Qurb e Haq

سیّدنا غوث الاعظمؓ کے قربِ حق کے لیے مجاہدات Syedna Ghaus ul Azam ka qurb e Haq kay liye Mujahidat

سیّدنا غوث الاعظمؓ کے قربِ حق کے لیے مجاہدات

تحریر: صوفیہ سلطان سروری قادری

قرب و وصالِ حق تعالیٰ اللہ پاک کا اپنے بندوں پر ایسا انعام ہے جس کا نعم البدل دنیا و آخرت کی کوئی نعمت نہیں۔ یہ ایسی راہ، ایسا مقام اور ایسی منزل ہے جسے انبیا کرامؑ ، صحابہ کرامؓ اور فقرا کاملین نے اپنے لئے پسند کیا۔ یہ ایسی توفیق ہے جو اُن خوش بختوں کو نصیب ہوتی ہے جو دل وجان سے اس کی طلب کرتے ہیں اور ایسی کامیابی ہے جو بعداز امتحان نصیب ہوتی ہے۔ اور امتحان ہے انسان کی اپنی ذات، اس کا نفس اور اس کا باطن۔
حقیقت اور باطن کی دنیا میں عشق ووصالِ الٰہی وہ اعلیٰ ترین لطف وکرم ہے جس کا احاطہ قلم وزبان سے تو ناممکن ہے لیکن اس کی مثال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ ، صحابہ کرامؓ اور بعد ازاں اولیا کاملین کی زندگیاں ضرور ہیں جنہوں نے اس فانی زندگی کی نعمتوں کی بجائے شوقِ وصالِ یار میں اس کی سختیاں، آزمائشیں، آفتیں اور بلائیں قبول کیں۔ یہی وہ پاکیزہ ہستیاں ہیں جن کی حیاتِ مبارکہ طالبانِ مولیٰ کو جذبۂ استقامت عطا کرتی ہیں۔
اپنے دلوں میں اسی استقامت، تسلیم و رضا اور صبر و توکل کے جذبات کو گرمانے کے لئے ہم شہنشاہِ جیلان، پیرانِ پیر ، محبوبِ سبحانی، محی الدین سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی حیاتِ مبارکہ میں قربِ حق کے حصول کے لئے کی گئی جدوجہد پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
آپؓ کی شان یہ ہے کہ اسمِ مبارک سنتے یا پڑھتے ہی آنکھیں بصد عجزو نیاز جھک جاتی ہیں۔ دل محبت و عقیدت سے کروڑوں سلام بھیجتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ آپؓ راضی ہو جائیں اور اپنے غلاموں اور محبوبوں میں شامل فرمائیں کیونکہ ہر طالبِ مولیٰ جانتا ہے کہ آپؓ کی غلامی اختیار کئے بغیر فقر کی راہ پر چلنا تو درکنا ر قدم رکھنا بھی ناممکن ہے۔آپؓ کا قدم تمام اولیا اللہ کی گردن پر ہے۔ آج تک جسے بھی ولایت اور فقیری ملی آپؓ ہی کی نگاہِ کرم اوروسیلے سے ملی۔ ولایت کے جس مرتبے پر آپؓ پہنچے کوئی اور نہ پہنچ سکا۔آپؓ مادرزاد ولی ہیں اور آپؓ کے والدین کو قبل از پیدائش آپؓ کے مرتبہ ولایت سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
مسندِ تلقین وارشاد پر فائز ہونے سے قبل آپؓ کی حیاتِ مبارکہ تزکیہ نفس اور تلاشِ حق کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد ، آزمائشوں اور مصائب کی ایک طویل داستان ہے۔ آپؓ خو د فرماتے ہیں ’’جو تکالیف اور ہولناک سختیاں میں نے جھیلی ہیں اگر وہ کسی پہاڑ پر آتیں تو وہ بھی پھٹ جاتا۔‘‘آپؓ کا ان مصائب میں صبر و استقامت اور تسلیم ورضا کا پہاڑ بن کر ڈٹے رہنااس بات کا ثبوت ہے کہ درحقیقت یہ آفات اس لذت کے مقابلے میں بہت کم تھیں جوآپؓ کو حصولِ علم اور تلاشِ حق میں حاصل ہوتی تھی۔
آپؓ کی مجاہدانہ زندگی کے دو باب ہیں ۔پہلاباب طالب علمی کے زمانے سے منسلک ہے جس میں آپؓ نے تحصیلِ علم کے لئے بغداد کا سفر کیا جہاں آپؓ نے آٹھ سال کی مدت میں تمام دینی علوم نہ صرف حاصل کئے بلکہ ان پر مکمل عبو ر حاصل کیا۔دوسرا باب حصولِ علم کے بعد عملی زندگی میں قربِ حق کے لئے کثرتِ عبادات اور ریاضت پر مشتمل ہے۔

طالب علمی کا پُرصعوبت زمانہ

سیّدنا غوث الاعظمؓ کی عمر مبارک جب پانچ برس (بعض روایات کے مطابق سوا چار برس) ہوئی تو آپؓ کی والدہ محترمہ نے جیلان کے ایک مقامی مکتب میں بٹھا دیا ۔ یہیں سے آپؓ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ بچپن ہی سے آپؓ کو عام بچوں کی طرح کھیل کود سے کوئی رغبت نہ تھی۔ زبان سے کبھی کوئی نازیبا بات نہ نکالتے۔ دس سال کی عمر میں ہی آپؓ کو اپنے درجہ ولایت پر فائز ہونے کا احساس ہو گیا تھا۔ آپؓ فرماتے ہیں ’’جب میں اپنے شہر کے مکتب میں جایا کرتا تھا تو اپنے ساتھ فرشتوں کو چلتا دیکھتا۔ جب مکتب پہنچ جاتا تو وہ بار با ر کہتے کہ اللہ کے ولی کو بیٹھنے کی جگہ دو، اللہ کے ولی کو بیٹھنے کی جگہ دو۔ اس واقعہ کو بار بار دیکھ کر میرے دل میں احساس پیدا ہوا کہ اللہ نے مجھے مرتبہ ولایت پر فائز کیا ہے۔‘‘
بچپن کی طرح آپؓ کا عنفوانِ شباب بھی پاکدامن اور پاکباز تھا۔ اٹھارہ سال کے قریب عمر تھی کہ ایک دن سیر کے لئے گھر سے باہر نکلے۔راستے میں کسی کسان کے بیل کے پیچھے چلے جارہے تھے کہ یکایک بیل نے مڑ کر آپؓ کی جانب دیکھا اور گویا ہوا ’’اے عبدالقادر! تجھے اس لئے نہیں پیدا کیا گیا اور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘
سیّدنا عبد القادر جیلانیؓ اس پراسرار بیل کے ذریعے غیبی اشارہ پا کر حیران رہ گئے، فوراً گھر چلے آئے اور والدہ ماجدہ کو یہ حیرت انگیز واقعہ سنایااور علم حاصل کرنے کے لئے بغداد جانے کی اجازت چاہی۔ آپؓ کی والدہ سیّدہ فاطمہؒ عارفہ کاملہ تھیں ۔ بیٹے کے جذبۂ عشق کو دیکھتے ہوئے اسے بغداد جانے کی اجازت دے دی۔
جب بیٹے کو رخصت کرنے کا دن آیاتو پرنم آنکھوں سے لختِ جگر کے سر پر ہاتھ پھیرااور فرمایا’’میری آنکھوں کے نورتیری جدائی تو ایک لمحے کے لئے بھی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی لیکن جس مبارک مقصد کے لئے تم بغداد جانا چاہتے ہومیں اس کے راستے میں حائل نہیں ہوں گی۔حصول وتکمیلِ علم ایک مقدس فریضہ ہے۔میری دعا ہے کہ تم ہر قسم کے علومِ ظاہری وباطنی میں درجہ کمال حاصل کرو۔ میں تو شاید اب جیتے جی تمہاری صورت نہ دیکھ سکوں لیکن میری دعائیں ہر حال میں تیرے شاملِ حال رہیں گی۔‘‘
پھر فرمایا’’تیرے والد مرحوم کے ترکے سے اسی (80) دینار میرے پاس ہیں، چالیس دینارتیرے بھائی کے لئے رکھتی ہوں اور چالیس زادِ راہ کیلئے تیرے سپرد کرتی ہوں۔‘‘
گھر سے رخصت ہوتے وقت آپؒ نے بیٹے کو نصیحت کی کہ ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ کے نزدیک کبھی مت پھٹکنا۔
یوں آپؓ نے بغداد کے سفر کا آغاز فرمایاجو جیلان سے چار سو میل کے فاصلے پر تھا۔ اس زمانے میں دورِ حاضرہ کے ذرائع آمد و رفت کا تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لوگ قافلوں کی صورت میں پیدل چل کر یا اونٹوں پر سفر کیا کرتے تھے ۔ سیّدنا عبدالقادرؓ بھی بغداد جانے والے ایک قافلے کے ساتھ ہو لئے۔
488ھ میں ارضِ بغداد نے آپؓ کے قدم چومے۔اس وسیع وعریض شہر میں آپؓ بالکل اجنبی تھے ۔والدہ ماجدہ کے دیئے ہوئے چالیس دینار راستے میں خرچ ہو چکے تھے۔ اب نوبت فاقوں تک آ پہنچی۔ بیس دن اسی طرح گزر گئے۔آخر ایک دن اسی فقروفاقہ کی حالت میں کسی حلال چیز کی تلاش میں ایوانِ کسریٰ کے کھنڈروں کی طرف جا نکلے۔ وہاں دیکھا کہ رزقِ حلال کی تلاش میں ستّر اولیا پہلے سے موجود ہیں۔آپؓ نے ان کے راستے میں مزاحم ہونا مناسب نہ سمجھا اور واپس آگئے۔ راستے میں جیلان کے ایک شخص سے آپؓ کی ملاقات ہوئی جو آپؓ ہی کی تلاش میں تھا ۔ اس نے آپؓ کو سونے کا ایک ٹکرا دیا اور کہاکہ یہ آپ کی والدہ نے بھیجا ہے۔ آپؓ نے تھورا سا حصہ اپنے پاس رکھااور باقی جا کر ان مردانِ خداکی خدمت میں پیش کر دیا۔
پھر آپؓ نے بغداد آکر اپنے حصے کے سونے سے کھانا خریدااور بلند آواز میں فقرا کو کھانے کی دعوت دی۔ اس طرح بہت سے فقرا آگئے اور سب نے مل کر کھاناکھایا۔
بغداد میں آمد کے چنددن بعد آپؓ نے وہاں کے مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لے لیاجو دنیائے اسلام کے علوم وفنون کا مرکز تھااور بڑے بڑے نامور اساتذہ اس سے منسلک تھے۔ یہاں آپؓ نہ صرف جوئے علم سے خوب سیراب ہوئے بلکہ مدرسہ کے اوقات سے فراغت پا کر اس دور کے دوسرے علما سے بھی خوب استفادہ کیا۔ علمِ قرآن، علمِ حدیث، علمِ تفہیر، علمِ فقہ، علمِ لغت، علمِ شریعت، علمِ طریقت غرض کوئی ایسا علم نہ تھاجو آپؓ نے اس زمانے کے باکمال اساتذہ سے حاصل نہ کیا ہو اور صرف حاصل ہی نہیں کیا بلکہ وہ عبور حاصل کیا کہ تمام علمائے زمانہ سے سبقت لے گئے۔
تحصیلِ علم کے زمانے میں آپؓ سبق کے اوقات سے فارغ ہو کر جنگل بیابان کی طرف نکل جاتے اور تاریک راتیں کھلے آسمان تلے گزارتے۔ زمین آپؓ کا بستر ہوتی اور اینٹ یاپتھر آپؓ کا تکیہ۔ سردی،گرمی ،آندھی ،طوفان سے بے نیاز ہو کررات کی تنہائیوں اور تاریکیوں میں دشت نوردی کرتے رہتے۔ خود رو بوٹیاں اور سبزیاں جو عام طو ر پر دریائے دجلہ کے کنارے مل جاتی تھیں آپؓ کی خوراک ہوتیں۔
شیخ عبداللہ سلمی ؒ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے عجیب واقعہ سنا۔ آپؓ نے فرما یا کہ زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ مجھے کئی دن کھانے کو کچھ میسر نہ ہوا ۔ اسی حالت میں مَیں محلہ قطعیہ شرقیہ سے گزر رہا تھاکہ ایک شخص نے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ میرے ہاتھ میں تھما کر کہا ’’ نان بائی کی دکان پر جا۔‘‘ میں وہ کاغذ لے کر نان بائی کی دکان پر پہنچا ۔ اس نے کاغذ رکھ لیا اور مجھے میدہ کی روٹی اور حلوہ دیا۔ میں یہ روٹی اور حلوہ لے کراس بے آباد مسجد میں گیا جہاں بیٹھ کر میں اسباق دہرایا کرتا تھا۔ابھی میں اسی سوچ میں تھا کہ روٹی اور حلوہ کھاؤں یا نہیں میری نظر ایک کاغذ پڑی جو دیوار کے سائے میں پڑا تھا۔ میں نے اسے اٹھا کر پڑھا تو یہ عبارت لکھی تھی:
’’اللہ تعالیٰ نے کتبِ سابقہ میں سے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ کے شیروں کو لذاتِ دنیوی سے کوئی سروکار نہیں۔خواہشات اور لذّات تو کمزوروں کے لئے ہیں تا کہ وہ ان کے ذریعے عباداتِ الٰہی پر قادر ہوں۔‘‘ یہ پڑھ کر میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ہر موئے بدن خوفِ الٰہی سے کھڑا ہو گیا۔ روٹی اور حلوہ کھانے کا خیال ترک کیا اور دو رکعت نماز ادا کر کے وہا ں سے چلا آیا۔
بغداد کے کچھ طلبا کا دستور تھا کہ فصل کٹنے کے بعد یہ لوگ ایک گاؤں یعقوبا میں جاتے اور وہاں سے اناج مانگ کر لاتے۔اس زمانے میں لوگ طلبا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اس لیے صاحبِ استطاعت لوگ خوشی سے کچھ غلہ ان طلبہ کو دے دیتے۔ ایک بار ان طلبا نے سیّدنا عبدالقادرجیلانیؓ کو بھی اپنے ساتھ چلنے کیلئے کہا۔ ان کے اصرار کی وجہ سے آپؓ انکار نہ کر سکے اور ساتھ ہو لئے۔اس گاؤں میں ایک مردِصالح رہتے تھے ان کا نام شریف یعقوبی تھا۔آپؓ اس مردِ پاک کی زیارت کے لئے گئے۔ انہوں نے آپؓ کی جبینِ سعادت آثار سے اندازہ لگا لیا کہ قطبِ زمانہ ہیں، فرمایا:
’’بیٹے طالبانِ حق اللہ تعالیٰ کے سواکسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔ تم خاصانِ خدا معلوم ہوتے ہواس طرح غلہ مانگنا تمہارے شایانِ شان نہیں ۔‘‘
آپؓ فرماتے ہیں ’’اس واقعہ کے بعد میں کبھی اس قسم کے کام کے لئے نہ کسی جگہ گیا اور نہ کسی سے سوال کیا۔‘‘

مجاہدات وریاضات

سیّدنا عبدالقادر جیلانیؓ نے 496ھ میں حصولِ علم کی تکمیل کی ۔ اس کے بعد عملی زندگی میں آپؓ نے قربِ حق کے حصول اور تزکیۂ نفس کے لئے مجاہدات اور کثرتِ عبادات کا آغاز کیا۔ 496ھ سے لے کر 521ھ تک پچیس سال کی طویل مدت میں آپؓ نے ایسے ایسے مجاہدات کئے جن کا حال پڑھ کر انسان کانپ اٹھتا ہے۔ نوجوان امنگوں اور لذاتِ دنیوی سے منہ موڑکرآپؓ نے عراق کے جنگل و بیابان کو مسکن بنا لیا۔ دن رات ہولناک دشت وبیابان، جنگلات، ویرانوں اور خراب مقامات میں پھرتے رہتے۔آج یہ صحرا قیام گاہ ہے تو کل وہ جنگل۔ نہ وہ لوگوں کو جانتے تھے اور نہ لوگ انہیں پہچانتے تھے۔ ایک دفعہ وعظ کرتے ہوے آپؓ نے فرمایا:
’’میں پچیس سال تک عراق کے ویرانوں اور جنگلوں میں پھرتا رہا ہوں اور چالیس سال تک صبح کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھی ہے اور پندرہ سال تک عشاء کی نماز صبح کے وضو سے پڑھی ہے اور پندرہ سال تک عشاء کی نمازپڑھ کر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر صبح تک قرآنِ حکیم ختم کرتا رہا ہوں۔ میں نے بسا اوقات تین سے چالیس دن تک بغیر کچھ کھائے پئے گزارے ہیں۔‘‘
شیخ ابوالمسود بن ابوبکر حریمیؒ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیّدنا عبدالقادر جیلانیؓ نے مجھے بتایا ’’سالہا سال تک میں اپنے نفس کو طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالتا رہا۔ ایک سال ساگ پات اور کوئی گری ہوئی چیز کھا لیتااور پانی بالکل نہ پیتا تھا۔ ایک سال صر ف پانی پیتا اور کوئی چیز نہ کھاتااور ایک سال بغیر کچھ کھائے پئے گزار دیتا حتیٰ کہ سونے سے بھی احتراز کرتا۔ کئی سال میں بغداد کے محلہ کرخ کے غیر آباد مکانوں میں مقیم رہااس سارے عرصے میں ایک خود رو بوٹی ’’کوندل‘‘ میری خوراک ہوتی، لوگ مجھے دیوانہ کہتے۔ میں صحرا میں نکل جاتا، آہ وزاری کرتااور کانٹوں پر لوٹتا حتیٰ کہ تمام جسم زخمی ہو جاتا۔ لوگ مجھے شفاخانے میں لے جاتے لیکن وہاں پہنچ کر مجھ پر حالتِ سکر طاری ہو جاتی۔لوگ کہتے مر گیا ہے پھر میری تجہیزو تکفین کا اہتما م کرتے اور غسل دینے کیلئے مجھے تختہ پر رکھ دیتے اس وقت مجھے یک بیک ہوش آجاتا اور میں اٹھ کھڑا ہوتا۔‘‘
ایک دفعہ آپؓ نے فرمایا :
’’مجاہدات وریاضات کی آغاز میں میری دشت نوردی کا عجیب ماجرا تھا، کئی دفعہ میں اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتااور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں پھر رہا ہوں۔جب ہوش آتا تو اپنے آپ کو کسی دور دراز جگہ پر پاتا۔ ایک دفعہ بغداد کے قریب ایک صحرا میں مجھ پر اسی قسم کی کیفیت طاری ہوئی اور میں بے خبری کے عالم میں ایک عرصہ تک تیز دوڑتا رہا۔جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو نواحِ شستہ میں پایاجو بغداد سے بارہ دن کی مسافت پر ہے۔میں اپنی حالت پر تعجب کر رہا تھا کہ ایک عورت میرے پاس سے گزری اور کہنے لگی ’’تم شیخ عبدالقادرؓ ہو کر اپنی اس حالت پر متعجب ہو۔‘‘
سیّدنا شیخ عبدالقادرؓ فرماتے ہیں کہ عراق کے بیابانوں میں ایک دفعہ میری ملاقات ایک نورانی صورت شخص سے ہوئی ۔ اس شخص میں ایک عجیب طرح کی کشش تھی۔ اس نے مجھ سے کہا ’’کیا تو میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں۔‘‘ اس نے کہا ’’تو پھر عہد کرو کہ میری مخالفت نہیں کرو گے اور جو میں کہوں گا اس پر عمل کرو گے۔‘‘
میں نے کہاکہ میں تمہاری مخالفت نہ کرنے اور تیرا کہا ماننے کا عہد کرتا ہوں۔‘‘
اب اس شخص نے کہا ’’اچھا اسی جگہ بیٹھا رہ اور جب تک میں نہ آؤں یہ جگہ مت چھوڑنا۔‘‘یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا اور میں وہاں بیٹھ کر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گیا۔حتیٰ کہ ایک برس گزر گیا۔ وہ شخص پھر آیا۔ ایک ساعت میرے پاس بیٹھاپھر اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا ’’جب تک میں پھر تیرے پاس نہ آؤں یہیں بیٹھا رہ۔‘‘یہ کہہ کر وہ پھر چلا گیا اور میں وہیں بیٹھ گیا۔ایک سال بعد وہ پھر آیا کچھ دیر بیٹھا اورپھر مجھے وہیں بیٹھے رہنے کی تلقین کر کے پھر چلا گیا۔ جب تیسرا برس بھی گزر گیاتو وہ شخص پھر نمودار ہوا۔اب اس کے پاس دودھ اور روٹی تھی۔ اس نے کہا:
