قربِ دیدار | Qurb e Deedar

قربِ دیدار

قسط نمبر 04

بیت

از تصور اسم جثہ نور شد
باطنش معمور جان مغفور شد

ترجمہ: تصور اسم (اللہ) ذات سے طالب کا وجود نور ہو جاتا ہے۔ اس کا باطن معمور اور وجود مغفور ہو جاتا ہے۔
تصور اسمِ اللہ ذات سے کل و جز کے مراتب طے ہوتے ہیں جس سے طالب کا وجود پختہ ہو جاتا ہے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
مثنوی

از خلاف نفس شد این راہ راز
ہر کہ از خود خود فنا شد چشم باز

ترجمہ:اس راستے کا راز نفس کی مخالفت ہے۔ جس نے اپنی ذات کو مٹا دیا اس کی باطنی آنکھ روشن ہو گئی۔

انتہا در ابتدا آمد ختم
شد وجودش نور وحدت نیست غم

ترجمہ: جب انتہا ابتدا کی طرف لوٹ کر مکمل ہو جاتی ہے تو وجود نورِ وحدت بن جاتا ہے اور کوئی غم باقی نہیں رہتا۔

گر ترا طلب است وحدت حق لقا
از تصور شد بحاصل جان بقا

ترجمہ: اگر تیری طلب وحدتِ حق کا دیدار ہے تو تصور (اسم اللہ ذات) حاصل کر جس سے تجھے حیاتِ جاودانی حاصل ہو جائے گی۔

اولش از موت مولیٰ یافتن
موت را باخود رفیقی ساختن

ترجمہ: اگر موت سے پہلے معبودِ حقیقی کو پانا ہے تو موت کو اپنا رفیق بنا لے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
  مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا
ترجمہ: مرنے سے پہلے مر جاؤ۔
یہ وہ مقام ہے جہاں فقر مکمل ہوتا ہے۔
تصور اسم اللہ  ذات کی تاثیر سے وجود نورِ محمود میں ڈھل جاتا ہے اور مشق ِمرقومِ وجودیہ کرنے سے طالب کل و جز کے تمام علوم کا عالم بن جاتا ہے۔ یہ کامل قادری کی صفات ہیں جو صاحبِ کُل حیّ و قیوم ہوتا ہے اور ہرگز ریاضت کی طرف رخ نہیں کرتا کہ وہ تقلید کی تکلیف اور کاروبارِ پریشان سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ ذاتِ الٰہی میں مستغرق رہتا ہے اور ناقص تقلید سے مکمل نجات پا لیتا ہے۔ کامل قادری کے نزدیک زندگی اور موت برابر ہوتی ہیں۔
 بیت

تصور در آید شود غرق نور
کہ صاحب تصور بدایم حضور

ترجمہ: جب طالبِ مولیٰ کو تصور نصیب ہوتا ہے تو وہ دائمی حضوری پا کر نورِ الٰہی میں غرق ہو جاتا ہے۔
تصور توفیق اور تحقیق سے حاصل ہوتا ہے۔ صاحبِ تصور حق تعالیٰ کا رفیق ہوتا ہے اور تصور ہی قربِ الٰہی کا حضوری طریقہ ہے۔
 بیت

کہ روشن تصور بہ از آفتاب
حجابش نماند شود بی حجاب

ترجمہ:تصور اسم اللہ ذات کی روشنی آفتاب سے بڑھ کر ہے جس سے تمام حجاب اٹھ جاتے ہیں اور طالب بے حجاب (دیدارِ الٰہی سے مشرف) ہو جاتا ہے۔
تصورِ اسم  اللہ ذات کی برکت سے طالب کو بغیر مجاہدے کے مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔
 بیت

کسی را تصور بتاثیر شد
کہ غالب بکونین آن میر شد

ترجمہ: جس کے وجود میں اسم اللہ  کی تاثیر رواں ہو جاتی ہے وہ دونوں جہاں پر غلبہ پا کر ان کا سردار بن جاتا ہے۔ 

تصور کی تجلیات سے نفس مغلوب ہو کر تابع دار بن جاتا ہے اور طالبِ مولیٰ کو اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا نصیب ہوتا ہے۔باتوجہ تصور سے نفس کی پہچان حاصل ہوتی ہے اور وہ ہست سے نیست کا سفر طے کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ بِالْفَنَائِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَہٗبِالْبَقَآئِ
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، پس اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا پس اس نے اپنے ربّ کو بقا سے پہچانا۔
تصور کے غلبہ سے قلب قوی ہوتا ہے اور اسے قربِ الٰہی کی قدرت حاصل ہوتی ہے۔ روح، نفس کی قید سے آزاد ہو کر ذاتِ الٰہی کے نور کی لذت سے آشنا ہوتی ہے۔ تصور کے غلبہ سے طالب ِ مولیٰ کو اللہ تعالیٰ کے گوناگوں اسرار و انوار کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے اور وہ فقیر لایحتاج، صاحب ِ راز اور بے نیاز بن جاتا ہے۔
جان لے کہ تصور اسم اللہ ذات اور تصور اسم محمد  سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بنیاد کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور کی مشق میں ہے۔ صاحبِ تصور پر سب سے پہلے دو طرح کے علم واضح اور روشن ہوتے ہیں:
۱۔ عبادات اور معاملات کا ظاہری علم
۲۔ معرفت توحید اور نور ذات کے مشاہدات کا باطنی علم
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اَلْعِلْمُ عِلْمَانٍ عِلْمُ الْمُعَامَلَۃِ وَعِلْمُ الْمُکَاشَفَۃِ 
ترجمہ: علم دو ہی ہیں ایک علم معاملہ اور دوسرا علم مکاشفہ۔

ابتدا میں صاحبِ تصور کو چاہیے کہ وہ ظاہری علم کے لیے علمائے ظاہر سے ملاقات کرے اور ان سے نص و حدیث پر گفتگو کرے اور علمِ باطنی و معرفتِ الٰہی  کے لیے اولیا اللہ سے فیض یاب ہو۔ جب صاحبِ تصور انتہا الانتہا کو پہنچ جاتا ہے تو علما و اولیا پر غالب آ جاتا ہے اور فقر فنا فی اللہ کے مقام میں داخل ہو جاتا ہے۔ جو شخص علمِ ظاہری و باطنی، قرآن، شریعت نص و حدیث کا مخالف ہے اس سے بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ ابلیس خبیث کا مصاحب ہوتا ہے۔ جو علما باعلم و با عمل اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں قوی ہیں انہیں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل رہتی ہے۔ ان میں سے بعض اس بات اس بات کو جانتے ہیں اور بعض نہیں۔ جو جانتے ہیں وہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جمال و وصال سے مشرف رہتے ہیں اور جو خود کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر نہیں جانتے ان کی دعا و سوال و پیغام فرشتے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچا دیتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اسْتَجِبْ دُعَآئِ الْخَیْرِ 
ترجمہ: اے پروردگار! تو ہماری دعائے خیر کو قبول فرما۔
جاننا چاہیے کہ فقیرِ  کامل کے فیض سے دو طرح کے طالب مکمل ہوتے ہیں۔ اوّل عالم باللہ، عالم باللہ اسے کہتے ہیں جسے تمام قرآن و حدیث زبانی یاد ہوں اور ان کی تفاسیر سے آگاہ بھی ہو۔ اس کو باطن میں حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک ہر ایک نبی و مرسل اور اصفیا کی صحبت و ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے اور وہ جب چاہے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہو سکتا ہے۔ دوم طالب فقیر فی اللہ۔ فقیر فی اللہ اسے کہتے ہیں جس کا نفس فنا ہو چکا ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ دیدارِ الٰہی کے مشاہدے میں مستغرق رہتا ہے۔
مثنوی

بہ ز ہر لذت بود لذت لقا
لذت فانی چہ باشد بی بقا

ترجمہ: دیدارِ الٰہی سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں۔ جو لذتیں فانی اور بے بقا ہوں ان کی کیا حیثیت!

گر نبودی وجود اصل خدا
کہ رسیدی بذات نور صفا

ترجمہ: اگر اللہ کا اصل وجود ظاہر و موجود نہ ہوتا تو پھر ذاتِ نور صفا تک کیسے پہنچا جا سکتا؟

ذات را از ذات جو با ذات گو
غیر ذاتش ہر چہ ہست از دل بشو

ترجمہ:اللہ کی ذات کو اسم اللہ ذات سے تلاش کر۔ غیر اللہ کا خیال دل سے نکال دے تاکہ ذات سے ہمکلام ہو سکے۔ 

تا بیابی ذات باذاتش حضور
تا رسی در معرفت توحید نور

ترجمہ: تاکہ اسم اللہ ذات سے تجھے ذات کی حضوری حاصل ہو جائے اور تو معرفت و توحید تک پہنچ جائے۔

باھوؒ بہر از خدا ذاتش نما
نفس را بگذار حاضر شد لقا

ترجمہ: اے باھوؒ! خدا کے لیے ذات کی پہچان عطا کر۔ اے طالب! تو نفس کو چھوڑاور دیدار کے لیے حاضر ہوجا۔
جاننا چاہیے کہ دنیا میں چار لذتیں ایسی ہیں جن سے نفس قوی ہوتا ہے اور جو معرفت و وصالِ الٰہی کی راہ میں حجاب ہیں۔
اوّل: نفس کا انواع و اقسام کے کھانے کھانے کا ذوق اور شوق۔
دوم: عورت سے جماع کرنے کی لذت کیونکہ شہوت نفس پر سوار رہتی ہے۔
سوم: حکمرانی کی لذت جو مخلوق کے لیے سراسر وبال ہے۔
چہارم: علم کے دائمی مطالعہ سے کمال حاصل کرنے کی لذت۔

یہ چاروں لذتیں نفس کو برابر عزیز ہیں۔ پانچویں لذت معرفت اور دیدارِ نورِ الٰہی کی ہے جو اسم اللہ ذات کے تصور سے حاصل ہوتی ہے۔ جب انسان کو یہ لذت حاصل ہوتی ہے تو وہ پچھلی چاروں لذتوں کو بھول جاتا ہے اور ان سے ایسے بیزار اور متنفر ہوتا ہے جیسے بیمار انسان کھانے سے ہوتا ہے۔
 ابیات

ہر کرا شد رہبری حق پیشوا
رفت باطل ہر چہ بیند از لقا

ترجمہ:جس کوبھی حق کی رہبری حاصل ہو جاتی ہے اس کے وجود سے باطل نکل جاتا ہے اور وہ دیدارِ الٰہی سے مشرف ہو جاتا ہے۔

مثل بستہ کی تواند نور را
رفت از وی ما و منی و از چون چرا

ترجمہ: نور کو مثال کے ذریعے کون بیان کر سکتا ہے، اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے آنے سے وجود سے تکبر، خود پسندی اور چوں چرا نکل جاتی ہے۔ 

احتیاجی نیست مرشد راہبر
مدنظرش دائمی باحق نظر
این بہ تعلیم است تلقین از خدا
ظاہر و باطن ہدایت خود نما

ترجمہ: جس کو مرشد کی راہبری حاصل ہو جاتی ہے اسے کسی اور کی حاجت نہیں رہتی کیونکہ مرشد کامل اللہ تعالیٰ کی دائمی حضوری سے مشرف ہوتا ہے اور جو بھی تعلیم و تلقین کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے کہ وہ ظاہر و باطن میں ہدایت کا نمائندہ ہوتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ(القصص۔56)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (راہِ ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اسے راہِ ہدایت پر آپ خود نہیں لاتے بلکہ جسے اللہ چاہتا ہے (آپ کے ذریعے) راہِ ہدایت پر چلا دیتا ہے۔
جس کسی کو بھی ہدایت نصیب ہوتی ہے، اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے ازل ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ ہدایت فیض، فضل اور عنایتِ الٰہی ہے۔
 قطعہ

مرشدی بازید باید خویش را
صورتی آن خویش بخشد جان صفا

ترجمہ: اپنے لیے ایسا مرشد تلاش کرنا چاہیے جو باکمال کھلاڑی کی مثل ہو اور اس کی صورت سے طالب کو تصفیہ قلب حاصل ہو جائے۔ 

طالب بسیار مرشد بیشمار
مرشد حق بخش طالب جان نثار

ترجمہ: طالب و مرشد بے شمار ہیں۔ لیکن کامل مرشد وہ ہے جو حق بخشے اور صادق طالب وہ ہے جو جان نثار ہو۔

سنو! فیضِ الٰہی کی فراست سے بہت سے علوم فضیلت کے درجے تک حاصل ہوجاتے ہیں۔ شاعروں کو صرف دانش و عقل، علم بازیرک، خد و خال کے حسن اور احوال کا شعور ہوتا ہے لیکن فقرا کو معرفت، تصوف، توحید اور قربِ الٰہی کا علم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت سے بذریعہ قربِ حضوری حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ اہلِ اللہ اور اولیا اللہ فارسی زبان میں خام ہوتے ہیں لیکن ان کے مسکۂ خام میں بھی شہد کی سی مٹھاس اور مکمل لذت ہوتی ہے۔ فقرا کا کلام کن کی کنہ سے ہوتا ہے اور ان پر اللہ کے راز الہام کی صورت میں وارد ہوتے ہیں۔فقرا کو مجمع جمعیت سے نور ایمانی کے جوہر کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔ فقرا کا دشمن ہمیشہ پریشان رہتا ہے کیونکہ ان کو وصالِ الٰہی کی بدولت کرامات حاصل ہوتی ہیں اور ان کا وصال مشاہدۂ جمال کے ساتھ ہے۔

(جاری ہے)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں