Islam

اسلام کا مشاورتی نظام اور اہمیت|Islam ka mashwarati nizam aur ahmiyat

اسلام کا مشاورتی نظام اور اہمیت

ترتیب: محسن سعید سروری قادری۔ حافظ آباد

انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن میں وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلوؤں پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ وہ سرِ دست یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ایسی صورت حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ اسے تمام مواقع پر از خود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتبار کرنے کی بجائے متعلقہ کام کے ماہرین فن ، اربابِ نظر اور ہمدرد افراد سے رائے معلوم کر لی جائے۔ پھر باہمی غوروفکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کرے۔ اس عمل کو مشورہ یا مشاورت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

صالح، کامیاب اور پُر امن زندگی گزارنے کے لیے مشاورتی نظام اپنانا بے حد ضروری ہے۔ بلاشبہ مشورہ خیرو برکت، عروج و ترقی اور نزولِ رحمت کا ذریعہ ہے۔ اس میں نقصان و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَاشَقٰی عَبْدٗ بِمَشْوِرِۃِ وَمَا سَعِدَ بِاِ سْتِغْنَاءِ رَأیٍ۔(قرطبی /161 4)
ترجمہ: کوئی انسان مشورہ سے کبھی ناکام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔
ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
اَلْمَشْوَرَۃُ حِصْنُ مِنَ النَّدَامَۃِ  وَاَمْنٌ مِنَ الْمَلَامَۃِ ۔
ترجمہ: مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔(ادب الدنیا والدّین۔ 1/277)
اس میں حکمت یہ ہے کہ ایک انسان جب اپنی رائے پر عمل کرتے ہوئے کوئی کام کرتا ہے اگر اس میں ناکامی ہو جائے تو بہت سی زبانیں لعن طعن کرنے لگتی ہیں، ملامت کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے اور پھر بڑی ذلت اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے لیکن اگر مشورے کے بعد کوئی کام کیا جائے تو عام طور پر اس میں ناکامی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ مشورے کی برکت سے خیر کی راہیں کھول دیتا ہے اور اگر فیصلۂ تقدیر کے سبب مشورے کے تحت کیا ہوا کام بارآور اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکا تو اس سے لوگوں کے سامنے شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی۔ اس لیے کہ اس میں صرف اسی کی عقل و فکر شامل نہیں ہے بلکہ اربابِ نظر اور ماہرینِ فن کی آرا اور عقلیں بھی شامل ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
اَلْاِسْتِشَارَۃُ عَیْنُ الْہِدَایَۃِ وَ قَدْ خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنٰی بِرَأیِہ ۔
ترجمہ:مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہو گیا وہ خطرات سے دو چار ہوا۔
خلاصہ یہ ہے کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشد و ہدایت اور خیر و صلاح اس سے وابستہ ہے۔ جب تک مشورے کا نظام باقی رہے گا فساد، گمراہی اور ضلالت راہ نہیں پا سکے گی۔ امن اور سکون کا ماحول قائم رہے گا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’جب تمہارے معاملات آپس میں مشاورت سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہو جانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہے۔‘‘ (روح المعانی531 7/)
دنیا کے حالات پر جن کی نظر ہے وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ دنیا میں جتنے بھی دینی و علمی ادارے چل رہے ہیں ان میں جن کا نظام مشاورت سے مربوط ہے ان کے تمام امور مستحکم اور پائیدار ہیں اور وہ تمام داخلی و خارجی فتنے و فساد سے پاک ہیں۔ لیکن جب کسی ادارے یا حکومت کو خاندانی یا وراثتی نظام پر چلایا جاتا ہے کہ پہلے باپ حکمران تھا تو محض اس بنیاد پربیٹا اس کا اہل قرار پائے اور یہی سلسلہ چلتا رہے تو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ وہ حکومت دیر پا نہیں ہوتی۔ ہزار طرح کے مسائل وہاں جنم لیتے ہیں اور ایک دن پورا شہر کیا پورا ملک فتنے و فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں حکمرانی کا یہی طریقہ رائج تھا، اسی وجہ سے وہاں ہر گھر ہر خاندان ہر قبیلہ الگ الگ خانوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ فتنہ و فساد کا ایک سیلاب تھا جس پر کوئی بندش نہیں تھی۔لوگوں کو کسی گرفت کا احساس نہیں تھا اس لیے ہر شخص جو چاہتا تھا کرتا تھا اور پھر یہیں سے زنا کاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، قتل و غارت گری جیسے ہزاروں جرائم وجود میں آئے۔ اسلام نے اس طریقے کو مٹا کر مشاورتی نظام قائم کیا۔ مختلف طریقوں سے مشورے کی اہمیت بیان کی بلکہ اس کو مسلمانوں کا وصفِ خاص قراردیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِیْنَ اسْتِجَابُوْا لِرَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الشوریٰ ۔38 )
ترجمہ: اور جو لوگ اپنے ربّ کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ان کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں۔ 
اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی اگر معاملہ بہت اہم ہو تو اس کا مشورے کے ذریعے حل کیا جائے۔ کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے اطاعتِ خداوندی اور اقامتِ صلوٰۃ کے بعد فوری طور پر مشورہ کے معاملے کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بالخصوص خلفا راشدین رضی اللہ عنہم نے مشورہ کو اپنا معمول بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی مشورہ کا حکم دیا تھا ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
ترجمہ: (اے حبیبؐ)پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم طبع ہیں اور اگر آپ تندخو(اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے۔ سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لیے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیاکریں،پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (آلِ عمران۔159 )
بظاہر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مشورہ کی حاجت نہیں تھی۔ حضرت قتادہؓ، ربیعؓ اور بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے اطمینانِ قلب اور ان کو وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا۔ اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہ پایا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر قابلِ غور معاملہ میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے مثلاً غزوۂ بدر سے فراغت ہوچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مشورہ فرمایا کہ قیدیوں کو معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے۔ غزوۂ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے کہ شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے باہر نکلنے کی تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کو قبول فرمایا۔ اسی طرح غزوۂ خندق کے موقع پر اور صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا۔ اسی طرح اذان کی بابت بھی صحابہؓ سے مشورہ کیا گیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اسی طرح کی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔
تخلیق آدم علیہ السلام کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اس کا تذکرہ کیا تھا اور ان کی رائے معلوم کی تھی جس کی تفصیل سورۃ البقرہ آیت 30 میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سے درحقیقت فرشتوں سے مشورہ طلب کرنا مقصد نہیں تھا بلکہ انسانوں کے دل و دماغ میں مشورہ کی اہمیت پیدا کرنا مقصد تھا کہ خالقِ کائنات کے اس عمل کو پوری کائنات میں طریقہ بنایا جائے۔ مگر افسوس کہ آج دیگر اعمالِ خیر کی طرح مشورہ کی سنت بھی ہماری زندگی اور معاشرہ سے رخصت ہو گئی ہے جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ساری محنتوں، مشقتوں اور کوششوں کے باوجود ناکامی ہمارے حصہ میں ہے۔ ہر طرف انفرادی اور اجتماعی جماعتوں میں خلفشار اور انتشار پایا جاتا ہے۔ بسااوقات ناکامی اور نقصان کے بعد مشورہ نہ کرنے پر افسوس بھی ہوتا ہے مگراب کیا حاصل ؟ ضرورت ہے کہ اہم اور قابلِ غور مسائل میں کام کے آغاز سے پہلے ہی مشورہ کو اپنا معمول بنایا جائے تاکہ محنتیں بارآوراور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ یقیناًمشورہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت بھی ہے اور ہزار دینی اور دنیاوی فائدے بھی۔ کاش اُمتِ مسلمہ کی زندگی اور معاشرہ میں مشورہ کی سنت جاری ہوجائے۔

مشورہ کے امور

لیکن اب سوال یہ ہے کہ مشورہ کہاں اور کن چیزوں میں کیا جائے؟ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ جن امور میں شریعت کا فیصلہ متعین ہے کہ یہ چیز فرض ہے یا واجب، حرام ہے یا مکروہ، ان امور میں مشورہ کی ضرورت نہیں بلکہ جائز بھی نہیں ہے۔ جیسے کوئی شخص مشورہ کرے کہ نماز پڑھے کہ نہیں زکوٰۃ دے یا نہیں، حج کر ے یا نہیں، یہ چیزیں مشورہ کی نہیں ہیں۔ ان کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم متعین ہے کہ انکا کرنا ہر حال میں ضروری ہے۔ اسی طرح جن چیزوں کو شریعت نے منع کیا ہے جیسے زنا کاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی وغیرہ ان میں بھی مشورہ کی حاجت نہیں ان سے تو بہر حال رکنا لازمی ہے البتہ طریق کے بارے میں مشورہ کیا جا سکتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کا بیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتاً قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لیے اپنے لوگوں میں سے عبادت گزار فقہا کو جمع کرو اور ان کے مشورے سے اس کا فیصلہ کرو۔ (مصار ف القرآن2/220)
دینی امور کے علاوہ معاشی، معاشرتی ،سماجی، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں بھی مشورہ کو اپنانا چاہیے۔

مشورہ کن سے کیا جائے؟

مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جس کو متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو، چنانچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحبِ نظر عالمِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور روحانی معاملات میں کسی صاحبِ مسمّٰی جامع نور الہدیٰ مرشد کامل اکمل سے تلقین حاصل کرنی چاہیے۔ کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے ڈاکٹر کا انتخاب ہی مفید ہو گا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے کیونکہ تجربے کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتی گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ دونوں میں سے ایک کی غیر موجودگی میں صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
اِسْتَشِیْرُوْا ذَوِی الْعُقْوْلِ تُرْشَدُوْا وَلَا تَعْصَوْہُمْ فَتَنْدَمُوا۔  (مسندِ شہاب۔673) 
ترجمہ: عقلمندوں سے مشورہ کر و کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو ورنہ شرمندگی ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن الحسن نے اپنے صاحبزادے محمد بن عبداللہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ’’جاہل کے مشورہ سے بچو اگرچہ کہ وہ خیرخواہ ہو جیساکہ عقلمند کی دشمنی سے بچتے ہو۔‘‘ (المدخل:6/29)
کسی میں اگر عقل اور تجربہ نہیں ہے تو وہ مشورہ کا اہل ہی نہیں ہے۔ مشورہ کے لیے عقلمند، ماہر اور تجربہ کار ہونے کی شرط لگائی گئی ہے۔ اسلام کی شورائیت اور موجودہ جمہوریت میں یہی بڑا فرق ہے کہ شورائیت کا تعلق اہلیت سے ہے اور جمہوریت کا اکثریت سے۔ جس پارٹی کو اکثر لوگوں نے منتخب کر لیا وہی حکمرانی کی حق دار ہے چاہے ووٹ دینے والے پاگل اور دیوانے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت ایک تباہ کن نظام ہے، عقل و خرد اور تجربہ سے اس نظام کا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ اسلام نے اپنا نظام شورائیت پر رکھا ہے یعنی ماہرین، تجربہ کار اور عقلمندوں کے مشورے سے کوئی فیصلہ صادر کیا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضراتِ شیخین، صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ اور فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ کی رائے کو جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم پر فوقیت دیتے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان دونوں حضرات سے مخاطب ہو کر فرماتے:
ترجمہ: جب تم دونوں کسی رائے پر متفق ہوجاؤ تو میں تم دونوں کے خلاف نہیں کرتا۔ (مسند احمد) 
معلوم ہوا کہ محض کثرت کا شریعتِ اسلامی میں کوئی اعتبار نہیں بلکہ عقل و بصیرت اہم چیز ہے۔
اسی طرح مشورہ کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو متقی اور دیندار ہو، جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہو۔ جس میں عنداللہ جواب دہی کا احساس نہ ہو اس کے مشورہ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی لئے اہلِ علم نے لکھا ہے کہ مشورہ دینے والے کو دیکھنا چاہیے کہ اس میں ہمدردی کا جذبہ ہے یا نہیں۔ اگر ہمدردی کا داعیہ نہیں اور بالخصوص مشورہ لینے والے کے حق میں مشیر کا دل حسد وکینہ اور بدخواہی سے پُر ہو تو اس سے مشورہ ہرگز نہیں لینا چاہئے۔مشورہ لینے کے لیے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ مشیر فکرونظر کے اعتبار سے صالح ہے یا نہیں۔ جذباتی انسان کا مشورہ معتبر نہیں ہو سکتا ۔ جس کا مفاد وابستہ ہو اس سے بھی مشورہ نہ کیا جائے۔ مشورہ لینے والے کو چاہیے کہ سوچ سمجھ کر مشیر کا انتخاب کرے ورنہ مشورہ سے فائدہ کے بجائے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مشیر کے فرائض

1 ۔ جس معاملہ میں اس سے مشورہ لیا جارہا ہے اگراس میں مکمل بصیرت ہو تو مشورہ دے ورنہ صاف کہہ دے کہ مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے اس لیے میں مشورہ کااہل نہیں ہوں۔ یہ کوئی ہتک اور بے عزتی کی بات نہیں بلکہ اس کے اخلاص اور جذبۂ ہمدردی کی بنیاد پر اجرو ثواب کا مستحق ہو گا۔ مشورہ لینے والے کا بھی اعتماد بڑھ جائے گا کہ یہ میرے حق میں مخلص ہے۔ آج کل لوگوں کا یہ مزاج ہے کہ کسی معاملہ کے بارے میں انہیں کچھ علم اور تجربہ ہو یا نہ ہو مشورہ ضرور دے دیتے ہیں اس سے چاہے مشورہ لینے والے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے۔ یہ بات دیانت کے خلاف ہے۔
2 ۔ غوروفکر کے بعد مشیر کا ذہن جس طرف مائل ہو رہا ہو کسی رعایت کے بغیر صاف طور پر اس کا اظہار کر دے یعنی مشیر کا ایک اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے بھائی کا حق سمجھتے ہوئے صحیح مشورہ دے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جان بوجھ کر کسی کے معاملہ کو بگاڑنے کے لیے یا کسی کانقصان کرانے کے لیے مشورہ دینے کو خیانت اور گناہ قرار دیا ہے ۔حدیثِ مبارکہ ہے:
ترجمہ: جس نے اپنے بھائی سے مشورہ کیااوراُس نے اُسے کوئی ایسا مشورہ دیا جس کے علاوہ کسی دوسری بات میں وہ کامیابی سمجھتا ہو تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ (مسند احمد)
3 ۔ مشورہ دینے والے کی ذمہ داری ہے کہ جس معاملہ میں مشورہ لیا گیا ہے اس کو راز میں رکھے لوگوں کے سامنے اس کو ظاہر نہ کرے یہ مشورہ لینے والے اور دینے والے کے درمیان راز کی بات ہوگی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
ترجمہ: جس شخص سے مشورہ کیا جاتاہے وہ امانت دار ہوتا ہے۔ (ترمذی)
جس شخص سے مشورہ لیا جائے اسے امانت داری کا پورا حق اد اکرنا چاہیے۔ آجکل دیگر خرابیوں کے ساتھ ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کسی کے راز کو راز نہیں سمجھا جاتا اور پھر اس کے نتیجے میں جھگڑے ، فسادات ، دشمنیاں اور ناچاقیاں پھیلتی ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کیا جائے اور اتحاد اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کیا جائے۔
4 ۔ مشیر کا کام ہے صرف مشورہ دینا۔ اصرار کرنا یا اپنی رائے تھوپنے کا مزاج درست نہیں ہے۔ مشورہ لینے والے کا مقصد ہوتا ہے کہ مختلف جہتوں سے معاملہ کو پہچانا اور جانا جائے پھر غور وفکر کے بعد کسی ایک پہلو کو اختیار کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ مشورہ طلب کرنے والا مشورہ میں شریک تمام افراد کی باتوں اور خیالات پر عمل نہیں کر سکتا وہ صرف اپنے ذاتی حالات کے اعتبار سے کسی ایک کی رائے کو پسند کر سکتا ہے اس لیے اگر کسی کے مشورہ پر عمل نہ کیا جائے تو اس سے دل گیر اور رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی فیصلہ کا اختیاردیا ہے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت مغیث رضی اللہ عنہٗ سے ہوا تھا ۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا پہلے باندی تھیں جب وہ آزاد کی گئیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شریعت کا حکم سنایا کہ تمہیں اختیار ہے چاہو تو اپنے اس شوہر کے نکاح میں رہو اور چاہو تو علیحدگی اختیار کر لو۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا شوہر سے خوش نہیں تھیں اس لیے انہوں نے علیحدگی کا ارادہ کر لیا۔ ان کے شوہر حضرت مغیث رضی اللہ عنہٗ کو ان سے بہت محبت تھی وہ چاہتے تھے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا علیحدگی اختیار نہ کریں حضرت مغیث رضی اللہ عنہٗ نے بہت کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئیں۔ بالآخر حضرت مغیث رضی اللہ عنہٗ نے حضورِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سفارش کروائی۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! یہ آپ کا مشورہ ہے یا کہ حکم ہے؟ اگر حکم ہے تو انکار کی مجھے جرأت نہیں ہے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا یہ حکم نہیں مشورہ ہے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ’’تو پھر میںآزاد ہوں میری زندگی ان کے ساتھ گزرنی مشکل ہے اس لیے میں ان کے ساتھ علیحدگی اختیار کرتی ہوں‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ (مشکوٰۃ۔276)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بہتر مشورہ دینے والا کون ہوسکتا ہے لیکن چونکہ مشورہ تھا اس لیے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے نہ ماننے پر آپ نے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا ۔موجودہ دور کے لیے یہ حدیث بڑی سبق آموز ہے ذاتی رائے کو عام لوگوں پر مسلط کرنے کا مزاج عام ہوگیا ہے جس کے سبب بدنظمی اور بدعنوانی کا ہر طرف ایک سیلاب ہے۔ اپنی رائے کو محض ایک معمولی رائے سمجھنا چاہیے نہ کہ قولی فیصلہ تاکہ مشورہ کا حقیقی فائدہ حاصل ہوسکے ۔

مشور ہ میں عمرکی قید نہیں

ہر وہ شخص جس میں مشورہ کی اہلیت پائی جاتی ہو یعنی عقلمند، تجربہ کار، متقی، مخلص اور نیک نیت ہو تو اس سے مشورہ لیا جاسکتا ہے خواہ کم عمر ہو یا زیادہ، مشورہ کے لیے عمر کی کوئی قیدنہیں ہے۔ سیّدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہٗ بعض اوقات حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ کی رائے پر فیصلہ نافذ فرماتے تھے۔ معلوم ہوا کہ چھوٹوں سے مشورہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اپنے اہل و عیال سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب مسلمان عمرہ کرنے سے روک دیے گئے تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو احرام کھولنے کا حکم دیا تو صحابہ کرامؓ احرام کھولنے میں پس و پیش کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا۔ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ حضرات صحابہؓ جذبات اور جوش کے عالم میں مغلوب ہیں اس لیے ان کے طرزِ عمل کا کچھ خیال نہ کیجئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اپنا احرام کھول دیں۔ یہ مشورہ کامیاب ہوا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں احرام کھول دیے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عمر میں چھوٹی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیوی تھیں لیکن ضرورت پڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے مشورہ کیا۔
حاصل تحریر یہ کہ کوئی بھی فعل سرانجام دینے سے پہلے مشورہ کر لینا چاہیے کیونکہ یہ حکمِ الٰہی بھی ہے اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی اور اولیا کاملین کا طریق بھی۔ اس سے کام میں برکت بھی ہوتی ہے اور اللہ کی مدد بھی شاملِ حال ہوتی ہے۔ 
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اپنے دینی و دنیاوی امور میں مشورہ کرنے اور دوسروں کو بہترین مشورہ دینے کی توفیق عطا کرے۔
استفادہ: ماہنامہ دارالعلوم اگست ستمبر2014

اپنا تبصرہ بھیجیں