ہجرتِ مدینہ اور طالبانِ مولیٰ کے لیے سبق Hijrat e Madina Aur Taliban-e-Maula ky liye Sabq

5/5 - (1 vote)

ہجرتِ مدینہ  اور طالبانِ مولیٰ کے لیے سبق
 Hijrat e Madina Aur Taliban-e-Maula ky liye Sabq

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری

ہجرتِ مدینہ تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جس نے رہتی دنیا تک کے طالبانِ مولیٰ کے لیے عمل اور معرفت کے چراغ روشن کر دئیے۔  طالبِ مولیٰ کا اصل مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ ہجرتِ مدینہ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آجائے تو وطن کی محبت، مال و دولت اور خاندانی رشتے سب ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہی ایک سچے طالبِ مولیٰ کی نشانی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (سورۃ الانفال۔  74)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (راہ ِخدا میں گھربار اور وطن قربان کر دینے والوں کو ) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہی لوگ حقیقت میں سچے مسلمان ہیں، ان ہی کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مقامِ ہجرت مکہ مکرمہ سے کم و بیش دو سو اَسی (280) میل (تقریباً 450 کلومیٹر) شمال میں تھا۔ یہی وہ مقام ہے جس نے مدینہ منورہ کے مقدس نام کا شرف پایا۔ مسلمانوں کی ہجرت سے پہلے یہاں اَوس و خزرج کے قبائل اور یہودی آباد تھے ۔ 

ہجرتِ مدینہ سے قبل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دستور تھا کہ مکہ مکرمہ میں دورانِ حج یا عمرہ جو بھی قافلہ تشریف لاتا اُسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے۔ نبوت کے گیارھویں سال میں جب موسمِ حج قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بنی خزرج کے ایک گروہ سے ملاقات ہوئی اور آپؐ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ ان لوگوں کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کے شہر میں چند یہودی قبائل بھی آباد تھے۔ وہ لوگ صاحبِ علم اور اہلِ کتاب تھے جبکہ انصار کے قبائل بت پرست تھے۔ اکثر ان کے درمیان لڑائی رہتی اور جب جنگ کی نوبت آتی تو یہودی انہیں دھمکیاں دیتے اور کہتے کہ عنقریب ایک نبی تشریف لانے والا ہے، ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی پیروی کریں گے۔ پھر ہم تمہیں اس طرح بے دریغ قتل کریں گے جس طرح عاد و ارم کو قتل کیا گیا تھا۔ یہود کی اس قسم کی باتوں کی بدولت انصار بھی ایک نبی سے متعارف تھے۔ سرکارِ دوعالم ؐ نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی آمد کی دھمکیاں یہود ہمیں آئے روز دیتے رہتے ہیں، جلدی سے ان پر ایمان لے آئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہودی ان پر ایمان لانے میں ہم پر سبقت لے جائیں۔ چنانچہ ان سب نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت دل و جان سے قبول کر لی اورسارے کے سارے مشرف بہ اسلام ہو گئے۔  

اپنے وطن پہنچ کر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ اپنی ملاقات کا حال اپنی قوم کو سنایا، اس نئے دین سے انہیں متعارف کروایا نیز انہیں آگاہ کیا کہ انہوں نے اس دین کو قبول کر لیا ہے اور اپنی قوم کے افراد کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ جو لوگ نبی کریم ؐ اور دینِ اسلام سے اب تک واقف نہ تھے وہ ان لوگوں کی کوششوں سے متعارف ہو گئے اور گھر گھر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکرِخیر ہونے لگا۔ اگلے سال یعنی بعثت کے بارہویں سال حج کے دنوں میں انصار کے بارہ افراد حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عقبہ کے مقام پر آپؐ سے ملاقات نصیب ہوئی۔ سب نے حضور نبی اکرم ؐ کے دستِ ہدایت بخش پر بیعت کی۔ 

حضرت عبادہؓ بن صامت فرماتے ہیں ’’میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے بیعتِ عقبہ اولیٰ میں شرکت کی ۔ ہماری تعداد بارہ تھی اور بیعت کی تفصیل یوں بیان کی :
ہم نے رسولؐ اللہ کے دستِ مبارک پر یوں بیعت کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، ہم بدکاری نہیں کریں گے، ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے اور جھوٹا الزام نہیں لگائیں گے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو اور کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔‘‘ (ضیاء النبی ، جلد ۲)

