Sultan Bahoo

نصرتِ دین محمدیؐ |Nusrat Deen e Mohammadi

نصرتِ دین محمدیؐ 

تحریر: محمد یوسف اکبر سروری قادری 

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن 
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا 
( مولا نا ظفر علی خان )

تمام مخلوقات کے خالق و مالک ربّ العالمین جل جلالہٗ کی بڑائی بیان کرنے کے بعد درود حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جن کی خاطر اللہ جلّ شانہٗ نے یہ ساری بزم سجائی اور سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پر آپ کے اصحابؓ پر اور امہات المومنینؓ پر جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر اور اطاعت اختیار فرماکر شمأ رسالت کے پروانوں کا کردار ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دعوتِ توحید و رسالت میں معاون رہے۔ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد مخلوق کی ہدایت ضروری تھی اس لیے اللہ تعا لیٰ نے اپنے پاکیزہ اور مقبول بندے انبیا مبعوث فرمائے جنہوں نے اللہ ربّ العزت کی تعلیم و ہدایت دوسرے انسانوں تک پہنچائی اور آج دنیا میں نیکی اور پاکیزگی کی جو شعائیں دکھائی دیتی ہیں وہ ان ہی انبیاکرا م علیہم السلام کی مرہونِ منت ہیں۔ خدا کی عظمت کا احساس، اچھے بُرے کی تمیز، عدل و انصاف کی قدر حتیٰ کہ آزاد خیال بے دین ملحد لوگوں کی نیکو کاری بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ انبیا کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے۔ دورِ حاضرمیں اولیا اللہ وارثینِ انبیا ؑ ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَللّٰھُمَّ انْصُرْ مَنْ نَّصْرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍؐ وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ وَاَخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍؐ وَلَا تَجْعَلْنَامِنْھُمْ ترجمہ : اے اللہ! دینِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد کرنے والوں کو فتحیاب کر اور ہمیں ان میں شامل فرما اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد سے ہاتھ روکنے والوں کی مدد سے ہاتھ روک لے۔ اور ہمیں ان میں سے نہ بنا۔

قارئین کو یہ معلوم ہوناچاہیے کہ صادق طالبانِ مولیٰ آج بھی مجلسِ محمدیؐ سے فیوض و برکات اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔ سروری قادری مرشد اسم با مسمّٰی ہوتا ہے اور مندرجہ بالا حدیث میں دینِ محمدیؐ کی مدد کر نے والوں میں شامل ہوتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں اس گروہ کو فتح یاب کرنے کی دعا دی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کہ ہمیں ان میں شامل فرما۔ جیسا کہ سورۃ الفاتحہ میں فرمایا گیا ہے:
*اِھْدِنَا صِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ  (الفاتحہ۔5-6)
ترجمہ : ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا۔
یہ دعا مبارکہ جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے اس کے دو حصے ہیں پہلا حصہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین کی مدد کرنے والوں کے لیے کا میابی و کا مرانی اور فتح یابی کی دعا کا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ہمیں بھی اس گروہ کا حصہ بنا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دینِ متین کی کا میابی و کامرانی کے لیے جہد مسلسل میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی راستہ ہے جو صراطِ مستقیم ہے۔ یہی ان لوگوں کا راستہ ہے جو اللہ ربّ العزت کی طرف سے انعام یا فتہ ہیں۔ وہ حسنِ عمل کے پیکر اور اخلاقِ حسنہ کے حامل ہو تے ہیں۔ عظمتِ بشر سے متصف ہوتے ہیں۔ انسانیت کے مر تبے کو سمجھتے ہیں، انسانوں اور انسانیت کی بھلائی اور کامیا بی کے لیے ہمہ تن کوشاں رہتے ہیں اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معا ون ہوتے ہیں ۔ انسا نیت کا درد اپنے دل میں لیے اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ کے جلو ؤں کو روشن کرنے کے لیے دن رات ، صبح وشام کو شاں رہتے ہیں ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے 

فرشتہ کہنے سے میری توقیر گھٹتی ہے 
مسجودِ ملائک ہوں مجھے انسان رہنے دو 
*****
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے 
میں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بند وں سے پیار ہو گا 

دینِ محمدیؐ کے لیے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کا ایثار و مدد

اُم المو منین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کو اسلام کی خا تونِ اوّل، حقیقی محسنِ دین متین، زوجہ اوّل خاتم النبیینؐ بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ حضرت خد یجہ رضی اللہ عنہا نے تمام مسلمان مرد و خواتین میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ حضرت خدیجہؓ نے اسلام اور اہلِ اسلام کی مالی اور اخلاقی طور پر بے پناہ مدد کی اور مجلسِ محمدی ؐ، دینِ محمدیؐ، نصرتِ دینِ محمدیؐ اور الفتِ محمدیؐ کے بے مثل و بے مثال انعامات سے سر فراز ہوئیں۔ یہ انعا م صرف با رگاہِ مصطفویؐ سے اُم المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰؓ نے حاصل کیے اور انعام یافتہ خواتین میں سب پر بازی لے گئیں۔ خاتونِ اوّل شناسۂ نبوت نے صرا طِ مستقیم فقط اختیار ہی نہ کیا بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت کی تا ئید میں اوّلین ٹھہریں اور آپؓ نے ہمیشہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہر آزمائش اور مشکل گھڑی میں صبر و استقامت سے ساتھ دیا۔ حضو ر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت آپؓ کا شعار رہا۔ دینِ محمدیؐ کی مدد آپ کا منفرد وصف رہا۔ آپؓ کا ایثار فقید المثال ہے۔ حضرت خدیجہؓ مرسلِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شریکِ حیات بننے سے قبل بھی پاکیزہ خاتون تھیں۔ دورِ جاہلیت میں بھی طاہرہ اور سیّدہ قریش کے لقب سے جانی پہچانی جاتی تھیں۔ آپؓ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دست و بازو رہیں۔ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا ’’خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے بہتر مجھے کو ئی بیو ی نہیں ملی۔ انہوں نے ایمان لاکر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی۔ انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محرو م رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے اللہ تعا لیٰ نے مجھے اولاد کی نعمت سے سر فراز فرمایا جبکہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہو ئی جو زندہ رہی۔‘‘ اس سے ہمیں اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی اسلام سے وابستگی اور دینِ محمد ی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرو غ میں بے پناہ حمیت اور لازوال کردار کا پتہ چلتا ہے جو ہماری خواتین ہی نہیں بلکہ تمام مسلم طبقات کی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سب سے پہلے حق کو پہچانا اور سب پر سبقت لے گئیں، سب سے بڑھ کر دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر لحاظ سے مدد کی اور معاونِ تبلیغ ِ دین کا فرض نبھایا ۔

حضرت صدیقِ اکبرؓ کا کردار 

حضرت سیّدنا صدیق اکبرؓ حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد آزاد مردوں اور با لغ افراد میں سب پہلے اسلام قبول کر نے والے ہیں اور حق کی پہچان کرنے والے کہلائے۔ 
سیّدنا صدیقِ اکبرؓ ملک شام تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے وہاں آپؓ نے ایک خواب دیکھا جو بحیرا نام راہب کو سنایا۔ اس نے آپؓ سے پوچھا ’’تم کہاں سے آئے ہو‘‘۔ آپؓ نے فرمایا ’’مکہ سے‘‘۔ اس نے پھر پوچھا ’’کون سے قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘ فرمایا ’’قریش سے‘‘۔ پوچھا ’’کیا کرتے ہو؟‘‘ آپؓ نے فرمایا ’’تاجر ہوں‘‘۔ وہ راہب کہنے لگا ’’اگر اللہ نے تمہارے خواب کو سچ فرما دیا تو وہ تمہاری قوم میں ایک نبی مبعوث فرمائے گا۔ اس کی حیات میں تم اس کے وزیر ہوگے اور وصال کے بعد اس کے جانشین‘‘۔ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس خواب اور واقعہ کو پوشیدہ رکھا اور اس کا تذکرہ کسی سے نہیں کیا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کا اعلان فرمایا تو یہی واقعہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے بطور دلیل پیش کیا۔ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گلے لگا لیا اور فرمایا ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں‘‘۔
مختصر یہ کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اسلام قبول کرنے والے مردوں میں سب سے سبقت لے گئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معاونِ خصوصی اور راہِ حق کے پہلے مرد بنے اور یارِ غار کا لقب حاصل کیا ۔ آپؓ نے اپنی تمام تر توا نائیاں دینِ محمدیؐ کی مدد کر نے میں صَرف کر دیں۔ صحیح بخاری میں ایک واقعہ کا ذکراس طرح سے ہے۔ ایک روز نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کعبہ میں مقامِ ابرا ہیم کے پاس نماز ادا فرما رہے تھے۔ یکایک عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی گردن مبارک میں چادر ڈال کر بل دینا شروع کر دیا تا کہ گلہ گھو نٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شہید کر ڈالے۔ اتنے میں ابو بکر صدیقؓ پہنچے ، انہوں نے دھکا دے کر عقبہ کو پیچھے ہٹا دیا۔ اور قرآنِ کریم کی اس آیت مبارکہ کو پڑھا :
ترجمہ :’’ کیا تم ایک آدمی کو محض اس بنا پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا معبود اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پاس اس دعویٰ پر تمہا رے ربّ کی طرف سے واضح دلیل لے کر آیا ہے۔‘‘
مشر کین آ پ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھو ڑ کر حضرت ابو بکر صدیقؓ پر ٹوٹ پڑے اور آپ کو مار مار کر لہو لہان کر دیا۔ (بخاری )
حضرت علیؓ سے مسند بزاز میں روایت ہے کہ ایک مر تبہ مشر کینِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گھیر لیا۔ وہ بدبخت کہتے تھے کہ تم ہی وہ شخص ہو جو صرف ایک معبو د کی پرستش کا حکم دیتے ہو۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو مشر کینِ مکہ کے مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی۔ لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ مردانہ وار اور پر وانہ وار اور دیوانہ وار آگے بڑھے، مشر کین کو مارتے، پیٹتے، گراتے اور ہٹاتے ہوئے رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم داعیٔ حق تک جا پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان ظالموں کے نرغے سے نکال لیا ۔ گو یا آپؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سکیورٹی اور محافظ کا فریضہ بھی انجام دیا ۔ اس طرح صدیقِ اکبرؓ کا دینِ محمدیؐ کی مدد کر نے والے آزاد مردوں میں اوّلین اور مرکزی کردار ہے اور ترویجِ دین میں آپؓ معاونِ خصوصی کے فرائض ادا کر نے والے ہیں۔ اسی طرح صرف اجمالاً ذکرکیا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے ایمان لانے کے بعد اپنی شجاعت و جرأت اور راست گوئی سے دینِ محمدیؐ کی مدد کی اور حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے مال سے مدد کی۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر سیّد نا عمر فارو قؓ نے آدھا ما ل اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے گھر کا سارا مال اپنے رہبرِ حقیقی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم پر پیش کیا ۔ حضرت عثمان غنیؓ نے دس ہزار مجا ہدوں کو سامانِ جہاد، دس ہزار اشرفیاں، نو سو اونٹ اور سو گھو ڑے مع سامان پیش کئے اور دینِ محمدیؐ کے مدد گار بنے اور دینِ متین کی فتح و کامرانی کے لیے اپنی جان اور مال سے ہمیشہ حاضر رہے ۔

اہلِ یثرب کا کردار ( موجو دہ مدینہ منورہ )

اہلِ یثرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو محض پناہ دینے کے لیے نہیں بلکہ نائبِ خدا اور پیغمبر اور اپنے امام وفرما نروا کی حیثیت سے یثر ب بلا رہے تھے۔ ان کا مقصد اسلام کے پیرو کاروں کو ایک اجنبی سر زمین میں محض مہا جر ہونے کی حیثیت سے جگہ یا پناہ فراہم کرنا نہ تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں موجود مسلمان یثرب میں جمع ہو کر یثربی مسلمانوں سے مل کر منظم معا شرہ قائم کریں۔ اس طرح اہل یثرب نے دراصل خود کو ’’ مدینۃ الاسلام‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے قبول فرما کر عرب میں پہلا مرکز امن ’’دارالسلام‘‘ بنا لیا۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یثرب لے جانے اور مستقل سکونت اختیار کر نے کی پیش کش کے معنی جو کچھ تھے اس سے اہلِ یثرب نا واقف نہ تھے ۔ اس عمل کا صاف مطلب یہ تھا کہ ایک چھوٹا سا قصبہ اپنے آپ کو پورے ملک کی تلواروں اور معاشی و تمدنی بائیکاٹ کے مقابلے کے لیے پیش کر رہا ہے۔ چنانچہ بیعتِ عقبہ کے مو قع پر رات کی اس مجلس میں اسلام کے ا وّلین مدد گاروں (انصار ) نے اس نتیجہ کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا ۔ عین اس وقت جب بیعت ہو رہی تھی یثربی وفد کے ایک نو جوان رکن اسد بن زرار نے اٹھ کر کہا ’’ٹھہرو اہلِ یثرب ہم ان کے پاس آئے ہیں تو یہ سمجھ کر آئے ہیں کہ یہ اللہ کے سچے رسو ل ہیں اور ان کو یہاں سے نکال کر اپنے پاس لے جانا پورے عرب سے دشمنی مول لینے کے مترادف ہے ۔اس کے نتیجے میں تمہارے نو نہال مشکل میں پڑ جائیں گے ۔ تلواریں تم پر برسیں گی۔ لہٰذا اگر تم اپنے اندر اس کو برداشت کر نے کی طاقت رکھتے ہو تو ان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا ہاتھ تھام لو اور اس کا اجر اللہ ربّ العزت کے ذمہ ہے اور اگر تمہیں اپنی جانیں زیادہ عزیز ہیں تو پھر آج ابھی اور اسی جگہ صاف صاف عذر کر دو کیو نکہ اس وقت عذر کر دینا خدا کے نزدیک زیادہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔‘‘ اسی بات کو وفد کے ایک دوسرے رکن عباس بن عبادہ بن فضلہ نے بھی دہرایا۔ ’’جانتے ہو اس شخص (یعنی نبی اکرمؐ) سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ تم ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے دنیا بھر سے ٹکر لے رہے ہو ، پس اگر تمہارا خیال یہ ہو کہ جب تمہارا مال تباہی اور تمہارے اشراف ہلاکت کے خطرے میں پڑ جائیں تو تم ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دو گے تو بہتر ہے آج ہی چھوڑ دو کیونکہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ہو گی کہ داعیِ حق کی اگر تم نے مدد نہ کی یا مدد نہ کر سکے۔ اور اگر تمہارا ارادہ یہ ہے کہ تم ان کو بلاوہ دے رہے ہو اور اپنے اموال اور اپنے اشراف کی قربانی وہلاکت کے با وجود نباہ کر سکو گے تو بے شک ان کا ہاتھ تھام لو اور خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی (فلاح) ہے۔‘‘ اس پر تمام وفد نے کہا کہ ہم اپنے اموال اور اشراف کی ہلاکت (قربانی ) میں ہاتھ ڈالنے کے لیے تیار ہیں تو تب یہ مشہور بیعت واقع ہو ئی جسے تاریخ میں بیعتِ عقبہ ثانی کہتے ہیں ۔ اور یہ اہلِ یثرب کی دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اس کے ماننے والوں کی ریاستی طور پر منظم مدد تھی جس کی تاریخ میں کو ئی دوسری مثال ملنا نا گزیر ہے۔ ان کی جرأت و استقامت نے بالآخر مسلمانوں کو فتح سے ہمکنا رکیا ۔

مسلمانوں پر کفار کی ایذا رسانی

کفار کا یہ شیوہ ہے کہ مسلما نوں پر ظلم کے پہا ڑ توڑ ے جا تے رہے ہیں، چنانچہ کفار و مشرکینِ مکہ نے بھی مصائب و آلام کی روایت کو جاری رکھا اور مسلمانوں کو خوب ستایا۔ کسی کو گرم تپتی ریت پر لٹایا جاتا اور سینے پر پتھر رکھ دیا جاتا ، کسی کے گلے میں رسی باندھ کر گلیوں، بازاروں میں گھسیٹا جاتا۔ قریشِ مکہ کسی کو پانی میں غوطہ دیتے اور کسی کو جلتے ، دہکتے کو ئلوں پر لٹاتے۔ ان مظالم کی وجہ سے بعض مسلما نوں کو شہید بھی کیا گیا ۔ چنانچہ حضرت حارثؓ بن حالہ کا خون اسی سلسلے میں ناحق بہایا گیا۔ حضرت یاسر رضی اللہ عنہٗ کو اذیتیں دے کر شہید کر دیا گیا اور ظلم و بربریت کی حد تو یہ ہے کہ ایک مسلمان کو دو گھوڑوں سے باندھ کر ان گھوڑوں کو دو مخالف سمتوں میں دوڑایا گیا اور اس طرح ان صحا بئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دو ٹکڑے کر دیے گئے۔ کفارِ مکہ کے ظلم اور بربریت کا یہ سلسلہ صرف عام مسلمانوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس ایذا رسائی سے صاحبِ حیثیت اور صاحبِ ثروت مسلمان بھی محفو ظ نہ رہے ۔حضرت عثمانِ غنیؓ کو زنجیروں میں جکڑ کر مارا گیا ۔ حضرت زبیرؓ کی ناک میں دھواں دیا گیا اور حضرت مصعبؓ کو عریا ں کر کے گھر سے نکال دیا گیا ۔ اور خود داعئ حق حضور خیر البشر رسولِ خداصلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم بھی ان بدبختوں کے ظلم وستم سے محفوظ نہ تھے ۔ مگر حق پر ستوں نے حق کا اور داعئ حق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور ان کے پائے استقامت میں ذرّہ برابر بھی لغزش نہ پیدا ہو سکی بلکہ مسلمانوں کی تعداد میں روز بروز اضا فہ ہو تا گیا ۔ اس طرح دینِ محمدیؐ کی مخالفت اور توہین کرنے والوں کو ہر ظلم و جو رو ستم پر شرمندگی کا سامنا تھا۔
مؤرخِ اسلام اکبر خاں نجیب آبادی کے الفاظ ہیں ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اعلانیہ تبلیغ کا یہ نتیجہ ہوا کہ تمام کفار ومشرکینِ مکہ مخالفت اور ظلم و بربریت سے مسلمانوں کے درپے ہو گئے۔ کفر اور اسلام کی یہ اعلانیہ کشمکش نبوت کے اعلان کے چو تھے سال ہی شدت اور زور و شور سے شروع ہو گئی ۔‘‘
اعلانِ توحید واعلانِ نبوت ،تبلیغِ دین متین کے بعد سارے اہل مکہ کفار و مشرکین آنحضرت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیروکاروں کے سخت مخالف ہو گئے تھے لیکن ان میں سے دشمنی اور توہینِ دین کرنے میں جو لو گ بہت آگے بڑھ گئے ان کے متعلق مختصراً و اجمالاً وضاحت پیشِ خد مت ہے اور ان کے عبرت ناک انجام کی بھی نشاندہی کر تا ہوں ۔
1۔عبدالعزیٰ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حقیقی چچا تھا اور کنیت اس کی ابو لہب تھی۔ اس بد بخت نے اولادِ عبدالمطلب کی دعوتِ طعام اور کوہِ صفا کے وعظ، ہر دو موا قع پر حضور پُرنور علیہ الصلوٰۃوالسلام داعیِ حق کی اعلانیہ مخالفت کی اور اس بد بخت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دو صاحب زادیوں کو اپنے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے طلاق دلوائی۔ عکاظ ہویا ذوالمجاز جس بازار یا میلے پر حضور پرُنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تبلیغِ دین کے لیے تشریف لیجاتے یہ بدبخت تعاقب کرتا اور لوگوں کو گمراہ کر تا۔ اس بدبخت کی بیوی اُمِ جمیل حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے راستے میں کا نٹے بچھا تی تھی ۔ 
غزوہ بدر کے چند روز بعد ابولہب بیمار پڑا اور مر گیا۔ اس کی لاش تین دن تک پڑے پڑے سڑ گئی ۔پھر حبشی مزدوروں نے اجرت لے کر اس کی لاش کو ایک گڑھے میں پھینک دیا۔ قرآنِ کریم کی سورۃ لہب بھی اسی کے متعلق نازل ہوئی۔
2 ۔ ابوجہل، یہ وقت کا فرعو ن اور ملعون تھا۔ اس کا اصل نام عمرو بن ہشام اور کنیت ابوالحکم تھی۔ لیکن ر سولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کی اسلام دشمنی و مخالفت کے سبب اس کو’’ ابوجہل ‘‘کا لقب دیا۔ غزوۂ بدر کی آگ اسی نے بھڑکائی اور دو جواں سال انصار لڑکوں نے غزوہ بدر کے دوران اس بدبخت کو واصلِ جہنم کیا ۔
3۔ اُمیہ بن خلف: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علی الاعلان گالیاں دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی توہین کرتا، یہ بھی غزوہ بدر میں حضرت خبیبؓ یا حضرت بلالؓ کے ہاتھ سے واصلِ جہنم ہوا۔
4 ۔ ابی بن خلف: ابی بن خلف اسلام دشمنی میں اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چلا اور غزوہ احد میں ہلاک ہوا ۔
5 ۔ عقبہ بن ابی معیط: اس نے (معا ذاللہ ) آنحضرت کی گردن میں چادر ڈال کر بل دینے کی ناپاک جسارت کی۔ غزوۂبدر میں گرفتا ر ہو کر قتل ہوا۔
6۔ ولید بن مغیرہ:سردارِ قریش اپنی دولت مندی اور تمول پر بڑا نازاں وفا خر تھا۔ اس کا انجام بھی بڑا عبرتنا ک ہوا۔
7۔ ابو قیس : ابو جہل کا سا تھی و معا ون تھا۔ غزوۂ بدر میں ما را گیا ۔
8 ۔ عا ص بن وائل: یہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ( معاذ اللہ) ابتر (بے اولاد) کہتا تھا مگر کسی جانور کے کاٹنے سے ہلاک ہوا۔
غور کیجیے قارئین کرام کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پیروکاروں اور دینِ محمدیؐ کی مدد کرنے والوں اور اس راہِ حق میں اذیت برداشت کرنے والوں کو اللہ ربّ العزت نے فتح یاب کیا اور دنیا و آخرت میں بلند درجات عطا کیے۔ جبکہ دین محمدیؐ کی توہین کرنے والوں کو ذلیل و رسوائے زمانہ ماضی میں بھی اللہ ربّ العزت نے کیا اور دورِ حاضر میں بھی وہ ذلیل و خوار اور رسوا ہیں اور روزِ قیامت بھی ان کا شمار گستاخوں اور بدبختوں میں ہو گا۔ آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نام لیوا تولاکھو ں کروڑوں موجود ہیں البتہ دینِ محمدیؐ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’ ابتر ‘‘ (بے اولاد) کہنے والے نشانِ عبرت بن گئے اور ان کا کو ئی پیروکا ر اور نام لیوا نہیں۔ 
داعئ اعظم مجسمِ یقینِ کامل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت و تبلیغ کا ایک رُخ یہ ہے کہ حالات چاہے کتنے بھی روح فرسا، مایوس کن اور ناساز کیوں نہ ہوں، مخالف ہوا کتنی ہی تندو تیز کیوں نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپکے پیروکاروں کا حوصلہ کبھی شکست نہیں کھاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے کلمہ گو مسلمانوں کو اپنی دعوت و تبلیغ کی کامیابی کا کامل یقین ہوتاہے۔ اقبالؒ نے کیا خوب کہا:
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب 
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے 
سراقہ بن نوفل جس نے ہجرتِ مدینہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تعاقب کیا مگر اس کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر زمین میں دھنس گیا۔ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے معافی کا خواستگار ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’سراقہ میں تمہارے ہا تھوں میں کسریٰ ایران کے طلا ئی کنگن دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس وقت سراقہ بن نو فل کا جو بھی ردِعمل ہو مگر اس نے زندگی میں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا علمِ غیب اور یقین بلاشک کامل ہے کیونکہ فارس کے طلائی کنگن سراقہ نے اپنے ہاتھوں میں پہنے۔ یہ غیر متزلزل یقین ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل میں نورِ خدابن کر چمکتا دمکتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں کے دلوں میں عزیمت و استقامت کی لو روشن کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا ۔ اسی کامل یقین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دعوتِ حق کی توسیع و اشاعت کے منصوبے ترتیب دیتے اور اس دعوتِ حق کے نتیجے میں قائم ہو نے والی جماعت کے ذریعے اسلامی ریاست (مدینہ منورہ) کے تحفظ اور دفاع کا سازو وسامان کر تے۔ دشمن کے مقابلے میں افواج بھیجتے اور اسکی معاندانہ سر گرمیوں کو کچلنے کی تدبیریں فرماتے۔ اللہ ربّ العزت نے دین کے ان معا و نین کو تمام دنیا میں ممتاز کیا۔ تو ہین اور مخالفت کر نیوالوں کو ذلیل و رسوا کیا ۔

حالاتِ حاضرہ اور ہمارا کر دار 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر دور میں ہر ملک اور ہر مقام کے اہلِ ایمان اور دینِ محمدیؐ کے پیرو کاروں کے رہنما و قائدِ حقیقی ہیں۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے دوسرے پہلو ہمارے لیے واجب الاتباع ہیں وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی داعیانہ زندگی بھی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ اسلامی معاشرے میں ایک ایسی جماعت کا ہونا لازمی ہے جو دعوتِ حق کا پر چم لے کر اُٹھے۔اس دعوتِ حق کے داعی افراد اور جما عت کے لیے لازمی ہے کہ اپنی جدوجہد کے ہر مر حلے میں قدم قدم پر قائدِ حق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی زندگی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عملی کردار کے سانچے میں ڈھال لیں اور اپنا طریقہ کار اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روشنی میں وضع کریں۔ وہ طریقہ کار جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود اپنایا اور جس پر چل کر ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا جس نے تاریخ و تہذیب و تمدنِ انسانی کی کا یا پلٹ کر رکھ دی ۔ 

سلطا ن العا شقین داعی حق ، ہمارے لیے مشعلِ راہِ حق 

تحریک دعوت فقر کے بانی، صاحبِ سعادت، حضور سلطان العاشقین مجد دِ دین، رہبر سالکین و عاشقین و طالبِ مولیٰ، واقفِ اسرارِ فقر، امام العصر حضرت سخی سلطان محمد نجیب   الر حمن مدظلہ الاقدس دعوتِ فقر کی تعلیمات کے فروغ اور ترویج کے لیے شب و روز کو شاں ہیں۔ اور شنا سا نِ حق سالکانِ طریقت کی پیاس اور تشنگی کو تسکین فراہم کر رہے ہیں۔ اپنے تبلیغی دوروں کے ذریعے اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ کے فیضِ طریقت کو عام کر رہے ہیں ۔ تمام تشنگانِ حق و صداقت کو دعوتِ عام ہے کہ حضور سلطان العاشقین کی تحریک دعوتِ فقر کے ممبر بن کر حق کی پہچان کی جائے اور اس دین متین کی ترویج و اشاعت میں معاون بنا جائے جس سے دائمی کامیابی و کامرانی کے دروازے کھلتے ہیں۔

جد ل و مناظر ہ سے اجتناب 

حضور سلطان العا شقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تحریک دعوتِ فقر کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں لیکر گامزن ہیں۔ جس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ طریقِ دعوت اپنایا کہ مناظرے اور بحث و مبا حثہ سے ہمیشہ دامن بچاتے کیونکہ منا ظرہ اور بحث و مباحثہ دراصل خود راہِ حق میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے اس لیے کہ مخالفین اپنی بات کی تائید میں اپنی ساری قوتیں صَرف کر دیتے ہیں اور اپنے دلائل کمزور پاکر جھنجھلاہٹ اور تلخی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ مدِ مقابل حق پرست کی بات پر سنجیدگی اور متانت سے توجہ دینے کی بجائے اس کی ہر حالت میں کا ٹ کر نے، رد کر نے کی فکر میں رہتے ہیں اس طرح فریقین ذہنی کشمکش میں لگ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو پچھاڑنا، شکست دینا ان کا مقصودِ اصل بن جاتا ہے اور حق دب جاتا ہے۔ حضور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوۂ حسنہ اور قرآنِ کریم کے ارشاد مبارک وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ: ترجمہ : ’’اچھے طریقہ پر پندو نصیحت کرو‘‘ پر عمل پیرا ہیں۔ بڑے دھیمے انداز میں مخاطب میں جھنجھلاہٹ کی کیفیت پیدا کیئے بغیر اپنی دعوتِ اسمِ اللہ ذات اس طرح پیش کر تے ہیں کہ ذہن اور قلب دونوں اسے سننے اور ماننے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ عقلی استدلال کے ساتھ طالبِ مو لیٰ کے قلب کے تاروں پر بھی ضَربِ اسمِ اللہ ذات ، نفی اثبات لگاتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اصل انقلاب قلب کی تبدیلی سے ہی آتا ہے۔ اس انقلاب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسوۂ حسنہ اہم ترین کردار ادا کر تا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان با ھو نے ؒ کیا خو ب فرمایا : 

الف اللہ چنبے دی بو ٹی میرے من وچ مرشد لائی ھُو
نفی اثبات دا پانی ملیس، ہر رگے ہر جا ئی ھُو

دعوتِ حق کے لیے فطر ی طریقہ: داعیِ حق و صداقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے دعوتِ حق کی تو سیع و اشاعتِ دین کا فطری طریقہ اختیار کیا اور مر حلہ وار اقدامات سے دعوتِ حق کا آغاز کیا۔ گھر والوں، رشتہ داروں اور قریبی رفقا سے دعوتِ دین حق کی ابتدا کی، پھر اس کا دائرہ کار بتدریج بڑھایا گیا اور یہ سلسلہ پھیلتا گیا، پہلے مختلف قبائل میں پھر گردو نواح کے علاقوں کی طرف تو جہ دی۔ سعید و سعادت مند روحیں اس دعوت پر ایمان لے آئیں اور شیاطین پرست ارواح نے مخالفت کی۔ دورِ حاضر بھی اس طرح کی ہی دعوت و تبلیغ کا متقا ضی ہے کہ فطری انداز میں دعوتِ حق کو پھیلایا جائے۔ سعادت مند ارواح ضرور بہرہ ور ہوں گی اور دین کی مدد کرنے والوں میں شامل ہو ں گی۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں ارواحِ سعید میں شامل فرمائے اور دین محمدی ؐ کا معاون بنائے۔ آمین 

اپنا تبصرہ بھیجیں