تزکیہ نفس کیوں ضروری ہے ؟؟؟ | Tazkia Nafs Kiun Zaruri Hai؟

تزکیہ نفس کیوں ضروری ہے ؟؟؟

محترمہ روبینہ فاروق سروری قادری (لاہور)

 جب انسان پیدا ہو تا ہے تو فطرتِ سلیمہ پر ہوتا ہے لیکن اس دنیا کی رنگینیوں اور نفس و شیطان کی چالوں کے باعث اس کے نفس پر میل جمنا شروع ہو جاتی ہے اور انسان کا تعلق اور رابطہ اللہ سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسانی دماغ ہر وقت کسی نہ کسی سوچ و فکر میں مبتلا ہوتا ہے چاہے وہ فکر فضول اور بری ہو چاہے اچھی۔ ویسے تو ہر انسان دینِ فطرت پر پیدا ہوا ہے اور فطرت بدلی نہیں جا سکتی لیکن نفس کو تزکیہ کے ذریعے پاک کیا جا سکتا ہے۔ فلاح و کامیابی نفس کو دنیاوی لذتوں اور خواہشوں کی میل سے پاک کرنے میں ہی ہے۔ اسی عمل کو تزکیۂ نفس کہتے ہیں یعنی نفس کو غیر اللہ سے پاک کرنا۔

قرآن پاک میں ہے:
 نفس تو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔  (سورۃ یوسف)
یہی نفس جس کو امارہ کہتے ہیں تزکیہ کے ذریعے لوامہ،ملہمہ اور مطمئنہ پر پہنچ کر اپنی منزل پا لیتا ہے ۔
تزکیۂ نفس ضروری اس لیے ہے کہ انسان کو جس مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے وہ اس مقصد کو حاصل کرے اور وہ مقصد ہے اللہ پاک کی پہچان اور معرفت۔ 

اللہ کی پہچان اور معرفت کے لیے شریعت سے طریقت، معرفت اور پھر حقیقت تک پہنچنا لازم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: ’’طریقت میرے اعمال ہیں،حقیقت میری باطنی کیفیت اور معرفت میرا راز ہے‘‘۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد کے مطابق طریقت کی دعوت درحقیقت شریعت کی اتباع کے سواکچھ نہیں ۔

زیادہ تر لوگ شریعت کے ظاہری اعمال کی ادائیگی میں ہی مشغول رہتے ہیں اور بہت ہی کم لوگ ہیں جو طریقت اور حقیقت کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ اس راستے پر غورو فکر کرنے والے جو واقعی اللہ کو جاننا پہچاننا اور پانا چاہتے ہیں‘ چلتے ہیں۔قرآن پاک کی سورۃ النازعات میں اللہ پاک فرماتا ہے: 
 اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا یقینا جنتِ ماویٰ ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا۔

