Ghous ul Azam

شبیہ غوث الاعظمؓ –Shabeeh-e-Ghaus-e-Azam

شبیہ غوث الاعظمؓ

تحریر : مریم گلزار سروری قادری۔ لاہور

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، بازِ اشہب، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں غوث الاعظم محی الدین سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیر اور صاحبِ حضور ہیں۔ فقر میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا مقام اور مرتبہ فہم و بیان سے بالاتر ہے۔ ہر ولی اور فقیر آپ رضی اللہ عنہٗ کے در کا غلام اور بھکاری ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا فرمان مبارک ہے ’’میرا قدم تمام اولیا کی گردن پر ہے۔‘‘ اسی سے آپ رضی اللہ عنہٗ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
اللہ کے نیک بندے اور خاص کر سلطان الفقر ہستیاں دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں اور ان کے اپنے ربّ سے معاملات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہ آپ رضی اللہ عنہٗ کا اعلیٰ ترین مقامِ ولایت ہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کی باطنی نگاہ سے قزاقوں کا گروہ تائب ہو گیا اور آپ کے وسیلے سے ولایت کے درجہ تک پہنچا حالانکہ ابھی آپؓ نوجوانی کی عمر میں ہی تھے اور بظاہر مقامِ مرشدی پر فائز نہیں ہوئے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی جوانی عبادت و ریاضت میں گزری جبکہ اس عمر میں زیادہ تر لوگ دنیا کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے نفس کا تزکیہ کرنے کے لیے بہت زیادہ ریاضت و مجاہدہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے علمِ قرآن، علمِ تفسیر، علمِ حدیث، علمِ فقہ، علمِ لغت، علمِ شریعت، علمِ طریقت غرض کوئی علم ایسانہیں تھا جس میں آپ نے کاملیت اور عبور حاصل نہ کیا ہو۔
اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو مختلف ناموں سے یاد فرماتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مدثر، مزمل، یٰسین، طٰہٰ وغیرہ کے نام سے پکارا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہٗ کو اللہ تعالیٰ نے ’’غوث الاعظم‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا۔ یہ مقام عارفین کو ملتا ہے۔ مگر عارفین میں سے بھی ان کو جو ’’سلطان الفقر‘‘ ہوں۔ کیونکہ سلطان الفقر ہستیوں کے مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
غوث کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟
غوث بزرگی کا ایک خاص درجہ ہے۔ لفظ غوث کے لغوی معنی ’’فریاد رس‘‘ یعنی فریاد کو پہنچنے والا، مدد کرنے والا، سمجھنے والا کے ہیں۔ انگریزی میں اس کے معنی One who comes to another’s rescue کے ہیں۔
سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اپنی حیات مبارکہ میں کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے۔ ظاہری وصال کے بعد بھی جو سائل آپ رضی اللہ عنہٗ سے فریاد کرے تو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اسے ضرور عطا فرماتے ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہٗ غریبوں، بے کسوں اور حاجت مندوں کے مددگار ہیں جو آپؓ کو دل سے پکارے آپؓ اس کی حاجت روائی کو ضرور پہنچتے ہیں۔ اسی لیے آپؓ کے عقیدت مندآپ رضی اللہ عنہٗ کو پیرانِ پیر دستگیر کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں کیونکہ دستگیر کا مطلب ہاتھ پکڑ کر مشکل سے نکالنے والا اور مشکل کشا کے ہیں یعنی مشکل کو دور کرنے والا۔
بعض مخالفین اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ دستگیر اور مشکل کشا کہنا صرف اللہ کے لیے جائز ہے اور کسی کے لیے نہیں کہنا چاہیے کیونکہ اگر کسی اور کو کہا جائے گا تو یہ اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرانے کے مترادف ہے۔ ذرا غور کیجئے! خلیفہ اوّل سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو خاص ’’صدق‘‘ کی وجہ سے سب سے بڑا ’’صدیق‘‘ کہا گیا ہے۔ مگر اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نعوذ باللہ صدق کی صفت میں اللہ کے شریک ہیں۔ درحقیقت اللہ اپنی صفات کو اپنے خاص بندوں پر کھول دیتا ہے جو ان کی شخصیت میں نمایاں ہوجاتی ہیں۔ جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کا لقب ’’غنی‘‘ مشہور ہے مگر اللہ سے بڑا غنی کوئی نہیں۔ بے شک اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل دین کی حالت بہت خراب تھی اسلام مختلف فرقوں میں بٹ چکا تھا۔ ہر ایک نے اپنا مذہب اور دین بنا لیا تھا۔ بے اصولی، نفسانیت، جارحیت، بغاوت، بداعمالیاں، بداخلاقیاں وغیرہ عروج پر تھیں۔ اور یہ سب مذہب سے دوری کی وجہ سے تھا۔ مذہب کو تو سب جانتے تھے مگر مذہب کی اصل روح اور حقیقت کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ ایسے میں سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی تشریف آوری کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ کیونکہ مذہب کی اصل روح کو صرف مرشد کامل اکمل ہی بتا اور سمجھا سکتا ہے۔ اور یہ سنتِ الٰہیہ بھی ہے کہ جس کام سے انسان ناآشنا ہو اس کے لیے استاد سے رابطہ کرے اور تصوف کی اصطلاح میں استاد سے مراد مرشد کامل اکمل ہے۔ مر شد کو دین کی مکمل آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ شیطان کے حیلوں سے بھی آگاہ ہوتاہے اس لیے وہ اپنے مرید کو اس کے حیلوں سے بچاتا ہے اور قربِ الٰہی کی منزل تک پہنچاتاہے۔
اگر غور کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل کا زمانہ اور اب کا زمانہ ایک سا ہے۔ ہر کوئی اپنے نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ سب دین کی اصل روح کو بھول چکے ہیں ہر کوئی مذہب کے معاملے میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بہت خوش ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کے نیک بندے دنیا میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں جن کی بدولت اس کائنات کا نظام چلایا جاتا ہے۔ وہ ہستیاں اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتیں جب تک اللہ نہیں چاہتا۔ اور وہ ہستیاں دینِ اسلام کی بقا اور اس کے نفاذ کے لیے اہم اقدامات کرتی ہیں۔ جس طرح سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے اپنے دور میں دینِ اسلام سے تمام بدعات کا خاتمہ کیا اور اس کی حقیقی روح کو اجاگر کر کے دین کو حیاتِ نو عطا فرمائی اسی طرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اصل روح کو دنیا بھر میں عام کرنے میں دن رات کوشاں ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کو دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حیاتِ نو عطا کرنے اور فقر حقیقی کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کاوشوں کے اعتراف کے طور پر ’’شبیہ غوث الاعظم‘‘ کا لقب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عطا کیا گیا۔
شبیہ سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر شبیہ سے مراد ’’ہم شکل‘‘ لیا جاتا ہے۔ مگر اہلِ تصوف شبیہ سے مراد ’’عین‘‘ ہوبہو‘‘ ’’عکس‘‘ اور باطنی طو رپر ایک جیسی خصوصیات رکھنے والے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل باطنی ہوتا ہے اور اس کی خبر صرف اہلِ تصوف کو ہی ہو سکتی ہے۔
حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی یہ دلیل رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دینِ حق کی تجدید کے لیے آپ سے ویسا ہی کام لے جیسا سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ سے لیا تھا۔ اس دلیل کو پورا کرنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے دن رات جدوجہد کی اور حقیقی اسلام یعنی فقر کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کئے۔ بقول اقبالؒ

لفظ اسلام سے اگر یورپ کو کِد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے فقرِ غیور

اسلام کے اسی حقیقی روپ یعنی فقر کے احیا و تجدید کیلئے آپ مدظلہ الاقدس نے دعوت و تبلیغ کا ہر ذریعہ استعمال کیا۔ محافل، تقاریر و بیانات، سوشل میڈیا، کتب، ویب سائٹس، آڈیو ویڈیو کلام، اولیا کی کتب کے تراجم و تفاسیر کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے تبلیغی دورے بھی کئے۔ ان تمام شعبہ جات کو چلانے کے لیے پیشہ وارانہ ماہرین کی خدمات لینے کی بجائے اپنے ہی مریدین کو اپنی باطنی توجہ سے بے حد محنت کے بعد تیار کیا۔ ان کا تزکیہ نفس و تجلیہ روح فرما کر انہیں وہ باطنی بصیرت عطا کی جس کی بدولت وہ اپنے اپنے شعبہ سے منسلک ذمہ داریاں احسن طریقے سے اللہ کی رضا کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ آج کے مادہ پرست اور فرقہ پرست دور میں حقیقی دین کو عام کرنا آسان کام نہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بے حد مخالفت اور مشکلات کے پہاڑ کے باوجود اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے ڈٹے رہے۔ بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس کی محنت کی بدولت آج فقر دنیا بھر میں عام ہو رہا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) کی شائع کردہ کتب اور میگزین سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز کی کاوشوں سے ویب سائٹس پر آن لائن پڑھ کر بیعت ہو رہے ہیں۔ دینِ حقیقی کی تلاش میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ مل گئی ہے۔ اور اقبال کی یہ امید پوری ہونے والی ہے:

اب تیرا دور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے زر و سیم

پس جس طرح سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے کمزور ہو چکے دین کو حیاتِ نو عطا کی اسی طرح شبیہِ غوث الاعظم حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی دن رات اسی جدو جہد میں مصروف ہیں۔ اور یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ آپ مدظلہ الاقدس نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد تیرہ سالوں میں تین صدیوں کا کام کر دیا جو فقر و تصوف کی دنیا میں اگلی تین صدیوں تک کے لیے کافی رہے گا اور رہنمائی کرتا رہے گا۔
حدیث مبارکہ ہے:
عن ابوہریرہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم ان اللّٰہ یبعث لھذا الامہ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجددلھا دینھا (سنن ابی داؤد۔ 4291)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’بے شک اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتدا میں ایک ایسے شخص کو معبوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘
سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اپنے دور کے مجدد تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ 470 ہجری بمطابق 1078 عیسوی اس دنیا میں تشریف لائے۔ طویل ریاضت و مجاہدے کے بعد آپ رضی اللہ عنہٗ 521 ہجری بمطابق 1128 عیسوی میں مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوئے اور مجدد بن کردنیا میں ظاہر ہوئے یعنی ہجری صدی کا بھی آغاز تھا اور عیسوی صدی کا بھی۔ اسی طرح شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے بھی مسند تلقین و ارشاد اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے دسمبر 2003 میں وصال کے بعد جنوری 2004ء بمطابق 1424ء ہجری میں سنبھال لی یعنی ہجری صدی کا بھی آغاز اور عیسوی صدی کا بھی آغاز۔ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ دوسری ہزارویں صدی عیسوی کے آغاز میں بطور مجدد ظاہر ہوئے اور شبیہ غوث الاعظم تیسری ہزارویں صدی عیسوی کے آغاز میں بطور مجدد ظاہر ہوئے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* عارف باللہ محبوبِ سبحانی قدرتِ سبحانی پیر دستگیر شاہ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا زندگی بھر یہ معمول رہا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ ہر روز پانچ ہزار طالب مریدوں کو شرک و کفر سے پاک کرتے رہے، تین ہزار کو واحدانیت اِلَّا اللّٰہ میں غرق کر کے فقر میںاِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ (ترجمہ: جہاں فقر مکمل ہوتا ہے وہیں اللہ ہے۔) کے مرتبہ پر پہنچاتے رہے اور دو ہزار کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچاتے رہے۔ آفتاب کی طرح روشن حضوری کا یہ فیض بخش سلک سلوک قادری طریقہ میں باطنی توجہ، حاضرات اسمِ اللہ ذات ، ذکرِ کلمہ طیبہ اور ذوق و سخاوت وتصور و تصرف کے ذریعے ایک دوسرے تک منتقل ہوتا چلا آرہا ہے اور منتقل ہوتا رہے گا اور قیامت تک دونوں جہانوں کو روشن و فیض یاب کرتا چلا جائے گا۔(کلید التوحید کلاں)

حضوری کا یہ فیض بخش سروری قادری طریقہ جب منتقل ہوتے ہوئے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تک پہنچا تو آپ مدظلہ الاقدس نے بھی سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس مادہ پرستی کے دور میں‘ جہاں طالبانِ مولیٰ ہی مشکل سے ملتے ہیں، محض اپنی نگاہ کامل کے فیض اور ذکر و تصوراسمِ اللہ ذات کی برکت سے ہزاروں مریدوں کے دل سے حبِ دنیا نکال کر انہیں عشقِ حقیقی کی نعمت سے مالا مال کیا اور تزکیہ نفس کے بعد انہیں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ الٰہی کے اعلیٰ ترین روحانی مراتب تک پہنچایا اور پہنچا رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس پیر محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی طرح مردہ قلوب کو حیاتِ نو عطا فرماتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ طالب صادق ہو، منافق اور ریاکار نہیں۔ اس دور میں یہ کرامت ایک معجزہ ہی ہے اور اس بنا پر بھی آپ مدظلہ الاقدس کو شبیہ غوث الاعظم کا لقب عطا کیا گیا ہے۔
اگر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی اب تک کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی حیاتِ طیبہ کی طرح ان کی حیات بھی جدوجہد اور مجاہدے سے بھرپور ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا ہر پہلو سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی زندگی سے مماثلت رکھتا ہے۔ دورانِ حمل آپ مدظلہ الاقدس کی والدہ ماجدہ کے مشاہدات، بچپن میں آپ مدظلہ الاقدس کے چہرے کی نورانی کشش اور فقرا کی آپ مدظلہ الاقدس کے بارے میں پیش گوئی کرنا، لڑکپن سے ہی مالی مشکلات کی وجہ سے تنگی و عسرت میں گزر بسر کرنے کے لیے محنت مشقت کا آغاز کر دینا، زمانہ طالب علمی بھی اس مشقت و تکلیف میں گزارنا، ذہانت کی بدولت اساتذہ کا منظورِ نظر ہونا، جوانی میں ہی اللہ تعالیٰ کی تلاش کے لیے مجاہدے و ریاضت کا آغاز کر دینا، اس ریاضت کے دوران سب سے پہلے باطن میں سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ سے روحانی تعلق استوار ہونا، ان سے اسمائے حسنہ کا ذکر اور علم لدنی حاصل کرنا، انہی کے حکم پر مرشد کی تلاش کرنا، مرشد کی صحبت میں بہت کم وقت گزارنا (صرف پانچ سال)، مسند و ارشاد سنبھالنے کے بعد کی جدوجہد۔ غرض پوری حیات سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی حیات کے نمونہ پر ہے۔ حتیٰ کہ آپ مدظلہ الاقدس کے باطنی مجاہدے بھی اس قدر شدید ہیں جس قدر سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس خود فرماتے ہیں ’’جس قدر ظاہری باطنی آزمائشوں سے ہم گزرے ہیں اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس اپنے بے پناہ فیض کی بدولت اپنے مریدین کو دعوت پڑھنے کی اجازت اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کا شرف بھی عطا فرماتے ہیں۔ یہ سب آپ مدظلہ الاقدس کے فقر میں بلند مقام اور نگاہِ کرم کی وجہ سے ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس شبیہ غوث الاعظم ہیں اس کے متعلق بہت سے مریدین کے مشاہدات ہیں۔
ایک خاتون طالبِ مولیٰ اپنا مشاہدہ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز میں دعوت پڑھ کر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہوئی تو کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ تشریف لائے ہیں اور ہمارے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے متعلق فرمایا ’’یہ بہت انمول ہیں۔ دنیا کو ان کے مقام و مرتبہ کی خبر نہیں‘‘ پھر فرمایا ’’یہ میں ہیں اور میں یہ ہوں۔ ان کے پیچھے پیچھے چلنے والا فلاح پائے گا۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس کی ایک مریدِ خاص مسز روحینہ بشارت سروری قادری صاحبہ اپنا مشاہدہ لکھتی ہیں کہ ایک روز وہ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں دعوت پڑھ کر حاضر ہوئیں تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمہارے مرشد حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا باطنی نام ’’شبیہ غوث الاعظم‘‘ ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے ایک مرید خاص محمد یٰسین سروری قادری کہتے ہیں کہ جس طرح سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا اپنے مریدین اور عقیدت مندوں کے بارے میں اعلان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ انہیں موت سے قبل بخشوا لیتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے مریدین جہنم میں نہیں جائیں گے بالکل اسی طرح میں نے اپنی والدہ کے بارے میں مشاہدہ کیا ہے کہ انہوں نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دستِ مبارکہ سے ا سمِ اللہ ذات حاصل کیا ۔ بے شک وہ بہت عبادت گزار اور پرہیز گار نہیں تھیں لیکن آپ مدظلہ الاقدس سے عقیدت رکھنے اور چند روز آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی وجہ سے ان کا وقتِ نزع قابل رشک تھا اور وفات کے بعد میت کے حالات بھی۔ ہر صاحبِ بصیرت میت کا چہرہ دیکھ کر کہہ اٹھا کہ بے شک یہ بخشی ہوئی روح ہیں۔
ایک اور مرید لکھتی ہیں کہ وہ جب بھی اسمِ اللہ ذات پڑھتی تھیں تو وہ حضور مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کسی بادشاہ یا سردار کی مثل شاندار لباس میں ملبوس دیکھتی تھیں۔ جیسے سیّدنا غوث پاک رضی اللہ عنہٗ کے متعلق مشہور ہے کہ ان کا قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے ‘اسی طرح اسے محسوس ہوتا تھا کہ آپ مدظلہ الاقدس کا بھی انتہائی اعلیٰ و ارفع مقام ہے۔ اور یہ مشاہدہ انہیں کئی بار ہوا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے ایک مریدِ خاص شعیب ارشاد سروری قادری اپنا مشاہدہ لکھتے ہیں ’’میں کچھ دنوں سے بے چین تھا اور ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے لیکن میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دیا۔ ایک رات میں خواب دیکھتا ہوں کہ میرا پاؤں بُری طرح زخمی ہوا ہے اور نیند میں بھی میں اپنا پاؤں نہیں ہلا پا رہا تھا تکلیف بہت زیادہ ہو رہی تھی جب صبح بیدار ہوا تو بڑی احتیاط سے پاؤں ہلایا کیونکہ میرے ذہن میں یہی تھا کہ میرا پاؤں حقیقتاً زخمی ہو گیا ہے لیکن میرا پاؤں بالکل ٹھیک تھا میں نے اپنے اس خواب کا ذکر مرشد پاک سے کیا تو آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعے کسی بڑی مصیبت سے گزار دیا ہے۔ میں نے یہ سن رکھا تھا کہ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اپنے مریدین کی قسمت میں لکھی گئی مصیبت کو خواب کے ذریعے گزار دیتے تھے اور ظاہری زندگی میں اس مصیبت سے بچا لیتے تھے۔ مجھے اس سے مشاہدہ ہو گیا کہ میرے مرشد کریم شبیہ غوث الاعظم ہیں جو اپنی نگاہِ کاملہ سے اپنے مریدین کو خواب کے ذریعے مشکلات سے بچاتے ہیں۔‘‘
اور بھی بہت سے مریدین کے مشاہدات ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس شبیہ غوث الاعظم ہیں۔ اگر کسی کو اعتراض یا شک ہے تو وہ ’’سلطان العاشقین‘‘ کتاب کا اور حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی حیاتِ مبارکہ کا ضرور مطالعہ کرے۔ باقی اللہ جس پر حق ظاہر کرنا چاہے کرتا ہے۔
اللہ پاک شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ مدظلہ الاقدس سے التجا ہے کہ ہمیں اپنے غلاموں میں ہمیشہ شامل رکھیں۔ آمین۔
استفادہ کتب
* سلطان العاشقین۔ مطبوعہ سلطان الفقر پبلیکیشنز
* حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ۔ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں