alif

alif | الف

الف

روزۂ شریعت اور روزۂ حقیقت

روزۂ شریعت دن میں کھانے، پینے اور جماع کرنے سے باز رہنا ہے اور روزۂ طریقت یہ ہے کہ (انسان) دن اور رات، ظاہری و باطنی طور پر اپنے تمام اعضا کو حرام اور ممنوعہ چیزوں اور برائیوں مثلاًعجب وغیرہ سے روکے اور اگر وہ ان مذکورہ بالا تمام افعال میں سے کسی ایک (فعل) کا بھی ارتکاب کرے گا تو روزۂ طریقت باطل ہو جائے گا۔ پس روزۂ شریعت کے لیے وقت مقرر ہے اور روزۂ طریقت عمر بھر کے لیے دائمی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
 وَرُبَّ صَائَمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صَوْمِہٖ اِلاَّ الْجُوْعِ وَالْعَطْشِ
ترجمہ:اور بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزہ سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اسی لیے کہا گیا کہ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جو افطار کرنے والے ہیں اور کتنے ہی افطار کرنے والے ایسے ہیں جو روزہ سے ہیں۔ یعنی اپنے اعضا کو مناہی اور لوگوں کو ایذا دینے سے روکتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْبِہٖ    (حدیثِ قدسی) ترجمہ:روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ الْاِفْطَارِ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ رُؤْیَتِہٖ
ترجمہ:روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی افطار کی اور دوسری خوشی روئیت (دیدارِ حق تعالیٰ) کی۔

اہلِ شریعت کہتے ہیں کہ افطار سے مراد غروبِ آفتاب کے بعد کھانا پینا ہے اور روئیت سے مراد عید کی شب چاند کا دیکھنا ہے۔ اہلِ طریقت کہتے ہیں کہ افطار سے مراد جنت میں داخل ہونا ہے اور اس میں جو نعمتیں ہیں ان سے روزہ افطار کرنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے ہمیں اور آپ کو عطا فرمائے۔ روئیت سے مراد قیامت کے دن سِرّ کی نگاہ سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ہے۔
روزۂ حقیقت یہ ہے کہ قلب کو ماسویٰ اللہ تعالیٰ سے پاک کیا جائے اور سِرّ کو غیر اللہ کی محبت اور مشاہدہ سے پاک کیا جائے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
اَلْاَنْسَانُ سِرِّیْ وَاَنَا سِرُّہٗ   ترجمہ: انسان میرا سِرّ ہے اور میں انسان کا سِرّ ہوں۔

پس سِرّ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہے لہٰذا اس کا میلان غیر اللہ کی طرف ہرگز نہیں ہوتا اور اسے دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ بھی محبوب، مرغوب اور مطلوب نہیں۔ اگر وہ غیر اللہ کی محبت میں مبتلا ہو جائے تو روزۂ حقیقت فاسد ہو جاتا ہے اور اُس روزے کی قضا یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی محبت اور دیدار کی طرف (دوبارہ) لوٹ جائے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
 اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ ترجمہ:روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں۔ (سرّ الاسرار)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں