فیضانِ نسبت | Faizan e Nisbat

  فیضانِ نسبت

تحریرمحترمہ نورین سروری قادری (سیالکوٹ)

فیض حاصل کرنے یا طرزِ فکر منتقل ہونے کا نام نسبت ہے۔ نسبت کے معنی تعلق کے ہیں۔ نسبت درحقیقت بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہونے کا نام ہے۔ مشائخ کاملین کے نزدیک نسبت قلبی سکون کا نام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ سے رابطے کا ذریعہ ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں نسبت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کاایسا تعلق ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر اور جوابدہ پاتا ہے اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی صورت میں یاد کرتا ہے۔ نسبت سے مراد کسی عظیم ہستی سے روحانی تعلق قائم ہو جانا بھی ہے جس سے انسان کی طرزِ فکر اس عظیم ہستی کی طرزِ فکر کے مطابق ہوجاتی ہے۔

شاہ سیدّ محمد ذوقیؒ اپنی تصنیف ’’ سرِّ دلبراں ‘‘ میں نسبت کے بارے میں فرماتے ہیں:
 وہ ملکہ راسخہ محمودہ جو سالک اکتساب سے حاصل کرتا ہے اور جو ملکہ کہ اس کی روح کا جمیع جہات سے احاطہ کر لیتا ہے اور اس کی صفتِ لازمی بن جاتا ہے اور اس کا مرنا جینا اسی پر واقع ہوتا ہے۔ (سرِّدِلبراں)

سالک جب طاعت، طہارت اور ذکر و اذکارپر مستقل مزاجی سے عمل پیرا ہو جاتا ہے تو اس کے نفس میں ایک صفت پیدا ہو جاتی ہے اور راسخ توجہ کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
 اگر سالک روحانی اعمال اور ریاضات کے ذریعے اچھے ملکات (صفات) میں سے کوئی ملکہ اپنے اندر اس طرح پیدا کرلے کہ وہ ملکہ یعنی نفسی کیفیت اس کی روح کا پوری طرح احاطہ کر لے، وہ کیفیت ہمہ وقت اس کے ظاہر وباطن میں متمکن رہے اور سالک اس کے رنگ میں اس طرح رنگا جائے کہ اس کا جینا ہو تو اسی حال میں اور مرے تو اسی حال میں مرے یعنی وہ روحانی کیفیتِ نفس اور ملکہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے اور کسی وقت بھی اس سے جدانہ ہو، اس راہ میں جو کیفیت اور حالت سالک کے نفس میں پختہ طریقے سے مستقلاً جاگزیں ہو جاتی ہے گویا وہ اس کی ذات کے لیے لازمی اور فطری خصوصیت بن گئی ہے۔ اسے ’’نسبت‘‘ کہتے ہیں۔ (تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفۂ تاریخ)