’’مرحبا اے جوانِ صالح! میرا نام خضر ؑ ہے اور مجھے حکم ہوا ہے روٹی اور دودھ تیرے ساتھ کھاؤں۔‘‘چنانچہ پھر ہم نے مل کر دودھ اور روٹی کھائی۔
آپؓ سے پوچھا گیا’’ آپؓ اس تمام عرصے میں کیا کھاتے تھے؟‘‘
فرمایا ’’لوگوں کی پھینکی ہوئی چیزیں۔‘‘
مجاہدات کے آغاز میں ہی آپؓ نے سفرِ حج کی سعادت حاصل کی اور یہ حج آپؓ نے شیخ عدی بن مسافرؒ کی ہمراہی میں کیا۔
ایک دفعہ سیّدنا غوث الاعظمؓ نے فرمایا ’’مجاہدات اور ریاضات کے دوران دنیا کی خواہشات مجھے اپنی طرف راغب کرتی تھیں لیکن ربِّ کریم مجھے اپنے خاص فضل و کرم سے ان سے بچا لیتا۔ شیاطین طرح طرح کی صورتیں بنا کر مجھ پر حملہ آور ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھتا۔میرا نفس مجھ سے طرح طرح کی خواہشیں کرتا لیکن خداوند کریم مجھے ان پر غلبہ دیتا۔ جب شیاطین ڈراؤنی صورتیں بنا کر آگ اور شر سے مسلح ہو کر مجھ پر حملہ کرتے تو میں غیب سے یہ آواز سنتا ’’ اے عبدالقادر، اٹھ اور سرِ میدان ان کا مقابلہ کر۔ہماری تائید تمہارے شاملِ حال ہے۔‘‘
چنانچہ میں ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتااور وہ سب شکست کھا کر بھاگ جاتے۔ بعض اوقات کوئی شیطان ثابت قدمی دکھاتااور کسی طرح جانے کا نام نہ لیتا۔اس وقت میں غضبناک ہو کر اس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کرتاتو وہ بھاگ کھڑا ہوتا۔ پھر میںلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھتا تو وہ جل کر راکھ ہو جاتا۔‘‘
سیّدنا غوث الاعظمؓ سے روایت ہے کہ مجاہدات اور ریاضات کے دوران تحیر خیز کیفیات مجھ پر طاری ہوئیں۔کبھی میرے باطن اور نفس کا مشاہدہ کروایا گیااور کبھی مجھے فقروغنا اور شکروتوکّل کے دروازوں سے گزارا گیا۔جب مجھے باطن کا مشاہدہ کروایا گیا تو اس کو بہت سے علائق سے ملوث پایا۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ میرے اختیارات اور ارادے ہیں۔میں نے ایک سال تک ان کے خلاف مجاہدہ کیا حتیٰ کہ یہ سب علائق منقطع ہو گئے۔پھر مجھے اپنے نفس کا مشاہدہ کروایا گیا۔ میں نے اس میں بھی کئی امراض دیکھے۔سال بھر میں نے ان کے خلاف جنگ کی حتیٰ کہ یہ امراض جڑ سے اکھڑ گئے اور میرا نفس تابع الٰہی ہو گیا۔
پھر میں توکّل کے دروازے پر آیاتو بہت بڑا ہجوم دیکھا میں اس ہجوم کو چیر کر نکل گیا۔
پھر شکر کے دروازے پر آیا تو وہاں بھی یہی حال تھامیں اس میں سے بھی گزر گیا۔
پھر غنا اور مشاہدہ کے دروازوں پر آیا تو انہیں بالکل خالی پایا اندر داخل ہوا تو وہاں روحانی خزائن کی انتہا نہیں تھی۔ ان میں مجھے حقیقی غنا، عزت اور مسرت میسر ہوئی۔ میری ہستی میں انقلاب پیدا ہو گیا اور مجھے وجودِ ثانی عطا ہوا۔
سیّدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں ’’بغداد کے قریب ویرانے میں ایک پرانا برج تھا۔ میں اس برج میں گیارہ سال ٹھہرا ہوں ۔ میرے یہاں طویل قیام کی وجہ سے ہی لوگ اسے برج عجمی کہنے لگے۔میں اس برج میں ہر وقت اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا تھا۔ میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اس وقت تک نہ کھاؤں گا جب تک مجھے کوئی لقمہ منہ میں دے کر نہ کھلائے گا اور اس وقت تک پانی نہیں پیوں گا جب تک مجھے پانی نہ پلایا جائے گا۔چنانچہ ایک دفعہ اس طرح متواتر چالیس دن گزر گئے۔ چالیس دن کے بعد ایک شخص آیا اور میرے سامنے روٹی اور سالن رکھ کر چلا گیا۔ میرے نفس نے چاہا کہ یہ کھانا کھائے لیکن ضمیر نے آواز دی خدا کی قسم عہد نہیں توڑوں گا جب تک مجھے کھانا کھلایا نہیں جائے گا نہیں کھاؤں گا۔پھر میں نے اپنے اندر ایک شور سنا جس سے ہائے بھوک ہائے بھوک کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اسی اثنا میں حضرت شیخ ابوسعید مخزومیؒ کا ادھر سے گزر ہوا ان کی فراستِ باطنی نے یہ شور سنا تو میرے قریب تشریف لائے اور پوچھا ’’اے عبدالقادر یہ کیسا شور ہے۔‘‘میں نے کہا ’’یہ خواہشِ نفس کا اضطراب ہے ورنہ روح تو مطمئن ہے اور یادِ الٰہی میں مشغول ہے۔‘‘
انہوں نے کہا’’بابِ ازج تک آؤ کہ وہاں میرا گھر ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلے گئے ۔
میں نے دل میں کہا ’’یہاں سے تو اب کسی بات سے ہی نکلو ں گا۔‘‘
ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ خضر علیہ السلام کا نزول ہوا۔آپ نے فرمایا ’’اٹھ اور ابو سعید ؒ کے گھر جا۔‘‘
چنانچہ میں اٹھ کھڑا ہوا اور ابو سعیدؒ کے گھر پہنچا۔ وہ دروازہ پر کھڑے میرا انتظار کر رہے تھے فرمانے لگے:
’’عبدالقادر کیا میرا کہنا کافی نہیں تھا کہ خضر علیہ السلام کے کہنے کی ضرورت پڑی۔‘‘یہ کہہ کر مجھے اندر لے گئے اور اپنے ہاتھ سے مجھے روٹی کھلائی حتیٰ کہ میں خوب سیر ہو گیا۔
ہر طرح کے علومِ ظاہری و باطنی میں کامل ومکمل عبور اور کثرتِ ریاضات وعبادات نے آپؓ کو صبر واستقامت کا پہاڑ بنا دیا تھا اور آپؓ فنافی الرسول،فنافی اللہ اور بقا باللہ کے مقام پر پہنچے۔آپؓ حقیقتِ حق اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیرہیں۔جہان بھر کے تاجداروں کے تاجدار ہیں۔ قلم کو یارا نہیں کہ آپؓ کی پاکیزہ حیاتِ مبارکہ کو آپؓ کی شان کے مطابق بیان کر سکے۔ طالبانِ مولیٰ آپؓ کے در کے سوالی ہیں۔ بلاشبہ آپؓ کی غلامی اور بارگاہ میں منظوری اور مقبولی ہی طالبانِ مولیٰ کی کامیابی کا باعث ہے۔آپؓ کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائیں اور ہم گناہگاروں پر ہمیشہ نگاہِ لطف وکرم فرمائیں اور اپنی بارگا ہ میں غلامی کو قبول فرمائیں۔ (آمین)
استفادہ کتب:
حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظم۔ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں