Shane Waliyat

شانِ ولایت اور تصرفاتِ سید نا غوث الاعظمؓ –Shan e Wilayat Tasurfat e Sayyiduna Ghous-ul-Azam

شانِ ولایت اور تصرفاتِ سید نا غوث الاعظمؓ

تحریر: عرشیہ خان سروری قادری۔ لاہور

ولایت خاصہ

واہ کیا مرتبہ اے غوثؓ ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں، غوث الاعظم محی الدین سیّدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو بارگاہِ الٰہی میں ولایت خاصہ سے نوازا گیا ہے۔ ولایت خاصہ مقربانِ بارگاہ کے لیے مخصوص ہے جس کے معنی ہیں بندہ کا خدا میں فنا ہونابہ نسبت غیر چیزوں کے اور خدا کے ساتھ بقا پانا بہ نسبت حق کے۔ مقامِ وحدت کا سفر ایک لا متناہی سفر ہے اور اس کے مختلف اور بڑے بڑے درجات ہیں لیکن ہر زمانے میں صرف ایک شخص اس مقام کے عروج پر پہنچتا ہے اور اس زمانہ میں اس کا کوئی ہم پلہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ اعلیٰ درجہ و مقام ہے جو ہر زمانے میں ولئ کامل (انسانِ کامل) کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور صرف وہ شخص اس ولایتِ الٰہی کا حق رکھتا ہے جو ازل سے اس مقام کے لیے منتخب ہو۔
ولایتِ خاصہ کے اعلیٰ مراتب یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنے بندہ پر اپنے اسماء و صفات بطور علم و یقین و حال ظاہر فرما کر اسے ان کے ذریعہ تاثیرات و تصرفات کی قوت عطا فرما دے اور اپنے اسماء و صفات کا اس بندہ کو متولی کر دے۔ جو ولایت پیر میراں غوث الاعظم محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو حاصل ہوئی وہ کسی غوث و قطب، ولی اللہ کو حاصل نہ ہوئی۔ آپؓدونوں جہانوں میں اس کمال کی بدولت حیات ہیں اور ظاہر و باطن میں دونوں جہانوں پر کامل تصرف رکھتے ہیں۔ آپؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کے وزیر اور کامل صاحبِ حضور ہیں۔ فقر میں جہاں آپؓ پہنچے کوئی نہ پہنچا اور نہ پہنچے گا کیونکہ آپؓ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ معراج نصیب ہوئی اور آپؓ نے ظاہری دنیا میں قدم مبارک رکھنے سے پہلے ہی دیدارِ الٰہی کا شرف حاصل فرمایا جیسا کہ حضرت سلطان باھوؒ نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:
* جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم براق پر سوار ہو کر جبرائیل علیہ السلام کی پا پیادہ پیشوائی میں معراج کی غرض سے روانہ ہوئے اور کونین کی شش جہات سے نکل کر عرش سے اوپر لاہوت لامکان میں فنا فی اللہ ہو کر قربِ حق تعالیٰ کے مقامِ قابَ قوسین پر پہنچے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک حسین و جمیل نور الہدیٰ صورتِ فقر کو دیکھا تو پوچھا ’’الٰہی! یہ صورتِ فقر کون ہے جو تیری بارگاہ میں معشوق کا درجہ رکھتی ہے؟‘‘ فرمانِ الٰہی ہوا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ کے لیے خوشخبری ہے کہ یہ صورتِ فقر محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانیؓ کی ہے جو آپ کی آل اور علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہٗ) کی حسنی و حسینی اولاد ہے۔ اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ  (فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے) کیونکہ شاہ محی الدین (رضی اللہ عنہٗ) میرے فقر سے ہیں اور مجھے شاہ محی الدین پر فخر ہے۔ تو جان لے کہ جب کوئی ان کی زندگی میں حضرت شاہ محی الدین رضی اللہ عنہٗ کا نام وضو کے بغیر زبان پر لاتا تو اس کا سر گردن سے اڑجاتا تھا، یہ ایک آزمائش تھی کیونکہ آپؓ سر سے قدم تک انوارِ قرب الٰہی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ (نورالہدیٰ کلاں)
* دورانِ معراج حضرت محمد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے روحِ حضرت پیر دستگیر قدس سرہُ العزیز کو حضورِ حق میں ہی دستِ بیعت فرما کر تعلیمِ علم و تلقینِ حلم و ارشادِ معرفت سے نوازا اور اپنا قائم مقام بنا کر افتخار و سربلندی سے شاد فرمایا اور شاہ عبدالقادر کا خطاب عطا فرمایا ۔ (نورالہدیٰ کلاں)
* جان لے کہ جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج کی رات کو قربِ الٰہی کی طرف بڑھے تو حضرت پیر دستگیر قدس سرہُ العزیز نے اپنی گردن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدموں میں رکھ دی جس پر پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اب آپؓ کا قدم جملہ اولیا اللہ کی گردن پر ہوگا۔‘‘ (نورالہدیٰ کلاں)
آپؓ کی ذاتِ اقدس کے چرچے آپؓ کی ولادت باسعادت سے پہلے ہی پھیل گئے تھے کیونکہ اللہ کے سچے عاشق کی دھوم ہمیشہ عالمِ وحدت سے عالمِ ناسوت تک پھیل جاتی ہے۔ عالمِ وحدت میں تو آپؓ کی شان پہلے ہی عیاں تھی، عالمِ ناسوت میں بھی ہر عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اولیا اللہ کو آپؓ کے ظہور کی بشارات ہو چکی تھیں۔
آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عاشق صادق حضرت اویس قرنیؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد سب سے پہلے ان کے محبوب ترین ولی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی آمد کی بشارت دی اور ان کے اعلیٰ درجہ کا بھی تذکرہ کیا۔ کتاب تفریح الخاطر میں مناقب شیخ عبدالقادرؓ میں ابنِ محی الدین اربلی ؒ نے لکھا ہے:
* حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے سے قبل حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کرتہ لے کر حضرت اویس قرنیؓ کے پاس جائیں اور ان سے امتِ مسلمہ کی بخشش کے لیے دعا کروائیں۔ جب یہ حضرات کرتہ لے لے حضرت اویس قرنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سرکار ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پیغام پہنچایا تو حضرت اویس قرنیؓ نے سجدہ میں گر کر اُمتِ مسلمہ کی بخشش کے لیے دعا کی۔ تب ندائے غیب آئی ’’میں نے تیری شفاعت سے نصف اُمت کو بخش دیا ہے اور نصف کو اپنے محبوب کی شفاعت سے بخشوں گا جو تیرے بعد ہو گا۔‘‘حضرت اویس قرنیؓ نے عرض کی ’’ اے پروردگار! تیرا وہ محبوب کون ہے اور کہاں ہے کہ میں اس کی زیارت کروں۔‘‘ ندا آئی ’’ وہ سچائی اور مقتدر فرشتوں کے مقام پر بیٹھا ہے۔ وہ میرا محبوب ہے اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بھی محبوب ہے۔ وہ قیامت تک اہلِ زمین کیلئے حجت ہوگا اور صحابہ و آئمہ کے علاوہ اسکا قدم جملہ اولیا کی گردن پر ہوگا۔‘‘
اسی طرح امام حسن عسکریؒ ، حضرت جنید بغدادیؒ ، حضرت شیخ ابو بکر ہوار بطائحیؒ ، حضرت شفیق بلخی ؒ اور دیگر اولیا اللہ کو بھی آپؓ کی آمد کی بشارت ہوئی۔ (حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؒ )
سیّدنا غوث پاکؓ ولیوں کے ولی ، حکمرانوں کے حکمران اور بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔ آپؓ کی ذات پاک اپنے آپ میں خود ایک عظیم الشان کرامت ہے۔ جیسے آپؓ کی ولایت خاص اور سب سے جد ا ہے ویسے ہی آپؓ کی کرامات بھی منفرد اور بے مثال ہیں۔ آپؓ کے کمالاتِ ولایت کی کوئی حد نہیں۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ مناقب غوثیہ میں فرماتے ہیں کہ آپ ؒ کی ولادت پر پانچ عظیم الشان کر امتوں کا ظہور ہوا۔
پہلی یہ کہ آپؓ کے والد ماجد سیّدابو صالح موسیٰ ؒ جنگی دوست کو آقائے دو جہان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خواب میں آپؓ کے بارے میں فرمایا ’’اے اباصالح! اللہ تعالیٰ نے تجھ کو فرزندِ صالح عطا کیا ہے۔ وہ میرا محبوب ہے اور خدائے پاک و برتر کا بھی محبوب ہے اور تمام اولیا و اقطاب میں اس کا مرتبہ بلند ہے۔‘‘ دوسرا جب آپؓ پیدا ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہٗ کے شانہ مبارک پر نبی اکرم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدم مبارک کا نشان موجود تھا جو آپؓ کے ولیِ کامل ہونے کی دلیل ہے۔ تیسرا آپؓ کی پیدائش کے دن گیارہ سو لڑکوں کی پیدائش ہوئی۔چوتھا یہ کہ آپؓ کے والدین کو عالمِ خواب میں بتایا گیا کہ یہ لڑکا امام اولیا ہو گا اور جو اسکا مخالف ہوگا وہ بد دین اور گمراہ ہو گا۔ پانچواں عظیم کمال جو آپؓ کے حقیقی ولی ہونے کی تصدیق کرتا ہے یہ کہ آپؓ رمضان المبارک کی یکم تاریخ کو پیدا ہوئے۔ دن کے وقت مطلق دودھ نہیں پیتے تھے صرف سحری اور افطار کے بعد والدہ ماجدہ کا دودھ پیتے تھے اور یہی معمول اگلے سال کے رمضان شریف میں بھی رہا۔ آپؓ کا چہرہ مبارک بوقتِ ولادت چاند کی طرح روشن تھا۔
آپؓ کے مقامِ ولایت کا اندازہ لگانا بھی کسی عام شخص کے لیے ممکن نہیں۔ آپؓ سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ جو مقام اور عظیم مرتبہ آپؓ کو حاصل ہوا اس کی شان کا گمان وہ ولیٔ کامل کر سکتا ہے جس نے آپؓ کی حقیقت کو پہچانا ہو اور آپؓ سے باطنی تربیت حاصل کی ہو۔ آسمانوں پر آپؓ ’’بازِ اشہب‘‘ اور زمین پر ’’محی الدین‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں اور اللہ پاک نے آپؓ کو ’’غوث الاعظم‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا۔
آپؓ صورت و سیرت میں جمالِ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پر تو تھے۔ ایک روز وعظ کے دوران آپؓ کو حکمِ الٰہی ہوا اور اس کے تحت آپؓ نے ارشاد فرمایا’’قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہ  ‘‘ یعنی میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ اس وقت بیسیوں بلند پایہ مشائخِ عظام آپؓ کی محفل میں حاضر تھے۔ جن میں سب سے پہلے یہ فرمان سن کر حضرت شیخ علی بن الہیتی ؒ نے آپؓ کے قدم مبارک کو اپنی گردن پر رکھنے کی سعادت حاصل کی اور پھر مجلس میں موجود تمام اولیا نے اپنی گردنیں جھکا دیں۔ یہی فرمان کائنات میں موجود تمام اولیائے اولین و آخرین نے سنا اور اپنی گردنیں جھکا تے ہو ئے کہا نَعَمْ یاَ شَیْخُ وَلِمَنْ قَالَ (اے شیخ آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر)۔ جیسے انبیا کرام ؑ میں سب سے اعلیٰ و بلند مقام حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ کوئی یہ مقام حاصل نہیں کر پایا ویسے ہی اولیا کرام میں سیّد نا غوث اعظمؓ کا درجہ عظیم الشان ہے ۔

غوث الاعظمؓ درمیان اولیا
چوں محمدؐ درمیان انبیا

آپؓ کے اس مرتبے کا فیصلہ بارگاہِ الٰہی میں ازل سے کر دیا گیا تھا اور دیگر اولیا کو نشان دہی بھی کرادی گئی تھی کہ فقر کے سلطان حضور سیّدنا غوث الاعظمؓ ہیں۔ آپؓ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی اجازت سے ولایتِ فقر کے تمام خزانوں کے مالک و مختار ہیں اور آپؓ کی اجازت اور مہربانی کے بغیر کوئی بھی مسلمان ولایت اور فقر کے ادنیٰ مراتب کو بھی نہیں پا سکتا۔ تمام اولیا کرام اور بڑے بڑے عارفین آپؓ کی شان میں رطب اللسان رہے۔

تصرفات

حضرت شاہ سیّد محمد ذوقیؒ فرماتے ہیں:
* اولیا اللہ صفاتِ الٰہیہ کی قوت سے خلق میں تصرفات کرتے ہیں مگر ان کے سب سے قوی اور سب سے وسیع تصرفات وہ ہوتے ہیں جو قلوبِ طالبین میں ان سے سرزد ہوں۔ان تصرفات کے ذریعے وہ گمراہوں کو راہِ راست پر لاتے ہیں، بدشوقوں کو صحیح ذوق و شوق کا فیضان عطا کرتے ہیں، ناقصوں کو کامل بناتے ہیں اور جن دلوں پر جہل کی مردنی چھائی ہو انہیں علم کی حیات عطا کر کے جاوداں زندگی بخشتے ہیں۔ اس اعتبار سے شیخ کو محی (زندہ کرنے والا) بھی کہتے ہیں۔ ولی حقیقتاً مظہر تصرفات نبی ہوتا ہے۔ (سرِّ دلبراں)
جن اولیا کو ولایتِ خاصہ نصیب ہوتی ہے ان کو تصرف بھی خاص عطا ہوتاہے۔ سیّدنا غوث الاعظمؓ کا وجود مسعود کشف و کرامات اور خوارق عادات کا ایک لازوال اور زبردست کارخانہ ہے۔ آپؓ کی جملہ حرکات و سکنات، اقوال و افعال، آپؓ کا ہر دم اور ہر قدم اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک زندہ کرشمہ ہے۔ آپؓ کو کائنات کی ہر شے پر تصرف حاصل ہے خواہ وہ شے علوی ہو یا سفلی، جاندار ہو یا بے جان، جن ہو فرشتہ یا انسان، ظاہر ہو یا باطن غرض زمین سے آسمان تک، ناسوت سے لاھوت تک تمام عالم آپؓ کے تصرف کی زد میں ہے۔
جس قدر محیر العقول اور نادر الوجود کرامات و تصرفات آپؓ سے ظاہر ہوئے کسی سابق یا آئندہ ولی سے ظاہر نہیں ہوئے۔ آپؓ اپنے جدامجد فخر الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سچے نائب اور کامل جانشین ہونے کی حیثیت سے تصرفات و کرامات میں بھی کامل ہیں۔

دین پر تصرف

آپؓ کی پیدائش سے قبل عالمِ اسلام انتشار و خلفشار کا شکار تھا۔ دینِ ِِ اسلام کی حالت بہت خستہ تھی۔ مسلمان تہتر مسالک میں تقسیم ہو چکے تھے۔ اسلام کی روحِ حقیقی کو اجاگر کرنے کیلئے آپؓ نے بے شمار خدمات سر انجام دیں اور بے مثال جدو جہد فرمائی۔ مجلسِ وعظ ہو یا خانقاہ کی خلوت، مدرسہ کے اوقاتِ درس و تدریس ہوں یا مسندِ تلقین و ارشاد ہر جگہ آپؓ کی جدوجہد فقرِ محمدی ؐ اور دینِ اسلام کو فروغ دینے کے محور کے گرد گھومتی تھی۔
آپؓ نے فرمایا ’’ لوگو! اسلام رو رہا ہے اوران فاسقوں‘ بدنیتوں‘ گمراہوں ‘مکر کے کپڑے پہننے والوں اور ایسی باتوں کا دعویٰ کرنے والوں کے ظلم سے جو ان میں موجود نہیں ہیں، اپنے سر کو تھامے ہوئے فریاد کر رہا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین کی دیواریں پے در پے گر رہی ہیں اور اس کی بنیاد گری جاتی ہے۔ اے باشندگانِ زمین! آؤ جو گِر گیا ہے اس کو مضبوط کردیں اور جو ڈھے گیا ہے اس کو درست کر دیں۔ یہ چیز ایک سے پوری نہیں ہوتی۔ اے سورج ! اے چاند اور اے دن تم سب آؤ۔‘‘ (حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ)
پس آپؓ کی جدوجہد اور تصرفات کی بدولت لاکھوں منکر اور کافر اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل ہو کر مومن با ایمان ہو گئے اور لاکھوں فاسق و فاجر آپؓ کی ذات میں اللہ کی قدرت کے زندہ کرشمے اور معجزات دیکھ کر تہہ دل سے تائب اور نیک صالح اور تابع فرمانبردار ہو گئے۔ دین سے بدعات کا خاتمہ ہوا، سلاسلِ طریقت میں روحانیت دوبارہ زندہ ہوئی اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس کی اصل صورت حاصل ہوئی۔ انہی کاوشوں کی بنا پر آپؓ کو ’’محی الدین‘‘ کا لقب عطا ہوا۔
آپؓ فرماتے ہیں:
’’ایک دن میں بغداد سے باہر گیاہوا تھا۔ واپس آیا تو راستے میں ایک بیمار اور خستہ حال شخص کو دیکھا جو ضعف و لاغری کے سبب چلنے سے عاجز تھا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو کہنے لگا’’اے شیخ مجھ پر اپنی توجہ کر اور اپنے دمِ مسیحا نفس سے مجھے قوت عطا کر۔‘‘ میں نے بارگاہِ ربّ العزت میں اس کی صحت یابی کے لئے دعا مانگی اور پھر اس پر دم کیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس شخص کی لاغری اور نقاہت یک لخت دور ہوگئی اور وہ تندرست و توانا ہوکر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ’’عبدالقادرؓ مجھے پہچانا؟‘‘ میں نے کہا’’نہیں‘‘ وہ بولا’’میں تمہارے نانا کا دین ہوں اور ضعف کی وجہ سے میری یہ حالت ہوگئی ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے تیرے ذریعے سے مجھے حیاتِ تازہ عطا کی ہے۔ تو ’’محیّ الدین ‘‘ ہے اوراسلام کا مصلحِ اعظم ہے۔‘‘(حیات و تعلیمات سیدنا غوث الاعظمؓ )

علم پر تصرف

ظاہری دنیا میں آپؓ کے علمِ الٰہی پر تصرف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپؓ والدہ کے بطن میں ہی اٹھارہ پارے حفظ فرما چکے تھے۔ لڑکپن میں ہی تمام علوم پر دسترس حاصل ہو جانے پر آپؓ نے بغداد کے اساتذہ سے ہر علم میں کاملیت حاصل کی اور وہ مقام حاصل کیا کہ اس زمانے میں آپؓ کے پائے کا کوئی اور عالم نہ تھا۔ باطنی علم کے ضمن میں اس سے زیادہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ جس ہستی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رفاقت میں معراج حاصل ہوئی ہو کیا اسے علم کی معراج حاصل نہ ہوئی ہوگی!! آپؓ نے اپنے تمام ظاہری و باطنی علوم کو امتِ محمدی کی فلاح کے لیے استعمال فرمایا۔ دین اور فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فروغ اور اسلام کو نئی زندگی بخشنے کیلئے آپؓ کی تصانیف ہر خاص و عام مسلمان کیلئے وحدت کا خزانہ ہیں۔ آپؓ نے بے شمار کتب تصنیف فرمائیں جو فقر کے اسرار کا مخزن ہیں۔ ان تصانیف سے مردہ قلوب کو زندگی و راحت نصیب ہوتی ہے۔ ان میں سے چند اہم تصنیفات جن کے تراجم دستیاب ہیں ، یہ ہیں:
1 ۔الفتح ربانی (خطبات) 2 ۔فتوح الغیب (مقالات)
3 ۔ سرّ الاسرار (فقر) 4 ۔ الرسالۃ الغوثیہ (فقر)
5 ۔ غنیتہ الطالبین (فقہ) 6 ۔دیوانِ غوثیہ (فارسی غزلیات)
کتب مبارکہ کے علاوہ آپؓ کا وعظ حکمت و دانش کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوتا تھا۔ گمراہ مسلمان آپؓ کا وعظ سن کر صراطِ مستقیم اختیار کرلیتے اور غیر مسلم کو کلمہ شہادت پڑھ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہتا۔ آپؓ کو علمِ باطن اور علمِ ظاہر دونوں پر کمال تصرف حاصل تھا۔ آپؓ کے باطنی علم کے چند واقعات درج ذیل ہیں ۔
منقول ہے کہ ایک بار حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے وعظ کے دوران فرمایا ’’تمہارے دل میرے نزدیک شیشہ کی طرح ہیں۔میں دیکھ رہا ہوں جو کچھ تمہارے پیٹ میں ہے اور پشت میں ہے۔اگر لگامِ شریعت نہ ہوتی تو میں تم کو بتا دیتا جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ رکھتے ہو۔مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔‘‘اسی اثنا میں بارش شروع ہو گئی۔ایک شخص نے ازروئے امتحان سوال کیا کہ جب حق سبحانہٗ نے بلاریب آپؓ کو غیب پر واقف کیا ہے تو آپؓ ہمارے اطمینان اور تسلی کے لیے اس بارش کے قطروں کی تعداد بیان فرما دیں۔اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا ’’اس بارش کے قطرات کی تعداد پوچھتے ہو یااُن قطرات کی جو ابتدائے پیدائش سے قیامت تک ہوں گے‘‘۔اس شخص نے کہا کہ یہ بہتر رہے گا (آپ ابتدا زمانہ سے قیامت تک ہونے والی بارش کے قطرات کی تعداد بتا دیں)۔حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے فرمایا’’ آگے آؤ‘‘۔پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا،فوراً اس شخص کو اللہ کی مہربانی سے اپنے قلب مبارک کے ذریعے تمام قطراتِِ باراں سے واقف کرا دیا۔اس کا حال متغیر ہو گیا تب آپؓ نے فرمایا ’’ گو تیرا سوال ازراہِ صدق اور عقیدت نہ تھا مگر جب ہم نے تیرا ہاتھ پکڑا ہے (تجھے اپنی شاگردی میں لیا ہے) تو ہم نہیں چاہتے کہ تُو نیچے گرے۔‘‘ آپؓ نے اس پر خاص توجہ فرما کر اسے تمام شبہات سے فارغ کردیا۔
حضرت عبد اللہ زیال ؒ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ رات کے وقت میں سیّدنا غوث الاعظمؓ کے مدرسہ میں کھڑا تھا۔ آپؓ کے پاس ایک عصا تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کاش آپؓ اس عصا کے ذریعہ کوئی کرامت دکھائیں۔یہ خیال ابھی دل میں تھا کہ آپؓ نے عصا زمین میں نصب فرما دیا اور وہ مشعل کی طرح روشن ہو گیا۔ جب آپؓ نے اسے زمین سے اکھیڑا تو پھر اسی اصل حالت میں آگیا۔ آپؓ نے ارشاد فرمایا ’’اے عبداللہ تم یہی چاہتے تھے؟‘‘

قلوب پر تصرف

حضرت عمر بزاز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں پندرہ جمادی الآخر 556ھ کو جمعہ کے دن سیّدنا غوث الاعظمرضی اللہ عنہٗ کے ساتھ جامع مسجد جا رہا تھا۔ راستہ میں کسی شخص نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو سلام نہ کیا۔ میں نے حیرت و استعجاب میں ڈوب کر اپنے دل میں کہا کہ ہر جمعہ کو تو خلائق کا اتنا زبردست اژدھام ہوتا تھا کہ بدِ قت تمام ہم مسجد تک پہنچتے تھے۔ نہیں معلوم آج کیا ماجرا ہے کہ کوئی آپ کو سلام تک نہیں کرتا۔ پورے طور پر ابھی یہ بات میرے دل میں آنے بھی نہ پائی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہٗ نے تبسم فرماتے ہوئے میری جانب دیکھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کثرت سے لوگ آپ رضی اللہ عنہٗ کی دست بوسی کو ٹوٹ پڑے کہ میرے اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے درمیان حائل ہوگئے اور اسی ہنگامہ میں‘ میں آپ رضی اللہ عنہٗ سے دور ہوگیا۔ میں اپنے دل میں سوچنے لگا کہ اپنے لئے تو اس وقت سے پہلا ہی حال اچھا تھا کہ دولتِ قرب حاصل تھی۔
یہ خیال میرے دل میں آتے ہی آپ رضی اللہ عنہٗ نے پھر تبسم فرماتے ہوئے میری جانب دیکھا اور ارشاد فرمایا ‘‘اے عمر تم ہی نے تو اس کی خواہش کی تھی اَوْ مَا عَلِمْتَ اَنَّ قُلُوْبُ النَّاسِ بِیَدِیْ اِنْ شِیْٔتُ صَرَّفْتُھَا عَنِّیْ وَ اِنْ شِیْٔتُ اَقْبَلْتُ بِھَا اِلَّی  ترجمہ: کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں اگر میں چاہوں تو اسے اپنی طرف سے پھیردوں، چاہوں تواپنی طرف پھیر لوں۔ (حیات و تعلیمات سیّد نا غوث الاعظمؓ)
سیّدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں ’’لوگوں کے دلوں پر میل جم گیا ہے جب تک اسے زور سے رگڑا نہیں جائے گا دور نہ ہو گا۔ میری سخت کلامی انشاء اللہ ان کیلئے آبِ حیات ثابت ہوگی‘‘۔
ایک دفعہ اپنے وعظ کے متعلق آپؓ نے فرمایا :
’’میرا وعظ کے منبر پر بیٹھنا تمہارے قلوب کی اصلاح و تطہیر کیلئے ہے نہ کہ الفاظ کے الٹ پھیر اور تقریر کی خوشنمائی کیلئے ہے۔ میری سخت کلامی سے مت بھاگو کیونکہ میری تربیت اس نے کی ہے جو دینِ الٰہی میں سخت تھا۔ میری تقریر بھی سخت ہے اور کھانا بھی سخت ہے اور روکھا سوکھا ہے۔ پس جو مجھ سے اور میرے جیسے لوگوں سے بھاگا اسکو فلاح نصیب نہ ہوئی۔ جن باتوں کا تعلق دین سے ہے ان کے متعلق جب تو بے ادب ہے تو میں تجھ کو چھوڑوں گا نہیں اور نہ کہوں گا کہ اس کو کئے جا۔ تو میرے پاس آئے یا نہ آئے پرواہ نہ کروں گا۔ میں قوت کا خواہاں اللہ تعالیٰ سے ہوں نہ کہ تم سے‘ میں تمہاری گنتی اور شمار سے بے نیاز ہوں۔‘‘
ان حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ قلوب پر کامل تصرف رکھتے ہیں۔ زنگ آلود قلوب کوشریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی کی تلقین کرتے اور اپنی نگاہِ مبارک سے اس کو پاک فرماتے۔ اس ضمن میں آپؓ کی حیات و تعلیمات پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تصنیف’’حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ سے چند اقتباس درج ذیل ہیں:
* آپؓ کے وعظ اور مجلس کے دوران لوگ جب بغیر پوچھے اپنے شبہات اور قلبی امراض کا جواب پاتے تھے تو ان کو روحانی سکون حاصل ہو جاتا تھا۔ آپؓ کے مواعظِ حسنہ کے الفاظ آج بھی دلوں میں حرارت پید اکر دیتے ہیں اور ان میں بے مثال تازگی اور زندگی محسوس ہوتی ہے۔
* ایک دفعہ آپؓ کی مجلسِ وعظ میں عرب کے تیرہ عیسائیوں نے اسلام قبول کیا اور پھر بیان کیاکہ کچھ عرصہ سے اسلام کی طرف مائل تھے لیکن کسی مردِ حق کی جستجو میں تھے جو ہمارے قلوب کی سیاہی بالکل دھو ڈالے۔ ایک دن ہمیں غیب سے آواز آئی ’’تم لوگ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے پاس بغداد جاؤ وہ تمہیں مشرف بہ اسلام کر کے تمہارے سینوں میں نورِ ایمان بھر دیں گے۔‘‘
* حضرت سیّد عمر بزاز ؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت غوث الاعظمؓ کے پاس بیٹھا تھا۔ آپ ؒ نے اپنا دستِ مبارک میرے اوپر مارا فوراً ایک نور کا ٹکڑا آفتاب کی مثل میرے دل میں چمک اٹھا۔ اسی وقت میرے دل میں حقائق کے دروازے کھل گئے آج تک وہ نور برابر ترقی کر رہا ہے۔

کائنات پر تصرف

حضرت شیخ شہاب الدین سہر وری ؒ جو سلسلہ سہر وردیہ کے امام ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا سے پوچھا ’’اے چچا آپ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا اس قدر کیوں ادب کرتے ہیں‘‘۔ فرمایا ’’میں ان کا کیوں نہ ادب کروں جبکہ اللہ نے ان کو تصرف کامل عطا فرمایا ہے۔ عالمِ ملکوت پر بھی ان کو فخرحاصل ہے۔ میں کیا تمام اولیا اللہ کے احوال ظاہری و باطنی پر ان کو قابو دیا گیا، جس کو چاہیں روک لیں جس کو چاہیں چھوڑ دیں۔‘‘
شیخ عدی بن مسافر ؒ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ وعظ فرما رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی لوگوں میں انتشار پید ا ہوگیا تو آپؓ نے رُخِ مبارک آسمان کی جانب اٹھا کر فرمایا ’’اے پروردگارِ عالم! میں تو لوگوں کو تیری باتیں سنانے کیلئے بلاتا ہوں اور تیری بارش انہیں بیٹھنے نہیں دیتی‘‘ اتنا فرمانا تھا کہ بارش منقطع ہوگئی۔
دریائے دجلہ میں ایک مرتبہ بہت ہولناک سیلاب آیا اور پانی اتنا بڑھ گیا کہ بغداد مقدس کے ڈوب جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ لوگ حیران و پریشان حال آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی ’’حضور دعا کیجئے ورنہ بغداد تباہ ہو جائے گا۔‘‘آپؓ نے اسی وقت عصائے مبارک ہاتھ میں لیا اور چند لوگوں کے ہمراہ ساحل پر تشریف لے گئے۔ ایک مقام پر عصائے مبارک رکھ کر فرمایا’’ خبردار اے دجلہ اس سے آگے مت بڑھنا۔‘‘ کیا مجال تھی کہ غوثِ زماںؓ کی حکم عدولی کر جاتا، فوراً دجلہ کا پانی اسی جگہ ٹھہر گیا۔
حضرت ابو حفص عمر بن صالح حداویؒ اپنی کمزور و لاغر اونٹنی لیے آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عرض کیاکہ حج بیت اللہ شریف کا ارادہ رکھتا ہوں مگر میری یہ اونٹنی بہت کمزور ہے جس سے سفر طے کرنا مشکل ہے اور اس کے علاوہ نہ تو دوسری اونٹنی ہے اور نہ ہی پیسے ہیں کہ خرید سکوں۔ حضور کوئی تدبیر فرمائیں آپؓ نے اس نحیف اونٹنی کی پیشانی پر اپنا دستِ مبارک رکھ دیا بس پھر کیا تھا اسی وقت وہ اونٹنی تندرست و تیز رفتار ہوگئی اور ساری اونٹنیوں سے آگے چلنے لگی۔

جن و ملائک پر تصرف

سیّدنا غوث الاعظمؓ کے عالمِ ناسوت سے لے کر عالمِ لاھوت تک تصرفات اور کرامات کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ تمام کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ سیّدنا غوث الاعظمؓ کے کمالات جن و انس، اشرف المخلوقات تک محدود نہیں بلکہ سیّدنا غوث الاعظمؓ کُل کائنات اور ملائکہ پر بھی کامل تصرف رکھتے ہیں۔ آپؓ کی ذات مبارکہ کوئی عام ہستی نہیں کیونکہ آپؓ مادر زاد ولی اللہ ، فقیر فنا فی اللہ، وزیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ اور عارف باللہ معشوق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن و فرشتے بھی آپؓ کے تابع ہیں۔
ایک دفعہ سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اہلِ بغداد کی نظروں سے غائب ہوگئے۔ لوگوں نے تلاش کرنا شروع کردیا معلوم یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ دریائے دجلہ کی جانب تشریف لے گئے ہیں۔ وہاں پہنچ کر لوگوں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہٗ پانی پر چل رہے ہیں اور دریائے دجلہ کی ساری مچھلیاں نکل نکل کر آپ رضی اللہ عنہٗ کو سلام کرتی ہیں اور قدم مبارک کا بوسہ لے رہی ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک بہترین قسم کا حسین مصلےٰ فضا میں معلق ہو کر بچھ گیا جس کے اوپر دو سطریں لکھی تھیں۔
سطراوّل میں اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ط اور دوسری سطر میں سَلَامٌ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ اِنَّہٗ  حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ ط  لکھا تھا۔
اتنے میں بہت سے لوگ اس مصلّےٰ کے قریب جمع ہوگئے۔ ظہر کا وقت تھا تکبیر کہی گئی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے امامت فرمائی۔ جب آپؓ تکبیر کہتے تو حاملانِ عرش آپ رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ تکبیر کہتے اور جب آپؓ تسبیح پڑھتے تو ساتوں آسمان کے فرشتے آپ رضی اللہ عنہٗ کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے اور جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے تو سبز رنگ کا نور آپ رضی اللہ عنہٗ کے لبوں سے نکل کر آسمان کی طرف جاتا۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو یہ دعا فرمائی ’’اے ربِ قدیر! تیری بارگاہ میں تیرے محبوب کے واسطے سے دعا کرتا ہوں کہ تو میرے مریدوں اور میرے مریدوں کی روحوں کو جومیری طرف منسوب ہوں‘ بغیر توبہ کے قبض نہ فرمانا۔‘‘ سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپؓ کی اس دعا پر ہم سب نے فرشتوں کی ایک بڑی جماعت کو آمین کہتے ہوئے سنا۔ دعا کے بعد ایک ندائے غیبی سنائی دی ابْشِرْ فَاِنِّیْ قَدِ اسْتَجِبْتُ لَکَ  ’’اے عبدالقادر (رضی اللہ عنہٗ) خوشخبری ہو تمہارے لئے کہ میں نے تمہاری دعا قبول کر لی۔‘‘ (حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ )
اصبہان کے باشندوں میں سے ایک شخص حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کیا کہ میری عورت کو جن بہت ستاتے ہیں کثرت سے دورے پڑتے ہیں۔ بڑے بڑے عالم عاجز آگئے ۔آپؓ نے فرمایا وہ سراندیپ کے جنگل کا سرکش جن ہے۔ تم جاؤ اور اپنی عورت کے کان میں کہہ دینا کہ بغداد والے شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے فرمایا ہے آئندہ کبھی مت آنا ورنہ ہلاک کر دیئے جاؤ گے۔ اس نے واپس آکر اسی طرح کہہ دیا اسی وقت آرام ہو گیا اور پھر کبھی یہ شکایت نہ ہوئی۔
جو بھی ولئ کامل قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ پر ہوتا ہے اس کے کمالات کا مشاہدہ اللہ پاک خود عوام الناس میں ظاہر فرماتا ہے تاکہ صحیح و غلط، حق و باطل، کھرے و کھوٹے کی پہچان کی جا سکے ورنہ اللہ پاک کبھی بھی اپنے راز عیاں نہیں فرماتا۔ سیّدنا غوث الاعظمؓ کے تمام تصرفات و کرامات اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ تصرفات اللہ پاک کا انمول تحفہ ہیں اور حق ہیں۔ عقل بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپؓ کے روحانی وارث بھی یقیناًانہی تصرفات کے مالک ہوں گے۔ شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس آپؓ کے روحانی وارث اور سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخِ کامل ہیں جو کہ حضور سیّدنا غوث پاکؓ کی حقیقی تصویر ہیں۔ آپؓ کا فیض آج بھی آپؓ کے روحانی وارث کی بدولت رواں دواں ہے۔ آج بھی لاکھوں کروڑوں سالک اس سے فیضیاب ہوتے ہیں اور فقر کی وہی خوشبو محسوس کرتے ہیں۔ بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس کمالات اور تصرفات میں بھی سیّدنا غوث الاعظمؓ کے وارث ہیں۔ اللہ ہم سب کو آپ مدظلہ الاقدس کی کامل پہچان نصیب فرمائے۔ (آمین)
استفادہ کتب:
شمس الفقرا۔ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ۔ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
سرِّ دلبراں۔ شاہ سیّد محمد ذوقیؒ

اپنا تبصرہ بھیجیں