نسبت ایک عظیم حقیقت ہے اور یہ نسبتیں ہی انسانوں کو سنوارتی ہیں۔ یہ نسبتیں نہ ہوں تو ہم بھی نہ ہوں۔ اسلامی معاشرے کا قیام اور اس کی بقا بھی نسبتوں کی ہی بدولت ہے۔ عظیم اور عالی نسبتوں سے ہی بے قیمت چیزیں قیمتی ہو جاتی ہیں۔ تمام جہانوں کو اتنا باوقار بنایا گیا تو صرف اورصرف نسبت کے لیے۔ ساری بہاریں نسبتوں کی ہیں۔ لفظوں کو نسبت نبی کریمؐ سے ہوئی تو وہ قرآن بن گئے، خطہ زمین کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہوئی تو وہ مکہ اور مدینہ بن گئے۔ حضرت علیؓ کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہوئی توحیدر کرارؓ بن گئے۔ حضرت ابوبکرؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت ہوئی تو صدیقؓ بن گئے۔ مناسکِ حج بھی نسبت کی ایک عظیم مثال ہیں جس کا ہر رکن، ہر عمل کسی نہ کسی کی یاد کو زندہ رکھنے کی سعی ہے۔ پانی کو جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں سے نسبت ہوئی تو وہ آبِ زمزم کہلایا ورنہ پانی تو ہر جگہ موجود ہے۔ شعائر اللہ، اولیا اللہ۔۔۔یہ سب نسبت کی وجہ سے ہیں۔ جسے رسولؐ سے نسبت حاصل ہو گئی وہ کائنات کی سب سے بڑی دولت کو پا گیا۔یہی وہ نسبت تھی جس پر صحابہؓ ناز کیا کرتے تھے۔ اسی نسبت نے صحابہ کرامؓ کو دنیا میں ہی جنت نشین بنا دیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حجرِ اسود کو مخاطب کر کے فرمایا ’’اے حجرِ اسود!تو ایک سیاہ رنگ کا پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان دے سکتا ہے۔ عمرؓ تجھے کبھی نہ چومتا۔ عمرؓ تجھے فقط اس لیے چومتا ہے کہ میرے آقا جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تجھے چوما ہے۔‘‘ یہ نسبت ہی کا فیضان ہے کہ خانہ کعبہ میں ایک رکعت کا ثواب ایک لاکھ رکعات کے برابر ملتا ہے اور مسجد نبوی ؐ میں ایک رکعت کا ثواب پچاس ہزار رکعات کے برابر ملتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگوں کا یہ کہنا ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ تو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے تو اب ہمیں کسی وسیلے کی کیا ضرورت! اور ہم کسی نسبت کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ بس قرآن کو پڑھ کر اس پر عمل کرو۔ جبکہ قرآن پاک میں یہ ارشاد ہے ’’اے ایمان والو! میری طرف وسیلہ تلاش کرو۔‘‘ اگر وسیلے کی ضرورت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انبیا کے درمیان جبرائیل امین کو کیوں رکھا؟ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے اسے کسی وسیلے کی کیا ضرورت؟ اور رہی بات نسبت کی تو اصحابِ کہف کے کتے کا تذکرہ اس کی اصحابِ کہف سے نسبت کی وجہ سے قرآن میں ہے، چیونٹی کا ذکر حضرت سلیمانؑ کی نسبت سے قرآن میں ہے۔ گندم کی بوری میں موجود کنکربھی گندم کے بھاؤ ہی بکتا ہے اسی طرح اللہ والوں کی مجلس میں بیٹھنے والا چاہے کھوٹا ہی کیوں نہ ہو، اس کی قدر بھی گندم کی بوری میں موجود کنکر کی طرح ہوتی ہے اور اگر وہ دور رہے تو بیکار کنکر کی طرح پیروں تلے روندا جائے گا۔یہ اللہ والوں کی نسبت ہی ہم گناہ گاروں کی نجا ت کاوسیلہ ہے۔

نسبت اور شاہی پہلوان

تیسری صدی ہجری میں بغداد کا ایک پہلوان بہت مشہور تھا، پورے بغداد اور اس کے اطراف میں کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اسکی پہلوانی کے قصے جب بادشاہ تک پہنچے تو بادشاہ نے اسے اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ جلد ہی وہ شاہی دربار میں معروف ہوگیا اور اسے خاص مقام دیا جانے لگا۔ ایک دن دربار سجا تھا، بادشاہ اور مصاحب جمع تھے، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی، دربان نے آکر بتایا کہ ایک کمزور و ناتواں شخص دروازے پر کھڑا ہے، لباس بوسیدہ ہے اور کمزوری کا یہ عالم ہے کہ کھڑا ہونا مشکل ہے لیکن وہ شاہی پہلوان سے کشتی کرنا چاہتا ہے۔ بادشاہ نے اسے اندر آنے کا حکم دیا، بادشاہ کے پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ میں شاہی پہلوان سے کشتی کرنا چا ہتا ہوں، یہ سن کر بادشاہ اور دربار میں موجود سب نے قہقہہ لگایا۔ بادشاہ بولا کیا تمہیں معلوم ہے کہ شاہی پہلوان کا نام سن کر ہی بڑے بڑوں کو پسینہ آنے لگتا ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اجنبی نے بڑی خود اعتمادی سے جواب دیا کہ شاہی پہلوان کی شہرت ہی مجھے یہاں لائی ہے، آپ میرا چیلنج قبول کریں باقی وقت ثابت کرے گا کہ شکست کس کا مقدر ہے۔ شاہی پہلوان بڑی حیرت سے ساری باتیں سن رہا تھا، اس نے حامی بھر لی اور بادشاہ نے حکم جاری کردیا۔ پورے بغداد میں تہلکہ مچ گیا اور دور دراز سے لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ اکھاڑا سجا اور مقابلہ شروع ہوگیا۔ بادشاہ اور اراکینِ سلطنت بھی کرسیوں پربراجمان ہو گئے۔ اتنے میں اجنبی شخص نے شاہی پہلوان کے کان میں سرگوشی کی ’’بھائی میں کوئی پہلوان نہیں ہوں زمانے کا ستایا ہوا ہوں، آلِ رسولؐ میں سے ہوں، سیدّ گھرانے سے میرا تعلق ہے، میرا کنبہ کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا ہے غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کر سکتا۔ بڑی مشکل سے یہاں پہنچا ہوں، اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیاہے کہ تمہیں حضورپاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گھرانے سے بڑی عقیدت ہے میری لاج رکھنا۔‘‘ یہ الفاظ شاہی پہلوان کے دل پر جا لگے۔ لڑائی شروع ہوئی اور دونوں پہلوان گتھم گتھا ہو گئے، چند لمحوں بعد مجمع پرسناٹا چھا گیا اور اجنبی کمزور شخص نے میدان مار لیا۔ شاہی پہلوان شکست خوردہ خاموشی سے ایک طرف کھڑا تھا، مجمع برخاست ہوا اور بادشاہ نے اجنبی شخص کو انعام و اکرام سے نواز کر رخصت کیا۔ دربار میں موجود ہر کوئی حیرت زدہ تھا۔ اسی رات شاہی پہلوان کو رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’شاباش جنید! تم نے ہماری لاج رکھی، ہم بھی تیرے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے۔‘‘ صبح اٹھے اور شاہی ملازمت ترک کی اور فقرا کی جستجو میں نکل گئے، اپنے ماموں حضرت سری سقطیؒ سے بیعت ہوئے اور جنید بغدادیؒ کہلائے۔ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کی لاج رکھنے سے اللہ پاک نے پہلوان کو وقت کا ایک عظیم صوفی اور فقیر ِکامل بنا دیا اور دنیا انہیں جنید بغدادی کے نام سے جانتی ہے اور تاریخ میں انہیں سیّد الطائفہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نسبت کی اقسام

نسبتیں بیشمار ہیں البتہ صاحبِ راز ہر نسبت کا علیحدہ علیحدہ ادراک حاصل کر لیتا ہے۔ اصل مقصد نسبت کا حصول، اس پر قائم رہنا اور اس میں ڈوب جانا ہے تاکہ نفس ملکہ راسخہ حاصل کر لے۔ نسبت کی درج ذیل اقسام ہیں:

۱۔نسبت طہارت :

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب’’ تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفۂ تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حقیقتِ طہارت صرف وضو و غسل پر ہی  منحصر نہیں بلکہ وضو و غسل کے علاوہ بہت سی اور چیزیں بھی ہیں جو ان کے حکم میں داخل ہیں جیسے کہ نیک اعمال۔

۲۔نسبتِ طاعت (نسبتِ سکینہ):

جب انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کو نماز، ذکر و اذکار اور دعا و استغفار کے ضمن میں یاد کرتا ہے تو نماز اور ذکر و اذکار کے اعمال و الفاظ میں غیب کا جو رخ پوشیدہ ہے سالک کی توجہ اس طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ اس نسبت کو حاصل کرنے کا سب سے یقینی طریقہ ’’اسم اللہ ذات‘‘ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد تابعین اور تبع تابعین کی زندگیوں میں یہی نسبت (نسبت ِطاعت) سب سے زیادہ غالب اور روشن تھی۔

۳۔نسبتِ اویسیہ:

انسان میں موجود نفس بمنزلہ آئینہ ہے جس میں انسان کی روحانی کیفیات اور جسمانی احوال کا عکس بھی پڑتا ہے، ان احوال میں قدرت نے یہ استعداد رکھی ہے کہ ان کیفیات میں اختلاف ہے۔ جب سالک عالمِ ناسوت سے عالمِ ملکوت کی بلندی پر فائزہوتا ہے تو ناپاک اعتبارات کو ترک کر دیتا ہے، اس حالت میں وہ لطیف اور خوشگوار کیفیات میں سرشار ہوکر بالکل فناہوجاتاہے۔
اس نسبت کا دروازہ سب سے پہلے حضرت علیؓ پر کھلا، یہی وجہ ہے کہ صوفیا کرام کے تمام سلسلے ان کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت علیؓ کے بعد اولیا کرام اوراصحابِ طریقت کا سلسلہ چلتا ہے ان میں سب سے زیادہ قوی الاثر بزرگ جنہوں نے راہِ جذب کو باحسن ِوجوہ طے کر کے نسبتِ اویسی کی اصل کی طرف رجوع کیا اورنہایت کامیابی سے آگے قدم رکھا وہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کی ذاتِ گرامی ہے۔ اسی بنا پر آپؓ کے متعلق کہاگیا ہے کہ آپؓ اپنی قبر میں زندوں کی طرح تصرف کرتے ہیں۔ (تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفۂ تاریخ)

۴۔نسبتِ یادداشت۔۔۔ نسبتِ معرفت:

اس نسبت کی خصوصیت یہ ہے کہ جس شخص کو یہ نسبت حاصل ہو وہ ’’وجودِ عدم‘‘ کی استعداد رکھتا ہے۔ وجودِ عدم کے معنی یہ ہیں کہ عارف جب’’ مرتبہ بے نشانی‘‘ کی طرف متوجہ ہوتو اس میں نہ تو گرد و پیش کی اشیا کا کچھ ادراک باقی رہے اور نہ اِدھر اُدھرکے خیالات اس کے ذہن میں داخل ہوں۔ اس نسبت کے زیرِ اثر سالک کی ہمت میں تیزی اور حدت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اسکی قوتِ عزم شخصِ اکبر تک جا پہنچتی ہے۔ چنانچہ کم ہمتوں کی ہمت بندھانا، امراض کو دور کرنا اور اس طرح کے تصرفات کرنے کی توفیق، کشف کے ذریعے دوسروں کے دلوں کے احوال جاننا بھی اسی نسبت کا ثمرہ ہیں۔

۵۔نسبتِ عشق:

مومن جب اللہ پاک کے متعلق یہ یقین کر لے کہ وہی ذات تمام اوصافِ کمال کی حامل ہے وہ حق تعالیٰ کے ذکر کواپنے لئے وجۂ کمال سمجھے۔ ہمیشہ اس کے مبارک نام کا ذکرکرتا رہے اور اس کی نعمتوں اور بخششوں کو پیشِ نظر رکھے۔ جب اس کے دل میں بے قراری، اضطراب، شوق و لگن کا جذبہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اس پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے اوراس کا اثراس کی ہڈیوں اور جلد میں سرایت کر جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ جب بھی مومن کی زبان پر اللہ کا نام آتا ہے اس پر اس طرح کی حالت طاری ہوجاتی ہے گویا کہ ابھی روح بدن سے نکلی۔ چنانچہ جب یہ کیفیت مومن کے نفس میں متمکن ہو جائے اور اس کا نفس اسی کیفیت میں یکسر رنگین ہو جائے تواس کیفیت کو نسبتِ عشق کہتے ہیں۔ جس شخص کو یہ نسبت حاصل ہوتی ہے و ہ تما م ماسویٰ اللہ پرپورا قابو پا لیتا ہے۔

۶۔نسبتِ وجد:

اہلِ کمال کے نزدیک نسبتِ وجدکا ایک ظاہر ہے اورایک باطن۔ اس کے ظاہر سے مراد وجد کی کیفیت کا صرف نسمہ (جسم) میں جاگزیں ہونا ہے اور اس کے باطن کی حقیقت یہ ہے کہ اسکی روح ایک معرفت کے بعد دوسری معرفت حاصل کرے اور خدا تعالیٰ کے ایک اسم میں فنا ہونے کے بعد دوسرے اسم میں فنا ہو۔ خواجہ نقشبند نے اس کا نام قبض و بسط رکھا ہے۔ جن لوگوں کو یہ نسبت حاصل ہوتی ہے ان میں سے اکثر سماع و وجد پر فریفتہ ہوتے ہیں، ان میں سے جو فنا وبقا کے مقام پر سرفراز ہوتے ہیں ان پر وجد کی وجہ سے ایسے حقائق و معارف کا فیضان ہوتا ہے کہ زبان ان کو ادا کرنے سے قاصر ہے۔

۷۔نسبتِ توحید:

اسکی حقیقت یہ ہے کہ نوعِ انسانی میں بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر وجود کا حکم زیادہ مؤثر ہوتا ہے، وہ کائنات کی تمام اشیا کو اصل واجب الوجود میں فنا ہوتے دیکھتے ہیں۔ وہ ہر وجود میں اسی وجود کو جاری و ساری دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ دنیا میں موجود ہر چیز کا انحصار اسی موجودِ حقیقی پر ہے۔ سالک کا وجود کو ایک ماننا توحیدِ علمی کہلاتا ہے اور علم وجود کی وہ شکل جب یہ علم نسمہ سے پرے اس کے اندر جو نقطۂ وجودہے اسے بیدار کر دیتا ہے اس طرح سالک کی ہستی میں نقطۂ وجود کے آثار واحوال بھی بیدار ہو جاتے ہیں اور سالک کی نظر سے تعینات کے سب پردے بھی اٹھ جاتے ہیں تو اسے توحید حالی کہتے ہیں بندے کے حال میں توحید کے اس اثر اور کیفیت کے جاگزیں ہونے کونسبتِ توحید کہا جاتا ہے۔ (تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفۂ تاریخ)

نسبت کو حاصل کرنے کے لیے تربیت کروانا فرضِ عین ہے اور کسی مرشد کامل اکمل کی بیعت کرنا تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ تصوف میں بیعت سے مرادمرشد اور مریدکے درمیان معاہدہ ہے کہ مرشد مرید کو تعلیم دے گا اورمرید اس پر عمل کرے گا۔ جس کا مقصد اعمالِ ظاہری وباطنی کا اہتمام و التزام ہے اور سب سے بڑھ کر نسبت کا حاصل ہو جانا ہے۔ بیعت کے لغوی معنی ’سپرد کرنا اور حوالے کرنا‘ کے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اپنے نفس کو مرشد کامل اکمل کے سپرد کر دینا، اپنے تمام تر ارادوں، اختیارات اورخواہشاتِ نفسانی کو ختم کرکے خود کو مرشد کے حوالے کردینا۔ مرشد کامل اکمل کے ہاتھ پر بیعت کرنا باطن کی فلاح ہے جس سے دل کوخراب و پلید چیزوں سے پاک کرکے شرکِ خفی کونکالاجاتا ہے جو ایک کامل مرشدہی کرسکتا ہے۔اور یہی راستہ اللہ تعالیٰ تک رسائی کاواحد ذریعہ ہے ۔ یہی بیعت آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے لی۔ جس مرشد کامل اکمل کے ہاتھ پر طالب بیعت ہوتا ہے اس کے ساتھ اس کے سلسلے میں بھی داخل ہو جاتا ہے جیسے کہ چار بڑے سلاسل سلسلہ قادریہ، سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ چشتیہ اور سلسلہ سہروردیہ۔ سلسلہ قادریہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کا سلسلہ ہے جبکہ باقی سلاسل کے بزرگوں نے ان سے فیض حاصل کیا۔ آپؓ نسبتِ اویسی رکھتے ہیں۔ ان کو اس نسبت کے ساتھ نسبتِ سکینہ کی برکات بھی ملی ہیں اور جس شخص کے دل پر ذاتِ الٰہی کی تجلی ہوئی اور تجلی نمونہ بنی باری تعالیٰ کی ذات کا۔ جس شخص کو یہ نسبت حاصل ہوتی ہے وہ شخصِ اکبر کے اس نقطۂ تجلی کا محبوب و مقصود بن جاتا ہے۔ اس تجلی کے طفیل سے اس نسبت رکھنے والے شخص سے بے انتہا خیر و برکت کا ظہورہوتا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے سلسلہ کو فقر کی بدولت باقی تمام سلاسل پر فضیلت حاصل ہے۔ آپؓ کا فرمان مبارک ہے:
 پہلوں کے آفتاب ڈوب گئے لیکن ہمارا آفتاب بلندیوں کے آسمان پر کبھی غروب نہ ہوگا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ سلسلہ قادریہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
 جان لے کہ قادری طریقہ بادشاہ ہے اور دوسرے تمام طریقے اس کی فرمانبردار ومحکوم رعیت ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)
 تمام سلاسل چراغ کی مانند ہیں جسے نفسانی، شیطانی، دنیاوی آفتوں اور بلاؤں کی ہوا بجھا سکتی ہے لیکن سلسلہ قادریہ آفتاب کی مانند ہے کیونکہ اسے مخالف ہواؤں کا ڈر نہیں۔ چراغ کی کیا مجال کہ آفتاب کے سامنے چمکے۔ (اسرارِ قادری)

سلسلہ سروری قادری

سلسلہ سروری قادری کو سروری قادری اس لیے کہاجاتاہے کہ سرور ی کا مطلب سرورِکائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب ہے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی اتباع کرنا یعنی ان کے طریقہ پر چلنا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے براہِ راست بیعت اور سیدّنا غوث الاعظمؓ سے فیض کے بعد اسے سروری قادری کا نام دیا اور آپؒ سے ہی سلسلہ سروری قادری کو برصغیر میں عروج حاصل ہوا۔ سلسلہ سروری قادری کی ابتدا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہوئی اور آج تک یہ سلسلہ جاری وساری ہے:

۱۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
۲۔حضرت علی ابن ابی طالبؓ   
۳۔حضرت امام خواجہ حسن بصریؓ   
۴۔حضرت شیخ حبیب عجمیؒ
۵۔حضرت شیخ داؤد طائی   
۶۔حضرت شیخ معروف کرخیؒ   
۷۔حضرت شیخ سری سقطیؒ   
۸۔حضرت شیخ جنید بغدادیؒ
۹۔حضرت شیخ جعفر ابوبکر شبلیؒ   
۱۰۔حضرت شیخ عبدالعزیزبن حرث بن اسد تمیمیؒ   
۱۱۔حضرت شیخ ابو الفضل عبدالواحد تمیمیؒ
۱۲۔حضرت شیخ محمد یوسف ابوالفرح طرطوسیؒ   
۱۳۔حضرت شیخ ابو الحسن علی بن محمدبن جعفرالقریشی ہنکاریؒ   
۱۴۔حضرت شیخ ابوسعید مخزومیؒ
۱۵۔سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ     
۱۶۔حضرت شیخ تاج الدین ابوبکر سیدّ عبدالرزاق جیلانیؓ   
۱۷۔حضرت شیخ سیدّ عبدالجبار جیلانیؒ
۱۸۔حضرت شیخ سیدّ محمد صادق یحییٰؒ
۱۹۔حضرت شیخ سیدّ نجم الدین برہان پوریؒ   
۲۰۔ حضرت شیخ سیدّ عبد الفتاحؒ   
۲۱۔حضرت شیخ سیدّعبدالستارؒ   
۲۲۔حضرت شیخ سیدّ عبد البقاء   
۲۳۔حضرت شیخ سیدّ عبد الجلیلؒ   
۲۴۔حضرت شیخ سیدّ عبدالرحمن جیلانی دہلویؒ
۲۵۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ   
۲۶۔سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ
۲۷۔سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ   
۲۸۔شہباز عارفاں  حضرت سخی سلطان پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ   
۲۹۔سلطان الاولیا  حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ   
۳۰۔سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ
۳۱۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس    

مختلف ادوار میں سلسلہ سروری قادری کو مختلف ناموں سے جانا جاتا رہا ہے۔ حضرت شیخ حبیب عجمیؒ کے دور میں یہ سلسلہ ’’سلسلہ عجمیہ‘‘ اورحضرت شیخ معروف کرخیؒ کے دور میں ’’سلسلہ کرخیہ‘‘ کے نام سے موسوم رہا۔ حضرت شیخ سری سقطیؒ کے دور میں ’’سلسلہ سقطیہ‘‘ اور حضرت شیخ جنید بغدادیؒ کے دور میں ’’سلسلہ جنیدیہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ دو صدیوں تک اس سلسلے کا یہی نام رہا۔ سیدّنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانیؓ کی نسبت سے اس سلسلہ کا نام قادریہ مشہور ہوا۔ قادری سلسلہ جب حضرت سخی سلطان باھوؒ تک پہنچا تو آپؒ نے اسے سروری قادری کا نام عطا فرمایا۔ سلسلہ سروری قادری حضرت سخی سلطان باھوؒ سے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ تک پہنچا۔ آپؒ نے لاکھوں طالبانِ دنیا کو طالبانِ مولیٰ بنایا اورانہیں قرب و دیدارِ الٰہی کی نعمت عطا فرمائی۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے بعد سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس امانتِ فقر کے حامل ہیں۔ امانتِ فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ورثہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود عطا فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس صاحبِ مسمیّٰ مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ فقیر مالک الملکی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارک ایک ایسا روشن چراغ ہے جو آج کے اس پُرفتن دور میں جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے منور ہوا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ تپتے صحرا میں ٹھنڈک کی مانند ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات سراپا نور ہے جس کی روشنی دنیا بھر میں پھیل رہی ہے، اس نور کی بدولت طالب دنیا کا تزکیۂ نفس اورتصفیۂ قلب ہوجاتا ہے جس سے وہ طالبِ مولیٰ بن جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے 26دسمبر 2003ء کو اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے وصال کے بعد سلسلہ سروری قادری کی مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالی۔ تب سے اب تک آپ مدظلہ الاقدس نے دینِ محمدیؐ کو زندہ کرنے کے لیے تین صدیوں کا کام تیرہ سالوں میں کر کے دکھایا۔ دین کی حقیقی روح کو زندہ کرنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس دن رات مصروفِ عمل ہیں تاکہ امتِ مسلمہ کی اصلاح فرما کر انہیں ایک بہترین قوم بنا سکیں اوروہ دین کی پیروی کرکے دنیا وآخرت میں سرخرو ہو سکیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے روز ہی اسمِ اعظم (اسمِ اللہ ذات) عطا فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے امتِ محمدیہ کے لیے اسمِ اللہ ذات کو عام فرمادیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فیض حاصل کر کے دین کی حقیقت کو سمجھ سکیں۔ اسمِ اللہ ذات کے فیض کے ساتھ ساتھ آپ مدظلہ الاقدس نے اسمِ محمدؐ کا فیض بھی عوام کے لیے کھول دیا ہے۔ گمراہی کے اس دور میں آپ مدظلہ الاقدس نجات کا ذریعہ ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس سے نسبت حاصل ہوجانا بہت بڑی سعادت ہے۔ کیونکہ اللہ والوں کے ساتھ رہنا ان جیسا بنا دیتا ہے اور ان جیسا بننااللہ سے ملا دیتا ہے۔

اللہ  اللہ  کرنے  سے  اللہ  نہیں  ملتا
یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

استفادہ کتب:
مجتبیٰ آخرزمانی تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
سرِّ دلبراں تصنیف شاہ سیدّمحمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ
تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفۂ تاریخ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

 

36 تبصرے “فیضانِ نسبت | Faizan e Nisbat

  1. اللہ پاک ہمیں مرشد پاک سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے ساتھ نسبت کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے

    1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات سراپا نور ہے جس کی روشنی دنیا بھر میں پھیل رہی ہے، اس نور کی بدولت طالب دنیا کا تزکیۂ نفس اورتصفیۂ قلب ہوجاتا ہے جس سے وہ طالبِ مولیٰ بن جاتا ہے۔

  2. فیض حاصل کرنے یا طرزِ فکر منتقل ہونے کا نام نسبت ہے۔ نسبت کے معنی تعلق کے ہیں۔ نسبت درحقیقت بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہونے کا نام ہے۔ مشائخ کاملین کے نزدیک نسبت قلبی سکون کا نام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ سے رابطے کا ذریعہ ہے۔

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #nisbat #blessings

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #nisbat #blessings

  5. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #nisbat #blessings

اپنا تبصرہ بھیجیں