور توکل میں ترقی کرے گا اتنا ہی تقویٰ میں کامل ہو گا۔ گویا تقویٰ و توحید مومن کے بال و پر ہیں۔
قرآنِ مجید میں بے شمار ایسی آیات ہیں جہاں مومن کو تقویٰ کی اہمیت باور کرائی گئی ہے اور تقویٰ اور توحید کے ربط کو عیاں کیا گیا ہے جیسا کہ سورۃالروم کی آیت نمبر 31 میں فرمایا گیا :ترجمہ:’’( اے ایمان والو) اسی (اللہ) کی طرف رجوع کئے رہواور تقویٰ اختیار کرو اور نماز قائم کرتے رہو اور مشرکو ں میں سے نہ ہونا۔‘‘
مطلب تقویٰ اور توحید دونوں کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا گیا ۔
ارشاد ہوا:  ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو‘‘۔ ( آل عمران ۔102 )
یہاں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ تقویٰ کو مکمل طور پر اپنایا جائے اور جب انسان مرے تو اس کی روح توحیدکی گواہی دے۔ جو روح تقویٰ کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گی وہیلَآ اِلٰہَ کا اقرار کرے گی، وہی مسلمان ہے ۔ گویا تقویٰ کے بغیر تو حید کی خو شبو تک بھی نہیں پہنچا جا سکتا۔
قرآنِ مجید میں جا بجا اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدت، قرب اور معرفت تک رسائی کا ہر امر بیان کیا گیا ہے مگر اس کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو اہلِ تقویٰ ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے ’’ترجمہ:اور بے شک یہ (قرآن) نصیحت ہے متقین کے لیے۔ ‘‘ )الحاقہ۔48) 

ارکانِ اسلام اور تقویٰ و توحید 

تقویٰ پورے دین کا مغز اور بنیاد ہے۔ اسلام کے پانچوں ارکان اپنے اندر توحید اور تقویٰ کا عظیم ربط لیے ہوئے ہیں۔ 

کلمہ 

پہلا کلمہلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  اس بات کی شہادت ہے کہ توحید پر ایمان کے بغیر کو ئی بھی دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ سیّد نا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ فرماتے سنا ’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا آگ اس پر حرام ہو جائے گی۔ یہ سن کر سیّدنا عمرؓ نے فرمایا : میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون ساہے ، وہ کلمہ جس کے ذریعے اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو عزت بخشی، وہ کلمہ تقویٰ ہے جو اللہ کے نبی نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت ان پر پیش کیا تھا اور وہ ہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  کی شہادت دینا۔ ‘‘ حافظ ابنِ کثیر ؒ لکھتے ہیں ’’ تقویٰ کی بات سے مراد کلمہ توحیدو رسالتلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ہے اور تو حید کی ضد شرک ہے۔‘‘ لہٰذا جس شخص کے اندر تقویٰ نہیں خواہ اس کے پاس عبادت اورریاضت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں وہ توحید کو نہیں پا سکتا اور جو توحید کو نہیں پا سکا وہ مومن نہیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم گناہ اور جرم شرک ہے قرآنِ پاک میں ہے’’ اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کر تا ، اس کے ما سوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چا ہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔ ‘‘ (سورۃ النسا۔48 ) 
گویا ظاہری طور پر کو ئی کتنا بڑا مفتی کیوں نہ ہو جب تک وہ اپنے اور ربّ کے درمیان سے شریک کو ہٹا نہیں لیتا وہ کلمہ کی حقیقت کو نہیں پاسکتا۔ 

نماز

نماز دینِ اسلام کا اہم ترین رکن ہے۔ بے شمار آیات و احادیث اس بات کی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہیں کہ نماز تقویٰ کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ نماز کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ’’بے شک نماز بے حیائی اور بُری باتوں سے روک دیتی ہے۔‘‘ اور بری باتیں جو اللہ کی خفگی کا باعث ہو سکتی ہیں‘ سے بچنا ہی تو تقویٰ کا حصول ہے۔ تقویٰ کے حصول کے لیے مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو سورۃ اخلاص میں اللہ کی واحد انیت کا اقرار کرتا ہے :
قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔اللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْ لَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدُ  ترجمہ:’’ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے۔ نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔‘‘
نماز قرب و دیدارِ الٰہی کا ذریعہ ہے جو مومن کی معراج ہے ۔ مگر یہ معراج محض اہلِ تقویٰ کو حاصل ہے۔ اگر کسی میں تقویٰ نہیں تو صرف زبان سے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ یا اَشْہَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے سے نماز مقبول نہیں ہو سکتی۔ تقویٰ کے بغیر ہر عمل اکارت ہے کیونکہ تقویٰ ہی عشقِ الٰہی کا بیج ہے جس کا ثمر توحید ہے۔

سجدۂ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے 
خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے 

روزہ

سورۃالبقرہ کی آیت 183 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
ترجمہ:’’ اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘
اس آیت سے یہ واضح ہو گیا کہ روزہ کی فرضیت کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ روزہ سے حاصل ہونے والا تقویٰ انسان کو اللہ ربّ العزت کے قرب و توحید سے نوازتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’روزہ میرے لیے ہے اور اسکی جزا میں خود ہوں ‘‘ یعنی روزہ سے جو تقویٰ حاصل ہوتا ہے وہ بالآخر توحید تک لے جاتا ہے۔

زکوٰۃ

زکوٰۃ اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کر نے کا اہم ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنا ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے ۔ اللہ کو انسان کے مال سے کوئی غرض نہیں وہ تو اپنے بندے کی بندگی و انکساری دیکھتا ہے ۔ حدیث مبارک ہے:
’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ‘‘ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ‘‘ 
اگر زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت قر ب و معرفت کا حصول ہے تو بلاشبہ زکوٰۃ تقویٰ سکھا کر تو حید کی معرفت دلاتی ہے جیسا کہ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 103 میں اللہ تبارک و تعا لیٰ فرماتا ہے ’’ ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک بنائیں اور ان کا تز کیہ کیجیے ۔‘‘ گویا زکوٰ ۃ ہمارے نفس کے لیے تزکیہ کا اہم ذریعہ ہے اور یوں مومن کے لیے تقویٰ کے حصول کا وسیلہ بھی ہے۔ سورۃ نور میں ارشاد ہوا ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰ ۃ ادا کرو اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘ (سورۃ النور۔56)۔ اور بے شک اللہ کا بہترین رحم اور کرم بندۂ مومن پر تقویٰ کے ذریعے اپنا قرب و معرفت عطا کرنا ہے۔

حج

حج ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے اور تقویٰ اور توحیدِ الٰہی کی معرفت کا بہترین ذریعہ ہے ۔ جب بندہ حج کرتا ہے تو وہ اپنا مال اور اپنی اولاد سب اللہ کے سپرد کرکے گھر سے نکلتا ہے۔ بیت اللہ میں پہنچ کر اللہ کی کبریائی کا نظارہ کرتا ہے۔ اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرتا ہے۔ صرف اسی کو اپنا مالک اور نجات دہندہ مان لیتا ہے۔ پس توحید و تقویٰ کی حقیقت کو پا لیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ ارشاد فرماتا ہے :
ترجمہ:’’ اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔ ‘‘ (الحج۔ 32)
جب بندۂ مومن قربانی پیش کرتاہے تو یہ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد دلاتا ہے اور یہ سبق دیتاہے کہ اللہ کی راہ میں اُس کی رضا اور اُس کی ذات سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں جیسا کہ ارشاد ہے :
ترجمہ: نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچے نہ خون مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ ‘‘ (الحج ۔37)
مندرجہ بالا آیات سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام کے ہر رکن کی بنیاد تقویٰ ہے۔ اور تما م ارکانِ اسلام کی ادائیگی اور فرضیت کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول ہے۔ جس میں تقویٰ نہیں اس کا دین نہیں جسکا دین نہیں وہ مومن تو کیا مسلمان بھی نہیں اور جو مسلمان نہیں اس کالَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ   کہنا اقرار باللسان کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی اپنی ذات ہی اللہ کی شریک ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کے کئی اور شریک بھی بنا رکھے ہیں۔ بے شک اللہ کو ایسے شخص سے کوئی غرض نہیں کیونکہ وہ محض نیتیں دیکھتا ہے، تقویٰ کو گرد انتا ہے اور اسی کی بنا پر اپنی وحدت تک رسائی عطا کرتا ہے۔ 

اقسام و درجات 

سیّد محمد ذوقی ؒ اپنی تصنیف سِرّدلبراں میں تقویٰ کے درجات بیان فرماتے ہیں:
* اختلافِ حالات کے اعتبار سے کیفیاتِ تقویٰ میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔ جیسے 
(1) تقویِٰ عوام۔ ترکِ کفر و شرک ہے ۔
2)) تقویِٰ متقی۔ ترکِ گناہ اور شریعت کی ممنوع کردہ چیزوں سے پرہیز اور اجتناب ہے۔
(3) تقویِٰ خواص۔عبادات و ریاضات میں وساوس کا قلع و قمع کرنا ہے۔
(4)تقویِٰ خواص الخاص۔ یہ ہے کہ ہر دم اور ہر لحظہ ترک ماسو یٰ اللہ سے متصف رہے اور خطرۂ دنیا کو کسی وقت اور کسی حال میں اپنے قلب میں نہ آنے دے۔ (سرِّ دلبراں )
جو اللہ کا سچا بندہ ہونے کا دعویٰ کرے اسے چاہیے کہ تقویِٰ عوام سے ترقی کر کے تقویِٰ خواص الخاص تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
توحید کے بھی اسی طرح درجات ہیں۔ تقویٰ کے بلند درجا ت ہی بندۂ مومن کو توحید کے اعلیٰ درجات پر پہنچا سکتے ہیں ورنہ عام بشر اور نام نہاد مسلمانوں کے لیے تقویٰ اور توحید دو الگ چیزیں ہیں۔ صرف مومن ہی تقویٰ کی درجہ بہ درجہ کیفیات سے گزر کر توحید کے اعلیٰ مدارج پاتا ہے۔
امام غزالی ؒ کے مطابق تو حید کے چار درجے ہیں:
پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی زبان سے تو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  کہے اور دل میں اعتقاد نہ رکھے۔ یہ منافقوں کی توحید ہے۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ اس کلمے کے معنی کا تقلیداً اعتقاد رکھے (یعنی صرف دوسروں کی پیرو ی میں اعتقاد رکھے اور خود سے کچھ جاننے سمجھنے کی کو شش نہ کرے )
تیسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی مشاہدے سے دیکھے کہ سب کی اصل ایک (اللہ) ہے اور سب کاموں کا ایک ہی فاعل ہے اور اسکے سوا کوئی کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ مشاہدہ عوام الناس اور تقلید کرنے والوں کے اعتقاد کی مانند نہیں کیونکہ ان کا اعتقاد ایک گرہ ہے جو تقلید یا دلیل کے حیلے سے انہوں نے دل پر لگا لیا۔ اگرچہ مشاہدہ سے حاصل ہونے والی توحید کا بڑادرجہ ہے تاہم یہ کمالِ توحید نہیں۔
چوتھا درجہ۔اس درجہ کی توحید مرتبۂ کمال ہے کیونکہ اس میں فقط حق ہی حق رہتا ہے۔ اس درجے کا مومن ایک (اللہ) کے سوا اور کسی کو نہیں دیکھتا۔ خود کو بھی بھو ل جاتا ہے۔ جس طرح اور چیزیں اس کے دیکھنے میں نیست ہو جاتی ہیں اسی طرح وہ خود کو دیکھنے میں بھی نیست ہو جاتا ہے۔ یعنی خدا کے سوا نہ خو د کو دیکھتا ہے نہ اور کسی کو دیکھتا ہے۔ (کیمیائے سعادت) 
پس تو حید کے کمال کو پہنچے بغیر نہ مسلمان مو حد کہلا سکتا ہے نہ مومن اور نہ ہی اللہ کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابو ذرغفاریؓ سے فرمایا: اے ابو ذر! اللہ آسمان پر اکیلا ہے تم زمین پر اکیلے ہو جاؤ۔‘‘ تقویٰ کی اصل کو جو جان جاتاہے وہ تو حید کے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتاہے۔ تقویٰ نفس کے تزکیہ کے لیے ایک سیڑھی ہے جتنا تقویٰ بڑھتا جائے گا تزکیہ بڑھتا جائے گا۔ تقویٰ اور تزکیہ کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے بندۂ مومن جب نفسِ مطمئنہ کو پالیتا ہے تو حقیقی منزلِ تو حید کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ 

اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل کی راہنمائی

جس طرح ظاہری علم کے لیے ہر انسان کو استاد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح باطنی علم و معرفت کے لئے بھی ایک استادِ کامل کی ضرورت ہو تی ہے ۔ ہر زمانے میں آقاعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا نمائندہ موجو د ہو تا ہے جو عین قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کرتا ہے ۔ وہ مریدین کو اسمِ اللہ ذات عطاکرکے ان کے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اور تقویٰ کا کمال دلا کر توحید کی منازل طے کرواتاہے۔ مرشد کامل اکمل کی صحبت میں مخلص لوگ اپنے اندر خود بھی تبدیلی محسوس کرتے ہیں اور ان کے ارد گرد رہنے والے لوگ بھی۔ تزکیۂ نفس حاصل کر لینے والے لوگ اللہ سے سچے ڈرنے والے ہیں۔ وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو اللہ تبارک و تعا لیٰ کی بار گاہ میں رسوائی کا باعث ہو اور اس کام کو اپناتے ہیں جو انہیں اللہ کا قرب و وصال دلائے اور یو ں رفتہ رفتہ تقویٰ میں کمال حاصل کر لیتے ہیں۔ کیونکہ مرشد ہر لمحہ اپنی نگاہِ کامل سے اسمِ اللہ ذات کے ذریعے ان کے زنگ آلودہ قلوب کو منور کر رہا ہو تا ہے۔ تقویٰ اور توحید کے حصول کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت میں اسمِ اللہ ذات کا ذکر ناگزیر ہے سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں:

* جسے بھی تقویٰ نصیب ہوا اسم اللہ ذات سے ہی ہوا۔ اسم اللہ ذات سے چار اسم ظاہر ہوتے ہیں۔ اول اسم اللہ ذات جس کا ذکر بہت ہی افضل ہے اسمِ اللّٰہُ  سے ’’ل‘‘ جداکیا جائے تو یہ اسملِلّٰہُ  بن جاتا ہے ۔ اسم لِلّٰہُ کا ذکر فیضِ الٰہی ہے۔ جب اسم لِلّٰہُ  کاپہلا ’’ل‘‘ جدا کیا جائے تو یہ اسم لَہُ بن جاتا ہے۔ اسم ’’لَہُ   کاذکر عطائے الٰہی ہے۔ جب دوسرا’’ل‘‘ بھی جدا کر دیا جائے تو یہ ’’ ہُو ‘‘ بن جاتا ہے اور اسم ’’ہُو‘‘ کا ذکر عنایت الٰہی ہے چنا نچہ فرمان حق تعا لیٰ ہے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  ’’ترجمہ: نہیں کوئی معبود سوائے ھُو (ذاتِ حق تعالیٰ) کے۔‘‘ ( البقرہ 255) اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔(محک الفقر کلاں )

اس فرمان سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ اسمِ اللہ ذات ہی تقویٰ اور توحید کا زینہ ہے۔ اسمِ اللہ ذات ’’ھُو‘‘ کی پہچان دلاتا ہے، کلمہ توحید از بر کراتا ہے اور تقویٰ سکھا کر بندۂ مومن طالبِ مولیٰ کو پیکرِ توحید بناتا ہے تاکہ ھُو اور عبدہٗ میں کوئی پردہ باقی نہ رہے اور روح اپنے اصل اپنے ربّ کی طرف اپنی خالص صورت میں لوٹ جائے ۔
اگر اسمِ اللہ ذات مرشد کامل اکمل کے ہاتھ سے عطاہو ا ہو تو جو طالب بھی صدقِ دل سے اسمِ اللہ ذات پڑھتا ہے وہ تقویٰ سے لبریز ہو جاتا ہے اور مرشدکا مل کی مہر سے وہ توحید کے راز کو پا لیتا ہے۔ 

موجو دہ دور اور تقویٰ اور توحید 

موجو دہ دور ما دیت پرستی کا دور ہے۔ آج کے دور کے علما نے تقویٰ کو دوزخ کے خوف اور توحید کو زبان سے کلمہ پڑھنے اور زبان سے اللہ کو ایک ماننے تک محدود کر دیا ہے۔ حالا نکہ تقویٰ اور توحید تو دین کی اصل اور بنیاد ہیں۔ جس میں تقویٰ نہیں اس میں تو حید نہیں اور جس میں توحید نہیں اس میں تقویٰ نہیں۔ دونو ں الگ الگ ایک فلسفۂ معرفت رکھتے ہیں مگر دونوں ایک دوجے میں مخفی ہیں۔ تو حید کو بغیر تقویٰ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جو جتنا تقویٰ میں برتر اتنا توحید کے دریا میں غوطہ زن۔

مو جودہ دور میں بھی ایسا ایک مر د کامل مو جو د ہے جو لو گوں میں تقویٰ اور توحید کا فیضِ خاص بانٹ رہا ہے ۔ وہ ہستی اور کوئی نہیں بانی تحریک دعوتِ فقر سلطان العا شقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس ہیں ۔ آپ بیعت کے پہلے ہی دن اپنے مریدین کو اسمِ اللہ ذات عطا فرما تے ہیں اور بغیر بیعت کے بھی اسمِ اللہ ذات کے فیض سے اپنے معتقدین اور راہِ حق کے متلاشیوں کی راہنمائی فرما رہے ہیں۔ آپ کے مریدین درجہ بہ درجہ تقویٰ کی منزل پاکر تو حید کی معرفت حاصل کر رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی سوانحِ حیات ’’سلطان العاشقین‘‘ میں آپ کے مریدین کے مشاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر کو ئی تقویٰ اور توحید کی حقیقت تک آج کے دور میں پہنچنا چاہتا ہے توآپ مد ظلہ لاقدس کے طفیل پہنچ سکتا ہے۔
تحریک دعوت فقر آپ کو دعوتِ عام دیتی ہے کہ دین کی بنیاد تقویٰ کا علم حاصل کرکے اقرار با للسان سے تصدیق بالقلب حاصل کریں ۔
استفادہ کتب۔
شمس الفقرا۔ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
کیمیائے سعادت۔ تصنیف حجتہ الاسلام ابوحامد امام غزالیؒ 
سرِّ دلبراں ۔ تصنیف سیّد محمد ذوقیؒ 

اپنا تبصرہ بھیجیں