Alif

الف–Alif

مواعظِ سیّدنا غوث الاعظمؓ

سیّدنا غوث ا لاعظم رضی اللہ عنہٗ کا وعظ حکمت ودانش کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوتا تھا ۔ اس کی تاثیر کا یہ عالم ہوتا تھا کہ لوگوں پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔ بعض لوگ جوش میں آکر اپنے کپڑے پھاڑ ڈالتے تھے، بعض بے ہوش ہوجاتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مجلسِ وعظ میں ایک دو آدمی غشی کی حالت میں واصل بحق ہوگئے ۔ اکثر اوقات غیر مسلم بھی آپ رضی اللہ عنہٗ کی مجالسِ وعظ میں شرکت کرنے آتے آپ رضی اللہ عنہٗ کا وعظ سن کر انہیں کلمہ شہاد ت پڑھ لینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہتا۔ جو گمراہ مسلمان آپ رضی اللہ عنہٗ کا وعظ سن لیتا صراطِ مستقیم اختیار کرلیتا ۔ مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کی مجلس وعظ کی اثر انگیزی سے ان کے لباس اور ٹوپیاں شعلہ فروزاں بن جاتیں اور شدتِ جذبات سے ان میں اضطراب بَپا ہوجاتا۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی آواز نہایت کڑک دار تھی جسے دور نزدیک بیٹھنے والے تمام لوگ یکساں سنتے تھے۔ ہیبت کا یہ عالم تھا کہ دورانِ وعظ کسی کی مجال نہ تھی کہ بات کرے ‘ ناک صاف کرے ‘ تھوکے یا ادھر اُدھر اٹھ کر جائے ۔ وعظ قدرے سرعت سے فرماتے تھے کیونکہ الہاماتِ ربانی کی بے پناہ آمد ہوتی تھی ۔ اس دور کے اکثر نامور مشائخ آپ رضی اللہ عنہٗ کی مجالسِ وعظ میں شریک ہوتے تھے ۔ مجالسِ وعظ میں بکثرت کرامات آپ رضی اللہ عنہٗسے ظاہرہوئیں ۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے مواعظ دلوں پر بجلی کا اثر کرتے تھے۔ ان میں بیک وقت شوکت وعظمت بھی تھی اور دلآویزی اور حلاوت بھی ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائبِ خاص تھے، عارفِ کامل مکمل نور الہدیٰ تھے اس لئے ہر وعظ سامعین کے حالات وضروریات کے مطابق ہوتا تھا ۔
لوگ جب بغیر پوچھے اپنے شبہات اور قلبی امراض کا جواب پاتے تھے تو ان کو روحانی سکون حاصل ہوجاتا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے مواعظِ حسنہ کے الفاظ آج بھی دلوں میں حرارت پیدا کردیتے ہیں اور ان میں بے مثال تازگی اور زندگی محسوس ہوتی ہے ۔
آپ کے شاگرد شیخ عبداللہ جیلانیؒ کا بیان ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے مواعظِ حسنہ سے متاثر ہو کر ایک لاکھ سے زائد فاسق وفاجر اور بد اعتقاد لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ پر توبہ کی اور ہزار ہا یہودی اور عیسائی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے خود ایک موقعہ پر فرمایا :
’’ میری آرزو ہوتی ہے کہ ہمیشہ خلوت گزیں رہوں ‘ دشت وبیابان میرا مسکن ہو ں ‘ نہ مخلوق مجھے دیکھے نہ میں اس کو دیکھوں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی بھلائی منظور ہے  میرے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زائد عیسائی اور یہودی مسلمان ہوچکے ہیں او رایک لاکھ سے زیادہ بدکار اور فسق وفجور میں مبتلا لوگ توبہ کرچکے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔ ‘‘
(اقتباس از کتاب ’’حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ‘‘ تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں