وقت کی قدرو قیمت Waqt ki Qadr-o-Qeemat

4.5/5 - (2 votes)

وقت کی قدرو قیمت Waqt ki Qadr-o-Qeemat

تحریر: مسز نورین ناصر سروری قادری

اللہ تعالیٰ نے انسان پر بے شمار انعامات کیے ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا لیکن ان انعامات میں سب سے اہم نعمت وقت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی نعمت یعنی سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات وغیرہ وقت کی برابری نہیں کر سکتے۔ کیونکہ دنیا کی ہر دولت کھونے کے بعد امید اور امکان ہوتا ہے کہ انسان اسے دوبارہ حاصل کر لے گا لیکن وقت ایک ایسی دولت ہے کہ اگر ایک بار چھن جائے تو دنیا کا کوئی بھی امیر ترین اور طاقتور انسان بھی اس کو واپس نہیں لوٹا سکتا۔

وقت کیا ہے؟؟

وقت ہی عمر کی زندگی اور انسانی وجود کا میدان، اس کی بقا اور سایہ (اثر) اور نفع حاصل کرنے اور نفع پہنچانے کا آنگن ہے۔
بعض اہلِ لغت نے وقت کی تعریف اپنی کتابوں میں اجمالاً بیان کی ہے، اس لحاظ سے وقت زمانے کا نام نہیں، زمانہ وقت کی نسبت ہے۔ وقت زمانے کی ایک معلوم مقدار کا نام ہے۔ لسان العرب میں ابنِ سید لکھتے ہیں ’’ وقت زمانے کی ایک معروف مقدار کا نام ہے۔‘‘ (بحوالہ کتاب:تحفہ وقت)
جب وقت زمانے کی ایک معلوم مقدار کا نام ہے تو اس سے مراد وہ عرصہ لے سکتے ہیں جس دوران ہم اس دنیا میں زندہ رہتے ہیں۔ وقت ہی انسان اور اس کی زندگی کا مادہ ہے۔وقت زمانے کی وہ مقدار ہے جو انسان کو مہیا کی گئی ہے اور پھر وہ دارِ بقا کی طرف کوچ کر جاتا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور جب کسی کو موت آجاتی ہے تو اللہ ہرگز اسے مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔(سورۃ المنافقون۔ 11)

مزید فرمایا:
ترجمہ: اور ہر ایک امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو نہ ایک گھڑی دیر کر سکتے ہیں اور نہ جلدی۔ (سورۃ الاعراف۔ 34)

اہمیتِ وقت قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے جس سے وقت کی بے پناہ اہمیت اُجاگر ہوتی ہے کیونکہ اللہ عزوجل کبھی بھی کسی کمتر چیز کی قسم نہیں کھاتا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں فرمایا:
ترجمہ: اس صبح کی قسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) راتوں کی قَسم۔ (سورۃالفجر ۔1-2)
 اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی قسم بھی کھائی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: رات کی قسم جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے) اور دن کی قسم جب وہ چمک اٹھے۔ (سورۃاللیل۔ 1-2)

سورۃ الضحیٰ میں ’چاشت کے وقت اور رات‘ کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
ترجمہ: قسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے) اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ (سورۃ الضحیٰ۔1-2)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں ’زمانہ کی قسم‘ کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا :
ترجمہ: زمانہ کی قسم (جس کی گردش انسانی حالات پر گواہ ہے) بیشک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمر ِ عزیز گنوا رہا ہے)۔ (سورۃ العصر۔1-2)

مذکورہ بالا آیاتِ مبارکہ میں اللہ ربّ العزت نے فجر، صبح، چاشت، رات، دن اور زمانہ کی قسم کھائی ہے۔ اللہ پاک کا یہ اصول ہے کہ وہ کسی غیر معمولی شے پر قسم نہیں کھاتا۔ لہٰذا اِن آیات میں جو اس نے مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے، کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ان کے ذریعے درحقیقت ہمیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ اپنی زندگی کے اوقات کو معمولی اور حقیر نہ سمجھو، اس کے ایک ایک لمحہ کا تم سے حساب ہونا ہے۔

اہمیتِ وقت احادیث کی روشنی میں

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔ صحت اور فراغت۔‘‘ (صحیح بخاری۔6412)
حضرت عمرو بن میمون اودیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو مرض سے پہلے، اپنے مال دار ہونے کو اپنی محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح۔5174)

اس کے باوجود عوام و خواص کی ایک بڑی تعداد وقت کے ضیاع میں مصروف ہے اور یہ قوم و افراد کا نقصانِ عظیم ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے ربّ کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ نہ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔ (جامع ترمذی۔2416)

انسان سے اس کی عمر کے بارے میں عمومی طور پر اور جوانی کے بارے میں خصوصی طور پر سوال کیا جائے گا، اگرچہ جوانی بھی عمر ہی کا ایک حصہ ہے لیکن اس کی نمایاں حیثیت ہے۔اس لیے کہ یہ عزم و حوصلہ اور کچھ کر گزرنے کی عمر ہوتی ہے اور یہ دو کمزوریوں بچپن اور بڑھاپے کے درمیان طاقت و قوت کا مرحلہ ہے۔جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا:
اللہ ہی تو ہے جس نے کمزوری کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس کمزوری کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ الروم۔54)

اہمیتِ وقت اورسنہری اقوال

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
’’میں کسی چیز پر اتنا نادم نہیں ہوتا جتنا نادم اس دن پر ہوتا ہوں جس کا سورج غروب ہوا، میری زندگی کم ہو گئی لیکن میرے (نیک) عمل میں اضافہ نہ ہوا۔‘‘

مزید فرمایا:
یقینا میں اس شخص کو پسند نہیں کرتا جس کو میں فارغ دیکھوں کہ نہ کسی دنیوی عمل میں مصروف ہو اور نہ کسی اخروی عمل میں۔
ابو القاسم النصراباذیؒ فرماتے ہیں ’’اپنے اوقات کا خیال رکھنا، بیدار مغز ہونے کی علامات میں سے ہے۔‘‘
امام شافعیؒ فرماتے ہیں ’’وقت تلوار کی مانند ہے آپ اس کو کسی کام میں کاٹیے ورنہ وہ آپ کو کاٹ ڈالے گا۔‘‘
امام ابنِ قیمؒ فرماتے ہیں ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وقت کے ذریعے اس کی مدد کرتا ہے اور اس کے وقت کو اس کے لیے معاون بنا دیتا ہے اور جب اللہ کسی سے شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے وقت کو اس کے مخالف کر دیتا ہے اور اس پر وقت کو تنگ کر دیتا ہے۔ جب بھی وہ چلنے کا ارادہ کرتا ہے وقت اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ جبکہ پہلا آدمی جب بھی بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا دل اسی وقت اسے کھڑا کردیتا ہے اور اس کا سہارا بنتا ہے۔‘‘ (مدراج السالکین) (بحوالہ کتاب:زندگی اور وقت)

لہٰذا جس شخص کو اللہ پاک نیک کاموں میں مصروف کر دے اور اپنی عمر کے قیمتی اوقات اس کی اطاعت میں گزار دے یقینا بندے کے لیے اس سے بڑی کوئی خیر و بھلائی نہیں لیکن بے کار کاموں میں زندگی کا گزر جانا یہ اللہ پاک کی ناراضی اور گناہوں کی شامت ہے۔
خواجہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے سے اعراض کرنے کی علامات میں سے ہے کہ بندے کو رسوا کرنے کے لیے اسے بے کار کاموں میں مصروف کر دے۔‘‘ (جامع العلوم والحکم)

حضرت یحییٰ بن معاذ الرازیؒ فرماتے ہیں ’’وقت کو ضائع کرنا موت سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وقت کا ضیاع حق سے دور کردیتا ہے اور موت صرف مخلوق سے دور کرتی ہے۔‘‘
شریعتِ اسلامیہ میں وقت کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر عمل و امر کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے جو حقیقت میں انسان کو نظم و ضبط کا پابند بنانے میں ایک کارگر نسخہ ہے۔ تاریخ شاہدہے کہ کامیابی و کامرانی ہمیشہ ان کو ملتی ہے جو وقت شناس اور قدردان ہوتے ہیں۔ جو لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے خیالی پلاؤ پکانے میں مگن رہتے ہیں نہ تو ان کے خیالوں کی تعبیر ہوتی ہے اور نہ وقت ان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔کسی نے خوب کہا ہے کہ:

وقت از دست رفتہ و تیر از کمان جستہ باز نیاید

یعنی ہاتھ سے گیا ہوا وقت اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آتے۔

وقت کو برباد کر دینے والی آفات سے آگاہی

بہت سی آفات ایسی ہیں جو انسان کے وقت کو برباد کر دیتی ہے اور اس کی عمر کو کھا جاتی ہے ، بالخصوص اس وقت جب وہ ان کی سنگینی سے واقف نہیں ہوتا۔وہ آفات درج ذیل ہیں:

غفلت:

یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کے دل و دماغ کو اس طرح لگ جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث و واقعات اور شب و روز کی آمدورفت کے سلسلے میں بیدار حسی کھو بیٹھتا ہے اور مختلف اشیا کے حقائق اور معاملات کے انجام سے بے پرواہ ہو جاتا ہے اس لیے اس کی توجہ کا مرکز صورت ہوتی ہے نہ کہ روح اور اس کی نظر حقائق کو چھوڑ کر ظواہر پر ، مغز کو چھوڑ کر چھلکوں پر اور انجام و عواقب کو چھوڑ کر آغاز پر ہوتی ہے۔غفلت کے مرض کی اس سنگینی کے سبب قرآنِ کریم نے جگہ جگہ پوری شدت کے ساتھ اس سے آگاہ کیا ہے ، یہاں تک کہ غافلین کو جہنم کا ایندھن قرار دیا گیا ہے۔ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے ، ان کے پاس دل ہے مگر وہ اس سے سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو گئے ہیں۔ (سورۃ الاعراف۔179)

سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کیجئے جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقہ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ (سورۃ الکہف۔ 28)

غفلت ایک بہت بڑی مصیبت ہے ۔ اسی کے نتیجے میں آج امتِ مسلمہ کا یہ حال ہو گیا ہے کہ اس پر ایسے بڑے بڑے حادثات گزر رہے ہیں جو پہاڑوں کو متزلزل کر دیں مگر ہماری امت کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ نہ تو ان سے کوئی سبق لیتی ہے اور نہ اپنے اندرکوئی تبدیلی پیدا کرتی ہے بلکہ اس کی غفلت اس انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ٹال مٹول کی عادت:

ٹال مٹول کی عادت انسان کے وقت کو برباد کرنے والی انتہائی خطرناک عادت ہے اور یہ عادت کبھی انسان کو وقت سے فائدہ نہیں اٹھانے دیتی بلکہ وہ اس حد تک اپنے کاموں کو ٹالنے کا عادی ہو جاتا ہے کہ لفظ ’’کل‘‘ اس کا شعار بن جاتاہے اور نتیجتاً انسان نکما اور ناکارہ بن جاتا ہے۔

خواجہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں :
’’ ٹال مٹول سے بچو اس لیے کہ تمہارا تعلق آج سے ہے نہ کہ آنے والے ’کل‘ سے اور اگر وہ ’کل‘ تمہیں مل بھی جائے تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو تم نے ’آج‘ کے ساتھ کیا تھا اور اگر ’کل‘ تمہارا نہ ہوا تو تمہیں آج کی کوتاہیوں پر پچھتانا پڑے گا۔‘‘

خیر کے کاموں میں ٹال مٹول کے سبب نفسِ انسانی ان اعمال کو ترک کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور یہی عادت جب انسان کے اندر اپنی جڑیں جما لیتی ہے تو پھر اس کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے جس سے چھٹکارا پانا بہت دشوار ہوتا ہے اور معاملہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ آدمی عقلی طور پر اس بات کا قائل تو ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور اعمالِ صالح میں جلدی کرنا ضروری ہے مگر وہ اپنے عزم اور ارادے میں اتنی پختگی نہیں پاتا جو ان اعمال کے کرنے میں ان کے ممد و معاون ثابت ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے اندر ایک طرح کا بوجھ اور عمل سے اعراض کی کیفیت محسوس کرتا ہے اور اگر کسی روز خیر کے کام کے لیے ایک آدھ قدم چل لیتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کی پیٹھ پر پہاڑ لدا ہوا ہے۔ انسان اسی طرح کی ٹال مٹول گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کے سلسلے میں بھی کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نفس معاصی کے ارتکاب اور شہوت رانی کا عادی ہو جاتا ہے یہاں تک کہ گناہوں کو چھوڑنا اس کے لیے دشوار ہو جاتا ہے اور روز بروز گناہوں میں اس کی دلچسپی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

زمانے کو برا کہنا:

شریعتِ اسلامیہ نے جہاں اور بہت سے قبیح افعال سے روکا ہے وہاں اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ زمانے کو برا کہا جائے کیونکہ زمانے کو برا کہنا درحقیقت زمانے کے خالق کو برا کہنا ہے چنانچہ ارشادِ نبویؐ ہے:
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابنِ آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ میں رات اور دن ادلتا بدلتا رہتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری۔4826)

وقت کا شکوہ کرنا، اسے گالی دینا، ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا ضیاعِ وقت کے بڑے اسباب میں سے ہے۔یہ ایک ایسی غفلت ہے جس کے لیے بہت سے لوگوں کے ضمیر بیدار نہیں ہوتے۔ان کی حرکات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وقت ان کا بہت بڑا دشمن اور ان کی امیدوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔لیکن قسمت کا مارا یہ شخص اس بات سے لاعلم ہے کہ زمانے کابلحاظِ وقت اس سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وقت اسباب کے اختیار اور ترک کرنے کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وقت کو گالی دینا راہِ حق سے دوری اور محرومی ہے۔

بری صحبت:

زندگی کو کامیاب بنانے کا اہم ذریعہ اچھی صحبت ہے ۔ اگر آپ اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے ہیں تو دیکھنے والے آپ کو بھی اچھا سمجھیں گے چاہے آپ اس قدر اچھے نہ ہوں۔ انسان اپنے ہمنوا کی صحبت سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں یا تو انسان برے اعمال میں لگ جاتا ہے یا پھر وقت کو ضائع کر دیتا ہے۔صحبت انسان کے دین پر اثرانداز ہوتی ہے جیسا کہ حدیثِ نبویؐ ہے:
انسان اپنے محبوب ساتھی کے دین پر ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ غور کرے کہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ (جامع ترمذی۔2378)

خود کو اللہ کی پکڑ سے بالاتر سمجھنا:

حقیقت میں اللہ پاک نے فراغت و وقت، صحت اور جوانی کی صورت میں انسان پر بہت بڑا انعام کیا ہے۔انسان ان نعمتوں میں مگن اور مست ہو کر یہ بھول جاتا ہے کہ ان نعمتوں کو زوال بھی آسکتا ہے۔خود کو اللہ پاک کی پکڑ سے آزاد تصور کرتے ہوئے نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور انہیں ضائع کر دیتا ہے۔

موت کو بھولنا:

زندگی کو بیکار بنانے میں اور وقت کے ضیاع میں ’’موت کو بھولنا‘‘ اس کا بڑا دخل ہے۔جس شخص کو یاد ہے کہ مجھے موت آنی ہے وہ اپنے وقت کی فکر کرے گا اور اپنی زندگی کو کارآمد بنانے کی کوشش کرے گا کیونکہ موت کی یاد انسان کو خیر پر ابھارتی ہے اور فضولیات سے بچنے پر آمادہ کرتی ہے۔

زہرِقاتل اعمال:

آج ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی نئی ایجادات ہیں اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ،ان کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں جن کو معاشرے میں اپنایا گیا ہے جیسا کہ انٹرنیٹ کا بلاضرورت استعمال، سوشل میڈیا کا نشہ، فحاشی و عریانی کے پروگرام دیکھنا، فلم بینی، ویڈیو گیمز اور موبائل گیمز کا نشہ، موبائل کا غلط استعمال وغیرہ۔

وقت کا صحیح استعمال اور وقت کے ضیاع سے بچنے کے لیے ہمیں کیا طرزِ زندگی اپنانا چاہئے؟

تو اس کے لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، اصحابِ رسول اور آپؐ کی امت کے فقرائے کاملین کی حیاتِ مبارکہ بہترین نمونہ ہے۔تاجدارِ کائنات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بعثت کے بعد اپنی 23 سالہ حیاتِ مبارکہ میں پورے عرب کو ایک ’اللہ کے سامنے‘ جھکنے والا بنا دیا اور چار دانگِ عالم میں اسلام کا پیغام پہنچا دیا۔
 خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے احوال پڑھیں تو جہاں انہوں نے مختصر سے وقت میں فتنہ ادعائے نبوت، فتنۂ ارتداد، فتنہ منکرینِ زکوٰۃ اور فتنۂ خوارج کا قلع قمع کیا وہاں انہوں نے ہی تدوینِ قرآن، علم و ہنر، معیشت کی مضبوطی اور تقویٰ و طہارت پر گامزن معاشرہ کی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ عسکری حوالے سے اسلامی سرحدوں کو یورپ، افریقہ اور ایشیا کے براعظموں میں دور دور تک پھیلا دیا۔

پھر آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے تربیت یافتہ تابعین، تبع تابعین، محدّثین، مفسرین، فقہا، مجتہدین اور متقین کے حالات کا مشاہدہ کریں۔ ان میں سے بعض عبادت و ریاضت کے اس قدر دلدادہ تھے کہ ساری ساری رات روتے ہوئے نوافل میں اور تلاوتِ قرآن میں بسر کر دیتے۔ ان میں سے بعض علم و ہنر میں اس قدر آگے بڑھے کہ ان میں سے ہر ایک نے تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، قانون، ادب اور مختلف علوم و فنون پر بیسیوں کتابیں تصنیف کر ڈالیں۔

انسان کی تخلیق کا مقصد ہی ’’خالقِ کائنات کی بندگی و معرفت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ ہر انسان کی تخلیق کا مقصد ہے اور جو مسلمان ہو تو اس پر عام انسانوں کی نسبت ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کیونکہ کسی بھی مسلمان کا مقصد خالقِ کائنات کی بندگی کے ساتھ اپنے رؤف رحیم نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں ’’تمام ادیان پر غلبۂ اسلام‘‘ بھی ہو جاتا ہے۔ 

اگر ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فقر کے وارث، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تو ’’وقت کا صحیح استعمال‘‘ ان کی شخصیت کا ایک نہایت نمایاں پہلو نظر آتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے نزدیک ’وقت‘ اللہ کی دی ہوئی ایک عظیم امانت ہے جسے صرف رضائے الٰہی ،دیدارِ الٰہی اور انسانیت کی فلاح کے لیے صرف ہونا چاہیے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے معمولاتِ زندگی سے وقت کی قدردانی کے درج ذیل اہم پہلو سامنے آتے ہیں:
آپ مدظلہ الاقدس کے تمام معاملات ایک خاص ترتیب اور وقت کے مرہونِ منت ہیں۔ چاہے وہ خانقاہی امور ہوں، مریدین کی تربیت ہو یا تصنیف و تالیف کا کام، آپ ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر سرانجام دیتے ہیں۔ آپ کا یہ نظم و ضبط دیکھ کر مریدین کو بھی وقت کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس انسانِ کامل ہیں، اِس بنا پرآپ مدظلہ الاقدس کی بے پناہ مصروفیات ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود آپ نے قلیل وقت میں 24 کتب تحریر فرمائی ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس اکثر راتوں کو جاگ کر دینِ اسلام اور فقر کی حقیقی تعلیمات کو قلمبند کرتے ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس کا وقت ضائع کرنے والے مشاغل سے دور رہنا ہی وہ وجہ ہے کہ آپ نے اتنی ضخیم اور تحقیقی کتب امتِ مسلمہ کو دیں۔
آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ تحریک دعوتِ فقر کو منظم کرنے میں صرف کیا۔ آپ نے روایتی پیری مریدی کے بجائے ایک ایسا جدید نظام وضع کیا جہاں:
 مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک دعوتِ فقر پہنچائی جا سکے۔
 سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل لائبریری کا بھرپور استعمال کر کے وقت کی بچت اور کام کی وسعت کو یقینی بنایا۔
آپ مدظلہ الاقدس کی تعلیمات کے مطابق وقت کا بہترین استعمال وہ ہے جو’’یادِ الٰہی‘‘ میں گزرے۔
آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’وہ لمحہ ضائع ہے جو اللہ کی یاد کے بغیر گزر جائے۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مریدین کو بھی ’’اسمِ اللہ ذات ‘‘کے تصور کے ذریعے ہر لمحہ باطنی طور پر اللہ کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین کی ہے تاکہ دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی وقت کا بہترین استعمال (ذکرِ الٰہی) جاری رہے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی مجلس میں فضول گفتگو یا غیبت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ آپ مدظلہ الاقدس کا وقت یا تو مسائلِ فقر پر گفتگو میں گزرتا ہے یا لوگوں کی روحانی رہنمائی میں۔ آپ خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں اور صرف ضرورت کے تحت کلام فرماتے ہیں جو کہ وقت بچانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

حاصلِ کلام:

آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی اس بات کی عملی تفسیر ہے کہ اگر انسان اپنے مقصدِ حیات (معرفتِ الٰہی) سے مخلص ہو تو وہ وقت کی قلیل مدت میں صدیوں کا کام کر سکتا ہے۔کیونکہ وقت وہ واحد دولت ہے جسے دوبارہ کمایا نہیں جا سکتا، اس لیے اسے صرف خالقِ کائنات کی تلاش میں خرچ کرنا چاہیے۔

استفادہ کتب
۱۔زندگی اور وقت : مصنف ابو محمد عزیز یونس السلفی المدنی
۲۔تحفۂ وقت:مصنف فضیلتہ الشیخ شفیق الرحمن الدراوی

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں