فرمودات سلطان العارفین Farmoodaat Sultan-ul-Arifeen

5/5 - (1 vote)

 فرمودات سلطان العارفین

منتخب از محبت الاسرار( طرفتہ العین)

(آخری حصہ)                                      تصنیف ِ لطیف: سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

مرشد کیسا ہونا چاہئے؟

مرشد تو اس طرح ہونا چاہیے جس طرح اس فقیر باھوؒ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا  خُذْ بِیَدِیْ ’میرے ہاتھ پکڑو، اور بیعت فرمایا جس سے فقیر کی چشمِ ظاہر و باطن ایک ہو گئی اور اسمِاللہ ذات کے ذریعے راہِ توحیدِالٰہی پر گامزن ہو کر اللہ سے واصل ہو گیا۔ اب وہ کشف و کرامات سے بیزار ہے۔ 

باھوؒکو کوئی غم نہیں کیونکہ راہِ حق پر میرا راہبر میرے آگے موجود ہے اور میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دامن اپنے ہاتھ میں تھام رکھا ہے۔
مرشد کامل صاحبِ حضور ہوتا ہے۔
مرشد کامل کو اس طرح پہچانا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے طالب کو روزِ اوّل علمِ تصور اسمِاللہ ذات سے علمِ دیدار کا سبق دیتا ہے۔
عارفین کے سینے میں اللہ کا راز ہے۔ 

دیدارِ الٰہی

فقر کسی سے نہ التجا کرتا ہے اور نہ ہی احتیاج رکھتا ہے۔
میرے لیے اللہ کا دیدار، لقا اور وحدت ہی کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات بے چون و چگون اور ہر شبہ و مثال سے پاک ہے۔ وہ چھ جہات میں نہیں بلکہ ہر جگہ حاضر وناظر، سمیع و بصیر، علیم و حکیم اور قدیم ربّ ہے۔ 
جس طالب کے لیے اللہ کے دیدار اور معرفت کی منظوری ہو جائے تو باھوؒ کو قسم ہے کہ یہ فقیر اُسے ایک دم میں اور ایک ہی قدم پر حضوری سے مشرف کر سکتا ہے۔ 

مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری

اپنا رخ نفس و شیطان سے موڑ کر مکمل طور پر اللہ کی جانب کر لو اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل کرو۔ 

طالبِ مولیٰ

طالبِ مولیٰ کو مرشد کے سامنے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
طالب پر فرضِ عین ہے کہ وہ باادب رہے اور مرشد پر لازم ہے کہ پہلی بار میں ہی طالب کو وحدانیت تک پہنچا دے، اس کے سوا کچھ نہ کرے۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
(اے طالب آ تاکہ) تجھے حق سے آگاہ کروں۔
اے طالب! جب تک توُ حق کو پا کر زندہ نہیں ہو جاتا، حق تک نہیں پہنچ سکتا۔
دنیا، بہشت اور حور کا طالب درحقیقت مزدور ہے۔

ذکرِ اللہ

ذکر وہی ہے جو ذاکر پر مؤکل ہو اور بغیر خیال اور توجہ کے جاری رہے البتہ فکر وہ ہے جس پر ذاکر مؤکل بنے۔
سن! حضور علیہ الصلوٰ ۃوالسلام کے بعض صحابہؓ آٹے کوپانی میں گھول کر پی لیا کرتے تھے تاکہ عشق اور ذکرِاللہ سے فارغ نہ رہیں مبادا یہی آخری سانس ہو اور اللہ کے ذکر اور عشق و محبت سے خالی نہ چلا جائے۔
ذکرِ روح طوفانِ نوح ؑکی مثل ایک عمیق سمندر ہے جس میں (اللہ سے ملنے کا) شوق و اشتیاق کی پیاس ہوتی ہے۔
ذکرِسرّ کرنے والا صاحبِ اسرار بن جاتا ہے جو ذاتِ الٰہی کے سوا غیرماسویٰ اللہ سے بیزار رہتا ہے۔اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔
عشقِ توحید وہ ہے جس پر اشتیاق مؤکل ہو اور اس کی بدولت ذکرِ اللہ کے سوا نہ خواب میں کچھ دکھائی دے نہ بیداری میں۔

فنا فی اللہ

فنا فی اللہ ہوئے بغیر علم، ذکر اور فکر سراسر حجاب ہیں۔ اس لیے غیر اللہ کا راستہ اختیار نہ کر۔
جب تک اللہ کے عاشق اور وصال کے طلبگار کو علم، ذکر، فکر، تمام مقامات اور کشف و کرامات بھول نہیں جاتیں تب تک حق حاصل نہیں ہوتا۔ 
فنا کے لیے قیامت کی فکر اور حضوری کے تفکرات لازم ہیں۔
جب وحدت کی مشکل راہ پیش آئی تو دنیا اور عقبیٰ کی ہر پریشانی دل سے نکل گئی۔
میں لامکان میں پہنچ کر فنا فی اللہ ہو گیا اور اس جاودانی ذات کی نظر ہمیشہ کے لیے مجھے حاصل ہو گئی۔

ناقص مرشد

سن! ناقص و نامرد مرشد لوگوں (مریدوں) کا خون پینے والا اور اُن کی جان لینے والا ہوتا ہے۔
ناقص مرشد کے طالب و مرید عمر بھر خلوت میں بیٹھے رہتے ہیں اور چلہ و ریاضت کرتے ہیں۔
جس مرشد کو دیدار اور حضوری حاصل نہ ہو اس کے لیے لازم ہے کہ دنیا کو تین طلاقیں دے دے۔

متفرق

جب درویش کفر کی راہ اختیار کر لے تو نہ دین کا رہتا ہے نہ دنیا کا۔ نہ اس میں علم و دانش باقی رہتی ہے نہ اسے حقیقت و یقین حاصل ہوتا ہے۔
میں نے اللہ کی خاطر دنیا ترک کر دی۔
جان لو کہ فقیری کی راہ میں پانچ چیزیں ترک کر دینی چاہئیں اوّل جہل، دوم دنیا، سوم اہل ِدنیا، چہارم نفس، پنجم ریا و کفر۔
علم کیا ہے؟ خیر خواہ رفیق۔
مرشد کیا ہے؟ پیشوائے راہ۔
فقر کیا ہے؟ لازوال بادشاہ۔
فرشتوں کو اگرچہ اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے لیکن ان کی رسائی مقامِلِیْ مَعَ اللّٰہ یعنی ’’اللہ کے ساتھ‘‘ تک نہیں ہے۔
تصور اسمِ اللہ ذات کی تیغ سے دیو نفس کو مارا جا سکتا اور ہر حجاب و پردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
اصل مراقبہ تو اسے کہتے ہیں جو طالب کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں پہنچا دے یا وحدانیت میں غرق کر دے۔
لوگوں کی ایذا رسانی سے پریشان نہ ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لا وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًام بِالْقِسْطِ (سورۃ آلِ عمران۔18)
ترجمہ: اللہ نے اس بات کی گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (گواہی دی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے۔ 

لوگوں سے ہوشیار رہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُوْنَ۔ (سورۃ یٰسین۔30)
ترجمہ: ان کے پاس کوئی رسول نہ آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں