بزمِ سلطان العاشقین (ملفوظات سلطان العاشقین)
Bazm-e-Sultan-Ul-Ashiqeen Malfuzat Sultan-Ul-Ashiqeen
قسط نمبر 18 مرتب: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری
موت
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے موت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: موت اس ظاہری جسم کو آنی ہے، جو اندر انسان موجود ہے اس کو موت نہیں آنی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے:
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ (سورۃ آل عمران۔ 185)
ترجمہ:ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے
جبکہ اندر والے انسان کے متعلق فرمایا:
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ (سورۃ البقرۃ۔156)
ترجمہ:ہم اللہ ہی کی طرف سے آئے ہیں اور اسی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
سلطان الفقر ششمؒ کی سلطان الفقر ہفتم مدظلہ الاقدس کے لیے پیشگوئی
(10 فروری 2024ء بروز ہفتہ) آپ مدظلہ الاقدس خانقاہ سلطان العاشقین تشریف لائے۔ آپ مدظلہ الاقدس سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے دادا مرشد (سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ) نے آپ کے مرشد (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ) کے بارے میں کچھ پیش گوئی کی تھی اور اسی طرح کیا آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد نے آپ کے بارے میں بھی پیش گوئی کی تھی۔ فرمایا: بالکل میرے دادا مرشد نے میرے مرشد سے فرمایا تھا ’’میرے بعد آنے والا فقر کو صحیح سنبھالے گا۔‘‘
پھر میرے مرشد نے 2000ء میں اوچھالی کے مقام پر مجھ سے فرمایا تھا ’’میرے لیے فقر سنبھالنا اتنا مشکل نہ تھا کیونکہ میں حضرت سخی سلطان باھو ؒکی اولاد سے ہوں لیکن جو میرے بعد آئے گا وہ نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اولاد سے ہو گا اور نہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد سے ہو گا اس لیے فقر سنبھالنا اس کے لیے بہت مشکل ہو گا لیکن وہ اس طرح سنبھالے گا کہ کسی نے ایسے نہیں سنبھالا۔‘‘
کن کی حقیقت
سلطان العاشقین مدظلہ الااقدس سے پوچھا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ ’’کن‘‘ فرماتا ہے تو کیا فوراً کام ہو جاتا ہے؟ فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کن فرما دے کام تو ہو جاتا ہے لیکن اس کام کا ایک خاص وقت معین ہوتا ہے۔ جیسے کوئی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ مجھے گھر بنانا ہے اور اللہ تعالیٰ کن فرما دے تو گھر بناتے ہوئے کچھ وقت لگتا ہے۔اگر انسان اولاد کے لیے دعا کرے اور اللہ کن فرما دے تو ایک معینہ مدت لگتی ہے۔
عشق
بات عشق کی طرف چل نکلی تو آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: اصل چیز عشق ہے۔ جس کو اس دنیا میں عشق نہیں ہوتا اس نے بیکار زندگی گزار دی۔ وہ جانوروں کی طرح اس دنیا سے چلا گیا۔ عاشق بڑی مشکل سے بنتا ہے جیسے علامہ اقبالؒ کا شعر ہے:
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
عاشق کو نہ زیادہ نیند آتی ہے، نہ اس کو زیادہ بھوک لگتی ہے، نہ پیٹ بھر کے کھاتا ہے اور نہ اسے سکون آتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبتیں انبیا کرام علیہم السلام پر آتی رہی ہیں، پھر درجہ بدرجہ ان کے قریب لوگوں پر آتی ہیں۔‘‘ (مسند احمد 27619)
اس لیے جو اللہ کے زیادہ قریب ہوتا ہے اسے اتنا زیادہ آزمایا جاتا ہے، جو دور ہوتا ہے اتنا کم آزمایا جاتا ہے۔ عاشق تو ہر لمحے آزمائش میں رہتا ہے، ایک ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی پیٹ بھر کر کھاتا ہو اور دن رات سوتا ہو اور پھر دعویٰ کرے کہ میں عاشق ہوں، بس یہ سمجھ لیں وہ دنیا کا فضول ترین آدمی ہے۔
کفر کے فتوے
بات چل نکلی کہ آجکل ہر روز کافر ہونے کے فتوے دیے جاتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: جس بندے نے کلمہ پڑھ لیا وہ اللہ کی وحدت کو مانتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خاتم النبیین مانتا ہے، بھلا وہ کیسے کافر ہو سکتا ہے! مسلمان ہونے کی یہی دو شرائط ہیں۔ آجکل کے دور میں جو عالم دوسروں کو جتنا زیادہ برا کہتا ہے وہ اتنا زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ہاں!اگر کلمہ پڑھنے والے میں کوئی اور برائیاں ہیں تو اس کو ہم گنہگار کہہ سکتے ہیں اور گنہگار کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا اور ان کی نیت تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ بخاری شریف میں دجال کے لشکر کے متعلق حدیث ہے کہ قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تواوّل سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! اسے شروع سے آخر تک کیونکر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے۔
اس لیے نیتوں کو جانے بغیر فوراً کفر کا فتویٰ لگا دینا زیادتی ہے۔ امتِ محمدیہ پر اس طرح کا فتویٰ لگانا انتہائی غلط بات ہے۔ جو حق اور سچ کی بات کرتا ہے اس کے ماننے والے کم ہوتے ہیں اور نہ وہ مشہور ہوتا ہے۔ شہرت بلبلے کی طرح ہوتی ہے جب بندہ مر جاتا ہے تو لوگ اس کو کچھ عرصے بعد بھول جاتے ہیں کہ جیسے وہ تھا ہی نہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اپنے بھائی کو کافر قرار دے تو دونوں میں سے ایک کفر کے ساتھ واپس لوٹے گا۔ (مسلم 215)
اس لیے اس خوف سے کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہیے۔ عالم کا کام گالیاں دینا نہیں ہے۔ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثال موجود ہے جنہوں نے پوری زندگی کسی کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ اللہ نے فرمایا:
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ (سورۃالانعام۔ 108)
ترجمہ: اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔
علمائے حق اور علمائے جہل
علمائے حق اور علمائے جہل کے متعلق بات چلی تو آپ مدظلہ الاقدس نے مثال دی کہ ایک عالم اس بات کی مخالفت کر رہا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ25 دسمبر کو پیدا نہیں ہوئے اس لیے عیسائی 25 دسمبر کو جو کرسمس مناتے ہیں وہ تاریخ غلط ہے۔ اب بات یہ ہے کہ عیسائیوں کے 3 فرقے ہیں:
Catholic •
Orthodox •
Protestant •
تینوں فرقے متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑکی ولادت 25 دسمبر کو ہوئی۔ لیکن یہ عالم ان کو ولادت کے لحاظ سے غلط ثابت کر رہا تھا۔ بھلا تم اپنے دین پر دھیان دو اور لوگوں کو نیکی کی طرف بلاؤ۔
طالب کی آزمائشیں
آپ مدظلہ الاقدس سے سوال پوچھا گیا کہ کیا راہِ سلوک پر چلنا آہستہ آہستہ مشکل ہو جاتا ہے؟آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ جی بالکل طالب کا سفر آہستہ آہستہ مشکل ہو جاتا ہے۔ آزمائشیں بیعت کے فوراً بعد ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ جب مرشد ایک طالب کو کسی ذمہ داری کے لیے منتخب کرے تو پہلے آزمائش آتی ہے۔ اگر تلقین و ارشاد کے لیے منتخب کر لے تو بہت زیادہ آزمائشیں آتی ہیں۔
عارف
بات عارف کے متعلق چل نکلی تو آپ مدظلہ الاقدس نے سب سے پوچھا: حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے رسالہ روحی شریف میں فرمایا ہے کہ عارف جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے اس کو اللہ کے سواکچھ نظر نہیں آتا۔ کیا ہر عارف کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا ہے؟ سب خاموش رہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:ہزار ہا ہزار عارفوں میں ایک عارف ہوتا ہے جس کو یہ مقام حاصل ہو۔
خیر اور شر
خیر اور شر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: جب مالک ہی وہ ہے تو خیر بھی اس نے پیدا کیا اور شر بھی۔ اس کا ایک مکمل باب میری کتاب ’’شمس الفقرا‘‘ میں موجود ہے وہ پڑھ لیں سمجھ آ جائے گی۔ چیزوں کی پہچان ضدسے ہوتی ہے۔ ادھر ایک ماہ دھوپ نہیں نکلی تو دھوپ کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ بالکل اسی طرح اگر شر نہ ہوتا تو آپ کو خیر کی پہچان نہ ہوتی۔ انسان بھی خیر اور شر کا مجموعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جو بھی چیز پیدا کرتا ہے اس میں شر اور خیر دونوں پہلو ہوتے ہیں۔
امامِ مبین
( 11 فروری2024 ئ)بزمِ سلطان العاشقین میں آپ مدظلہ الاقدس سے پوچھا گیا کہ قرآن میں ایک آیت ہے جہاں امامِ مبین کا ذکر ہے، امام ِمبین سے کیا مراد ہے؟
آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:امامِ مبین کے بارے میںصرف اللہ جانتا ہے یا امامِ مبین خود جانتا ہے۔ تیسرا وہ جانتا ہے جو امامِ مبین کا محرمِ راز ہو۔ ان کے علاوہ کسی کو اس کے بارے میں معلوم نہیں۔ قرآنِ مجید میں لفظ امامِ مبین ہے لیکن لوگ اس کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں جیسے قطب الاقطاب، غوث، غوثِ اعظم۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ دنیا کا نظام چلاتا ہے۔ میرے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ امامِ مبین تھے، وہ ہر چیز کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے کام میں لگے رہتے تھے۔ گو کہ محرمِ راز امامِ مبین کو پہچان لیتا ہے لیکن اسے بھی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ آگے کسی اور کو بتائے۔ وجہ یہ ہے کہ جو بھی اسے پہچانے محنت کر کے پہچانے کیونکہ پہچاننے کے لیے بھی سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے۔ اس لیے محرمِ راز علم ہونے کے باوجود بھی آگے نہیں بتا سکتا۔ ولیٔ کامل امامِ مبین کا ہی نام ہے۔ امامِ مبین کے لیے 100 سے 150 مختلف نام استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ان کے بارے میں اصطلاحات استعمال کی ہیں۔ اسی طرح حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ان کو مختلف ناموں سے پکارا ہے جیسے فقیر، فقیر مالک الملکی وغیرہ۔
امامِ مبین کے ساتھ چار مزید قطب ہوتے ہیں وہ دنیا کے چار کونوں میں ہوتے ہیں اور یہ نظام حدیثوں سے ثابت ہے۔ اولیا کرام کا فرمانا ہے کہ یہ عام طور پر 356 ہوتے ہیں لیکن جب دنیا کی آبادی بڑھ جاتی ہے تو ان کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے۔ہر علاقے میں ان اولیا کرام میں سے ایک موجود ہوتا ہے اور وہ کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ وہ مسجد کے اندر بھی ہو سکتا ہے اور پینٹ کوٹ پہن کر کہیں باہر بھی ہو سکتا ہے۔ وہ باطنی نظام چلا رہا ہوتا ہے جو امامِ مبین کے ذریعے اس تک پہنچتا ہے۔
جو لوگ اس نظام کو نہیں مانتے وہ نہ مانیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام تو نہیں رُک سکتا۔ مثال کے طور پہ اگر کوئی بندہ یہ کہے کہ میں پاکستان کے وزیراعظم کو نہیں مانتا تو اس کے نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیراعظم تو وزیراعظم ہی رہے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ نظام چل رہا ہے جو نہیں مانتا نہ مانے، اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا غرض۔ اس طرح تو بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں مانتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی نہیں مانتے۔
اللہ کا قانون
ایک بات یاد رکھیں کہ بے خوف ہو کر زندگی گزارنا کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا،بے وقوفی ہے۔ جو آپ کسی کے ساتھ کرتے ہیں وہ چیز آپ کی طرف لوٹتی ہے بالکل ایسے جیسے کہ دائرہ ہوتا ہے۔ اللہ پاک نے اس کائنات کو چلانے کے لیے ایک نظام بنایا ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے دنیادار دنیا چلانے کے لیے قانون بناتے ہیں۔ پاکستان کا ایک آئین ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں نے یہ فیصلہ کیاکہ پاکستان اس قانون کے مطابق چلے گا۔ اس کو پاکستان کا آئین کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہر ایک شعبے کا قانون ہوتاہے جو اس شعبے میں لاگو ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ پاک نے کائنات کو چلانے کے لیے ایک قانون بنایا ہے۔
خوفِ خدا
فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ (سورۃ الرحمن ۔ 46)
ترجمہ: اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔
ان دو جنتوں سے کیا مراد ہے؟ ایک آخرت والی اور ایک دنیا میں۔ اس آیت میں دو جنتوں سے مراد آخرت کی دو جنتیں نہیں ہیں۔ اس دنیا میں جو بھی آپ کسی کے ساتھ کرتے ہیں وہ لوٹ کر آخر میں آپ کے پاس آتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک کام آپ نے جوانی میں کیا ہو لیکن وہ لوٹ کر آپ کے پاس بڑھاپے میں آئے۔
اس دنیا میں اللہ پاک معاف نہیں کرتابلکہ ضرور سزا ملتی ہے۔ ہاں یہاں تک کہ وہ اللہ اور اس بندے سے معافی مانگ لے۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس سے کائنات چلتی ہے اور یہ قانون تب سے لاگو ہے جب حضرت آدم علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے اور آج تک لاگو ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نظام چلا رہے ہیں۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں نے لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنا رزق بڑھا لیا ہے۔ یاد رکھیں نہ تو کسی کا رزق زیادہ ہو سکتا ہے اور نہ کم۔ رزق اللہ پاک دیتا ہے اور اس دنیا میں کامیاب وہ ہے جو اس پر توکل اور یقین رکھتا ہے۔ اللہ پاک اسے خود رزق پہنچاتا ہے۔ جو کوشش سے حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ پاک اسے کوشش میں لگا دیتا ہے بلکہ کوشش میں پاگل کر دیتا ہے۔ جب کسی کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے تو وہ پلٹ کر زیادتی کرنے والے کی طرف آتی ہے۔ اگر یہ قانون نہ ہو تو پھر کائنات چل نہیں سکتی۔
مصیبت آزمائش بھی ہوتی ہے اور سزا بھی
آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: جس پر آزمائش آتی ہے وہ جانتا ہے کہ اس پر آزمائش ہے اور جس کو سزا ملتی ہے وہ بھی جانتا ہے کہ یہ سزا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہی سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر مصیبت میں بندہ اللہ کے قریب ہو جائے تو آزمائش ہے اور اگر دور ہو جائے تو سزا ہے۔
توکل علی اللہ
فرمایا: آزمائش والا کبھی گھبراتا نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور جو کچھ بھی کرنا ہے اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے میں تو کچھ نہیں کر سکتا۔ بندے کو پتہ ہوتا ہے کہ اس آزمائش کو بھیجنے والا بھی اللہ ہے اور اس کو ختم کرنے والا بھی اللہ ہی ہے۔ اس طرح کا بندہ دنیا کے وسائل پر یقین نہیں رکھتا۔ اور جو اللہ پر توکل نہیں کرتا وہ دنیا کے وسائل پر یقین رکھتا ہے۔بس یہی دونوں میں فرق ہے۔ یقین انسان کو اندر سے حاصل ہوتا ہے۔ توکل کرنے والا بندہ یہ جانتا ہے کہ اگر میں نے دنیا پر یقین کیا تو اللہ تعالیٰ مجھے مزید مشکلوں میں ڈال دے گا۔
ایک ہی چیز سے کامیابی اور ناکامی
فرمایا: ایک انسان پر جب بیماری آتی ہے تو اس بیماری کی وجہ سے وہ بندہ اللہ کی بارگاہ میں کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ دنیادار اسی بیماری کی وجہ سے ناکام ہوجاتاہے۔ اسی طرح تنگی کی وجہ سے کچھ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسی تنگی کی وجہ سے کچھ لوگ ناکام ہو جاتے ہیں۔ کامیاب اور ناکام میں فرق صرف توکل کا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن صرف نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ نہیں دیکھے گا بلکہ انسان کے اندر یہ چیزیں بھی دیکھے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میں لوگوں کی نیتیں دیکھتا ہوں۔‘‘ نیتیں تو اللہ ہی جانتا ہے کوئی بندہ نہیں جان سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی کو منافق نہیں کہہ سکتے۔ جیسا کہ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں بہت منافق تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی کو منافق نہیں کہا۔ کیونکہ منافق کو صرف اللہ پاک جانتا ہے۔ منافقت منافق کے اندر ہوتی ہے جبکہ ظاہری طور پر تو منافق بہت نیک اور پاک ہوتا ہے۔ بندہ ہر ایک کو دھوکہ دے سکتا ہے لیکن اللہ کی ذات کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔
فقیر مالک الملکی
(15اپریل 2024ء بروز سوموار) کسی نے پوچھا فقیر مالک الملکی کون ہوتا ہے؟فرمایا: یہ فقیر کا آخری درجہ ہے۔ فقیر کی بات ہو رہی ہے طالب کی بات نہیں ہو رہی۔ فقیر مالک الملکی وہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے رازوں میں شریک کر لیتا ہے کہ وہ کائنات کیسے چلا رہا ہے اور اس نے کیوں بنائی ہے۔
کسی نے سوال کیا کہ یہ فقیر مالک الملکی ہی ہر قدرت پر قادر ہوتا ہے؟ فرمایا: قدرت پر قادر تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے، بندہ کدھر قادر ہو سکتاہے۔ ہاں کسی حد تک بندے کو اللہ تعالیٰ اپنے رازوں میں شریک کر لیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اہم راز ہے کہ کائنات کیوں بنائی اور یہ کیسے چلا رہا ہے؟ یہ راز آسانی سے نہیں مل جاتا بلکہ بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں رازِ پنہاں۔ اس لیے یہ نہ سمجھیں کہ کوئی فقیر بن کر ہر چیز پر قادر ہو گیا ہے اور جو چاہے کرے۔ قدرت پر قادر ہونے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا نظام چلا رہا ہے ان حدود اور تعین سے باہر نہ جانا۔ یہ مقام فقیر کو آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ فقیر مالک الملکی اللہ تعالیٰ کے نظام کو ویسے ہی چلاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے لکھا ہوا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی کرے۔ سلطان محمد فاروق صاحب کا واقعہ ہے میرے مرشد پاک سلطان الفقر ششمؒ کے چھوٹے بھائی تھے، وہ کہتے تھے ’’اگر میرے والد و مرشد مجھے فقیری عطا کرتے تو میں نے دنیا بدل کر رکھ دینی تھی۔‘‘ تو میں نے کہا اسی لیے آپ کو ملی نہیں۔ فقیر مالک الملکی اس کائنات کو ویسے چلاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے لکھا ہوا ہے۔ جتنا اللہ کریم ہے اتنا کریم بننا ہوتا ہے جتنا اللہ رحیم ہے اتنا رحیم بننا ہوتا ہے۔
انسانِ کامل کی سٹیجز
کسی نے انسانِ کامل کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا: انسانِ کامل کی بھی سٹیجز ہوتی ہیں جس طرح فقیر کی سٹیجز ہوتی ہیں جیسے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ۔ انسانِ کامل کا مرتبہ تو تب حاصل ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی ذات تک پہنچ جاتا ہے۔
اللہ کی پلاننگ
کسی نے پوچھا کیا قیامت تک کی ہر چیز اللہ نے پلان کر رکھی ہے؟ فرمایا: اس کی ہر چیز پلان ہے وہ یہ نہیں کرتا کہ آج کا کام آج کر لیا اور کل والا کل پلان کر لیا۔ اس کی ہر چیز پلان ہے۔ لوحِ محفوظ پر ہر چیز اس نے لکھی ہوئی ہے۔
فقر کا مرکز
فرمایا: ہمارے بعد ہماری قبر فقر کا مرکز بنے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ جو بندہ جمعہ کے روز عصر سے لے کر مغرب تک ہمارے مزار پر درود پڑھے گا اللہ پاک اس کا جو بھی مسئلہ ہوگا حل کرے گا اور جو 11 ربیع الاوّل عصر سے لے کر 12 ربیع الاوّل مغرب تک درود پڑھے گا تو وہ جو مانگے گا اللہ پاک اس کو عطا کرے گا خاص طور پر اس میں فقر کی نعمت شامل ہے۔
محرمِ راز
فرمایا: ہمارے بعد جو ہمارا محرمِ راز اور ہمارا وارث ہوگا اس کو اتنی جلدی کوئی چیز منتقل نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ ہماری زندگی میں اپنے آپ کو ثابت نہیں کر سکا۔ ہمارے بعد اس کے امتحانات ہوں گے اور اس طرح اس کو درجہ بدرجہ وراثت منتقل ہوگی۔ ایک بات یاد رکھیے گا کہ طالب کبھی سست اور کاہل نہیں ہوتا، طالب کبھی جھوٹا نہیں ہوتا، طالب کبھی دھوکے باز نہیں ہوتا، طالب کبھی غصے میں نہیں آتا، طالب کبھی لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتا، طالب کبھی کسی کے خلاف بددعا نہیں کرتا، یہ طالب کے خصائص ہیں۔ ہر طالب کو غور کرنا چاہیے کہ میرے اندر یہ صفات ہیں کہ نہیں۔ طالبِ مولیٰ کو اللہ تعالیٰ پر اتنا زیادہ توکل ہوتا ہے اگر اس کا توکل دنیا کے سامنے پیش کر دیا جائے اور ساری مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو سب مخلوق کو کافی ہو جائے۔ اس کی مثال حدیث سے سمجھی جا سکتی ہے، حضورنبی اکرمؐ نے پل صراط کے متعلق فرمایا کہ کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے وادی ٔصنعا تک نور حاصل ہوگا اور کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اتنا کم نور عطا کرے گا کہ اپنا پاؤں بھی نہ دیکھ سکیں گے۔وادی ٔصنعا مدینہ سے دور یمن میں واقع ہے۔ یہ نور حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ دنیا میں فقر کے اوپر چلنا پل صراط ہے۔ جیسے جیسے آپ کا نور بڑھتا جائے گا زیادہ نظر آتا جائے گا۔ نور کیسے حاصل ہوتا ہے یہ آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا۔
باطنی ریاضت
(25مئی 2024ئ)کسی نے باطنی ریاضت کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا: باطنی ریاضت ہی توسب سے مشکل ہوتی ہے۔ ظاہری آزمائشیں اتنی سخت نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھار باطنی آزمائشیں ظاہر میں بھی آ جاتی ہیں۔ اب وہ آزماتا ہے کہ اِس میں کتنی ہمت ہے اور کدھر تک جاتا ہے، کب گرتا ہے اور کب رضا سے ہٹتا ہے۔ اللہ ایک مشکل بھیجتا ہے تودیکھتا ہے کہ بندہ میری رضا مانگتا ہے یا اس سے نکلنے کی دعا مانگتا ہے۔ پھر کچھ دن بعد نئی آزمائش بھیجتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اب رضا مانگتا ہے یاکچھ اور۔ پھر اس کے بعد اس سے بھی بڑی آزمائش آتی ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور طالب ِمولیٰ کامل توحید پر پہنچ جاتا ہے۔
کسی نے پوچھا کہ اگر کوئی آزمائش آئے تو کیا اس کے ٹلنے کی دعا کرنی چاہیے؟
فرمایا: سیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان پر ایک آزمائش آئی تو انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اس کوٹال دے۔ وہ آزمائش ختم ہوئی توکچھ دن بعد اللہ نے اس سے بڑی آزمائش بھیج دی۔ پھر سیدنا غوث پاکؓ نے فرمایا کہ اے اللہ! تیری مرضی ہے جو کرنا ہے کر۔
اللہ سے کیا مانگنا چاہیے؟
کسی نے پوچھا اللہ سے کیا مانگنا چاہیے تو فرمایا: ہم نے اللہ سے اس کی رضا کے علاوہ کچھ نہیں مانگا۔
مرشد کے بارے میں غلط خیال
کسی نے پوچھا کہ آپ کے مرشد کی حیات میں بہت سے لوگ اپنے آپ کو فقیر ظاہر کرتے تھے لیکن ان کے وصال کے بعد نظر نہیں آتے جبکہ مرشد کے وصال کے بعد فیض زیادہ ملتا ہے؟فرمایا: مرشد کی حیات میں اگر کوئی مرشد کے بارے میں برا خیال طالب کے ذہن میں آئے تو اللہ معاف کر دیتا ہے لیکن مرشد کی حیات کے بعد اگر برا خیال آئے تو اللہ ہرگز معاف نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظاہری حیات کے بعد فیض زیادہ ملتا ہے لیکن اگر طالب خالص ہو۔ میرے مرشد سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ کے اردگرد بہت سے لوگ فقیر بننے کا دعویٰ کرتے تھے۔ ہر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد ہوں اس لیے میرا ادب ضروری ہے۔ لوگ جب میرے مرشد کے پاس آتے تو یہ لوگ انہیں گھنٹوں اپنے پاس بٹھا لیتے تھے۔ جو مرید میرے مرشد تک پہنچتا وہ بہت چھانا ہوا ہوتا۔
بڑی آزمائش
کسی نے پوچھا کہ امام شعرانیؒ کا فرمان ہے کہ جو طالب اپنے مرشد کے داماد بنتے ہیں ان میں زیادہ لوگ گمراہ ہی ہوتے ہیں۔فرمایا: یہ بات درست ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ لوگ جب مرشد کی صاحبزادی کو تکلیف پہنچاتے ہیں تو دراصل مرشد کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے داماد تھے۔ ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کاحضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی بات پر ہلکا سا جھگڑا ہوا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ گھر سے باہر چلے گئے۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا کہ وہ باہر چلے گئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کی تلاش میں نکلے اور ایک جگہ ان کو مٹی پر سویا ہوا پایا۔ حضور پاکؐ نے ان کو فرمایا اٹھو ’’ابوتراب‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جانتے تھے کہ سب کچھ صبر و تحمل سے برداشت کرتے ہیں اور انتہادرجہ کے عاجز ہیں۔ اس لیے فرمایا ’’ابوتراب‘‘یعنی مٹی والا۔ مٹی کو عاجزی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ لوگ مٹی کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں لیکن مٹی سب کچھ برداشت کرتی ہے۔ اسی طرح حضرت صابرؒ پیا بھی اپنے مرشد کے داماد تھے لیکن انہوں نے بھی مرشد کی صاحبزادی کے حقوق پورے کیے اور اپنے مرشد کو کبھی بھی اس معاملے میں تکلیف نہ پہنچائی۔ ان کو بھی اللہ نے نوازا۔
(جاری ہے)
عمدہ تحریر
اللہ پاک آپ مدظلہ الاقدس کو صحت کاملہ عطا کرے
The path of Faqr begins where ‘I’ ends.
ایک ایک لفظ ہدایت کا سرچشمہ
ایک بات یاد رکھیں کہ بے خوف ہو کر زندگی گزارنا کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا،بے وقوفی ہے۔ جو آپ کسی کے ساتھ کرتے ہیں وہ چیز آپ کی طرف لوٹتی ہے بالکل ایسے جیسے کہ دائرہ ہوتا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ جی بالکل طالب کا سفر آہستہ آہستہ مشکل ہو جاتا ہے۔ آزمائشیں بیعت کے فوراً بعد ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ جب مرشد ایک طالب کو کسی ذمہ داری کے لیے منتخب کرے تو پہلے آزمائش آتی ہے۔ اگر تلقین و ارشاد کے لیے منتخب کر لے تو بہت زیادہ آزمائشیں آتی ہیں۔
بہت شکریہ مرشد کریم اتنی خوبصورت باتیں ہمیں بتانے کے لیے
آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا: اصل چیز عشق ہے۔ جس کو اس دنیا میں عشق نہیں ہوتا اس نے بیکار زندگی گزار دی۔ وہ جانوروں کی طرح اس دنیا سے چلا گیا۔ عاشق بڑی مشکل سے بنتا ہے
بہترین مضمون
بات عارف کے متعلق چل نکلی تو آپ مدظلہ الاقدس نے سب سے پوچھا: حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے رسالہ روحی شریف میں فرمایا ہے کہ عارف جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے اس کو اللہ کے سواکچھ نظر نہیں آتا۔ کیا ہر عارف کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا ہے؟ سب خاموش رہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا:ہزار ہا ہزار عارفوں میں ایک عارف ہوتا ہے جس کو یہ مقام حاصل ہو۔
معرفت الہیٰ سے بھرپور