اقبال ؒکا تصورِ خودی اور جدید ٹیکنالوجی Iqbal ka Tasawur e Khudi aur Jadeed Technology

5/5 - (1 vote)

اقبالؒ کا تصورِ خودی  اور جدید ٹیکنالوجی
 Iqbal ka Tasawur e Khudi aur Jadeed Technology

تحریر: امامہ رشید سروری قادری۔ لاہور

انسان کی تخلیق کسی اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ یہ مقصد انسان کو صرف جسمانی وجود کے درجے سے اٹھا کر ایک روحانی ہستی بناتا ہے جو نہ صرف اپنے خالق کی معرفت حاصل کرتی ہے بلکہ کائنات میں اس کے ارادے کی نمائندہ بھی بنتی ہے۔ اسی شعورِ ذات، اسی روحانی آگہی اور اسی مقصد ِزندگی کو علامہ اقبالؒ نے ’’خودی‘‘ کا نام دیا۔ اقبالؒ کے نزدیک خودی انسان کی وہ باطنی قوت ہے جو اسے اپنی اصل پہچان دلاتی ہے۔ جب یہ خودی زندہ رہتی ہے تو انسان زمین پر خلافتِ الٰہیہ کے منصب کا اہل بنتا ہے اور جب یہ سو جاتی ہے تو وہ دوسروں کا غلام بن جاتا ہے۔

قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (سورۃ الحجر۔ 29)
ترجمہ: میں نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ 

یہی روح انسان کو عظمت عطا کرتی ہے۔ اقبالؒ اسی روحانی نسبت کو بنیاد بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی کوئی خود غرضی نہیں بلکہ وہ شعور ہے جو انسان کو اللہ کی مشیت کے تابع کر کے خودمختار بناتا ہے۔

بقول اقبالؒ:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ خودی انسان کو اپنی تقدیر کا خالق بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنی ذات کو فنا کر کے اللہ کی رضا میں زندہ رہتا ہے۔
اقبالؒ کے فلسفے میں خودی محض نظری تصور نہیں بلکہ ایک عملی نظامِ حیات ہے۔ یہ انسان کو سستی، مایوسی اور غلامی سے نکال کر عمل، علم اور یقین کی راہ دکھاتی ہے۔ 

اقبالؒ فرماتے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خودی صرف فرد کی بیداری نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بدلنے کا راز بھی ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک خودی کی تعمیر تین بنیادوں پر ہوتی ہے: علم، عشق اور عمل۔ علم انسان کو بصیرت دیتا ہے، عشق اسے قوتِ پرواز بخشتا ہے اور عمل اس بصیرت و جذبے کو حقیقت میں ڈھال دیتا ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک علم اگر عشق سے خالی ہو جائے تو خشک عقل بن جاتا ہے اور عشق اگر علم سے جدا ہو جائے تو اندھی جذباتیت۔ اسی توازن کا نام خودی ہے۔

خودی کی سب سے بڑی دشمن غلامی ہے۔ اقبالؒ نے غلامی کے خلاف ہمیشہ علم و عمل کے ذریعے جہاد کی دعوت دی۔ وہ نوجوان کو شاہین جیسا دیکھنا چاہتے ہیں — ایک ایسی مخلوق جو بلند پرواز کرتی ہے، پہاڑوں کی چوٹیاں اس کا مسکن ہیں اور وہ کسی آشیانے کی قید برداشت نہیں کرتی۔ شاہین کی طرح آزاد، خوددار اور جری نوجوان ہی ملت کی امید ہیں۔قرآنِ مجید میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ  (سورۃ الاسرا۔70)
ترجمہ:اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔
اقبالؒ کے نزدیک یہ عزت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب انسان اپنی خودی پہچانے۔ 

مزید فرماتے ہیں:

اگر خودی نہ رہی تو سمجھ کہ خاک ہے توُ
اگر خودی ہے تو سب کچھ ہے توُ خدا کی طرح

خودی کا مقصد انسان کو خود پسند بنانا نہیں بلکہ اس کی روح کو اللہ کے رنگ میں رنگ دینا ہے۔ جب خودی اپنی معراج کو پہنچتی ہے تو انسان اپنی ذات کو اللہ کی رضا کے تابع کر لیتا ہے۔ یہی وہ خودی ہے جسے اقبالؒ نے ’’انسانِ کامل‘‘ کی صورت میں پیش کیا۔

جدید دور میں جب انسان ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی سے دوچار ہے، اقبالؒ کا یہ پیغام اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ آج انسان نے علم کے ذریعے کائنات کو تسخیر کر لیا ہے، لیکن خود اپنے اندر کا سفر بھول گیا ہے۔ Artificial Intelligence، Robotics ، Biotechnology، اورMedia Digital نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے مگر انسان کو اپنی اصل سے دور کر دیا ہے۔

قرآن کہتا ہے:
سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ    (سورۃ فصلت ۔ 53)
ترجمہ: ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔
سائنس انہی آفاقی نشانیوں کا مطالعہ ہے تاہم اگر یہ مطالعہ خالق سے غافل ہو تو یہ انسان کو فتنہ و فساد میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اقبالؒ نے علم اور ٹیکنالوجی کے خطرے کو محسوس کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں:

علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن

یہ شعر بتاتا ہے کہ علم اگر عشق کے بغیر ہو تو وہ محض تخمین و ظن ہے اور عشق اگر علم کے بغیر ہو تو بے سمت جذباتیت۔ اقبالؒ کے نزدیک جدید سائنس اس وقت باعث ِخیر بنے گی جب اس کے ساتھ روحانیت کا شعور ہو۔

ٹیکنالوجی کی برکات انکار کے قابل نہیں۔ اس نے دنیا کو ایک ’’گلوبل ویلج‘‘ میں بدل دیا ہے، انسان کو ستاروں تک پہنچا دیاہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس نے اسے خود سے دور بھی کر دیا ہے۔ مسلمان نوجوان آج مغربی نظریات کی یلغار میں اپنی شناخت کھو رہا ہے۔ اگر وہ اقبالؒ کے نظریہ خودی کو سمجھ لے توجان جائے گا کہ تقلید نہیں، تخلیق ہی اس کی راہ ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (سورۃ آل عمران۔ 139)
ترجمہ: اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو۔

ایمان ہی وہ قوت ہے جو خودی کو زندہ رکھتی ہے۔اسلام علم و تحقیق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ 
ترجمہ:علم کاطلب کرنا ہر مسلمان (مرد و  عورت) پر  فرض ہے۔ (ابن ِماجہ۔ 224)

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کا حصول صرف دنیاوی ترقی کے لیے نہیں بلکہ روحانی کمال کے لیے بھی ضروری ہے۔ اقبالؒ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ علم جب عشق کے تابع ہوتا ہے تو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے نوجوان کو خودی کی تربیت کون دے؟ فلسفہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن عملی رہنمائی کے بغیر وہ ادھورا رہتا ہے۔ اس خلا کو صوفیا کرام نے ہمیشہ پُرکیا ہے۔ انہوں نے روحانی تربیت کے ذریعے انسان کو اس کی اصل حقیقت سے آگاہ کیا اور آج کے جدید دور میں وہ ہستی سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں اور آپ کا مقصد انسان کو معرفتِ الٰہی تک پہنچانا ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تعلیمات اقبالؒ کے تصورِ خودی کی عملی شکل پیش کرتی ہیں اور تعلیمات کا محور یہ ہے کہ انسان اپنی روحانی پہچان حاصل کرے اور اللہ کی معرفت کو مقصدِ حیات بنائے۔

آپ مدظلہ الاقدس کے نزدیک حقیقی آزادی دولت یا اقتدار سے نہیں بلکہ قربِ الٰہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے نفس کی غلامی سے نکل کر اللہ کا بندہ بن جاتا ہے تو وہی اصل خودی ہے۔ یہی اقبالؒ کا فلسفہ بھی ہے ۔۔۔ بندگی میں آزادی اور فنا میں بقا۔

آپ نے روحانیت کو جدید ذرائع کو بروئے کارلاتے ہوئے عام کیا۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور کتب کے ذریعے آپ نے لاکھوں نوجوانوں کو تصوف اور خودی کے پیغام سے روشناس کرایا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تصوف ماضی کی چیز نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی خانقاہ میں نوجوانوں کی تربیت نہ صرف روحانی بلکہ عملی میدان میں بھی کی جاتی ہے۔ یہاں انہیں ایمان، عمل، کردار اور خدمت ِانسانیت کا درس دیا جاتا ہے۔ یہی وہ تربیت ہے جو ایک باشعور خودی کو جنم دیتی ہے۔

بقول اقبالؒ:

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یہی وہ ’’نم‘‘ ہے جو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنی تعلیمات کے ذریعے دلوں میں پیدا کر رہے ہیں۔

آپ کی دعوت دراصل اقبالؒ کے خواب کی تعبیر ہے کہ مسلمان علم و ٹیکنالوجی میں ترقی کرے مگر اپنی روحانی خودی کو نہ بھولے۔ اقبالؒ کا فلسفہ فکر دیتا ہے، ٹیکنالوجی عمل کے مواقع فراہم کرتی ہے اور تصوف ان دونوں کو روح بخشتا ہے۔
یوںاقبالؒ، جدید سائنس اورآپ مدظلہ الاقدس کی تعلیمات ایک دوسرے کے تکملہ (جو اصل مضمون کو مکمل کردے۔)  ہیں۔ یہ تینوں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان کا سفر صرف زمین پر نہیں بلکہ اپنے باطن میں بھی ہے۔ اگر علم اور خودی ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو علم غلامی بن جاتا ہے اور خودی تکبر۔ ان کا امتزاج ہی کامیابی کا راز ہے۔

حوالہ کتب:
۱۔ شمس الفقر ا: سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس 
۲۔فقر ِاقبال : ایضاً
۳۔بانگ ِدرا: تصنیف علامہ محمد اقبالؒ
۴۔ ضربِ کلیم: ایضاً
۵۔ بالِ جبریل: ایضاً
۶۔ اقبالؒ ۔ تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ
۷۔ جدید علمی و سائنسی مضامین — Artificial Intelligence and Ethics

 

اپنا تبصرہ بھیجیں