مندرجہ بالا آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو شریعت پر چلے گا، حلال اور حرام کی تمیز کرے گا اور نماز ، روزہ، حج، زکوٰۃ جیسے فرائض سر انجام دے گا وہ جنت میں تو چلا جائے گا لیکن دیدارِ الٰہی سے محروم رہے گا اور کبھی بھی مجلسِ محمدیؐ میں داخل نہیں ہوسکتا۔
دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ تک رسائی ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہ صرف مرشد کامل اکمل کی ذاتِ مبارکہ ہے جو نہ صرف خود مجلسِ محمدیؐ تک رسائی پا چکا ہوتا ہے بلکہ اپنے طالبوں کو بھی وہاں تک پہنچا سکتا ہے اور یہ سب فقر پر چلنے سے ممکن ہے۔ فقر سے مراد وہ فقر نہیں جسے عوام تنگ دستی، غربت اور افلاس سمجھتی ہے بلکہ یہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وہ طریقہ اور ورثہ ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لیے اپنی امت کو عطا فرمایا۔ تاہم عام اور ظاہر پرست لوگوں کے لیے اس راہ پر چلنا ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ ظاہری عالم بھی اس راہ کی حقیقت سے آگاہ نہیں اس لیے وہ لوگوں کو اس راستہ پر چلنے نہیں دیتے۔ جس نے بھی فقر اختیار کیا ہے ان ظاہر پرست علما سے چھپ کر ہی کیا ہے۔ یہ علما فقر پر چلنے والوں پر شرک کے فتوے لگاتے اور طنز کے تیر برساتے رہتے ہیں جبکہ عاشق حق تعالیٰ کے راز سے آشنا ہوتے ہیں۔
قرآنِ پاک میں ہے ’’ہم اپنا رخ انور پھیر لیں گے ان لوگوں سے جنہوں نے ہمیں دنیا میں نہیں دیکھا۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ کو نہیں پہچانا وہ آخرت میں بھی اللہ پاک کے دیدار سے محروم رہیں گے۔ تزکیۂ نفس کے لیے وہی لوگ آمادہ اور خواہشمند ہوتے ہیں جو اللہ کو پہچاننا چاہتے ہیں، جو خود کو کامل اور مکمل نہیں سمجھتے بلکہ ہمیشہ اپنی اصلاح کے لیے کمربستہ رہتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں وہ تزکیہ ٔنفس کے لیے کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اس لیے اپنی ساری عمر ظاہری عبادت و ریاضت میں گزار دیتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی ادائیگی کے باوجود اللہ پاک کی معرفت حاصل نہیں کر پاتے۔ مرشد کامل اکمل اللہ تعالیٰ کے قرب کی انتہا پر ہوتا ہے اس لیے جب طالب اپنا ہر اختیار اور اپنی ہر چاہت مرشد کے حوالے کر دیتا ہے تو مرشد کبھی بھی اپنے اس طالب کو گمراہ نہیں ہونے دیتا، ہمیشہ اُسے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے، اپنی پاکیزہ صحبت اور نگاہِ کامل سے اس کے نفس کا تزکیہ کرتا رہتا ہے جس کی بدولت طالب راہِ حق پر چلتا ہو ا اپنی منزل پا لیتا ہے۔ اس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’جس کا کوئی مرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہے۔‘‘

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

 مرشد وانگ سنارے ہووے، جیہڑا گھت کٹھالی گالے ھوُ
پا کٹھالی باہر کڈھے،بندے گھڑے یا والے ھوُ

یعنی مرشد کامل اکمل طالب کو ورد و وظائف، چلہ کشی اور ریاضت کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس کی بری عادتوں سے اس کو نجات دلواتا ہے جس طرح سنار سونے کو آگ کی بھٹی میں ڈال کر پگھلا دیتا ہے اور پھر اس سے اپنی مرضی کے مطابق زیورات تیار کرتا ہے اسی طرح مرشد بھی طالب کی پرانی اور بری عادات کو ختم کر دیتا ہے اور اس کا تزکیۂ نفس کر کے اس کو عشقِ حقیقی کے جذبہ سے سرشار کرتا ہے اور اس کے اندر موجود اچھی صفات اور عادات کو مزید کامل کر کے انہیں نکھار عطا کرتا ہے۔ اس کی نیت کو درست کرتا ہے، اس کے اندر اخلاص پیدا کرتا ہے، اس کے یقین کو پختہ کرتا ہے اور اسے توحید کی حقیقت سے روشناس کرا دیتا ہے۔ اسی کے متعلق سورۃ فاتحہ میں کہا گیا ہے ’’اے اللہ! ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا جن پر تونے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کی راہ پر جن پر تونے غضب کیا۔‘‘ مرشد کامل اکمل کی راہ اور طریقہ ہی ان لوگوں کی راہ اور طریقہ ہے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے۔ انہی کی پیروی اور اطاعت میں ہی فلاح اور کامیابی ہے۔
ایک اہم نکتہ اور غور طلب بات یہ ہے کہ لازمی نہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد جس طریقہ پر ہوں وہی برحق ہو اس لیے ہم نسل در نسل اسی کی پیروی کرتے رہیں بلکہ لازم ہے کہ دین کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کریں اور حق کی تلاش کریں تاکہ اس دنیا سے ناکام واپس نہ لوٹیں۔

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اپنے آباؤ اجداد کے دین پر مت چلو اور غورو فکر کرو اسی میں تمہاری بہتری ہے‘‘۔ 

لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ قرآن کو پڑھنے والے لوگ تو کثیر ہیں لیکن اس کو سمجھنے والے کم ہیں اور اس پر عمل کرنے والے تو نہایت قلیل ہیں۔ جب تک ہمیں حقیقت سے آشنائی ہی حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی یہ معلوم ہوگا کہ کون سا راستہ حق کا راستہ ہے اور اس پر چلنے کے لیے کن انعام یافتہ لوگوں کی پیروی کرنی ہے تب تک محض قرآن کے مطالعہ سے ہم اللہ کی معرفت اور اس کے قرب تک رسائی نہیں پا سکیں گے۔ 

تزکیۂ نفس کے لیے طالب کو بہت ہمت والا ہونا چاہیے کیونکہ جیسے ہی طالبِ مولیٰ راہِ حق پر چلنا شروع کرتا ہے تو اس کے اپنے ہی اس کی مخالفت پر اُتر آتے ہیں اور اس راہ پر رکاوٹ بنتے ہیں۔ شیطان کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بھی مرشد کامل اکمل کا وسیلہ تلاش نہ کرے اس لیے وہ اسی نظریہ میں الجھائے رکھتا ہے کہ محض قرآن و حدیث کی کتب کا مطالعہ ہی کافی ہے اور دین کی حقیقت سمجھنے کے لیے کسی وسیلہ یا استاد کی ضرورت نہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ہماری محبوب ہستیوں یعنی عزیز و اقارب، اہلِ خانہ یا دوست احباب کی شکل میں ہی ہمیں گمراہ کرتا ہے۔ وہی طالب کامیاب ہوتا ہے جس کا ارادہ اٹل اور جس کی طلب صادق ہوتی ہے۔ جو محض اللہ کا طالب ہوتا ہے وہ دنیا اور اہلِ دنیا کے طعنوں اور گلوں شکووں سے نالاں نہیں ہوتا بلکہ مستقل مزاجی سے راہِ حق پر چلتا رہتا ہے۔ 

انسان اپنا تزکیہ خود کبھی بھی نہیں کر سکتا جس طرح کوئی ڈاکٹر اپنا علاج یا سرجری خود نہیں کر سکتا اسی طرح ہمیں بھی اپنے نفس کے تزکیہ کے لیے کسی ایسے استاد اور مرشد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کام میں ماہر ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر خیر بھی ہے اور شر بھی۔ جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو اپنے اندر کی آواز پر کبھی بھی فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ آواز خیر کی ہے یا شر کی کیونکہ اس کا تزکیۂ نفس نہیں ہوا ہوتا جس کے بغیر کبھی بھی انسان خیر و شر میں تمیز نہیں کر پاتا۔ آپ کبھی بھی خیر اور شر میں تمیز نہیں کر سکیں گے اس لیے کہا جاتا ہے کہ مرشد کی صحبت میں چند گھڑی بیٹھنا ستر سالہ عبادت سے بہتر ہے۔ مرشد چونکہ راہِ حق کے تمام نشیب و فراز سے واقف ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے طالب کو بحفاظت اس راستہ سے گزار دیتا ہے۔ 

مولانا رومؒ فرماتے ہیں :
 علوم قولی استاد سے اور کتابوں سے سیکھے جاتے ہیں ،علوم صناعی یا حرفت کسی ماہر کے ساتھ رہنے سے آتے ہیں جیسے کہ فن زرگری کسی سنار کے پاس بیٹھ کر سیکھنے سے آئے گا، تیسرا علم درویشی یا علمِ فقر جو تزکیۂ نفس سے تعلق رکھتا ہے یہ کسی مرشد کے فیضان یا کسی اہلِ دل کی صحبت سے ہی حاصل ہوتا ہے اگر کسی شخص کو علم بھی حاصل ہو اور اعمال بھی صالح ہوں مگر اسے صحبت حاصل نہ ہوئی ہو تو اسے فقر کا کوئی اعلیٰ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ (سوزو سازِ رومی)
رومی کے اس قول سے یہ پتہ چلتا ہے تزکیہ نفس کے بغیر دین کے اعلیٰ مقام تک کبھی بھی نہیں پہنچا جا سکتا۔
مولانا رومؒ مزید فرماتے ہیں :
 فرعو نیت نفسِ انسانی کا ایک مظہر ہے فرعون کا قصہ سن کر لوگ فرعون کو برا کہتے ہیں حالانکہ لوگوں کے اندر فرعون کا اژدھاموجود ہے اور انسان بے سامان ہے۔ جو کچھ فرعون کو میسر تھا اگر تجھے دیا جائے تو دیکھ کہ تو کس طرح کا فرعون ہوتا ہے۔ انسان اپنا تزکیہ خود نہیں کر سکتا اس کے لیے مرشد کامل اکمل کی ضرورت ہوتی ہے جو تزکیۂ نفس کر سکے ورنہ انسان فرعون ہی رہتا ہے۔ (سوز و سازِ رومی)

تزکیۂ نفس اس لیے بھی ضروری ہے کہ صرف علم حاصل کرنے سے بہت ہی کم لوگ اپنے آپ کو بدلتے ہیں جبکہ مرشد کامل اکمل طالب کا تزکیہ نفس عمل کے ذریعے کرتا ہے مطلب یہ کہ اس کو حال میں سے گزارتا ہے جس کی بدولت اس کا یقین مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ اگر عمل کے بغیر علم سے فیض حاصل ہوتا تو ابلیس کو ہوتا اور وہ گمراہی میں مبتلا نہ ہوتا۔ شیطان نے پچاس ہزار سال تک علم حاصل کیا اور پچاس ہزار سال تک فرشتوں کو علم سکھاتا رہا لیکن اس علم نے اس میں تکبر پیدا کر دیا اور اپنے تکبر کی وجہ سے وہ کافروں میں سے ہو گیا۔
حاصل تحریر یہ کہ محض علم کے حصول اور مطالعہ کتب سے کوئی بھی اپنے نفس کی اصلاح نہیں کر سکتا نہ ہی اپنی عادات و خصائل کو تبدیل کر سکتا ہے‘ معرفت و قربِ الٰہی کا حصول تو بہت دور کی بات ہے۔ اللہ کی پہچان اور معرفت کے لیے اپنی اصلاح اور تزکیۂ نفس بہت ضروری ہے اور اس کے لیے مرشد کامل اکمل کا ساتھ لازم ہے۔ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو اپنے فیض سے نوازا ہے۔ آپ کی نگاہِ کامل کی کوئی حد نہیں، آپ میلوں دور بیٹھے بھی اپنے طالبوں کی خبرگیری کرتے ہیں اور ان کی اصلاح اور تزکیہ فرماتے ہیں۔ اسمِ اللہ ذات کے فیض کو مرد و خواتین کے لیے جس قدر آپ نے عام فرمایا اس سے قبل کسی نے بھی عام نہیں کیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہِ کامل کی تاثیر کا یہ عالم ہے کہ طالبانِ دنیا کو طالبانِ مولیٰ بنا دیا اور دنیادار لوگوں کو عشقِ حقیقی کی دولت سے مالا مال فرما دیا۔ فیضِ بے مثال کا یہ سلسلہ ہمہ وقت جاری ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ اگر وہ اپنی اصلاح اور تزکیۂ نفس چاہتے ہیں تاکہ دین و دنیا میں فلاح و کامیابی حاصل کر سکیں تو مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں ضرور خلوصِ نیت سے حاضر ہوں۔

 

37 تبصرے “تزکیہ نفس کیوں ضروری ہے ؟؟؟ | Tazkia Nafs Kiun Zaruri Hai؟

  1. طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ اگر وہ اپنی اصلاح اور تزکیۂ نفس چاہتے ہیں تاکہ دین و دنیا میں فلاح و کامیابی حاصل کر سکیں تو مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں ضرور خلوصِ نیت سے حاضر ہوں۔

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #tazkia #innersoul #tazkianafs

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #tazkia #innersoul #tazkianafs

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #tazkia #innersoul #tazkianafs

اپنا تبصرہ بھیجیں