مجاہدہ ۔۔ تزکیۂ نفس کا ذریعہ | Mujahida Tazkiya e Nafs ka Zariya

مجاہدہ ۔۔ تزکیۂ نفس کا ذریعہ

تحریر: مسز انیلا یاسین سروری قادری (لاہور)

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے ہم انہیں ضروربالضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۃالعنکبوت۔69)

اس آیت میں ’کوشش کرنے‘ سے مراد اللہ پاک کے قرب و دیدار کے حصول کے لیے جدوجہد اور مجاہدات کرنا ہے۔ مجاہدات ’مجاہدہ‘ کی جمع ہے اور مجاہدہ ’جہد‘ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی سخت محنت و مشقت، طاقت و استقامت، کوشش اور جدوجہد کے ہیں۔ 

فقرو تصوف کی روح سے مجاہدہ سے مراد ’’نفس کو اس کی صفات سے مجرد کرنے اور اوصافِ ذمیمہ کو اوصافِ حمیدہ میں تبدیل کرنے کی عملی کوشش مجاہدۂ نفس ہے۔‘‘  (سرِّدلبراں)

الغرض ہر وہ عمل جس کا مقصد تزکیۂ نفس کرتے ہوئے رضائے الٰہی اور لقائے الٰہی کا حصول ہو ’’مجاہدہ ‘‘ کہلاتا ہے۔

حضرتِ انسان کے اس دنیا میں آنے کا مقصد اللہ جلّ شانہٗ کی بارگاہ میں کئے گئے وعدۂ اَلست کی تکمیل ہی ہے اور اسی وعدہ کی پرکھ کے لیے اللہ جلّ شانہٗ نے حضرتِ انسان کو دنیا کی آزمائش گاہ میں بھیج دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو آزمایا نہ جائے؟ حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔ (سورۃ العنکبوت۔2,3)
اگر اب بھی کوئی شخص یہ خیال کرے کہ وہ بغیر کسی محنت و مشقت (مجاہدہ) کے مجلسِ محمدیؐ تک رسائی اور قربِ الٰہی پالے گا تو یہ محض اس کی خام خیالی ہو گی۔ 
راہِ فقر و تصوف میں مجاہدہ کو نہایت اہمیت حاصل ہے، ہر طالبِ حق کو اپنے روحانی سفر میں سخت محنت و مشقت اور مختلف مجاہدات سے گزرنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ انبیا کرام نے بھی سخت جانی و مالی مجاہدات کیے، راہِ حق میں اپنا گھر بار چھوڑا، سفر کی تکالیف برداشت کیں، اپنا تما م مال قربان کیا اور راہِ حق کے لیے میدانِ جنگ میں جہاد کیے۔

آفتابِ فقر مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیفیں اُٹھانا (یعنی مجاہدات کرنا) اس سے بڑی سعادت کی کوئی بات نہیں ہے۔ جس نے اللہ کی راہ میں تکلیفیں اُٹھائیں اس نے اپنی منزل حاصل کر لی اللہ کو راضی کر لیا اور عارفین بھی اللہ کی راہ میں تکلیفیں اُٹھاتے ہیں۔ (سلطان العاشقین)

نفس کی حقیقت کو پہچاننا اللہ تعالیٰ کی معرفت کی کنجی ہے۔ یعنی جس نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہے وہ مثلِ شفاف آئینہ ہو جاتا ہے۔ جس پر دیدارِ الٰہی کی کرنیں منکشف ہو کر انسانی وجود کو پرُ نور کر دیتی ہیں اور بندہ بے اختیار وحدانیت کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں کائنات (آفاق) میں بھی دکھائیں گے او رخود ان کے اپنے وجود (نفسوں) میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہی حق ہے۔ (حٰمٓ السجدہ:53)
لہٰذا تزکیۂ نفس اور قربِ الٰہی کے لیے مجاہدہ نہایت ضروری ہے۔ مجاہد ہ سے ہی مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
آدمی برابر اپنے نفس کی خواہش کے ساتھ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے متکبرین میں لکھ لیا جاتا ہے پھر متکبرین کے انجام تک پہنچ جاتا ہے۔ (ترمذی شریف)

تزکیۂ نفس ہو جائے تو یہ فرمانبردار بن کر قربِ الٰہی کی طرف سفر کرنا شروع کر دیتا ہے جبکہ شیطان کا تزکیہ نہیں ہو سکتا وہ ہمیشہ بد ہی رہتا ہے۔ تزکیۂ نفس مرشد کامل اکمل کے زیرِ سایہ مجاہدات سے ہی ممکن ہے۔ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ نے ’غنیۃ الطالبین‘ میں حضرت شیخ ابو علی دقاقؒ کا ایک قول یوں روایت فرمایا ہے،آپؒ فرماتے ہیں: ’’جس شخص نے اپنے ظاہر کو مجاہدہ کے ذریعے آراستہ کیا، اللہ تعالیٰ اِس کے صلہ میں اُس کے باطن کو مشاہدہ کے ساتھ آراستہ فرما دے گا۔‘‘  

مجاہدہ کی اقسام

بنیادی طور پر مجاہدہ دو اقسام کا ہوتا ہے :
۱) مجاہدہ نفس/ بدنی مجاہدہ
۲) مالی مجاہدہ

مجاہدہ نفس یا بدنی مجاہدہ

انسان کا بدن ہی اس کا نفس ہے، اسے ہی تزکیہ کی ضرورت ہے ۔ اس کے تزکیہ کے لیے اسے مجاہدات میں مصروف رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ اللہ پاک کی برتری و عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اس کی بارگاہ میں عاجز کرلے کیونکہ نادم اور عاجزی میں ڈوبا ہوا قلب ہی دِیدارِ الٰہی کی تجلیات سے مشرف ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا ’’بڑا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد (مجاہدہ) کرتا ہے۔‘‘ (ترمذی۔امام احمد)

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
نفس سے جہاد کرنے والے اور گناہوں سے توبہ کرنے والے شخص کے لیے موت ایسی ہے کہ جس طرح پیاسے آدمی کا ٹھنڈا پانی پینا۔ (الفتح الربانی۔مجلس 18)

سیرتِ انبیا کے مطالعہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کوئی نبی ایسے نہیں گزرے جنہوں نے بحکمِ الٰہی راہِ حق تعالیٰ میں مشقت اور صعوبتیں برداشت نہ کی ہوں۔ سیدّنا حضرت ابراہیمؑ نے مشرکوں کی عداوت کی شدت کی بنا پر ہجرت کا مجاہدہ فرمایا اور پھر بحکمِ الٰہی اپنی زوجہ محترمہ سیدّہ ہاجرہؑ اورفرزند سیدّنا اسماعیلؑ کو عرب کے ویران و بیابان صحرا میں تنہا توکلِ الٰہی پر چھوڑ آئے۔ جب یہ نیک بخت فرزند (سیدّنا حضرت اسماعیلؑ) دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچے تو اللہ پاک نے سیدّنا حضرت ابراہیمؑ کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا جس پر بھی آپؑ نے انکار نہ فرمایا بلکہ بحکمِ الٰہی سرِتسلیم خم کر دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
پھرجب وہ لڑکا (سیدّنا حضرت اسماعیلؑ) ابراہیمؑ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو انہو ں نے کہا: ’’اے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں سو تم دیکھوکہ تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ انہوں (سیدّنا حضرت اسماعیلؑ) نے کہا ’’اے میرے اباّ جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے آپ وہ کر دیجئے، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘ پس جب وہ دونوں (رضائے الٰہی کے سامنے) مطیع ہو گئے اور انہوں (سیدّنا حضرت ابراہیمؑ) نے بیٹے کو پیشانی کے بل گِرا یا۔ اور ہم نے اسے آواز دی: ’’اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم محسنین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلا امتحان (آزمائش و مجاہدہ) تھا۔‘‘ (سورۃ الصفت: 102-106)

حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے جب انہیں کنویں میں ڈال دیا تو آپؑ رضائے الٰہی کی خاطر خاموش رہے اور ہجرت و غریب الوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معصوم و محبوبِ الٰہی ہونے کے باوجودطویل بھوک، صوم و صلوٰۃ، شب بیداری اور ہجرت کی صورت میں مجاہدے کیے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسجد کی تعمیر کے دوران خود اینٹیں اُٹھا کر لا رہے تھے تو میں نے یہ محسوس کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس میں دقت پیش آرہی ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ اینٹیں مجھے پکڑا دیں۔ آپؐ کی جگہ میں یہ اینٹیں اُٹھا لیتا ہوں۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابوہریرہؓ! تم دوسری لے لو، کیونکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔‘‘ (کشف المحجوب)

بے شک صحابہ کرامؓ نے بھی بے شمار مجاہدات کیے، دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی پاداش میں ذہنی و جسمانی اذیتیں برداشت کیں، بھوک و پیاس کی حالت میں قربِ الٰہی کی خاطر نہایت دشوار اور طویل ہجرتیں کیں۔ حتیٰ کہ میدانِ جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ تمام صحابہ کرامؓ نے قرب و دیدارِ حق تعالیٰ کے لیے انتہائی سخت جسمانی مجاہدات کیے۔ سیدّنا حضرت بلال حبشیؓ نے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں جس قدر تکلیفیں برداشت کیں جب ان کا مطالعہ کیا جائے تو دِل دہل کر رہ جاتا ہے۔ 

سیدّنا حضرت بلال حبشیؓ کا ظالم آقا آپؓ کو ہر طرح سے زدوکوب کرتا۔ حضرت عمر بن عاصؓ فرماتے ہیں ’’میں نے بلالؓ کو اس حالت میں دیکھا کہ اُمیہ نے آپؓ کو ایسی گرم ریت پر لٹا رکھا ہے کہ جس پر اگر گوشت کا ٹکڑا بھی رکھ دیا جائے تو وہ بھی بھُن جائے لیکن آپؓ اس حالت میں بھی کہہ رہے تھے کہ میں لات و عزیٰ کا انکار کرتا ہوں۔‘‘

سیدّنا حضرت عثمان غنیؓ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے دھواں دیتا۔ سیدّنا حضرت حباب بن الحارثؓ کو انگاروں پر پیٹھ کے بل لٹا دیا گیا جس سے ان کی پیٹھ جھلس گئی مگر کوئی چیز انہیں راہِ حق سے پیچھے نہ کر سکی۔  

الغرض تمام صحابہ کرامؓ نے راہِ حق میں عشق ِرسولؐ میں سرشار کسی بھی قسم کے بدنی مجاہدہ کی تکمیل میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس غازیوں کی ایک جماعت حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’تمہیں جہادِ اصغر (جہاد بالسیف) سے جہادِ اکبر (جہاد بالنفس) کی طرف آنا مبارک ہو۔‘‘ عرض کیا گیا ’’جہادِ اکبر کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’یاد رکھنا وہ نفس کا مجاہدہ ہے۔‘‘ (امام بیہقی، ابنِ ماجہ)
اہل ِفقر و تصوف نے بھی مجاہدات پر نہایت زور دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک مجاہدہ ہی مشاہدہ کے حصول کا ذریعہ ہے۔ فقر و تصوف کے عظیم المرتبت بزرگ سلطان الفقرسوئم سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانیؓ کی حیاتِ پاک بھی مجاہدات سے بھرپُور تھی۔ شیخ ابو المسود بن ابوبکرحریمیؒ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدّنا عبدالقادر جیلانیؓ نے مجھے بتایا ’’سالہا سال تک میں اپنے نفس کو طرح طرح کی آزمائشوں (مجاہدات) میں ڈالتا رہا۔ ایک سال ساگ پات اور کوئی گری ہوئی چیز کھا لیتا اور پانی بالکل نہ پیتا تھا۔ ایک سال صرف پانی پیتا اور کوئی چیز نہ کھاتا اور ایک سال بغیر کچھ کھائے پئے گزار دیتا۔ حتیٰ کہ سونے سے بھی احتراز کرتا۔ کئی سال میں بغداد کے محلّہ کرخ کے غیر آباد مکانوں میں مقیم رہااس سارے عرصہ میں ایک خودرو بوٹی ’کوندل‘ میری خوراک ہوتی تھی، لوگ مجھے دیوانہ کہتے۔ میں صحرا میں نکل جاتا، آہ و زاری کرتا اور کانٹوں پر لوٹتا۔ حتیٰ کی تمام بدن زخمی ہو جاتا۔ لوگ مجھے شفا خانے میں لے جاتے لیکن وہاں پہنچ کر مجھ پر حالت ِسُکر طاری ہو جاتی۔ لوگ کہتے مر گیاہے پھر میری تجہیز و تکفین کا انتظام کرتے اور غسل دینے کے لیے مجھے تختہ پر رکھ دیتے اس وقت یک بیک مجھے ہوش آجاتا اور میں اُٹھ کھڑا ہوتا۔‘‘ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

حضرت شیخ سری سقطیؒ اپنے مجاہدۂ نفس کے متعلق فرماتے ہیں:
چالیس سال سے میرا نفس شہد کے ساتھ روٹی کھانا چاہ رہا ہے لیکن میں نے اب تک نہیں کھایا۔ (کیمیائے سعادت) 

طالبِ حق کے مجاہدہ کا یہی طریقہ ہونا چاہیے کہ اس کا دِل دنیا کی جس چیز کی طرف رغبت اختیار کرے وہ اسے ترک کردے اور اللہ کے سوا جو چیز اس کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں پر حاوی ہو اس کی بھرپور مخالفت کرے۔ حضرت خواجہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں:
 ہر منہ زور اور باغی جانور کی نسبت یہ باغی و سرکش نفس لگام کا زیادہ محتاج ہے۔ (کیمیائے سعادت)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا سودا کر لیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔207)

پس کوئی بھی مرید صرف و صرف اس وقت ہی منظورِ بارگاہِ الٰہی ہو سکتا ہے جب وہ اپنے مرشد کی بارگاہ میں اپنی ہر مرضی سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ یعنی مرشد کے ہر حکم کی تکمیل کے لیے اپنی تمام تر ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اخلاص کے ساتھ مسلسل محنت و مشقت کرتا ہے۔ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ محیّ الدین عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں: ’’نفس کی پاکیزگی یہ ہے کہ انسان محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک عمل کرے اور اُس کے دل میں یہ بات ہرگز نہ ہوکہ لوگ اُس کی تعریف کریں۔‘‘ (تصوّف اور قرآن)

مالی مجاہدہ 

آج کے مادیت پرست دور میں مال و دولت انسان کی بنیادی ضرورت بن گئے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہی مال شیطان کا ہتھیار ہے اوراصل میں اللہ اور بندے کے درمیان بہت بڑا حجاب بھی ہے جو انسان کے نفس کو ہمیشہ اپنے تابع رکھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ مال و دولت انسان کو اپنا غلام بنا لیتا ہے اور اس بات کی خبر انسان کو عمر بھر نہیں ہوتی۔حالانکہ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر مال سے محبت کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے بارے میں وعید سنائی ہے۔ ان میں سے چند آیات کے تراجم یہ ہیں:
ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش و مال) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غفلت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔ اب اس کا انجام تم دیکھو گے۔  (سورۃ التکاثر: 1-3)
تو وہ جس نے سرکشی کی اور دُنیا کی زندگی کو فوقیت دی اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ (سورۃ النّازِعات۔37-39)
اور وہ جو جوڑ کر رکھتے ہیں سونااور چاندی، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں خوشخبری سنا دو دردناک عذاب کی، جس دن وہ (سونا اور چاندی) تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں، اس سے داغی جائیں گی ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں۔ یہ ہے وہ جسے تم نے اپنے لیے جوڑ رکھا تھا اب مزہ چکھو اپنے جوڑے ہوئے خزانے کا۔ (سورۃ التوبہ۔34,35)
حدیث ِنبویؐ ہے ’’مجھے تم سے اب اس بات کا خطرہ نہیں کہ تم مشرک ہو جاؤ گے۔ لیکن مجھے تمہارے بارے میں اس دنیا سے خطرہ ہے کہ کہیں تم اس کی رغبت و محبت میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔‘‘

انسان مال و دولت کو جس قدر اپنی ضرورت اور خوراک سے بڑھ کر اکٹھا کرے گا وہ مال اتنا ہی اس کے لیے آخرت میں تنگی کا باعث بنے گااور دنیا میں شیطان کی آماجگاہ ہوگا۔ حضرت ثابت بنانیؒ فرماتے ہیں ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت ہوئی تو شیطان مردود نے اپنے شیاطین چیلوں کو کہا کوئی اہم واقعہ پیش آگیا ہے جاؤ دیکھو کیا ہوا ہے؟ وہ گئے لیکن تھک کر واپس آگئے اور کہنے لگے ہم نہیں سمجھ سکے۔ شیطان نے کہا میں تمہارے پاس خبر لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ گیا اور واپس آکر کہا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت فرمائی ہے ۔ اس کے بعد شیطان نے اپنے چیلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ کے صحابہ کرامؓ کی طرف بھیجے۔ وہ جاتے مگر نا مراد واپس آتے اور کہتے: اس قسم کی قوم کی ہم رفاقت نہیں کر سکتے۔ ہم نماز میں وساوس ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔ آخر شیطان نے کہا: تم انتظار کرو شاید اللہ ان پر دنیا کا مال فراخ کر دے پھر ہمارا کام بن سکے گا۔‘‘ (مکاشفۃ القلوب)

تاریخِ اسلام کا ہر ورق اس بات کا گواہ ہے کہ جنہوں نے تصدیقِ قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا انہوں نے اپنی جانیں راہِ خدا میں قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا بلکہ اپنا مال بھی رضائے الٰہی کے لیے وقف کر دیا۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی ظاہری حیات پاک میں کبھی مال جمع نہ فرمایا۔ جو مال آتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اسے راہِ خدا میں خرچ فرما دیتے ۔

اُم المومنین سیدّہ خدیجۃ الکبریؓ مکہ کی ایک پاکیزہ اور مالدار خاتون تھیں۔ قبولِ اسلام کے بعد آپؓ نے اپنا تمام مال و اسباب دینِ اسلام کے لیے وقف فرما کر تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے مالی مجاہدہ کی عظیم الشان مثال قائم فرمائی۔

جہاں عاشقانِ رسولؐ پیارے صحابہ کرامؓ نے اپنے پیر و مرشد آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا وہیں ان پاک نفوس نے مالی مجاہدات کی ادائیگی میں بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بھی آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مال خرچ کرنے کا حکم فرمایا ان پاکیزہ نفوس نے دل کھول کر اپنے مرشد کی رضا کے لیے مال خرچ کیا اور تاقیامت بارگاہِ الٰہی میں منظور ہو گئے۔ 

غلام آزاد کروانے کا حکم ہو یا ہجرتِ مدینہ کا واقعہ، مہاجرین کی بحالی کا موقع ہو یا مسجد کی تعمیر کا دینی فریضہ یا میدانِ جنگ کی تیاری کا معاملہ، ہر میدان میں صحابہ کرامؓ نے جسمانی و مالی مجاہدات کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدّنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے گھر کا تمام سامان بارگاہِ نبوت میں پیش فرما دیا۔ جب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اپنے اہل و عیال کے لیے کتنا مال چھوڑا؟ تو اس عاشقِ رسولؐ نے فرمایا: ’’اُن کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ ہی کافی ہیں۔‘‘

الغرض بعد از انبیا مالی و جانی مجاہدات میں صحابہ کرامؓ کا کوئی ثانی نہیں۔ 

فقیرِ کامل نائبِ رسولؐ ہوتا ہے۔ وہ مخلوقِ خدا پر بحکمِ الٰہی گنج بخش ہوتا ہے۔ مرشد کامل اکمل تو مخلوق کا ناتا اللہ سے جوڑنے کے لیے اپنے زیرِ سایہ مریدین کی تربیت اس طرح فرماتا ہے کہ وہ سالک بارگاہِ الٰہی میں منظور ہو جائے ۔ چونکہ مال کی محبت بندے کو اللہ سے دور کر دیتی ہے اسی محبت کو دل سے ختم کرنے کے لیے راہِ فقر و تصوف میں مالی مجاہدہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے طالب کے دل سے نہ صرف مال کی محبت ختم ہوتی ہے بلکہ مال کے ساتھ جڑی ہوئی تمام روحانی بیماریوں اور آفات (حرص، حسد، طمع وغیرہ) سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ لہٰذا مرشد کامل اکمل کا اپنے مرید سے کوئی مجاہدہ کروانا مرید کے اپنے فائدے اور بھلائی کے لیے ہی ہوتا ہے تاکہ مرید کے دل سے ہر غیر اللہ کا نقش مٹ جائے اور اسے حقیقی قربِ الٰہی نصیب ہو جائے جو کہ حقیقی کامیابی ہے۔ سیدّنا ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں: ’’صدقہ فقیر (مرشد کامل اکمل) کے سامنے عاجزی سے اور باادب پیش کرو کیونکہ خوشدلی سے صدقہ دینا قبولیت کا نشان ہے۔‘‘ (حقیقت ِزکوٰۃ)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

مال تے جان سب خرچ کراہاں، کرئیے خرید فقیری ھُو
فقر کنوں ربّ حاصل ہووے، کیوں کرئیے دلگیری ھُو

 مفہوم: فقیری جان اور مال کے بدلے خریدنا پڑتی ہے۔ اس لیے فقیری حاصل کرنے کے لیے اپنا مال اور جان سب داؤ پر لگا دینا چاہیے اور چونکہ فقر سے اللہ تعالیٰ کی ذات حاصل ہوتی ہے اس لیے جان و مال کا غم بھی نہیں کرنا چاہیے۔ (ابیاتِ بَاھُو ؒ کامل) 

قربِ الٰہی کے لیے کئے جانے والے مالی مجاہدہ کا بڑا اجر و ثواب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔ جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے،نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہو گا اور نہ کوئی غم پہنچے گا۔ (البقرہ۔ 261,262 )
بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں یہ اللہ تعالیٰ کو خلوص کے ساتھ قرضہ دے رہے ہیں وہ صدقہ ان کے لیے بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے بہت اجر ہے۔ (الحدید۔18)

پس صرف وہی سالک مجاہدات سے تزکیۂ نفس پا سکتا ہے، دورانِ مجاہدہ جس کی باطنی حالت و طلب درست ہوتی ہے وگرنہ لاپروا دِل و جان سے کئے گئے مجاہدات محض مشقت ہی ہیں۔

مجاہدات میں حائل رکاوٹیں اور ان کا علاج

راہِ فقر کے طالب کو قدم قدم پر شیطانی حملوں اور وساوس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے طالبِ حق کو نہایت ہوشیار اور باہمت بننا چاہیے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدّنا علی کرم اللہ وجہہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا: ’’مسلمانوں کو اپنی عبادتوں کے دوران بڑے وسوسے آتے ہیں جبکہ ہمیں تو ایسا کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ اس پر آپؓ نے فرمایا: ’’تم مجھے پہلے اس سوال کا جواب دوکہ دو گھر ہیں ایک ساز و سامان سے بھرا ہوا جبکہ دوسرا خالی ہے، توچور کس گھر میں داخل ہو گا۔‘‘ یہودی نے جواب دیا: ’’سازوسامان سے بھرے ہوئے گھر میں۔‘‘ اس پر سیدّنا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’شیطان بھی چور کی مانند ہے وہ ہمیشہ وہاں چوری کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں نورِ ایمان کی دولت ہوتی ہے۔‘‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ طالب ِمولیٰ کو راہِ خدا میں آنے والے وساوس اوردورانِ مجاہدات حائل رکاوٹوں کو شیطانی چالیں سمجھتے ہوئے استقامت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔مجاہدہ میں درج ذیل رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں:
عیش و آرام کی خواہش
عزت طلبی کی خواہش
غفلت
اُمید کا خاتمہ /اللہ کی رحمت سے نااُمیدی یا مایوسی

مجاہدہ سے تزکیۂ نفس اور پھر مشاہدہ کا حصول صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب سالک مجاہدہ کو قربِ الٰہی کاذریعہ سمجھ کر کرے۔ عزت و جاہ، عیش و آرام اور غفلت سے صرف اسی صورت میں بچنا ممکن ہے کہ جب تک طالبِ مولیٰ خود کو مرشد کی بارگاہ میں عاجز نہیں کر لیتا۔ مرشد طبیب کی مثل ہے اور مرید مریض کی مثل۔ لہٰذا مریض کو اگر شفایاب ہونا ہے تو اسے طبیب کی ہر میٹھی و کڑوی دوا لینی اور طبیب کے بتائے گئے ہر پرہیز پر عمل کرنا ہو گا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ جو بھی قرب و دیدارِ الٰہی کا متمنی ہے اس پر فرضِ اوّلین ہے کہ وہ سب سے پہلے مرشدکامل اکمل صاحبِ مسمیّٰ کی تلاش کرے اور جب اسے پالے تو اُس نورِ ہدایت کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے میں دیر نہ کرے اور اس کی بارگاہ میں عاجز اور فرمانبردار غلام بن کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اپنی ہر مرضی و منشا سے دستبردار ہو جائے، مرشد کے ہر حکم کو اپنی ذات پر اوّلین ترجیح دے۔ راہِ حق کا کوئی بھی کام معمولی یا چھوٹا سمجھ کر مت چھوڑے بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کو محنت اور محبت سے کرے اور بڑے سے بڑے مجاہدات و ریاضت سے منہ نہ موڑے۔ پھر ہی وہ اپنے نفس کا تزکیہ کروا کر سعادت مندوں میں شامل ہو سکے گا۔ 

بقول اقبالؒ:

شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا
پُر دم ہے اگر تُو، تو نہیں خطرۂ افتاد
(ضربِ کلیم)

 استفادہ کتب:
حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ  تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
ابیاتِ بَاھُوؒ کامل، تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
کشف المحجوب تصنیف حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ
کیمیائے سعادت تصنیف امام غزالیؒ
مکاشفۃ القلوب  ایضاً
تصوّف اور قرآن مرتب سیدّ مقبول حسین

 

43 تبصرے “مجاہدہ ۔۔ تزکیۂ نفس کا ذریعہ | Mujahida Tazkiya e Nafs ka Zariya

  1. تزکیہ نفس کے بغیر سب عبادات نفس کی عبادات ہیں ۔ اگر اللہ کی عبادت کرنی ہے تو پہلے تزکیہ نفس کریں

  2. کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو آزمایا نہ جائے؟ حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔ (سورۃ العنکبوت۔2,3)

    بے شک 👍

    1. مرشد کامل اکمل کا اپنے مرید سے کوئی مجاہدہ کروانا مرید کے اپنے فائدے اور بھلائی کے لیے ہی ہوتا ہے تاکہ مرید کے دل سے ہر غیر اللہ کا نقش مٹ جائے اور اسے حقیقی قربِ الٰہی نصیب ہو جائے جو کہ حقیقی کامیابی ہے۔

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #tazkia #mujahida

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #tazkia #mujahida

  5. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #tazkia #mujahida

اپنا تبصرہ بھیجیں