اگلے سال بہتر (72) افراد حج کے زمانہ میں آئے اور اپنے ساتھیوں سے (جو بت پرست تھے) چھپ کر مقامِ منیٰ (عقبہ) میں آنحضرت ؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ( سیر ت النبیؐ، تالیف مولانا شبلی نعمانی )

جب مدینہ منورہ میں اسلام کے سچے جذبوں سے معمور مسلمانوں کی تعدادبڑھ گئی تو اللہ کے حکم سے مکہ کے مسلمانوں نے بھی ہجرت کرنے کا آغاز کر دیا ۔ ابو احمد مکہ کے ایک نابینا شاعر تھے جنہوں نے ہجرت کے اس روح پرور واقعہ کو یوں بیان کیا ہے:
جب میری بیوی اُمّ احمد نے مجھے سویرے سفر پر آمادہ دیکھا، اس ذات کی رضا کے لیے جس سے میں حالتِ غیب میں بھی ڈرتا ہوں، وہ کہنے لگی ’’اے میرے سرتاج! اگر تم نے یہاں سے کوچ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے تو کسی اچھے شہر کا رخ کرنا اور یثرب جانے سے بچنا۔‘‘

میں نے اس سے کہا ’’آج تو ہماری منزلِ مقصود یثرب ہی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے بندہ اس پر سوار ہو جاتا ہے۔ میرا رخ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف ہے اور جو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ کر لیتا ہے وہ نامراد نہیں رہتا۔‘‘

ہم نے منزلِ جاناں کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنے کتنے مخلص دوستوں کی جدائی اختیار کی ہے اور کتنی ایسی نصیحت کرنے والیوں کو آنسو بہاتے ہوئے اور آہ و فغان کرتے ہوئے پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ (سیرت النبیؐ ، امام حافظ ابو الفدا عماد الدین ابن کثیرؒ)

حضرت عمر فاروقؓ کی ہجرت

حضرت عمرؓ کی مکہ سے روانگی کا واقعہ سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے یوں بیان فرمایا :
’’جہاں تک مجھے علم ہے حضرت عمرؓ کے علاوہ جملہ مہاجرین نے خفیہ طور پر ہجرت کی لیکن حضرت عمرؓ نے جس روز ہجرت کا عزم کیا انہوں نے اپنی تلوار گلے میں حمائل کی، اپنی کمان کندھے پر رکھی، تیر اپنی مٹھی میں لے لیے اور چھوٹا نیزہ اپنی کمر کے ساتھ آویزاں کیا۔ سارے قریش یہ منظر دیکھ رہے تھے، کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوئی۔ آپؓ نے کعبہ شریف کے سات چکر لگائے اور طواف مکمل کیا، مقامِ ابراہیم ؑکے پاس دو نفل پڑھے۔ قریش کے رئیسوں نے حسب ِدستور جگہ جگہ اپنی اپنی مجلسیں جمائی ہوئی تھیں ان کی ہر مجلس میں گئے اور بلند آواز سے اعلان کیا :
’’تمہارے چہروں پر پھٹکار ہو، اللہ تعالیٰ ان ناکوں کو خاک آلود کرے۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس کو روئے، اس کی اولاد یتیم ہو، اس کی بیوی بیوہ بنے تو وہ اس وادی کے دوسری طرف آئے اور مجھ سے مقابلہ کرے۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ’’حضرت عمرؓ نے یہ اعلان کیا تو کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ آپؓ کے چیلنج کو قبول کرتا۔ چنانچہ آپؓ یثرب کی طرف روانہ ہو گئے۔‘‘  

ہجرتِ صہیبؓ

جب حضرت صہیبؓ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اہلِ مکہ کو پتہ چل گیا۔ چند نوجوانوں نے آکر ان کا گھیراؤ کر لیا اور انہیں کہا:
’’اے صہیبؓ! جب تم یہاں آئے تھے تو مفلس تھے اور حقیر انسان تھے یہاں رہ کر تم نے یہ بیشمار دولت کمائی اور معاشرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔ اب تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو اور اپنا مال و متاع بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو ، بخدا ! ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔‘‘

حضرت صہیبؓ نے جواب دیا :
’’اگر میں اپنا سارا مال تمہارے حوالے کر دوں تو کیا پھر تم مجھے جانے دو گے؟‘‘
انہوں نے کہا ہاں! آپؓ نے فرمایا ’’یہ لو میرا سارا مال و متاع۔ تمہیں یہ مبارک ہو۔ مجھے منزلِ جاناں کی طرف جانے سے نہ روکو۔‘‘
حضور سرورِ عالمؐ کو جب اپنے جان نثار صہیبؓ کے اس بے مثال ایثار کی اطلاع ملی تو آپؐ نے یہ فر ما کر اپنے غلام کو داد دی اور حوصلہ افزائی فرمائی :
بڑا نفع کمایا صہیبؓ نے، بڑا نفع کمایا صہیبؓ نے۔ 

نبیؐ رحمت کی ہجرت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اجازت فرمائی کہ وہ ہجرت کر کے چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہ مخلص بندے وطن، اہلِ وطن، اپنے مکامات، اپنی حویلیاں، اپنی عمر بھرکی کمائی ہوئی دولت کے انباروں کو نظر انداز کر کے سوئے یثرب ہجرت کر کے جانے لگے یہاں تک کہ ان نفوسِ قدسیہ سے مکہ خالی ہو گیا ۔ 

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ صرف حضرت ابوبکر صدیق ؓاور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ باقی رہ گئے۔ یہ دونوں حضورنبی اکرمؐ کی خاص ہدایت کے مطابق رک گئے تھے۔ 

جس شب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ کے حکم سے ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا اس روز اہلِ مکہ آپؐ کو نعوذ باللہ قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ گویا ایک طرف وہ تدبیریں بنا رہے تھے اور دوسری طرف اللہ۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے :
اور جب کافر لوگ آپ کے خلاف خفیہ سازشیں کر رہے تھے کہ وہ آپ کو قید کر دیں یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو (وطن سے) نکال دیں، اور (ادھر) اللہ (ان کے مکر کے ردّ کے لیے اپنی) تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر مخفی تدبیر فرمانے والا ہے۔ (سورۃالانفال ۔ 30)

ہجرتِ مدینہ کے ہر باب میں عشق و وفا کی داستان موجود ہے۔ جب ہجرت کا وقت آتا ہے تو آپؐ اپنے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو لیٹنے کا حکم دیتے ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ حکم کی تکمیل فرماتے ہیں۔ حضرت امام حسن عسکری ؓ نے اپنی تفسیر میں حضرت علیؓ کا جواب لکھا جو انہوں نے اپنے ہادی و مرشد کی تجویز پر دیا، قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں :
رسولؐ اللہ نے حضرت علیؓ کو فرمایا’’اے علیؓ! کیا تم اس بات پر رضامند ہو کہ دشمن مجھے تلاش کرے اور نہ پا سکے اور تجھے پا لے اور شاید جاہل جلدی میں تمہاری طرف دوڑ کر آئیں اور تمہیں قتل کر دیں۔‘‘

حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’جی یا رسولؐ اللہ! میں اس بات پر راضی ہوں کہ میری روح حضور کی روح مبارک کی حفاظت میں کام آئے اور میرا نفس حضور کی ذات پر قربان ہو۔ کیا میں زندگی سے بجز اس کے محبت کر سکتا ہوں کہ وہ حضور کی خدمت میں گزرے، حضور کے اوامر و نواہی کی بجاآوری میں صرف ہو، حضور کے دوستوں کی محبت، احباب کی نصرت اور آپ کے دشمنوں سے جہاد کرنے میں بیت جائے۔ اگر یہ امور نہ ہوتے تو میں ایک لمحہ کے لیے بھی اس دنیا میں زندہ رہنا پسند نہ کرتا ۔‘‘

پھر رسولؐ اللہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو فرمایا ’’اے ابوبکرؓ! کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تم میرے ساتھ ہو۔ جس طرح میری تلاش کی جاتی ہے اسی طرح تمہاری تلاش بھی کی جائے، اور تم اس بات سے پہچانے جاؤ کہ جس دین کی میں تبلیغ کر رہا ہوں۔ پھر میری وجہ سے تمہیں طرح طرح کے عذاب دیئے جائیں۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کی: یا رسولؐ اللہ! اگر میں اتنی مدت زندہ رہوں جتنی دنیاکی عمر ہے، اس طویل زندگی میں مجھے سخت ترین عذاب دیئے جائیں، نہ مجھ پر وہ مو ت نازل ہو جو مبتلا ئے عذاب کو راحت پہنچاتی ہے اور نہ مجھے ان مصائب سے نجات دی جائے اور یہ سب اذیتیں حضور کی محبت کے باعث مجھے دی جائیں تو یہ ساری اذیتیں اور عذاب مجھے اس بات سے محبوب تر ہیں کہ میں آپؐ کی مخالفت میں نعمت و مسرت کی زندگی بسر کروں اور دنیا کے سارے بادشاہوں کے ملکوں کا مالک ہوں۔ میرے بیوی بچے سب حضور پر قربان ہوں۔‘‘ (ضیا النبی جلد ۳، صفحہ ۵۵)

واقعہ غارِ ثور 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سیدنا ابوبکر ؓ کے ہمراہ مکہ سے روانہ ہوئے اور غارِ ثور کی جانب چلے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ چلتے چلتے کبھی حضور سے آگے نکل جاتے پھر پیچھے چلے جاتے کبھی حضور کی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب۔ حضورؐ نے پوچھا اے ابوبکرؓ!کیا ماجرا ہے؟ عرض کی یا رسولؐ اللہ! کبھی خیال آتا ہے مبادا دشمن پیچھے سے تعاقب میں آرہے ہوں تو پھر پیچھے چلا جاتا ہوں۔ پھر خیال آتا ہے کہ وہ لوگ آگے کسی کمین گاہ میں نہ بیٹھے ہوں تو بھاگ کر آگے چلا جاتا ہوں۔ کبھی دائیں اور کبھی بائیں چلا جاتا ہوں تاکہ آگے یا پیچھے سے، دائیں یا بائیں سے اگر بداندیش حملہ کرنے کی ناپاک کوشش کریں تو سب سے پہلے آپ کا یہ غلام ان کے ناگہانی حملہ میں سد سکندری بن کھڑا ہو جائے تاکہ حضور کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ جہاں راستہ بہت کٹھن ہوتا حضرت ابوبکر صدیق ؓحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے۔ چلتے چلتے جب غار کے دہانے تک پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے گزارش کی:
’’میں اس خدا کا واسطہ دے کر جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، عرض کرتا ہوں کہ آپ غار میں تشریف نہ لے جائیے۔ پہلے میں داخل ہوں گا، اگر وہاں کوئی موذی چیز ہو تو پہلے وہ مجھے اذیت پہنچائے۔‘‘

آپؓ اندر تشریف لے گئے، پہلے جھاڑو دیا پھر غار کے چپہ چپہ کو ہاتھوں سے ٹٹولا۔ جہاں کوئی سوراخ معلوم ہوا اپنی چادر پھاڑ کر اسے بند کیا۔ چادر ختم ہو گئی لیکن ایک سوراخ پھر بھی رہ گیا۔ دل میں سوچا اسے اپنی ایڑھی رکھ کر بند کر لوں گا۔ ہر طرح سے مطمئن ہونے کے بعد عرض کی آقا تشریف لے آئیے۔ خود اس سوراخ پر ایڑھی رکھ کر بیٹھ گئے ۔ محبوب کائنات نے اپنا سر مبارک آپؓ کی گود میں رکھا اور استراحت فرما نے لگے۔ اسی اثنا میں صدیقِ اکبر ؓکی ایڑھی پر سانپ نے ڈس لیا۔ زہر سارے جسم میں سرایت کر گیا لیکن کیا مجال کہ پاؤں میں جنبش تک ہوئی ہو۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیدار ہوئے، اپنے یارِ غار کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وجہ دریافت فرمائی۔ پھر جہاں سانپ نے ڈسا تھا وہاں اپنا لعابِ دہن لگایا جس سے درد اور تکلیف کافور ہو گئی۔  

حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا مدینہ میں تشریف لانا

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ تشریف لائے تو استقبال کے لیے بچے، بوڑھے، جوان سب تشریف لے آئے۔ 
 بیہقی، ابو عمر و ادیب، ابو بکر اسماعیلی، ابو خلیفہ‘ ابن عائشہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ مدینہ منورہ تشریف لائے خواتین اور بچے کہہ رہے تھے :

طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع

ترجمہ: بدرِ منیر نکل آیا کوہِ وداع کی گھاٹیوں سے۔ ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگیں۔(سیرت النبیؐ، صفحہ ۴۷۵) 

مواخاتِ مدینہ 

حضور نبی اکرمؐ نے مدینہ کی فضا کو خوشگوار بنانے اور مسلمانوں میں اتحاد و محبت کی روح قائم کرنے کے لیے مہاجرین و انصار کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ علامہ سہیلی لکھتے ہیں :
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھائی چارے کا ایسا منفرد نظام قائم کیا جس کی نظیر نہیں ملتی تاکہ ان کے غریب الوطنی کے احساس کو دور کیا جائے اور اپنے اہل و عیال سے جدائی کے وقت ان کی دلجوئی کی جائے اور ایک دوسرے سے ان کو تقویت پہنچائی جائے۔ (ضیا النبیؐ)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت کے اتحاد کی بنیاد فقط دین اور عقیدہ کو قرار دیا۔ ہر وہ شخص جو دینِ اسلام قبول کرتا وہ عربی ہو یا عجمی، شرقی ہو یا غربی، امیر ہو یا غریب اس معاشرہ کا فرد بن سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سرورِ عالمؐ کو کسی ایک خطہ، کسی ایک قوم، کسی ایک زمانہ کے لیے راہنما بنا کر نہیں بھیجا تھا بلکہ سارے جہانوں کے لیے تاقیامت سراپا رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ حضور ایک عالمگیر پیغام کے علمبردار تھے۔حضور کا مقصد تمام امتیازات کو بالائے طاق رکھ کرنوعِ انسانی کو ایک رشتہ میں پرونا، انہیں ایک امت بنانا اور ایک عالمی اخوت سے منسلک کرنا تھا۔ مواخات کے عمل سے اس مقصد کی تکمیل ہوئی۔

ریاستِ مدینہ کی تشکیل

مدینہ میں مسلمانوں کے اجتماعی، اقتصادی، سیاسی اور دفاعی تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسے دستاویزات تیار کیے اور حکمت ِعملی کا مظاہرہ کیا جس سے ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا آغاز ہوا اور مسلمانوں کا ایک چھوٹا گروہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ عرب کے معاشرہ میں یہ اتنا تعجب انگیز انقلاب تھا جس پر علامہ ڈاکٹر حمید اللہ ایک جامع تبصرہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں :
ایک چھوٹی سی بستی کو جو بیس محلوں پر مشتمل تھی، شہری مملکت کی صورت میں منظم کیا گیا اور اس کی قلیل لیکن بو قلموں اور کثیر الاجناس آبادی کو ایک لچک دار اور قابل دستور کے ماتحت ایک مرکز پر متحد کیا گیا اور ان کے تعاون سے شہر مدینہ میں ایک ایسا سیاسی نظام قائم کر کے چلایا گیا جو بعد میں ایشیا، یورپ، افریقہ کے تین براعظموں پر پھیلی ہوئی ایک وسیع اور زبردست شہنشاہیت کا بلا کسی دقت کے صدر مقام بھی بن گیا۔  

ول ہازن (Wellhausen) لکھتا ہے:
مکمل حاکمانہ اختیارات کے ساتھ پہلا عربی معاشرہ حضرت محمدؐکے ہاتھوں شہر مدینہ میں قائم ہوا لیکن خون کی بنیاد پر نہیں جو لامحالہ اختلافات کو جنم دیتا ہے بلکہ دین کی بنیاد پر۔ جس کا اطلاق ہر فرد پر یکساں طور پر ہوتا ہے ۔(ضیا النبیؐ)

ہجرتِ مدینہ طالبانِ مولیٰ کے لیے سبق

صوفیا کرام ہجرت کو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا نام نہیں دیتے بلکہ ان کے نزدیک ہجرت سے مراد نفس کی ہجرت ہے یعنی نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ کی طرف لوٹنا، غیر اللہ کو ترک کر کے خالصتاً اللہ کی طرف رجوع کرنا، نفسانی خواہشات، دنیاوی محبتوں، اپنا آرام و سکون، مال و دولت سب اللہ کی راہ میں قربان کر دینا۔ ہجرتِ مدینہ کے وقت ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے ہجرت اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ اپنی نفسانی خواہش کے لیے تھی جس کے متعلق حدیث شریف میں بیان ہوا ہے :
آپؐ فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت (ترکِ وطن ) دولتِ دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو، پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔ (بخاری شریف، حدیث ۱)

ہجرت اور توکل 

ہجرتِ مدینہ سے طالبِ مولیٰ کو جو اہم سبق ملتا ہے وہ توکل ہے۔ ایک انسان کی تدبیر ہوتی ہے اور ایک اللہ کی۔ اور جو اللہ پر توکل قائم رکھتے ہوئے کوشش کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ ہجرتِ مدینہ کی رات حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا لیکن اللہ کی مدد سے آپ ؐ صدیقِ اکبرؓ کے ہمراہ دشمنوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ توکل کی عظیم مثال اس رات مولیٰ علیؓ شیرِخدا نے قائم کی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت علیؓ سے جب کسی نے پوچھا کہ کیا آپؓ کو اس رات ڈر نہیں لگ رہا تھا کہ کفار آپ کو قتل کر دیں گے ؟ تو آپؓ نے فرمایا ’’خدا کی قسم! مجھے اپنی زندگی میں اتنی پرسکون نیندنہیں آئی جتنی اس رات رسولؐ اللہ کے بستر پر آئی تھی۔‘‘
آپؓ کو بھروسہ تھا کہ حضورؐ نے امانتیں لوٹا کر مدینہ آنے کی تلقین کی ہے اس لیے وہ اللہ کی رحمت و فضل سے محفوظ رہیں گے۔
غارِ ثور میں حضرت ابوبکر صدیقؓ حضورؐ کی رفاقت میں تھے اور دشمن غار کے دہانے پر پہنچ گئے تھے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا:
’’یا رسول اللہؐ!اگر انہوں نے جھک کر اپنے قدموں کی طرف دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لیں گے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اے ابوبکرؓ !ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔‘‘

صبر و استقامت اور قربانی 

ہجرتِ مدینہ طالبِ مولیٰ کو صبر و استقامت اور ایثار و قربانی کا درس دیتی ہے۔ مکہ کے مسلمانوں نے اپنے سچے جذبۂ عشق کے ذریعہ جو ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کی مثالیں قائم کی ہیں وہ تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہجرتِ نفس، سفرِعشق ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے کیونکہ عشق کا سفر لامتناہی ہے۔ عشق یہ نہیں کہ ایک آزمائش سے گزرے، قربانی دی اور منزل پر پہنچ گئے۔ دراصل جس لمحہ صحابہ کرامؓ نے اللہ کی توحید پر ایمان رکھا ان کی نفس کی قربانی اور صبر و استقامت کا سفر اسی روز سے شروع ہو گیا اور ان کے آخری لمحہ تک جاری رہا۔ ان کی عظیم مثالوں سے تاریخ کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ 

ایثار و قربانی

مدینہ پہنچنے کے بعد انصارِ مدینہ نے جس طرح مہاجرین کا استقبال کیا اور ان کے لیے اپنا گھربار تک پیش کر دیا وہ رہتی دنیا تک ایثار و قربانی کی بہترین مثال ہے ۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے اس میں سبق ہے کہ راہِ حق کے مسافر ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔ حسد، بغض اور کینہ ایک طالبِ حق کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں جنہیں محبت اور بھائی چارے سے ختم کرنا ضروری ہے۔ 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مرشد کریم سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی رہنمائی میں ہجرتِ نفس ( یعنی تربیتِ نفس) کی توفیق عطا کرے اور اس سفر میں کامیابی سے ہمکنار کرے ۔ (آمین)

استفادہ کتب :
۱۔ضیا النبی ، جلد ۲، ۳؛ پیر محمد کرم شاہ الازہری
۲۔سیر ت النبیؐ ، تالیف ، مولانا شبلی نعمانی
۳۔سیرت النبی ؐ ، امام حافظ ابو الفدا عماد الدین ابن کثیر ؒ(جلد ۱)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں