Ameer ul Konain

امیر الکونین | Ameer-ul-Konain

امیر الکونین

قسط نمبر10

بعض فرقے ایسے ہیں جن کا ظاہر تحقیق شدہ لیکن باطن زندیق ہوتا ہے جو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ کار کے خلاف ہے اور بعض کا ظاہر و باطن زندیق ہوتا ہے جن کے متعلق اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ۔ (البقرہ۔44)
ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو۔
اور بعض کا باطن تحقیق شدہ ہوتا ہے لیکن ان کا ظاہر زندیق ہو جاتا ہے کیونکہ وہ شریعت اور اسلام کے احکامات کی پیروی نہیں کرتے۔ بعض کا ظاہر باطن حق سے تحقیق ہوتا ہے جو حق بولتے، حق سنتے، حق دیکھتے اور حق جانتے ہیں۔ ان کا راستہ حق اور سچائی کا راستہ ہوتا ہے اور وہ باطل سے بیزار ہوتے ہیں۔ صاحبِ حق کا باطن بھی برحق ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
کُلُّ بَاطِنٍ مُخَالِفٌ لِظَاہِرٍ فَہُوَ بَاطِلٌ۔
ترجمہ: ہر وہ باطن جو ظاہر کا مخالف ہو وہ باطل ہے۔
ابیات:
گر یک رنگ شوی یکتا صفا
تا بیابی معرفت وحدت لقا
ترجمہ: اگر توظاہر و باطن میں ایک جیسا اور پاکیزہ ہو جائے تب تُو معرفتِ وحدت اور لقائے الٰہی حاصل کر لے گا۔
در دو رنگی دل بود روئے سیاہ
این مراتب کاذبان قہر از خدا
ترجمہ: اگر دل میں منافقت ہو یعنی ظاہر باطن کے مخالف ہو تو دل سیاہ ہوتا ہے۔ کاذبوں کے یہ مراتب اللہ کے قہر کے باعث ہیں۔
جان لو کہ فرقے تہتر قسم کے ہیں او رکوئی فرقہ خود کو غلط نہیں سمجھتا اور ہر فرقہ یہی کہتا ہے کہ اس کا فرقہ نجات یافتہ اور حق کے راستہ پر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ہر فرقہ کی راہ ایک ہی علم سے ہے اور بہتر (۷۲) فرقے خلافِ شریعت اور سنت جماعت کے مخالف ہیں جس کے باعث وہ گمراہ ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ فقیر عارف اسے کہتے ہیں جو ان تہتر (۷۳) فرقوں کے متعلق جانتا ہے اور ہر فرقہ کا علم سیکھتا ہے۔ فرقہ سنت جماعت درحقیقت حق تک پہنچاتا ہے اور بہتر (۷۲) باطل فرقوں پر علمِ حق کے ذریعے غالب آتا ہے اور باطل کو دور کرتا ہے کیونکہ فرقہ سنت جماعت سعید ہے اور اس فرقہ کی بنیاد معرفت اور وصالِ الٰہی پر ہے جسے قرآن شریف (کی تعلیمات پر عمل) سے سیکھا جا سکتا ہے اور یہی توحید کا مغز ہے۔ سنت جماعت کے علاوہ تمام تقلید کرنے والے شقی ہیں۔
جان لو کہ علم بہت سے ہیں‘ کسی بھی فرقہ کا راستہ علم سے بعید اور خارج نہیں۔ پس درسِ علم دو قسم کا ہے پہلا علمِ ظاہر جو یہ درس دیتا ہے کہ تمام عالم شریعت اور تقدیر کے احاطہ میں ہے۔ دوسرا علمِ باطن جو معرفت کا علم ہے اور اللہ لطیف کی رضا کا حکم دیتا ہے۔ پس علمِ باطن کے سات درس ہیں جو سات طریق سے پڑھائے جاتے ہیں اور سات توفیقِ الٰہی، جمعیت و حکمت اور تحقیق عطا کرتے ہیں کیونکہ طالبانِ مولیٰ کو عارف مرشد علم عطا کرتا ہے اور باطن میں مطالب کی انتہا تک پہنچاتا ہے چنانچہ اوّل علم ذکر ہے جو درسِ ذکر سے حاصل ہوتا ہے اور علمِ ذکر کا عالم بناتا ہے۔ دوم علمِ فکر ہے جو درسِ فکر سے حاصل ہوتا ہے اور علمِ فکر کا عالم بناتا ہے۔ سوم علمِ مذکور ہے جو اللہ کے متعلق علم کے سبق سے حاصل ہوتا ہے اور علمِ الٰہی کا عالم بناتا ہے۔ چہارم علمِ الہام ہے جو درسِ الہام سے حاصل ہتا ہے اور عالمِ الہام بناتا ہے۔ پنجم علمِ مشاہدہ اور علمِ حضوری ہے جو مشاہدہ اور حضوری کے سبق سے حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے مشاہدہ اور حضوری کے علم کا عالم بناتا ہے۔ ششم علمِ غرق ہے جو غرق کے سبق سے حاصل ہوتا ہے اور غرق کے علم کا عالم بناتا ہے۔ ہفتم علمِ معرفت اور دیدارِ الٰہی ہے جو درسِ معرفت و دیدارِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے اور معرفت اور دیدارِ الٰہی کا عالم بناتا ہے۔ یہ مرتبہ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا (مرنے سے پہلے مر جاؤ) پر پہنچنے سے حاصل ہوتا ہے جب طالب انوار میں غرق مطالعۂ دیدار میں مصروف ہوتا ہے تب وہ اس آیت کریمہ کے مصداق ہوتا ہے جو انسانِ کامل کا نصیب ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰی۔ (النجم۔17)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ نہ بھٹکی اور نہ حد سے بڑھی۔
عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔(العلق۔5)
ترجمہ: انسان کو وہ سب علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَعَلَّمْنٰہُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا۔ (الکہف۔65)
ترجمہ: اور اسے علمِ لدنیّ سکھایا۔
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ۔(الکہف۔24)
ترجمہ: اور اپنے ربّ کا ذکر (اس قدر محویت سے) کر کہ تو (خود کو بھی) فراموش کر دے۔
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا۔ (البقرہ۔31) ترجمہ: اور آدم ؑ کو تمام اسما کا علم عطا فرمایا۔

تقویٰ کے بغیر معرفت اور توحیدِ الٰہی حاصل نہیں ہوتی اور علمِ تقویٰ اور متقی عالم چار قسم کے ہیں۔ اوّل علمِ تقویٰ فقہ ہے کہ متقی عالم زبان سے مسائلِ فقہ بیان کرے، حلال رزق کمائے اور سچ بولے۔ دوم علمِ تقویٰ تصدیق ہے کہ اس کا متقی عالم اس کے علم کے حصول کے لیے اپنے نفس کو فنا کرنے کے بارے میں تفکر کرتا ہے۔ سوم علمِ تقویٰ اللہ کا فیض ہے جسکا متقی عالم اس سے فرحتِ روح حاصل کرتا ہے۔ چہارم علمِ تقویٰ فضلِ الٰہی ہے کہ اس کا متقی عالم اسرارِ پروردگار کا مشاہدہ کرتا ہے اور مشرفِ دیدار ہوتا ہے جو کہ روزِ الست سے اس کا نصیبہ ہے۔ متقی عالم کے یہ تمام مراتب جب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو اسے تقویِٰ ہدایت کہتے ہیں یعنی متقی عالمِ ازلی فیض و فضل کا باعث ہوتا ہے جو اللہ کی اس آیت کریمہ کے بموجب ہوتا ہے:
لَا رَیْبَ ج فِیْہِ ج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ لا الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ۔(البقرہ۔2,3)
ترجمہ: اس (کتاب) میں کوئی شبہ نہیں۔ اس میں متقین کے لیے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
پس ایسا متقی عالم باطن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم مجلس ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے دیدار و لقا کے راستے پر چلنے والا ہوتا ہے جو دونوں جہان کا مشاہدہ بے حجاب کرتا ہے اور جنت اس کے لیے خواہشاتِ نفس ہے۔ پس اس کا مکان لاھوت لامکان ہوتا ہے جہاں وہ اللہ کی رحمت سے اس کے دیدار سے مشرف ہوتا ہے اور رحمن کے علم کو حاصل کرنے میں مشغول ہوتا ہے۔ جو عالم دیدار کرنا نہیں جانتا اور علمِ دیدار کا سبق نہیں پڑھتا وہ جاہل ہے جو باطن سے معرفت کی خبر وصول کرنا نہیں جانتا۔ وہ بے حصول ہے۔ اگر راہِ باطن میں ایسی کرامت اور دیدار کی نعمت، دائمی دولت، مشاہدہ، حضورِ حق اور مجلسِ محمدی کی حضوری نہ ہوتی تو راہِ باطن پر چلنے والے سب گمراہ ہو جاتے کیونکہ مرد طالب کے لیے معرفت و دیدارِ الٰہی شکر کا ذریعہ ہیں۔ وہ کونسی راہ ہے کہ جس سے ظاہر و باطن کا تمام علمِ تقویٰ، معرفت، ذکر، فکر، دیدارِ نور، حضورِ حق، مشاہدہ، قربِ حق اور جمعیت حاصل ہوتی ہے کہ ایک ہی نظر میں تمام مراتب اس کے تصرف میں آ جائیں۔وہ حضوری کی راہ ہے جو اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتی ہے۔ مرشد کامل جملہ آیاتِ قرآن، اسمِ اعظم اور کلمہ طیبہلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ سے حاصل ہونے والی حضوری کا سبق پہلے ہی روز دے دیتا ہے اور طالبِ صادق کو توفیقِ الٰہی اور تحقیق سے حقیقت دکھاتا ہے۔ایسا مرشد کامل رفیق ہونا چاہیے۔ اے احمق! یہ صاحبِ شرع عارفین کے مراتب ہیں جبکہ اہلِ بدعت قومِ زندیق سے تعلق رکھتے ہیں۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ جان لو کہ وہ کونسا علم ہے کہ تمام مجموعۂ فرائض اس ایک فرض علم میں شامل ہوں؟ اور وہ کونسا علم ہے کہ مجموعۂ سنت ایک سنت میں شامل ہو۔ وہ کونسا علم ہے کہ مجموعۂ مستحب ایک علمِ مستحب میں شامل ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:اَلْعِلْمُ نُکْتَۃٌ ترجمہ: علم ایک نکتہ ہے۔ ابیات:

 

علم سہ حرف است یک نکتہ علم
نکتہ دانی عارف و عالم چہ غم

ترجمہ: علم کے تین حروف ہیں جو ایک نکتہ میں سمائے ہیں۔ اگر تو اس نکتہ کو جان لے تو عارف ہو جائے گا کیونکہ اس نکتہ کو جاننے والا ہر غم سے آزاد ہوتا ہے۔

ہر علم شرح است علم از معرفت
عالم و عارف خضرؑ عیسیٰؑ صفت

ترجمہ: ہر علم‘ علمِ معرفت کی شرح ہے۔ عالم و عارف خضر ؑ اور عیسیٰ ؑ کی صفات کے حامل ہوتے ہیں۔

باھُوؒ ہر علم را از علم دریافتہ
علم عین از عین باخود ساختہ

ترجمہ: باھُوؒ نے ہر علم اسی علمِ معرفت سے پایا ہے۔ یہ علمِ عین ذات ‘ اللہ سے حاصل ہوتا ہے جسے باھُوؒ نے خود اپنا رفیق بنایا ہے۔
علم کے تین حروف ہیں ع، ل، م۔ علم کا ’ع‘ علیٰ تک پہنچاتا ہے اور ’ل‘ لایحتاج بناتا ہے اور علم کا ’م‘ مردانِ خدا کو محبت، معرفت، مشاہدہ، مجلسِ انبیا و اولیا اللہ کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ سب مراتب حاصل کرنا اصل علم جاننا ہے۔ جس کے بعد طالب کا دل دائمی طور پر خدا کے ساتھ مشغول رہتا ہے اور وہ ظاہری طور پر صفائے قلب کے لیے مطالعۂ تصوف میں مصروف رہتا ہے۔ زبان صحیح اقرار کرتی ہے اور قلب تسبیح کے ساتھ تصدیق کرتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
 اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ بِالْقَلْبِ  ۔
ترجمہ: زبان سے (ایمان کا) اقرار کرو اور قلب سے تصدیق کرو۔
اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
علمِ ظاہر چراغ کی مثل ہے جس سے صرف عالم کے گھروں میں روشنی ہوتی ہے۔ علمِ باطن آفتاب کی مانند (سارے جہان میں) فیض رساں ہے۔ عالم باللہ عارف روز بروز نورِ آفتاب کی مثل طلوع اور ظاہر ہو کر تاریکی کو مٹاتا ہے۔ پس فقیر نورِ آفتاب ہے اور دنیا تاریکی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
 اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ۔(البقرہ۔257)
ترجمہ: اللہ مومنوں کا دوست ہے جو انہیں ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے۔
اے عزیز! جاننا چاہیے کہ تمام عالمِ دنیا عرش سے تحت الثریٰ تک اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘ پانی کی بلبلے کی مثل محض ہوا ہے اور وجودِ عالم کا انحصار بھی ہوا پر ہے۔ صاحبِ علم بھی پانی کی بلبلے کی مثل ہے۔ پس معلوم ہوا کہ وجودِ فقیر سمندر کی مثل ہے جس میں معرفت، توحید، مشاہدۂ حق، قربِ الٰہی، حضورِ حق، انوار اور دیدارِ نور شامل ہیں اور وجودِ فقیر علمِ حیّ و قیوم اور علمِ لدنیّ کا عالم ہونے کے باعث سمندر ہے اور سمندر کے پانی پر بے شمار بلبلے اور جھاگ ہوتی ہے۔ جس وقت سمندر کا پانی بلبلے کو پانی کے نیچے لے جاتا ہے بلبلہ ہوا سے خالی ہو جاتا ہے اور سمندر کے پانی میں گم ہو جاتا ہے تب صرف سمندر کا پانی نظر آتا ہے۔ عالم اگرچہ تمام عمر عمل و ثواب میں صَرف کر دے تو بھی وہ بلبلے کی مانند ہے نہ کہ پانی کی مثل۔ جبکہ فقیر سمندر کی مثل ہے جس میں ہر موتی بے حجاب ہوتا ہے۔ ہر شے کو بے حجاب دیکھنے والے کو ثواب کی کیا ضرورت۔ عالم اور ولی اللہ فقیر میں یہی فرق ہے جو بلبلے اور سمندر کے پانی میں ہے۔ بلبلہ اگرچہ پانی سے اوپر ہوتا ہے لیکن اس کی اصل پانی ہی ہے کیونکہ بلبلہ پھٹنے کے بعد پانی بن جاتا ہے لیکن فقیر پانی میں موتی کی مثل ہے۔ علما کا مرتبہ اگر سمندر کا ہو تو فقیر کا مرتبہ موتی کا ہوگا۔ پس معلوم ہوا کہ علما کا مرتبہ زبان سے اقرار تک محدود ہے کہ زبان کا تعلق سر کے اندر منہ سے ہے اور فقیر کا مرتبہ علمِ تصدیق القلب ہے جو اسرار کا علم ہے جس کا مسکن سینہ میں قلب کے اندر ہے۔ عالمِ ظاہر شاگرد کو زبان سے قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   (فرما دیجیے کہ اللہ ایک ہے) کا سبق د یتا ہے اور فقیر عارف طالبِ مولیٰ کو توجہ اور نظر سے سبق دیتا ہے اور طالبِ مولیٰ تفکر سے دل میں کَفٰی بِاللّٰہِ  (یعنی اللہ ہی میری کفایت کرتا ہے) پڑھتا ہے اور واضح طور پر جان کر کہتا ہے حَسْبِیَ اللّٰہُ (اللہ ہی میرے ہر معاملے میں کافی ہے)۔ اہلِ ظاہر کے لیے باطن اور علمِ باطن حجاب ہے اور اسی طرح اہلِ باطن کے لیے علمِ ظاہر حجاب ہے۔ فقیر عارف باللہ ظاہری آنکھ سے علمِ ظاہر کا مطالعہ کرتا ہے اور علمِ باطن سے روشن ضمیر ہو جاتا ہے جو نہ صرف علمِ ظاہر کی تفسیر بیان کرتا ہے بلکہ علمِ باطن سے عیاں مشاہدہ بھی کرتا ہے۔ ابیات:

علم باطن معرفت رہبر خدا
باز دارد حرص و حسد و ز ہوا

ترجمہ: علمِ باطن معرفتِ حق کے لیے راہبر ہے جو حرص، حسد اور خواہشاتِ نفس سے دور رکھتا ہے۔

بی زبانش علم خوانند از رسولؐ
علم باطن برد حاضر حق وصول

ترجمہ: طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بے زبان علمِ باطن پڑھتے ہیں جو انہیں حق عطا کر کے حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔

عارفان بے سر روند باپائے جان
آنجا جہان دیگر است دارالامان

ترجمہ: عارفین روح کے قدموں سے بے سر وہاں پہنچتے ہیں جو اس عالم سے مختلف اور دارالامن ہے۔
جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا قلب حیات ہے اورکدورت، خناس، خرطوم، وسوسۂ شیطان، واہمات اور خطرات سے نجات پا چکا ہے تو اس کے قلب کی حیات کا گواہ اس کا مشاہدہ، حضوری اور انوارِ دیدار سے مشرف ہونا ہے۔ زندہ قلب ذاکر کا قلب غلباتِ ذکرِ قلب کے باعث مشاہدۂ نور میں غرق ہوتا ہے اور قربِ الٰہی یا مجلسِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے جواب باصواب اور الہام و پیغام پاتا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ علمِ زبانی کا عالم جو صرف گفتگو کرتا ہے‘ کو کیا قدرت کہ زندہ قلب عالم کے احوال سے مقابلہ کرے۔ اگر جرأت کر لے تو جذبِ غضب اور جلالیت کے باعث رسوا ہو کر مجنوں، دیوانہ اور مجذوب ہو جائے گا۔ زندہ قلب صاحبِ حال کی کیا مجال کہ عالمِ روحانی جسے باطنی احوال حاصل ہوں‘ سے مقابلہ کرے۔ اور صاحبِ احوالِ روحانی عالم کی کیا طاقت کہ صاحبِ سرّ عارفِ واصل کے سامنے سانس بھی لے اور صاحبِ سرّ عارفِ واصل کی کیا ہمت کہ صاحبِ فنا و بقاجو مراتبِ مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا پر ہو‘ کے سامنے دم مارے۔ اس کے متعلق فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ۔ (یونس۔31)
ترجمہ: وہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔
صاحبِ فنا بقا کو کیا اختیار کہ صاحبِ ذات‘ جو کہ نورِ توحید کا حامل ہو اور جمعیت کے مراتب طے کر کے جمالِ الٰہی کے لقا تک پہنچ گیا ہو‘ کے سامنے دم مارے۔ مراتبِ جامع وہم و فہم میں نہیں سما سکتے۔ ان کی نہ کوئی حد ہے نہ شمار۔ مرشد وہ ہے جو روزِ اوّل اسمِ اللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ سے حاصل ہونے والی حضوری سے تمام مراتب ایک دم میں اس طرح طے کرا دے کہ تمام کائنات کا نظارہ ایک دم میں دکھا دے جس سے طالبِ مولیٰ کے دل میں کوئی افسوس باقی نہ رہے۔ جس کے بعد اس طالبِ مولیٰ کا وجود تلقین و ارشاد حاصل کرنے کے لائق بنتا ہے اور فقیر کے ارشاد سے طالبِ مولیٰ روزِ اوّل ہی فقیر بن جاتا ہے جو نفس، دنیا، شیطان اور دونوں جہان پر غالب ہوتا ہے۔ فقیر کے جسم و جان کے تمام اعضا نور بن جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی فکر، ذات، نفس، قلب اور روح بھی نور بن جاتے ہیں جسے حضوری حاصل ہوتی ہے۔ جو مرشد کامل طالبِ صادق کو روزِ اوّل نورِ حضور کے مراتب پر نہیں پہنچاتا وہ احمق ہے جو خود کو مرشد کہلواتا ہے اور وہ طالب بھی بے نصیب اور احمق ہے جو صاحبِ نور حضور فقیر کو مرشد تو مانتا ہے لیکن اس کی قدر اور مرتبہ نہیں جانتا۔وہ تمام عمر معرفت سے محروم اور خواہشاتِ نفس اور عُجب و ریا کے باعث ناقص رہتا ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْھَا۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں